دنیا
یمن کے تعز اور لحج میں لڑائی تیز، حکومتی فورسز کی حوثی ٹھکانوں پر کارروائیاں
صنعا، یمن کے تعز اور اس سے متصل لحج صوبوں میں جمعرات کو یمنی حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی۔ حکومتی فورسز نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے اور باب المندب آبنائے کے قریب تزویراتی اہمیت کی حامل کہبوب پہاڑی سلسلے میں پیش قدمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یمن کی وزارت اطلاعات میں ٹیلی ویژن امور کے اسسٹنٹ انڈر سیکریٹری فیاض النعمان نے ایکس پر بتایا کہ تعز کے مغرب میں واقع ضلع الوزیعہ کے الظریفہ چوک پر حوثیوں کی کمک کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
النعمان کے حوالے سے فیلڈ رپورٹس کے مطابق یمنی فضائیہ نے تعز شہر کے مشرق میں الحوبان کے علاقے میں حوثیوں کے ایک مواصلاتی مرکز کو بھی نشانہ بنایا۔
تعز اور لحج کے درمیان واقع کہبوب پہاڑی سلسلے میں شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ یہ پہاڑی سلسلہ یمن کے مغربی ساحل اور باب المندب آبنائے کی جانب جانے والے راستوں پر نظر رکھتا ہے۔
حکومتی فورسز نے کہا کہ انہوں نے حوثیوں کے حملے پسپا کر دیے اور پہاڑوں میں کئی پوزیشنوں پر قبضہ کرلیا، جس کے بعد حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کے خلاف جوابی کارروائی شروع کردی گئی۔
فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے مختلف اقسام کے ہتھیار استعمال کیے اور کہبوب پہاڑی سلسلے کے راستے پیش قدمی کی کوشش میں متعدد جنگی یونٹس تعینات کیے۔ حکومتی فورسز نے کہا کہ حوثیوں کے ٹھکانوں، سازوسامان اور جنگجوؤں کے اجتماعات پر حملوں میں متعدد حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فورسز نے علاقے میں ایک ڈرون بھی مار گرایا۔
نیشنل شیلڈ فورسز نے الگ سے کہا کہ انہوں نے سدرن جائنٹس بریگیڈز کی مدد سے المضراب محاذ پر حوثیوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ فورسز کے مطابق 2 حوثی جنگجوؤں کو گرفتار جبکہ دیگر کو زخمی کر دیا گیا۔
کہبوب پہاڑ تزویراتی اعتبار سے انتہائی اہم ہیں کیونکہ ان سے باب المندب آبنائے کا علاقہ نظر آتا ہے۔ باب المندب دنیا کی اہم جہاز رانی کی گزرگاہوں میں شامل ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے۔ اس پہاڑی سلسلے سے میون جزیرے کے اطراف کا علاقہ بھی نظر آتا ہے۔
النعمان نے اس سے قبل تعز کے مغرب میں واقع جبل حبشی ضلع کے العنین اور بلاد الوافی محاذوں پر بھی جھڑپوں کی اطلاع دی تھی۔
تعز کے مغربی علاقوں میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران لڑائی میں شدت آئی ہے۔ بدھ کو حکومتی فورسز نے کہا تھا کہ انہوں نے الکدحہ محاذ پر حوثیوں کے ٹھکانوں، بیرکوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جبکہ دیگر فضائی حملوں میں تعز کے مغربی علاقوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں اور اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا۔
تازہ جھڑپوں کے باعث نسبتاً طویل عرصے سے جاری پُرسکون صورتحال ختم ہوگئی ہے، جو اپریل 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد بڑی حد تک برقرار رہی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
باب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
روم، اٹلی باب المندب آبنائے سے اپنے تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا۔ اٹلی کے وزیر دفاع گائیڈو کروزیتو نے یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ روم یورپی یونین کے مشترکہ فیصلے کا انتظار نہیں کرے گا۔
کروزیتو نے کہا، ’’ہمارے پاس آمدورفت کے تحفظ کی صلاحیت موجود ہے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ آبی گزرگاہ ناقابلِ آمدورفت ہو گئی تو اس کے معاشی نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
اٹلی کے وزیر دفاع نے کہا کہ روم کو ’’فیصلہ سازی میں بیوروکریٹک تاخیر کو پہلے ہی پیچیدہ صورتحال کو مزید خراب کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘‘
باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور یورپ اور ایشیا کے درمیان دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے۔ یہ نہر سویز سے آنے جانے والی تیل، گیس اور کنٹینر بردار بحری تجارت کے لیے بھی ایک اہم راستہ ہے۔
تاریخی طور پر دنیا کی تقریباً 12 سے 15 فیصد تجارت اس تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتی رہی ہے۔ یہ آبنائے یمن کو افریقی جانب جبوتی اور اریٹیریا سے جدا کرتی ہے اور اپنے تنگ ترین مقام پر اس کی چوڑائی صرف تقریباً 30 کلومیٹر (19 میل) ہے۔
اس سال کے اوائل میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کا مؤثر کنٹرول سنبھال لیے جانے کے بعد باب المندب کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ہرمز کی بندش سے دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہ متاثر ہوئی اور خلیجی ممالک کی خام تیل کی برآمدات کا بڑا حصہ متبادل راستوں کی جانب منتقل ہو گیا۔
خصوصاً سعودی عرب نے آبنائے ہرمز سے مکمل طور پر گریز کرتے ہوئے پائپ لائنوں اور بحیرہ احمر کے راستے بحری نقل و حمل پر زیادہ انحصار کیا ہے، جس کے باعث باب المندب آبنائے خلیجی تیل کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے والی آخری بڑی کھلی گزرگاہوں میں سے ایک بن گئی ہے۔
اس آبنائے پر کئی برس سے مختلف فریقوں کے درمیان کنٹرول کا تنازع رہا ہے۔ 2015 میں یمن کی جنگ شروع ہونے کے بعد مختلف اوقات میں یمنی حکومت، حوثی باغیوں اور خطے کی دیگر افواج نے اس کے ساحلی علاقوں کے مختلف حصوں پر کنٹرول قائم کیا ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران آبنائے کی اہمیت کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے یمن کے پورے مغربی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا، جس میں کئی تزویراتی اہمیت کے حامل جزائر بھی شامل ہیں۔
اس پیش قدمی کے نتیجے میں حوثیوں کو آبی گزرگاہ تک تقریباً بلا روک ٹوک رسائی حاصل ہوگئی ہے۔ اسے بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ حوثی ماضی میں امریکہ یا خطے میں اس کے اتحادیوں سے وابستہ سمجھے جانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
امریکہ اور یورپی یونین پہلے ہی علاقے میں حوثیوں کے حملوں سے تجارتی بحری جہازوں کے بہتر تحفظ کے لیے فوجی کارروائیاں کر چکے ہیں، تاہم یمن میں لڑائی میں اضافے کے باعث ان کوششوں سے اس بحری راستے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا ایران سے جنگ میں کامیابی کا دعویٰ، معاہدہ ہو یا نہ ہو مقاصد حاصل کریں گے
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکہ کامیاب ہوگا، چاہے یہ کامیابی کسی معاہدے کے ذریعے حاصل ہو یا بغیر معاہدے کے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن یا تو اچھا معاہدہ کرے گا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری جہاز رات کے وقت اس راستے سے گزرتے ہیں کیونکہ ایران انہیں مؤثر طور پر دیکھ نہیں پاتا۔ ان کے مطابق ایرانی ریڈار نظام تباہ کیے جاچکے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورتحال پر بھی سخت تبصرہ کرتے ہوئے وہاں مہنگائی 300 فیصد سے زیادہ ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم اس اعداد و شمار کی بھی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہوسکی۔
یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے ایران کے خلاف جنگ اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت معمول سے نمایاں کم ہے؛ رائٹرز کے مطابق 17 ستمبر کو صرف چار کمرشل جہاز آبنائے سے گزرے، جبکہ 10 روز کی اوسط تقریباً 16 جہاز روزانہ رہی ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
امریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
واشنگٹن، امریکہ نے سعودی عرب کو 48 جدید ایف-35 لائٹننگ ٹو جنگی طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری دے دی ہے۔ مجوزہ دفاعی معاہدے کی مالیت 24.3 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ممکنہ فروخت کے پیکیج میں 48 ایف-35 طیاروں کے علاوہ 49 انجن، مواصلاتی اور الیکٹرانک جنگی نظام، اسپیئر پارٹس، تربیتی سازوسامان، سمیولیٹرز اور دیگر معاون آلات شامل ہیں۔ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی۔
ایف-35 لائٹننگ ٹو اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس جدید لڑاکا طیارہ ہے۔ سعودی عرب کئی برس سے ایف-35 طیارے حاصل کرنے میں دلچسپی کا اظہار کرتا رہا ہے اور اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ فروخت سے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت اور امریکی و اتحادی افواج کے ساتھ باہمی تعاون بہتر ہوگا، جبکہ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں بنیادی فوجی توازن تبدیل نہیں ہوگا۔
مجوزہ معاہدہ امریکہ اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات میں مزید توسیع کی جانب ایک قدم ہے، تاہم امریکی کانگریس میں اس کی جانچ پڑتال متوقع ہے۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر6 days agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
-
جموں و کشمیر6 days agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
دنیا7 days agoسعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست امریکہ نے مسترد کردی
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ نے پاجامہ والے بیان کے تنازع پر تنویر صادق کا دفاع کیا
-
دنیا6 days agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: ایس آئی اے کی ٹیم نے پونچھ، اودھم پور کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے
-
ہندوستان6 days agoپوتن نے استعماری سوچ والے ممالک پر کثیر قطبی دنیا کے ابھار کو متاثر کرنے کا الزام لگایا
-
تجزیہ1 week agoکیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
-
دنیا1 week agoروسی حملوں میں یوکرین میں 7 افراد ہلاک، کیف کا آرکٹک میں گیس پلانٹس پر حملہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میونسپل کارپوریشن نے مصنوعی ذہانت پر مبنی واٹر پمپ مانیٹرنگ سسٹم شروع کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ میں سیاحت کا نیا ریکارڈ: آٹھ ماہ میں چار لاکھ سے زائد سیاح پہنچے
-
دنیا1 week agoعالمی بحرانوں کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا آغاز، ’اعتماد بحال کرنے‘ کا عزم
