دنیا
نیپال میں اچانک سیلاب کے بعد لاپتہ 384 مسافروں میں 105 ہندوستانی شہری شامل
کھٹمنڈو، نیپال ٹورزم بورڈ (این ٹی بی) کے مطابق بدھ کو تبت کی سرحد کے قریب نیپال کے ضلع راسوا میں آنے والے شدید اچانک سیلاب کے بعد ابتدائی طور پر لاپتہ قرار دیے گئے 384 سیاحوں اور مسافروں میں کم از کم 105 ہندوستانی شہری اور 37 غیر مقیم ہندوستانی (این آر آئیز) شامل ہیں۔
اچانک آنے والا سیلاب مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح 8:30 بجے راسوا گڑھی-تیمورے کے علاقے میں دریائے بھوٹے کوشی میں آیا۔ اس کے نتیجے میں راسوا اور پڑوسی اضلاع نوواکوت اور دھادِنگ کے بعض علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ کم از کم آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔
شدید سیلابی ریلے میں گاڑیاں، سامان، پل اور دیگر بنیادی ڈھانچے بہہ گئے، جبکہ کئی پن بجلی منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا۔ متاثرہ علاقوں میں آبادیوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور امدادی و بچاؤ کارروائیاں جاری ہیں۔
نیپال ٹورزم بورڈ کی مرتب کردہ ابتدائی فہرست کے مطابق 384 مسافر لاپتہ ہیں، جن میں 291 غیر ملکی اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں۔
اب تک شناخت کیے گئے غیر ملکی شہریوں میں 105 کا تعلق ہندوستان سے ہے۔ فہرست میں آسٹریلیا، نیدرلینڈز، امریکا، ملائیشیا، برطانیہ اور جنوبی افریقہ کے شہری بھی شامل ہیں، جبکہ کئی دیگر افراد کی قومیت کی تصدیق ابھی باقی ہے۔
این ٹی بی نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور سفری ایجنسیوں، گائیڈز، مقامی حکام اور سکیورٹی اداروں کے تعاون سے ان کی تصدیق کی جارہی ہے۔ حکام نے اہل خانہ اور مسافروں سے اپیل کی ہے کہ تصدیقی عمل مکمل ہونے تک کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچیں۔
اب تک شناخت کیے گئے 105 ہندوستانی شہریوں میں 59 سمرت ٹورز اینڈ ٹریولز اور 46 لیف ہالی ڈے کے ذریعے سفر کررہے تھے۔ 37 این آر آئیز کو ہمالین گلیشیئر کے تحت الگ فہرست میں درج کیا گیا ہے۔
ابتدائی ایجنسی وار ریکارڈ کے مطابق ٹریکرز سوسائٹی سے وابستہ 92، سمرت ٹورز اینڈ ٹریولز کے 71، لیف ہالی ڈے کے 55، ہمالین گلیشیئر کے 52 اور کیلاش جرنی کے 31 مسافر شامل ہیں۔
فش ٹیل ٹورز اینڈ ٹریولز نے 20 غیر ملکی مسافروں کی اطلاع دی، جن میں تین امریکی اور 17 ملائیشین شہری شامل ہیں۔ ہمالین گلیشیئر نے 37 غیر ملکی مسافروں کی اطلاع دی، جبکہ الپائن ایکو ٹریک کے ذریعے سفر کرنے والے 16 افراد میں 12 برطانوی اور چار جنوبی افریقی شہری شامل ہیں۔
ٹورزم بورڈ، ٹورسٹ پولیس اور دیگر سیاحتی ادارے سیلاب کے وقت متاثرہ علاقے میں موجود یا وہاں سے گزرنے والے افراد کی موجودگی اور سلامتی کا پتا لگانے کے لیے مسلسل کوششیں کررہے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ سفری ایجنسیاں اور متعلقہ ادارے اپنے ریکارڈ کی دوبارہ جانچ کررہے ہیں، اس لیے لاپتہ ہندوستانی شہریوں کی تعداد میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
دریں اثنا، نیپال میں بھارتی سفارتی مشن نے بھی قدرتی آفت سے متاثرہ بھارتی شہریوں کے لیے ہنگامی رابطہ نمبرز جاری کیے ہیں۔
متاثرہ ہندوستانی شہریوں سے متعلق مدد اور معلومات کے لیے درج ذیل نمبروں پر رابطہ کیا جاسکتا ہے:
977 985 131 6807
977 970 910 7500
حکام نے تباہی کی شدت کا جائزہ لینے اور لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھنے کے لیے امدادی ٹیموں اور سکیورٹی اہلکاروں کو متحرک کردیا ہے۔
سیلاب نے سرحدی علاقے میں آمدورفت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ یہ علاقہ تبت جانے والے سیاحوں اور مسافروں کے لیے اہم راستہ ہے، جن میں ماؤنٹ کیلاش اور مانسروور جھیل جانے والے افراد بھی شامل ہیں۔
کئی علاقوں میں مواصلاتی نظام اور اہم راستے متاثر ہونے کے باعث حکام دور دراز اور منقطع آبادیوں تک پہنچنے اور قدرتی آفت سے ہونے والے مکمل نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے تیزی سے کام کررہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے شہری جوہری ٹیکنالوجی معاہدہ: وائٹ ہاؤس
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ شہری جوہری تعاون کے مجوزہ معاہدے کو کانگریس بھیج دیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ اسی صورت میں آگے بڑھے گا جب ریاض اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر رضامند ہوگا۔
جولائی میں طے پانے والے اس معاہدے کو پیر کے روز کانگریس میں پیش کیا گیا۔ اس کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کو شہری جوہری ٹیکنالوجی برآمد کر سکیں گی، جس میں اے پی1000 ری ایکٹرز کی تعمیر کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
یہ منصوبہ دسیوں ارب ڈالر مالیت کا ہو سکتا ہے اور اس سے ویسٹنگ ہاؤس کو فائدہ پہنچے گا، جو کینیڈا میں قائم کیمیکو اور بروک فیلڈ اثاثہ جاتی انتظامیہ کی مشترکہ ملکیت ہے۔
امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے دی ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا کہ، ’’صدر کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا کہ یہ معاہدہ اسی صورت میں آگے بڑھے گا جب سعودی عرب ابراہیم معاہدوں میں شامل ہوگا۔‘‘
ابراہیم معاہدوں سے مراد امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے وہ معاہدے ہیں جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے تھے۔
یہ شرط اس وقت عائد کی گئی جب جولائی میں ابتدائی طور پر معاہدہ سعودی-اسرائیلی تعلقات کو معمول پر لانے کی واضح شرط کے بغیر طے کیا گیا تھا۔ اس پر اسرائیل اور اس کے حامیوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی، جو ایسی کسی بھی جوہری ڈیل کی پیش رفت کے سخت مخالف تھے جس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی شرط شامل نہ ہو۔
اب یہ معاہدہ کانگریس کے 90 قانون ساز اجلاسوں کے دنوں پر مشتمل جائزے کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ معاہدے کو کانگریس بھیجنے سے ٹرمپ کے وسیع تر مقصد، یعنی ریاض سے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کروانے میں کس حد تک پیش رفت ہوگی۔
اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ خاص طور پر پیچیدہ ہے، کیونکہ سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے قبل فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ناقابل واپسی راستے کی ضمانت کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور ان کی حکومت نے اس شرط کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔
سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی ابتدائی کوششوں میں 2023 میں نمایاں پیش رفت ہوئی تھی، تاہم 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے اور اس کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی جنگ نے اس پیش رفت کو تیزی سے متاثر کر دیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے امکانات مزید کم ہوگئے۔
اس جوہری معاہدے کو جوہری عدم پھیلاؤ کے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ واشنگٹن اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 2009 کے شہری جوہری معاہدے کے برعکس سعودی معاہدے میں واضح طور پر ریاض کو یورینیم افزودگی یا استعمال شدہ جوہری ایندھن کی دوبارہ پروسیسنگ کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے سے نہیں روکا گیا، حالانکہ ان ٹیکنالوجیز کو ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں امریکی قانون کے تحت مطلوبہ جوہری عدم پھیلاؤ کے حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔
تاہم نان پروولیفریشن پالیسی ایجوکیشن سینٹر کے ہنری سوکولسکی نے مؤقف اختیار کیا کہ کانگریس کے جائزے کے نتیجے میں معاہدہ مزید سخت یورینیم افزودگی کی پابندیوں یا اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی شرط کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔
سوکولسکی نے کہا، ’’اس عمل کا آغاز کرکے ٹرمپ نے یہ امکان پیدا کر دیا ہے کہ کانگریس معاہدے کو معمول پر لانے اور جوہری پھیلاؤ سے متعلق شرائط کے بغیر آگے بڑھنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ اگر آپ واقعی یورینیم افزودگی نہ ہونے اور اسرائیل کو تسلیم کیے جانے کے معاملے میں سنجیدہ ہیں تو یہ یقیناً مثالی صورتحال نہیں ہے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
تہران، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے ایک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں دونوں ممالک اس اہم آبی گزرگاہ میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے اور سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے ایک ’’مرحلہ وار فریم ورک‘‘ پر بات چیت کر رہے ہیں اس تجویز کے ذریعے مستقل بحری راستے اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام سے متعلق مذاکرات کی بنیاد بھی تیار کی جائے گی۔
تہران نے امریکہ کے سامنے ایک شرط رکھی ہے اور اصرار کیا ہے کہ جہاز رانی کی بحالی سے قبل واشنگٹن کو ایرانی بندرگاہوں اور بحری جہازوں کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ جنگ بھی ختم کرنا ہوگی۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک جلد ہی عارضی بحری راہداری اور محفوظ جہاز رانی کی بحالی کے انتظامات کا اعلان کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے کے مستقبل کے انتظام اور مستقل حل پر بعد میں بات کی جائے گی، جبکہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات امن و تعاون، استحکام اور آزادیٔ جہاز رانی کے فروغ میں معاون ہوں گے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ عارضی انتظامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کا انحصار تہران کے مطالبات پورے ہونے پر ہے۔
غریب آبادی نے بدھ کو کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ کو اپنی ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔
انہوں نے ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ انتظام کو عارضی قرار دیا اور کہا کہ مستقل راستہ قائم کرنے کے لیے مزید مذاکرات ہوں گے، جن میں 30 سے 60 دن لگنے کی توقع ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق غریب آبادی نے کہا، ’’آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے امریکہ کو ان تمام وعدوں پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا جن کی اس نے خلاف ورزی کی ہے۔‘‘
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف ناکہ بندی ختم کرنا کافی نہیں ہوگا۔
غریب آبادی نے کہا، ’’آبنائے ہرمز کے بدلے میں صرف ناکہ بندی ختم کرنا ہی واحد شرط نہیں ہے۔ ایک اور مسئلہ جنگ کا خاتمہ ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کا تمام محاذوں، بشمول لبنان، پر مستقل اور پائیدار انداز میں خاتمہ ضروری ہے۔
غریب آبادی کے مطابق ایران اور عمان کے مجوزہ انتظام میں عمانی ساحل کے ساتھ موجود جنوب کی جانب اقوام متحدہ سے مجاز بحری راستے کو بند کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے، جس کی تہران مخالفت کرتا ہے۔ تاہم عمان کے ابتدائی بیان میں ایسے کسی راستے کو بند کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ملک کے خلاف تازہ جارحیت شروع کیے جانے کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امیگریشن کریک ڈاؤن میں تیزی:ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی امیگرنٹ ویزا اپائنٹمنٹس روک دیں
واشنگٹن، ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں امیگرنٹ ویزا اپائنٹمنٹس عارضی طور پر روک دی ہیں۔ محکمہ خارجہ نے قونصلر افسران کے لیے نئی ’’جامع تربیت‘‘ شروع کی ہے، جس سے انتظامیہ کی وسیع تر امیگریشن پابندیوں میں ایک اور اقدام کا اضافہ ہوگیا ہے۔
محکمہ خارجہ نے کہا کہ اس نے امریکی سفارتی مشنز میں عالمی سطح پر تربیتی پروگرام شروع کیا ہے اور اس پروگرام کے لیے ویزا اپائنٹمنٹس میں تبدیلی کی جائے گی۔ تاہم، اس نے یہ نہیں بتایا کہ تربیت کتنے عرصے تک جاری رہے گی یا متاثرہ درخواست گزاروں کو انٹرویو کی نئی تاریخیں کب دی جائیں گی۔
تربیت کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ قونصلر افسران ویزا درخواست گزاروں کا ’’جامع اور یکساں‘‘ طریقے سے جائزہ لیں، بالخصوص ایسے درخواست گزاروں کی شناخت پر توجہ دی جائے جو مستقبل میں امریکی حکومت کی عوامی فلاحی سہولیات پر انحصار کرسکتے ہیں۔
جن امیگرنٹ ویزا درخواست گزاروں کے انٹرویوز پہلے سے امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں طے تھے، انہیں مبینہ طور پر ای میلز کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ ان کی اپائنٹمنٹس دوبارہ مقرر کی جارہی ہیں۔ انہیں کہا گیا ہے کہ نئی تاریخ اور وقت کے بارے میں بعد میں اطلاع دی جائے گی۔
انتظامیہ ایسے درخواست گزاروں کی جانچ مزید سخت کرنا چاہتی ہے جن کے بارے میں خیال ہو کہ انہیں امریکی حکومت کی مالی یا دیگر امداد کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اس اقدام سے امیگریشن قانون کے نام نہاد ’’پبلک چارج‘‘ معیار پر مزید توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔
امریکی امیگریشن قانون کے تحت قونصلر افسران یہ فیصلہ کرتے وقت درخواست گزار کی مالی حالت، عمر، صحت، تعلیم، مہارتوں اور خاندانی صورتحال سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھ سکتے ہیں کہ آیا وہ بنیادی طور پر حکومتی امداد پر انحصار کرنے کا امکان رکھتا ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امیگرنٹ ویزا کے خواہش مند افراد کو یہ ثابت کرنے کے قابل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے اخراجات خود پورے کرسکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر سرکاری امداد پر انحصار نہیں کریں گے۔
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی ایک اور پالیسی کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے تحت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا جاری کرنے کا عمل معطل کیا گیا تھا۔
مین ہٹن کی امریکی ضلعی جج جینیٹ ورگاس نے جمعہ کو فیصلہ دیا کہ محکمہ خارجہ نے درخواست گزاروں کی قومیت کی بنیاد پر ویزا معطلی عائد کرکے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
جنوری میں اعلان کی گئی اس پالیسی سے پاکستان، بنگلہ دیش، برازیل، کولمبیا اور یوراگوئے سمیت بلقان، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور کیریبین کے متعدد ممالک کے درخواست گزار متاثر ہوئے تھے۔
ورگاس نے اس پالیسی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی امیگریشن قانون قونصلر افسران سے تقاضہ کرتا ہے کہ وہ قانونی طریقہ کار کے تحت امیگرنٹ ویزا درخواستوں کا انفرادی جائزہ لیں، نہ کہ صرف قومیت کی بنیاد پر مکمل پابندی عائد کریں۔
یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک قانونی دھچکہ ہے، جو امیگریشن کے معاملے میں انتظامی اختیارات بڑھانے اور قانونی و غیر قانونی دونوں طرح کی امیگریشن پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
پاکستان1 week agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان1 week agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
-
دنیا1 week agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
دنیا1 week agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش کرنے والے بڈگام کے شہری کے خلاف چارج شیٹ داخل کی
-
جموں و کشمیر1 week agoسجاد لون نے یومِ آزادی کی تقریبات کے بائیکاٹ کی خبر کو ’’بالکل بے بنیاد‘‘ قرار دیا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکولگام میں ہوئے حادثے میں سی آر پی ایف کے چار جوان اور ٹرک ڈرائیور زخمی
-
جموں و کشمیر1 week agoصرف بی جے پی ہی نہیں، یو پی اے نے بھی ریاستوں کے حقوق کو کمزور کرنے میں کردار ادا کیا: عمر عبداللہ
-
دنیا1 week agoایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف عراق کا دورہ کریں گے
-
ہندوستان1 week agoذات پرمبنی مردم شماری پر مودی حکومت نے پھر ماری پلٹی: کانگریس
-
جموں و کشمیر1 week agoمیر واعظ کا نظر بندی کا الزام، اقدام کو ’بدقسمتی اور شرمناک‘ قرار دیا
