دنیا
امریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
واشنگٹن، امریکہ نے سعودی عرب کو 48 جدید ایف-35 لائٹننگ ٹو جنگی طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری دے دی ہے۔ مجوزہ دفاعی معاہدے کی مالیت 24.3 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ممکنہ فروخت کے پیکیج میں 48 ایف-35 طیاروں کے علاوہ 49 انجن، مواصلاتی اور الیکٹرانک جنگی نظام، اسپیئر پارٹس، تربیتی سازوسامان، سمیولیٹرز اور دیگر معاون آلات شامل ہیں۔ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی۔
ایف-35 لائٹننگ ٹو اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس جدید لڑاکا طیارہ ہے۔ سعودی عرب کئی برس سے ایف-35 طیارے حاصل کرنے میں دلچسپی کا اظہار کرتا رہا ہے اور اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ فروخت سے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت اور امریکی و اتحادی افواج کے ساتھ باہمی تعاون بہتر ہوگا، جبکہ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں بنیادی فوجی توازن تبدیل نہیں ہوگا۔
مجوزہ معاہدہ امریکہ اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات میں مزید توسیع کی جانب ایک قدم ہے، تاہم امریکی کانگریس میں اس کی جانچ پڑتال متوقع ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
باب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
روم، اٹلی باب المندب آبنائے سے اپنے تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا۔ اٹلی کے وزیر دفاع گائیڈو کروزیتو نے یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ روم یورپی یونین کے مشترکہ فیصلے کا انتظار نہیں کرے گا۔
کروزیتو نے کہا، ’’ہمارے پاس آمدورفت کے تحفظ کی صلاحیت موجود ہے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ آبی گزرگاہ ناقابلِ آمدورفت ہو گئی تو اس کے معاشی نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
اٹلی کے وزیر دفاع نے کہا کہ روم کو ’’فیصلہ سازی میں بیوروکریٹک تاخیر کو پہلے ہی پیچیدہ صورتحال کو مزید خراب کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘‘
باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور یورپ اور ایشیا کے درمیان دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے۔ یہ نہر سویز سے آنے جانے والی تیل، گیس اور کنٹینر بردار بحری تجارت کے لیے بھی ایک اہم راستہ ہے۔
تاریخی طور پر دنیا کی تقریباً 12 سے 15 فیصد تجارت اس تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتی رہی ہے۔ یہ آبنائے یمن کو افریقی جانب جبوتی اور اریٹیریا سے جدا کرتی ہے اور اپنے تنگ ترین مقام پر اس کی چوڑائی صرف تقریباً 30 کلومیٹر (19 میل) ہے۔
اس سال کے اوائل میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کا مؤثر کنٹرول سنبھال لیے جانے کے بعد باب المندب کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ہرمز کی بندش سے دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہ متاثر ہوئی اور خلیجی ممالک کی خام تیل کی برآمدات کا بڑا حصہ متبادل راستوں کی جانب منتقل ہو گیا۔
خصوصاً سعودی عرب نے آبنائے ہرمز سے مکمل طور پر گریز کرتے ہوئے پائپ لائنوں اور بحیرہ احمر کے راستے بحری نقل و حمل پر زیادہ انحصار کیا ہے، جس کے باعث باب المندب آبنائے خلیجی تیل کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے والی آخری بڑی کھلی گزرگاہوں میں سے ایک بن گئی ہے۔
اس آبنائے پر کئی برس سے مختلف فریقوں کے درمیان کنٹرول کا تنازع رہا ہے۔ 2015 میں یمن کی جنگ شروع ہونے کے بعد مختلف اوقات میں یمنی حکومت، حوثی باغیوں اور خطے کی دیگر افواج نے اس کے ساحلی علاقوں کے مختلف حصوں پر کنٹرول قائم کیا ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران آبنائے کی اہمیت کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے یمن کے پورے مغربی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا، جس میں کئی تزویراتی اہمیت کے حامل جزائر بھی شامل ہیں۔
اس پیش قدمی کے نتیجے میں حوثیوں کو آبی گزرگاہ تک تقریباً بلا روک ٹوک رسائی حاصل ہوگئی ہے۔ اسے بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ حوثی ماضی میں امریکہ یا خطے میں اس کے اتحادیوں سے وابستہ سمجھے جانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
امریکہ اور یورپی یونین پہلے ہی علاقے میں حوثیوں کے حملوں سے تجارتی بحری جہازوں کے بہتر تحفظ کے لیے فوجی کارروائیاں کر چکے ہیں، تاہم یمن میں لڑائی میں اضافے کے باعث ان کوششوں سے اس بحری راستے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا ایران سے جنگ میں کامیابی کا دعویٰ، معاہدہ ہو یا نہ ہو مقاصد حاصل کریں گے
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکہ کامیاب ہوگا، چاہے یہ کامیابی کسی معاہدے کے ذریعے حاصل ہو یا بغیر معاہدے کے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن یا تو اچھا معاہدہ کرے گا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری جہاز رات کے وقت اس راستے سے گزرتے ہیں کیونکہ ایران انہیں مؤثر طور پر دیکھ نہیں پاتا۔ ان کے مطابق ایرانی ریڈار نظام تباہ کیے جاچکے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورتحال پر بھی سخت تبصرہ کرتے ہوئے وہاں مہنگائی 300 فیصد سے زیادہ ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم اس اعداد و شمار کی بھی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہوسکی۔
یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے ایران کے خلاف جنگ اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت معمول سے نمایاں کم ہے؛ رائٹرز کے مطابق 17 ستمبر کو صرف چار کمرشل جہاز آبنائے سے گزرے، جبکہ 10 روز کی اوسط تقریباً 16 جہاز روزانہ رہی ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
امریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
نیویارک، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعرات کو بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے فلسطینی صدر محمود عباس کو آئندہ ہفتے عالمی رہنماؤں سے ویڈیو کے ذریعے خطاب کرنے کی اجازت دے دی۔ امریکہ کی جانب سے انہیں نیویارک میں سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے دوبارہ ویزا دینے سے انکار کے بعد جنرل اسمبلی نے یہ فیصلہ کیا۔
قرارداد کے حق میں 152 ووٹ پڑے، جبکہ تین ارکان نے مخالفت کی اور چار نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد کے تحت عباس اور فلسطین کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو بھی آئندہ ایک سال کے دوران اقوام متحدہ کے اجلاسوں اور کانفرنسوں میں دور سے شرکت کی اجازت ہوگی، اگر وہ امریکہ کا سفر کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
یہ ووٹنگ ایسے وقت ہوئی ہے جب واشنگٹن نے فلسطینی عہدیداروں، جن میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) اور فلسطینی اتھارٹی کے ارکان بھی شامل ہیں، پر ویزا پابندیوں میں توسیع کردی ہے۔ امریکہ نے گزشتہ سال پہلی بار یہ پابندیاں عائد کی تھیں اور کہا تھا کہ تقریباً 80 فلسطینی ان سے متاثر ہوں گے۔
ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ میں امریکہ کی نائب سفیر ٹیمی بروس نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’اگر فلسطینی اتھارٹی کو شراکت دار سمجھا جانا ہے تو اسے دہشت گردی کی مالی معاونت بند کرنی ہوگی اور سنجیدہ حکمرانی کے متبادل کے طور پر سفارتی تماشے کا استعمال روکنا ہوگا۔‘‘
فلسطینی رہنماؤں نے امریکی فیصلے کی مذمت کی۔ اقوام متحدہ میں فلسطین کے نمائندے ریاض منصور نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکی اقدام کو مسترد کردیا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو کہا کہ وہ فلسطینی عہدیداروں کے خلاف ویزا پابندیوں میں توسیع کر رہا ہے، کیونکہ اس کے مطابق ان کے بعض اقدامات کا مقصد ’’اسرائیل-فلسطین تنازع کو بین الاقوامی سطح پر لے جانا‘‘ ہے، جس میں بین الاقوامی عدالتوں کے سامنے اسرائیل کے خلاف مقدمات کی پیروی بھی شامل ہے۔
فلسطینی حکام کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ محمود عباس کو امریکی ویزا دینے سے انکار کردیا گیا ہے۔
1947 کے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر معاہدے کے تحت امریکہ عام طور پر غیر ملکی سفارت کاروں کو نیویارک میں اقوام متحدہ تک رسائی فراہم کرنے کا پابند ہے۔ تاہم، واشنگٹن کا موقف ہے کہ اسے سلامتی، انتہا پسندی اور خارجہ پالیسی کی بنیاد پر ویزا مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر6 days agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
-
جموں و کشمیر6 days agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
دنیا7 days agoسعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست امریکہ نے مسترد کردی
-
دنیا6 days agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: ایس آئی اے کی ٹیم نے پونچھ، اودھم پور کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے
-
ہندوستان6 days agoپوتن نے استعماری سوچ والے ممالک پر کثیر قطبی دنیا کے ابھار کو متاثر کرنے کا الزام لگایا
-
تجزیہ1 week agoکیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ نے پاجامہ والے بیان کے تنازع پر تنویر صادق کا دفاع کیا
-
دنیا1 week agoروسی حملوں میں یوکرین میں 7 افراد ہلاک، کیف کا آرکٹک میں گیس پلانٹس پر حملہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میونسپل کارپوریشن نے مصنوعی ذہانت پر مبنی واٹر پمپ مانیٹرنگ سسٹم شروع کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ میں سیاحت کا نیا ریکارڈ: آٹھ ماہ میں چار لاکھ سے زائد سیاح پہنچے
-
دنیا1 week agoعالمی بحرانوں کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا آغاز، ’اعتماد بحال کرنے‘ کا عزم
