پاکستان
کیا پاکستان کے عاصم منیر ایرانی فوجی قیادت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں
اسلام آباد، پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کے روز تہران میں طاقت کے اہم مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر، پارلیمنٹ، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی، جو امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار ہیں۔تاہم امن مذاکرات میں تعطل کے درمیان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ثالث کے طور پر منیر کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ آیا وہ ایک بااثر فوجی رہنما کی حیثیت سے اپنے ایرانی ہم منصبوں کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
منیر کے دورہ ایران سے چند روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ڈاکٹروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ ختم کی جائے، جبکہ ایران کو برتری حاصل ہے۔ ان کا یہ پیغام واشنگٹن کے ساتھ ساتھ تہران کے اپنے سکیورٹی اداروں کے لیے بھی تھا۔انہوں نے کہا، ’’بہتر ہے کہ ہم اب جنگ ختم کر دیں کیونکہ اس وقت ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کرتی ہے۔‘‘
چند گھنٹے بعد، 21 اگست کو ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کسی بھی امریکی غلط اندازے کی صورت میں ’’انقلابی، تباہ کن، پشیمان کردینے والے اور ہلاکت خیز‘‘ ردعمل کا وعدہ کیا۔
یہ ایرانی صدر اور اب ملک کی فوجی قیادت سنبھالنے والے افراد کے درمیان موجود خلیج کی واضح مثال تھی، اور تجزیہ کاروں کے مطابق منیر کو اسی صورتحال سے بھی نمٹنا ہوگا۔
اسی لیے پیر کے روز منیر کی سب سے اہم ملاقات جنرل محسن رضائی سے قرار دی جا رہی ہے، جو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری ہیں۔ رضائی بنیادی طور پر فوج اور خامنہ ای کے درمیان رابطے کا پل ہیں۔
منیر کا تہران کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے اور دنیا بھر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکی آمیز ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ پابندیوں کے اعلان کی توقع کی جا رہی تھی، جن کے تحت تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو بھی سزا دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔
بعد میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے نام سے وسیع پابندیوں کی مہم کا اعلان کیا، جس میں ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، سونے، ہوا بازی، ٹیکنالوجی اور جہاز رانی کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔تاہم دیگر ممالک کو ایران سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کی وارننگ دینے کے باوجود بیسنٹ نے ان ممالک کے خلاف فوری طور پر کسی سزا کا اعلان نہیں کیا اور اعتراف کیا کہ ایسا قدم ’’عالمی مالیاتی نظام کو تباہ کر سکتا ہے۔‘‘
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملوں کا امکان برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا، ’’اگر ہمیں فوجی حملوں کی ضرورت پڑی تو ہم کریں گے۔ اگر ایران اتنا بے وقوف ہوا کہ اپنی حد سے تجاوز کیا یا امریکی فوج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو ہم وہ کریں گے جو ضروری ہوگا۔‘‘
یہ واضح نہیں کہ منیر کا دورہ ایران کے خلاف وسیع تر امریکی کارروائی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا یا نہیں۔تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق دورے کا وقت اہم تھا۔ منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے چند روز بعد تہران کا سفر کیا۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسلام آباد سے کہا تھا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔
پاکستان کی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایک روزہ دورے کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ’’جامع مذاکرات‘‘ ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایرانی حکام نے ’’پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں‘‘ کو سراہا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی، جو منیر کے ہمراہ تہران گئے تھے، نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے مذاکرات کو ’’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’اہم پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔
یہ رواں سال منیر کا تہران کا چوتھا دورہ تھا، تاہم اس ماہ کے اوائل میں ایران کی فوجی قیادت میں تبدیلیوں کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔
10 اگست کو سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عبداللہی کو چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کیا جبکہ رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں منتقل کیا گیا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر احمد وحیدی مارچ سے اپنے عہدے پر موجود ہیں، جب ان کے پیشرو جنگ کے ابتدائی حملوں میں مارے گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہی فوجی رہنما ایران کی جنگ سے متعلق حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں، جس سے کسی فوجی ہم منصب کے لیے روایتی سفارت کاروں کے مقابلے میں تہران کو مذاکرات پر آمادہ کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
پاکستانی بحریہ کے سابق وائس ایڈمرل اور دفاعی تجزیہ کار احمد سعید نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا، ’’اس بحران کے دوران جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں آئی آر جی سی اور وسیع تر سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔‘‘
وزیر داخلہ محسن نقوی اپریل سے اب تک آٹھ مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں، لیکن ان دوروں سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔تاہم منیر سیاست دان نہیں بلکہ ایک جنرل ہیں اور بظاہر انہیں ایرانی قیادت اور اہم طور پر امریکی صدر ٹرمپ، دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔ ٹرمپ پاکستانی آرمی چیف کو اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ قرار دے چکے ہیں۔
احمد سعید نے کہا، ’’چند روز قبل منیر کو کی جانے والی فون کال خود ٹرمپ نے شروع کی تھی اور پاکستانی قیادت سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔‘‘
ایرانی حکام نے منیر کو جو کچھ بتایا، ایرانی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق، وہ ان بیانات سے زیادہ مختلف نہیں تھا جو وہ گزشتہ پورے ہفتے سے اپنے ملک کے میڈیا کو دے رہے تھے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنرل محسن رضائی نے منیر سے کہا، ’’ہم امریکہ پر اعتماد نہیں کرتے اور اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے اس سے بھی زیادہ واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے کام کر رہے ہیں اور امریکہ کو مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔‘‘
دوسری جانب پزشکیان نے منیر سے کہا کہ وہ واشنگٹن کو ’’اپنا لہجہ اور طریقہ کار درست کرنے‘‘ کا پیغام دیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ ’’طاقت اور دھونس پر انحصار کرنا عمل کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔‘‘
عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی بھی منگل کو تہران پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ خصوصی طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کے ایک الگ دور میں شرکت کریں گے۔ یہ سفارتی کوشش کئی ماہ سے پاکستان کی ثالثی کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔
عمان کا کردار نیا نہیں ہے۔ البوسعیدی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے قوانین کے حوالے سے ایران کے ساتھ مسلسل مذاکرات کرتے رہے ہیں۔
لاہور میں مقیم دفاعی تجزیہ کار اعجاز حیدر کے مطابق عمان اور پاکستان کے سفارتی راستے ایک دوسرے کے لیے معاون ہیں۔انہوں نے الجزیرہ سے کہا کہ ’’عمان اور اسلام آباد کے راستے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق 5 میں آبنائے کے حوالے سے عمان اور ایران کے درمیان دوطرفہ مفاہمت پر زور دیا گیا ہے۔‘‘
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں سے گزرتی ہے۔
حیدر نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے کے مشترکہ انتظام سے متعلق معاہدہ امریکہ کے مفاد میں نہیں، اسی لیے ٹرمپ نے عمان پر بمباری کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب سابق پاکستانی بحری عہدیدار احمد سعید کے مطابق ثالث کے طور پر اسلام آباد کا فائدہ یہ ہے کہ اسے ’’وحیدی، عبداللہی اور رضائی تک براہ راست رسائی حاصل ہے، جو ایران کے فیصلہ سازی کے اصل معمار ہیں۔‘‘
مذاکرات کے قریب ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ البوسعیدی تہران میں ’’بنیادی طور پر یہ سننے کے لیے ہوں گے کہ ایران نے کیا فیصلہ کیا ہے اور اپنے پاکستانی ثالث کے ساتھ کیا بات چیت کی ہے۔‘‘
کنگز کالج لندن میں دفاعی مطالعات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریاس کریگ کے مطابق ایرانی فوجی اور سویلین قیادت کے درمیان سامنے آنے والے اختلافات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کی موجودہ صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق پزشکیان اور قالیباف ’’بنیادی طور پر یہ خبردار کر رہے ہیں کہ ایران اس صورتحال میں غیر معینہ مدت تک نہیں رہ سکتا‘‘، جبکہ ’’آئی آر جی سی کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کے برعکس وقت واشنگٹن کے خلاف جا رہا ہے۔‘‘
تاہم انہوں نے کہا کہ ’’محسن رضائی، احمد وحیدی اور آئی آر جی سی اس بات کے تعین میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی بھی سیاسی مفاہمت پر عمل درآمد ہو سکتا ہے یا نہیں۔‘‘
ان کے مطابق، ’’ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کسی معاہدے پر مذاکرات کر سکتے ہیں اور قطر ثالثی کر سکتا ہے، لیکن اگر سکیورٹی ادارہ اس کے عملی نتائج کو قبول نہیں کرتا تو ان سب کی کوئی اہمیت نہیں۔‘‘
فی الحال منیر کو ان ثالثوں میں سب سے زیادہ موزوں امیدوار سمجھا جا رہا ہے جو ایرانی جرنیلوں کو جنگی کمرے سے مذاکرات کی میز تک لانے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان طبی معائنے کے بعد دوبارہ جیل منتقل
اسلام آباد، سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو اسلام آباد کے ایک اسپتال میں طبی معائنے کے بعد دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم نے انہیں قانونی حراست میں واپس بھیجے جانے کے لیے طبی طور پر فِٹ قرار دیا۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر بتایا کہ ماہر امراض چشم، ماہر امراض قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر فِٹ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ’’اس پورے عمل کی تکمیل کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔‘‘
عمران خان کو جمعہ کی صبح طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بتایا کہ یہ منتقلی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عمل میں آئی، جس میں طویل عرصے سے زیرحراست عمران خان کی بگڑتی صحت کے حوالے سے ان کے حامیوں کے مطالبے پر توجہ دی گئی تھی۔
پی ٹی آئی نے صحافیوں کو جاری ایک پیغام میں کہا کہ ’’سابق وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم کے تحت اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔‘‘
عمران خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ تین سال سے زائد عرصے کی قید کے باعث ان کی صحت خراب ہوئی ہے اور ان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ طبی رپورٹس میں ایسی کوئی بیماری سامنے نہیں آئی جس کے لیے فوری علاج درکار ہو۔
سپریم کورٹ نے منگل کو حکام کو حکم دیا تھا کہ 73 سالہ عمران خان کو 48 گھنٹوں کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے اور انہیں ذاتی معالج سمیت طبی ماہرین کے پینل سے معائنہ کرانے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے انہیں اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دینے کا بھی حکم دیا تھا، جن سے وہ مبینہ طور پر کئی ماہ سے نہیں مل سکے تھے۔تاہم عطا اللہ تارڑ نے بعد میں کہا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے سرکاری پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ’’پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پیدا کی گئی سکیورٹی صورتحال‘‘ کے باعث کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق شفا انٹرنیشنل کے اطراف کا علاقہ رکاوٹیں کھڑی کرکے سیل کردیا گیا تھا اور وہاں سخت سکیورٹی تعینات کی گئی تھی۔ بعض پی ٹی آئی کارکن عدالتی احکامات اور پارٹی رہنماؤں کی تنبیہ کے باوجود اسپتال کے راستے اور باہر جمع ہوگئے تھے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے سوال اٹھایا کہ آیا سپریم کورٹ کے حکم پر ’’اس کی حقیقی روح کے مطابق‘‘ عمل کیا گیا یا اسے محض تشہیر کے لیے ایک ’’سطحی مشق‘‘ تک محدود رکھا گیا۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان ان کے ساتھ اسپتال گئی تھیں اور طبی معائنے کے دوران موجود رہیں۔ ان کی ایک اور بہن نورین خان نے منگل کی شب جیل میں ان سے ملاقات کی تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ججز قیدی کی ’’زندگی، صحت، وقار اور سلامتی‘‘ کے تحفظ کی اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داری سے آگاہ ہیں۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ عمران خان کے علاج میں ماہر امراض چشم کو شامل کیا جائے۔
عمران خان کے وکلا کا دعویٰ ہے کہ جیل حکام کی جانب سے طبی مسئلے کو نظر انداز کیے جانے کے باعث ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے، تاہم اسلام آباد نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور انہیں 100 سے زائد مقدمات کا سامنا ہے، جن میں ریاستی راز افشا کرنے اور سرکاری تحائف کی فروخت سے متعلق مقدمات بھی شامل ہیں۔ وہ مسلسل ان مقدمات کو ’’سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے‘‘ قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔
سابق کرکٹر عمران خان 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے، جب انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
ان کی گرفتاری اور قید کے خلاف ان کے حامیوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا، جس کے خلاف حکام نے سخت کریک ڈاؤن کیا۔
قید میں ہونے کے باوجود عمران خان پاکستانی سیاست میں ایک انتہائی مقبول شخصیت ہیں اور انہیں بڑی تعداد میں عوامی حمایت حاصل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
سابق وزیر اعظم عمران خان علاج کےلیے جیل سے ہسپتال منتقل
اسلام آباد، پاکستان کی عدالت عالیہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو طبی علاج کے لیے جیل حکام کی جانب سے ہسپتال منتقل کرنے اور کیس کی اگلی سماعت یعنی 16 ستمبر تک ہسپتال میں رہنے کی اجازت دینے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی سپریم کورٹ کے بینچ جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل ہیں انہوں نے حکومت کو حکم دیا کہ عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
یہ درخواستیں عمران خان کی ہمشیرہ اور ماہر جراح ڈاکٹر عظمیٰ خان اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جیل میں ان کی صحت بگڑ رہی ہے اور وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، اس لیے انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔
عدالت نے 73 سالہ سابق وزیر اعظم کے معائنے اور علاج کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا بھی حکم دیا۔عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ طبی معائنے اور علاج کے دوران ڈاکٹر عظمیٰ خان اور عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان موجود رہیں۔ اس کے علاوہ حکام کو عمران خان کی ان کے اہل خانہ سے ملاقاتیں یقینی بنانے کا بھی حکم دیا گیا۔
اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی ‘روح اور الفاظ’ کے ساتھ عمل درآمد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی پارٹی نے اب یہ محسوس کر لیا ہے کہ عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں۔
چوہدری نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی ہر کوئی عدالتوں کے ذریعے ہی رہا ہوا ہے اور عدلیہ قانونی چارہ جوئی اور ریلیف کے لیے بہترین راستہ بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق وزیر اعظم کو ان کی پارٹی کی جانب سے درخواست نہ ہونے کے باوجود بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جا رہی تھیں۔
عمران خان متعدد مقدمات میں سزا سنائے جانے کے بعد اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔
2018 میں اقتدار میں آنے والے سابق کرکٹر اپنی مدتِ ملازمت پوری ہونے سے تقریباً ایک سال قبل اپریل 2022 میں پارلیمان میں عدم اعتماد کی تحریک ہار گئے تھے۔
تب سے انہیں توشہ خانہ اور بد عنوانی سے متعلق مقدمات سمیت متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔
ان کی کچھ سزائیں معطل یا کالعدم ہو چکی ہیں جبکہ کئی اپیلیں اعلیٰ عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
اسلام آباد، پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں جیل میں بند سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے بانی عمران خان کو اگلے 48 گھنٹوں کے اندر بہتر علاج کے لیے اسلام آباد کے ایک اسپتال میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
سابق وزیر اعظم خان کی پارٹی نے منگل کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اس کا اعلان کیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے یہ حکم خان کی بگڑتی صحت سے متعلق دائر درخواست کے بعد جاری کیا۔ عدالت نے اسپتال میں ماہرین کا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی جس میں عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان شامل ہوں گے۔ عدالت نے جیل حکام کو ان کے اہل خانہ سے ہفتہ وار ملاقات کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تاریخی فیصلے سے راحت کی کرن آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘سپریم کورٹ نے واضح طور پر حکم دیا ہے کہ خان صاحب کی صحت سب سے اہم ہے اور انہیں شفا اسپتال بھیجا جائے، ان کے ذاتی معالج اور خاندان کے افراد کو میڈیکل بورڈ میں شامل کرنے کی ہدایت ہمارے لیے ایک بڑا یقین دہانی ہے’۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی نے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کی فتح ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “عمران خان ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں، یہ عدالتی فیصلہ خوش آئند ہے، اگرچہ 9 اپریل 2022 سے ہونے والی ناانصافیوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن ہم آئینی حقوق اور مکمل انصاف کا مطالبہ کرتے رہیں گے”۔
عمران خان کی بہن علیمہ خان فیصلے پر انتہائی جذباتی ہوگئیں اور کہا کہ ہم انصاف کی امید تقریباً کھو چکے تھے، ہمیں صرف اللہ پر بھروسہ تھا، آج عدالت نے اسپتال میں خان صاحب کا مکمل چیک اپ کرنے کا حکم دیا، جس پر ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگست 2023 سے جیل میں بند 73 سالہ عمران خان کی صحت اور خاص طور پر ان کی آنکھوں کے بارے میں خدشات جاری تھے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پارٹی کے حامیوں اور ان کے اہل خانہ نے راحت کی سانس لی ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران کی موت کے حوالے سے بہت سی افواہیں گردش کر رہی ہیں اور عدالت کے اس حکم کے بعد ان سب پر روک لگ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
پاکستان1 week agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
ہندوستان1 week agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
-
دنیا1 week agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
دنیا1 week agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
-
ہندوستان1 week agoہریانہ، پنجاب میں 17-18 اگست کو شدید بارش کی پیش گوئی، ہماچل اور جموں و کشمیر میں بہت شدید بارش کا خدشہ
-
جموں و کشمیر1 week agoشری بوڈھا امرناتھ یاترا کا آغاز، منوج سنہا نے پہلے جتھے کو کیا روانہ
