تازہ ترین
پاکستان اور جنگجو گروپوں کو بڑی قیمت چکانی ہوگی: مودی، پڑوسی ملک عالمی سطح پر علیحدہ، حملہ نااُمید ہونے کی علامت
خبراردو:
جنگجوؤں کی طرف سے 14فروری کو لیتہ پورہ اونتی پورہ میں سی آر پی ایف اہلکاروں کے کاروان پر خودکش حملے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیرا عظم نریندر مودی نے کہا کہ پاکستان اور جنگجوؤں گروپوں نے فورسز اہلکاروں کونشانہ بناکر بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔مودی نے پاکستان اور جنگجو گروپوں کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ان کی طرف سے کئے گئے حملے کا انہیں بھر پور جواب دیا جائیگا۔نئی دہلی میں ’’وندے بھارت ایکسپریس ریل سروس‘‘ کو ہری جھنڈی دکھانے کے موقعے پر وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ بھارت اس حملے کا منہ توڑ جواب دے گا۔ انہو ں نے بتایا کہ ملکی عوام کا خون اس وقت اُبل رہا ہے اور جن لوگوں نے پلوامہ میں دہشت گردانہ کارروائی انجام دی انہیں لازمی طور پر سزا دی جائے گی۔ اس دوران بی جے پی اور حزب اخلاف جماعت کانگریس نے حملے میں مارے گئے اہلکاروں اور اُن کے لواحقین کے ساتھ دلی ہمدردی کے اظہار کے طور پر اپنی تمام سیاسی سرگرمیوں کو منسوخ کردیا ہے۔
اپنے خطاب میں پڑوسی ملک پاکستان کا نام لیے بغیر مودی کا کہنا تھا کہ اگر ہمارا پڑوسی یہ سوچ رہا ہے کہ جنگجوانہ کارروائیوں کے ذریعے وہ بھارت میں عدم استحکام کی صورتحال پیدا کرنے میں کامیاب ہوگا، تو وہ اس کی غلط فہمی ہے۔ پاکستان نژاد جنگجو گروپوں کی طرف پھیرتے ہوئے نریندر مودی نے بتایا کہ ’’میں جنگجو گروپوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ حملہ آوروں کو بہر حال بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔ میں ملک اور یہاں کے عوامن کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم حملہ آوروں کو ضرورت کیفر کردار تک پہنچائیں گے‘‘۔وزیر اعظم نریندر مودی جنہوں نے اس تقریب سے قبل کل سیکورٹی سے متعلق کل جماعتی میٹنگ طلب کی تھی، نے عالمی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس انسانیت سوز اور دہشت گردارنہ کارروائی کی کھلے الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ تبھی ممکن ہے جب سبھی ممالک اس کا متحدہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔
ہمارے فورسز اہلکار ملک کی سالمیت اور وحدت کو یقینی بنانے کے لیے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں۔ میں تمام لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم حملے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن اقدام اُٹھایا جائیگا۔نریندر مودی کاکہنا تھا کہ حملہ آوروں کی کارروائی کا بھر پور جواب دینے کے لیے فورسز کوکھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ فورسزکو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حملہ آوروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے خود ہی زمان و مکان کا تعین کریں تاکہ حملہ آوروں کو منہ توڑ جواب دیا جاسکے۔مودی کا کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز کو نئی پالیسی کے تحت خصوصی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دشمن کو کرارا جواب دینے کی خاطر خود ہی وقت اور جگہ کا تعین کریں۔ وزیر اعظم کی تقریر کے موقعے پر جلسے میں موجود لوگوں نے اُن کی مکمل تائیدکی۔پاکستان پر حملہ بولتے ہوئے نریندر مودی کا کہنا تھا کہ اونتی پورہ حملہ پڑوسی ملک کی کارستانی ہے جو عالمی سطح پر علیحدہ ہوچکا ہے۔
پاکستان اب مایوسی اور نااُمیدی کی حالت میں ہے اور اسی کے نتیجے میں انہوں نے کشمیر کے اونتی پورہ میں جنگجوانہ کارروائی انجام دی۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان ملک کے روزانہ اخراجات کی بھرپائی کے لیے فی الوقت عالمی اقوام کے سامنے کشکول لیے پھر رہا ہے ۔خیال رہے 14فروری 2019جمعرات کی سہ پہر کو جنگجوؤں نے سرینگر جموں شاہراہ پر لیتہ پورہ کے مقام پر سی آر پی ایف کانوائے کو نشانہ بناتے ہوئے ایک خوفناک خودکش کار بم حملہ کیا جس کے نتیجے میں 50کے قریب سی آر پی ایف اہلکا موقعے پر ہی ہلاک ہوئے جبکہ حملے میں مزید 40کے قریب زخمی ہوئے۔حملے میں فورسز کی کئی بسیں بھی مکمل طور پر تباہ ہوئی جبکہ اس دوران خودکش بمبار بھی جاں بحق ہوا۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
