دنیا
امریکی وزیر دفاع: “ضرورت پڑنے پر ایران پر دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں”۔
واشنگٹن، امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی ا فواج ایران کے خلاف دوبارہ حملے شروع کر سکتی ہیں۔
دی ہِل کے مطابق، ہیگسیتھ نے وسکانسن صوبے میں ایک فوجی اڈے کے دورے کے بعد صحافیوں سے ایران کے معاملے پر گفتگو کی۔
ہیگسیتھ نے کہا، “اگر ہمیں کینیٹک حملے کرنے پڑیں تو ہم کریں گے۔ اگر ایران اپنے پاس موجود فائدے زیادہ استعمال کرے یا امریکی فوج سے ٹکر لیتا ہے تو ہم وہ کریں گے جو کرنا ضروری ہے۔”
ہیگسیتھ نے کہا کہ فی الحال ایران کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ چیز اقتصادی دباؤ ہے اور اس نے دعویٰ کیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا، “ایران ہرمز سے کچھ بھی نہیں گزار رہا۔ تا ہم، ہم گزار سکتے ہیں۔ عالمی معیشت اس بات سے واقف ہے اور اسی لیے انہوں نے آبنا کو کنٹرول کرنے پر بڑا داؤ لگایا، مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
نئی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار، اثرات سے نمٹنے کا دو سالہ منصوبہ موجود:ایران
تہران، ایران نے منگل کو کہا کہ وہ امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی اور وسیع پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی وزیر اقتصادیات علی مدنی زادے نے کہا کہ تہران نے ان اقدامات کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا اور ان کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے دو سالہ منصوبہ تیار کر رکھا ہے یہ بیان واشنگٹن کی جانب سے ایسے اقدامات کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جن کا مقصد تہران کو عالمی مالیاتی نیٹ ورکس سے کاٹنا، اس کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنا اور شپنگ، ہوا بازی، ٹیکنالوجی، سونے اور ڈیجیٹل اثاثوں سمیت اہم شعبوں کو نشانہ بنانا ہے۔
مدنی زادے نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’حکومت تیار ہے اور پہلے سے تیار تھی، ہمارے پاس ان حالات سے نمٹنے کے لیے دو سالہ منصوبہ موجود ہے۔ ہمارے پاس اپنے ذرائع بھی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ یہ کھیل کیسے کھیلنا ہے۔‘‘
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے والے ممالک اور کمپنیوں کو ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے خارج کیے جانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بیسنٹ نے اس مہم کو ’’اب تک کی سب سے بڑی مالیاتی کارروائی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دنیا بھر میں ایران کے مالیاتی روابط کو نشانہ بنائے گا۔
بیسنٹ نے کہا، ’’ایران کو اب ایک بالکل واضح انتخاب کا سامنا ہے، اس کے سامنے صرف دو راستے ہیں: مکمل عالمی تنہائی۔۔۔ یا معمول کی صورتحال کی جانب واپسی اور عالمی معیشت میں دوبارہ شامل ہونے کا موقع۔‘‘
امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے پابندیوں سے بچنے اور تیل کی تجارت کے لیے استعمال کیے جانے والے نیٹ ورکس اور مالیاتی ذرائع کی نشاندہی کر لی ہے۔ اقدامات میں پانچ شعبوں، یعنی ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور شپنگ کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ تقریباً 60 افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
بیسنٹ نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور اور وسیع تر ایرانی حکومت کے لیے ’’آمدنی کے ہر ممکن ذریعے کو بند کرنا اور شکنجہ مزید کسنا‘‘ ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ اس کے بڑے تجارتی شراکت دار امریکی دباؤ کے سامنے مزاحمت کریں گے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مدنی زادے نے کہا کہ چین اور روس نے ان اقدامات کو قبول نہیں کیا ہے۔ بیجنگ نے بھی کہا ہے کہ پابندیاں اور دباؤ کی حکمت عملی تنازعات حل نہیں کر سکتی اور وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔
تازہ امریکی اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تنازع نے توانائی کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو وہ خطے سے تیل کی برآمدات روک سکتا ہے۔ اس نے آبنائے ہرمز سے اجازت کے بغیر گزرنے والے بحری جہازوں کو بھی ایک بار پھر خبردار کیا ہے۔
یہ تنگ آبی گزرگاہ، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی ہے، تنازع شروع ہونے کے بعد سے عملاً بند ہے، جس سے عالمی توانائی کی قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہیں، جس سے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل گھریلو اخراجات اور عوام کی قوتِ خرید پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی معیار کا برینٹ خام تیل پیر کو تقریباً 92 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اقوام متحدہ کے سربراہ کا بحری جہازوں پر حملے ختم کرنے پر زور، آبنائے ہرمز سے آمدورفت کے لیے طریقہ کار کی تجویز
نیویارک، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تجارتی بحری جہازوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اہم بحری راستوں میں خلل سے خوراک، توانائی اور کھاد کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور عالمی سطح پر بھوک کا مسئلہ مزید سنگین ہو رہا ہے۔
گوتریس نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور یوکرین کی جنگ اہم بحری راستوں میں خلل ڈال رہی ہیں اور ’’عالمی تجارت کی شریانوں کو مفلوج‘‘ کر رہی ہیں۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’صرف آبنائے ہرمز میں ہی بحری آمدورفت تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے۔‘‘
گوتریس کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں تقریباً 33 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ عالمی کنٹینر شپنگ کے نرخ ایک سال پہلے کے مقابلے میں 84 فیصد بڑھ چکے ہیں۔ کھاد اور دیگر ضروری زرعی اشیا کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ جہاز رانی کے حقوق اور آزادی محض سیاسی اصول نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت عائد ذمہ داریاں ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں بین الاقوامی قانون، بشمول سمندری قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کا مکمل احترام، شہری بحری جہازوں، بنیادی ڈھانچے اور شہری ملاحوں کا تحفظ اور جہاز رانی کے حقوق و آزادیوں کو برقرار رکھنا ہوگا۔‘‘
انہوں نے بحیرہ اسود میں تجارتی بحری جہازوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر ’’فوری طور پر حملے بند کرنے‘‘، آبنائے ہرمز میں ’’جہاز رانی کے حقوق بحال کرنے‘‘ اور بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف بحری جہازوں پر حملے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
گوتریس نے کہا، ’’سمندری گزرگاہیں کبھی بھی دباؤ ڈالنے کا ذریعہ نہیں بننی چاہئیں۔ اور دنیا کی خوراک کی فراہمی کو کبھی بھی تنازعات کا ضمنی نقصان نہیں بننا چاہیے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے ایک مجوزہ طریقہ کار تیار کیا ہے، جس کا ابتدائی مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے کھاد اور اس سے متعلق خام مال کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
گوتریس کے مطابق یہ طریقہ کار اقوام متحدہ کے ایک ٹاسک فورس نے تیار کیا ہے، جو مارچ میں قائم کی گئی تھی اور جس کی سربراہی اقوام متحدہ کے دفتر برائے پروجیکٹ سروسز کر رہا ہے۔ اس میں اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس (انکٹاڈ)، بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن اور بین الاقوامی چیمبر آف کامرس شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طریقہ کار کے تحت بحری جہازوں کی رجسٹریشن اور تصدیق کے ساتھ ساتھ عمان میں ایک ’’ڈی کنفلکشن‘‘ یعنی فریقین کے درمیان ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے رابطہ کاری کا نظام قائم کیا جائے گا۔
گوتریس نے کہا، ’’ہم اسے عملی شکل دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘‘ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ طریقہ کار اسی وقت کام کر سکتا ہے جب تنازع میں شامل تمام فریق اس پر رضامند ہوں۔
اقوام متحدہ غیر جانب دار سہولت کار کا کردار ادا کرے گا، جبکہ یہ طریقہ کار آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی بین الاقوامی قانون کے تحت کسی ریاست کے حقوق و ذمہ داریوں میں کوئی تبدیلی کرے گا۔
گوتریس نے کہا، ’’خودمختار فیصلے مکمل طور پر شریک رکن ممالک کے پاس ہی رہیں گے۔‘‘
مجوزہ طریقہ کار کا مقصد فوری خطرات کو کم کرنا، بحری آمدورفت کو زیادہ قابلِ پیش گوئی بنانا اور سفارت کاری و کشیدگی میں کمی کے لیے درکار اعتماد بحال کرنا ہے۔
گوتریس نے کہا کہ متعلقہ فریق پہلے ہی مجوزہ طریقہ کار کے عملی طریقہ کار سے تفصیلی طور پر آگاہ ہیں اور انہوں نے ان پر تعاون کرنے پر زور دیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اس طریقہ کار کو چلانے کے لیے اقوام متحدہ کو ایران یا اس کی اسلامی انقلابی گارڈ کور سے اجازت درکار ہوگی تو گوتریس نے اقوام متحدہ کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ جہاز رانی کی آزادی کا احترام کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’اگر کسی مرحلے پر یہ ممکن نہ ہو تو ہم فریقین کی رضامندی سے ایسا طریقہ کار قائم کرنے کے لیے تیار ہوں گے جو یقیناً ریاستوں کے خودمختار حقوق استعمال نہیں کرے گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس کے لیے متعلقہ ریاستوں کی خودمختار رضامندی ضروری ہوگی۔‘‘
گوتریس نے زور دیا کہ مجوزہ انتظام جہاز رانی کی آزادی بحال کرنے یا ان تنازعات کے حل کا متبادل نہیں ہے جو موجودہ خلل کا باعث بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کا بلا رکاوٹ استعمال امن، سلامتی اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ اس کا تحفظ قانونی ذمہ داری اور انسانی ضرورت ہے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کو تنہا اور معاشی طور پر دبانے کے لیے ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ شروع کر دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی ایک غیر معمولی مہم شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تہران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک اور کمپنیوں کو ٹرمپ انتظامیہ کے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیسنٹ نے کہا کہ ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے نام سے شروع کی گئی یہ مہم دنیا بھر میں ایران کے مالیاتی روابط منقطع کرنے اور اس کی حکومت اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کو مالی وسائل فراہم کرنے والے ذرائع ختم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی مہم کا ہدف تہران کے لیے آمدنی پیدا کرنے والے نیٹ ورکس ہیں اور ان ممالک و کمپنیوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایرانی حکومت کے ساتھ کاروباری روابط جاری رکھنے کی صورت میں انہیں امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بیسنٹ نے کہا، ’’ہمارا مقصد اس آمرانہ حکومت کو برقرار رکھنے والی ہر معاشی لائف لائن منقطع کرنا ہے، جب تک تہران مکمل طور پر تنہا نہ ہو جائے۔‘‘
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئی مہم کے تحت ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور بحری جہاز رانی کے شعبوں میں پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ محکمہ خزانہ نے 60 سے زائد اداروں، افراد اور بحری جہازوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جن پر ایران کو جوہری اور میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرنے، سائبر کارروائیاں کرنے اور تیل سے آمدنی حاصل کرنے میں مدد دینے کا الزام ہے۔
بیسنٹ نے کہا کہ امریکہ ’’زیرو لیکیج‘‘ پالیسی اختیار کرے گا، جس کے تحت ایرانی اداروں یا ان کے بین الاقوامی شراکت داروں کے لیے پابندیوں سے بچنے کی گنجائش انتہائی محدود ہوگی۔انہوں نے کہا، ’’اس حکومت کو امریکہ اور دنیا کے خلاف دہشت گردی مسلط کرنے کی اپنی صلاحیت دوبارہ بحال کرنے کے لیے سانس لینے کی معمولی سی مہلت بھی نہیں دی جائے گی۔‘‘
امریکی وزیر خزانہ نے خبردار کیا کہ ایرانی لین دین میں سہولت فراہم کرنے والے مالیاتی ادارے اور دیگر کاروباری ادارے امریکی مالیاتی نظام تک اپنی رسائی کھو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ایران کی جانب سے منی لانڈرنگ میں سہولت فراہم کرنے والے کسی بھی ادارے کو امریکی ڈالر کے نظام سے نکال دیا جائے گا۔‘‘
صحافیوں نے بیسنٹ سے سوال کیا کہ کیا چینی بینکوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی تعلقات ایک نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے مخصوص اداروں کے نام بتانے سے گریز کیا، تاہم کہا کہ کوئی بھی ملک یا مالیاتی ادارہ اس مہم سے مستثنیٰ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا، ’’کوئی بھی امریکی پابندیوں کی پہنچ سے بالاتر نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی تیل کو ایسی آمدنی میں تبدیل کرنے میں ملوث اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے جو ایرانی حکومت کی معاونت کرتی ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
پاکستان1 week agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان1 week agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
دنیا1 week agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
دنیا1 week agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
-
ہندوستان1 week agoہریانہ، پنجاب میں 17-18 اگست کو شدید بارش کی پیش گوئی، ہماچل اور جموں و کشمیر میں بہت شدید بارش کا خدشہ
