دنیا
نیتن یاہو کا غزہ میں نسل کشی اور ایران، لبنان، شام پر حملوں کی تعریف کرتے ہوئے انتخابی مہم کا آغاز
تل ابیب، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنی لیکوڈ پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز ایک خطاب کے ساتھ کیا جس میں زیرِمحاصرہ غزہ میں فلسطینیوں کے قتلِ عام اور لبنان، شام کے بعض حصوں میں اسرائیلی دراندازی اور ایران پر حملوں کو اجاگر کیا گیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنی لیکوڈ پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز ایک خطاب کے ساتھ کیا جس میں زیرِمحاصرہ غزہ میں فلسطینیوں کے قتلِ عام اور لبنان، شام کے بعض حصوں میں اسرائیلی دراندازی اور ایران پر حملوں کو اجاگر کیا گیا۔
عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے غزہ میں جنگی جرائم کے الزام میں مطلوب نیتن یاہو کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا ہے کہ وہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر ہونے والے حملے کو روکنے میں ناکام رہی، مگر جمعرات کو اس نے اصرار کیا کہ وہ اور ان کی پارٹی “واحد ہیں جو اسرائیل کی سلامتی کی ضمانت دے سکتے ہیں”۔
اس نے 2023 کے بعد ایران، لبنان، شام اور غزہ میں ہونے والی اسرائیلی جارحیت کی فہرست دی۔
اس نے کہا”مشن مکمل ہونا چاہیے؛ ہمیں ایرانی نظام کو گرانا ہوگا اور حزب اللہ اور حماس کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہوگا,”
نیتن یاہو نے اپنے حریفوں پر “سرزمین سے دستبرداری” کرنے کے ارادے کا الزام بھی لگایا، اور لبنان، شام اور غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی کو اس بات کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ “ہم زمین دینے کے بجائے لیتے ہیں “۔
وزیر اعظم نے دوبارہ کہا کہ “میں نے مشرقِ وسطیٰ کا چہرہ بدل دیا ہے” اور ایک بار پھر اسے بدلنے کا عندیہ دیا، مگر اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ کی سب سے انتہاپسند حکومت کی سربراہی کر رہا ہے۔
اس نے اپنے ملک کو نسل کشی اور متعدد جنگوں میں دھکیل دیا ہے جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں غیرقانونی صہیونی بستیوں کی تعمیر میں اضافہ کیا ہے۔
دریں اثنا، اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر غزہ میں نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے، جو ایک طرفہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے، اور جنوبی لبنان میں حملے اور قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
نیتن یاہو پہلے ایسے وزیرِاعظم ہیں جنہیں فوجداری مقدمے کا سامنا ہے؛ ان پر متعدد بدعنوانی کے الزامات عائد ہیں جن سے وہ انکار کرتے ہیں۔
رائے عامہ کے جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ 27 اکتوبر کے انتخابات سخت مقابلہ ہوں گے۔
نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کے انتہاپسند اور انتہائی مذہبی حلیفوں کا اتحاد اپنے مرکزی حریف، مرکز مائل گادی آئزنکوٹ، جسے دائیں اور بائیں دونوں جانب کی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے، کے اتحاد کے خلاف مقابلہ کر رہا ہے۔
26 جون کو لبنان اور اسرائیل نے واشنگٹن میں ایک امریکی سرپرستی میں فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت اسرائیل کا لبنان کی سرزمین سے بتدریج انخلا اور اسرائیلی فورسز کے خالی کردہ علاقوں میں لبنانی فوج کی تعیناتی متعین کی گئی۔
معاہدے کے باوجود، اسرائیل جنوبی لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور جنوب کے بعض علاقوں پر قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے — کچھ پر دہائیوں سے اور کچھ حالیہ جنگوں اور فوجی کارروائیوں کے دوران قبضہ کیا گیا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یمن میں بڑھتی کشیدگی، بحری راستوں اور توانائی سپلائی پر خدشات
ریاض، یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید لڑائی میں کم از کم 68 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق یمنی حکومتی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں جنوب مغربی علاقوں میں 23 حکومتی فوجی مارے گئے۔ دوسری جانب حوثی فوجی ذرائع نے کہا کہ سعودی فضائی حملوں اور زمینی جھڑپوں میں ان کے 40 جنگجو ہلاک ہوئے۔ تاہم یہ اعداد و شمار دونوں فریقوں کے دعووں پر مبنی ہیں اور آزادانہ طور پر ان کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
لڑائی میں شہریوں کے متاثر ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق طائف میں ایک ڈرون کو روکنے کے بعد گرنے والے ملبے کی زد میں آکر ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ حوثیوں کے زیر انتظام میڈیا نے تعز میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کی کارروائی میں تین بچوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق تازہ لڑائی کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ حوثیوں کی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی سے اہم بحری راستوں کی سلامتی کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔
حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے سعودی عرب سے حملے اور ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ سعودی فضائی کارروائیاں جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ حوثیوں نے سعودی ایف-15 طیارہ مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے، جس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ یمن میں جاری کشیدگی سے عالمی توانائی کی ترسیل اور بحری تجارت پر مزید دباؤ کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
باب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
روم، اٹلی باب المندب آبنائے سے اپنے تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا۔ اٹلی کے وزیر دفاع گائیڈو کروزیتو نے یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ روم یورپی یونین کے مشترکہ فیصلے کا انتظار نہیں کرے گا۔
کروزیتو نے کہا، ’’ہمارے پاس آمدورفت کے تحفظ کی صلاحیت موجود ہے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ آبی گزرگاہ ناقابلِ آمدورفت ہو گئی تو اس کے معاشی نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
اٹلی کے وزیر دفاع نے کہا کہ روم کو ’’فیصلہ سازی میں بیوروکریٹک تاخیر کو پہلے ہی پیچیدہ صورتحال کو مزید خراب کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘‘
باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور یورپ اور ایشیا کے درمیان دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے۔ یہ نہر سویز سے آنے جانے والی تیل، گیس اور کنٹینر بردار بحری تجارت کے لیے بھی ایک اہم راستہ ہے۔
تاریخی طور پر دنیا کی تقریباً 12 سے 15 فیصد تجارت اس تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتی رہی ہے۔ یہ آبنائے یمن کو افریقی جانب جبوتی اور اریٹیریا سے جدا کرتی ہے اور اپنے تنگ ترین مقام پر اس کی چوڑائی صرف تقریباً 30 کلومیٹر (19 میل) ہے۔
اس سال کے اوائل میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کا مؤثر کنٹرول سنبھال لیے جانے کے بعد باب المندب کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ہرمز کی بندش سے دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہ متاثر ہوئی اور خلیجی ممالک کی خام تیل کی برآمدات کا بڑا حصہ متبادل راستوں کی جانب منتقل ہو گیا۔
خصوصاً سعودی عرب نے آبنائے ہرمز سے مکمل طور پر گریز کرتے ہوئے پائپ لائنوں اور بحیرہ احمر کے راستے بحری نقل و حمل پر زیادہ انحصار کیا ہے، جس کے باعث باب المندب آبنائے خلیجی تیل کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے والی آخری بڑی کھلی گزرگاہوں میں سے ایک بن گئی ہے۔
اس آبنائے پر کئی برس سے مختلف فریقوں کے درمیان کنٹرول کا تنازع رہا ہے۔ 2015 میں یمن کی جنگ شروع ہونے کے بعد مختلف اوقات میں یمنی حکومت، حوثی باغیوں اور خطے کی دیگر افواج نے اس کے ساحلی علاقوں کے مختلف حصوں پر کنٹرول قائم کیا ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران آبنائے کی اہمیت کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے یمن کے پورے مغربی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا، جس میں کئی تزویراتی اہمیت کے حامل جزائر بھی شامل ہیں۔
اس پیش قدمی کے نتیجے میں حوثیوں کو آبی گزرگاہ تک تقریباً بلا روک ٹوک رسائی حاصل ہوگئی ہے۔ اسے بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ حوثی ماضی میں امریکہ یا خطے میں اس کے اتحادیوں سے وابستہ سمجھے جانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
امریکہ اور یورپی یونین پہلے ہی علاقے میں حوثیوں کے حملوں سے تجارتی بحری جہازوں کے بہتر تحفظ کے لیے فوجی کارروائیاں کر چکے ہیں، تاہم یمن میں لڑائی میں اضافے کے باعث ان کوششوں سے اس بحری راستے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا ایران سے جنگ میں کامیابی کا دعویٰ، معاہدہ ہو یا نہ ہو مقاصد حاصل کریں گے
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکہ کامیاب ہوگا، چاہے یہ کامیابی کسی معاہدے کے ذریعے حاصل ہو یا بغیر معاہدے کے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن یا تو اچھا معاہدہ کرے گا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری جہاز رات کے وقت اس راستے سے گزرتے ہیں کیونکہ ایران انہیں مؤثر طور پر دیکھ نہیں پاتا۔ ان کے مطابق ایرانی ریڈار نظام تباہ کیے جاچکے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورتحال پر بھی سخت تبصرہ کرتے ہوئے وہاں مہنگائی 300 فیصد سے زیادہ ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم اس اعداد و شمار کی بھی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہوسکی۔
یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے ایران کے خلاف جنگ اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت معمول سے نمایاں کم ہے؛ رائٹرز کے مطابق 17 ستمبر کو صرف چار کمرشل جہاز آبنائے سے گزرے، جبکہ 10 روز کی اوسط تقریباً 16 جہاز روزانہ رہی ہے۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر6 days agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
-
جموں و کشمیر6 days agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
دنیا7 days agoسعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست امریکہ نے مسترد کردی
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ نے پاجامہ والے بیان کے تنازع پر تنویر صادق کا دفاع کیا
-
دنیا6 days agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: ایس آئی اے کی ٹیم نے پونچھ، اودھم پور کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے
-
ہندوستان6 days agoپوتن نے استعماری سوچ والے ممالک پر کثیر قطبی دنیا کے ابھار کو متاثر کرنے کا الزام لگایا
-
تجزیہ1 week agoکیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
-
دنیا1 week agoروسی حملوں میں یوکرین میں 7 افراد ہلاک، کیف کا آرکٹک میں گیس پلانٹس پر حملہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میونسپل کارپوریشن نے مصنوعی ذہانت پر مبنی واٹر پمپ مانیٹرنگ سسٹم شروع کیا
-
دنیا6 days agoسعودی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد عراق نے متعدد سرحدی گزرگاہیں بند کردیں
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ میں سیاحت کا نیا ریکارڈ: آٹھ ماہ میں چار لاکھ سے زائد سیاح پہنچے
