ہندوستان
ٹاٹا گروپ کو برباد کیے جانے پر خاموش کیوں ہیں کاروباری: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے ٹاٹا گروپ کو مجرمانہ طریقے سے برباد کیے جانے کا الزام لگاتے ہوئے ملک کے کاروباریوں سے سوال کیا ہے کہ وہ کب تک خاموش رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہندستانی کاروبار وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی ذاتی جاگیر نہیں ہیں اور اس طرح کے کاموں کے لیے انصاف یقینی بنایا جائے گا۔
مسٹر گاندھی نے بدھ کو سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ٹاٹا گروپ کو برباد کیا جا رہا ہے اور کوئی بھی کاروباری لیڈر اس پر بولنے کی ہمت نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے صنعت کاروں سے پوچھا کہ کیا وہ تب تک خاموش رہیں گے جب تک حکومت ان کے کاروبار پر قبضہ نہیں کر لیتی۔
مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ ٹاٹا گروپ کو مجرمانہ طریقے سے برباد کیا جا رہا ہے اور وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ شاہ کے ڈر سے ملک کے کاروباری اس پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن وہ انصاف یقینی بنائیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ ٹاٹا گروپ کی ہولڈنگ کمپنی ٹاٹا سنز میں ان دنوں قیادت اور شیئر بازار میں لسٹنگ کے حوالے سے تنازعہ چل رہا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
سمندری طوفان ‘ارنَب’ آندھرا پردیش اور یانم کے ساحلوں سے ٹکرانے کے بعد کمزور، شدید بارش اور ژالہ باری کی وارننگ
نئی دہلی، سمندری طوفان ‘ارنَب’ بدھ کی صبح آندھرا پردیش اور مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری کے یانم کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے بعد کمزور ہو کر شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہو گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ساحل سے ٹکرانے کے دوران طوفان کی رفتار 125 سے 135 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی، جو بڑھ کر 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی تھی۔ طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کا عمل مکمل ہونے کے بعد صبح 8 بج کر 30 منٹ پر یہ ‘انتہائی شدید سمندری طوفان’ سے کمزور ہو کر ‘شدید سمندری طوفان’ میں تبدیل ہو گیا۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ یہ طوفان آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران شمال سے شمال مغرب کی سمت بڑھے گا اور بتدریج مزید کمزور ہوتا جائے گا۔ اگلے چھ گھنٹوں میں اس کے معمول کے ‘سمندری طوفان’ اور اس کے بعد مزید چھ گھنٹوں میں ‘گہرے دباؤ’ میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔
انتہائی شدید سمندری طوفان ‘ارنَب’ کے کمزور پڑنے کے بعد محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے مشرقی اور وسطی ہندوستان کے کئی علاقوں میں انتہائی شدید بارش اور تیز ہواؤں کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آئندہ تین دنوں کے دوران پنجاب، ہریانہ، چنڈی گڑھ اور دہلی سمیت شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں ژالہ باری اور تیز آندھی و طوفان کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
آئی ایم ڈی نے اڈیشہ اور چھتیس گڑھ کے بعض علاقوں میں 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے اور جھکڑوں کی رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کے ساتھ گرج چمک اور آندھی آنے کی بھی پیش گوئی کی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وشاکھاپٹنم میں 22 سینٹی میٹر، کلنگاپٹنم میں 15 سینٹی میٹر، جبکہ کاکیناڈا اور تونی میں 12-12 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ وہیں اڈیشہ کے گوپال پور میں 9 سینٹی میٹر اور پوری میں 7 سینٹی میٹر بارش ہوئی۔
محکمہ کے مطابق 29 اکتوبر کو بہار، جھارکھنڈ، اڈیشہ، چھتیس گڑھ، مشرقی مدھیہ پردیش اور مشرقی اتر پردیش میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔ 30 اکتوبر کو بھی بہار اور مشرقی اتر پردیش میں بارش کا یہ خطرہ برقرار رہے گا۔ محکمہ موسمیات نے آندھرا پردیش، اڈیشہ، چھتیس گڑھ اور تلنگانہ کے کئی اضلاع میں اچانک درمیانے سے شدید درجے کے سیلاب کا خطرہ بھی ظاہر کیا ہے۔ ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ شدید بارش کے باعث پانی جمع ہونے، سیلاب آنے اور سڑکوں و ریلوے خدمات میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہے۔
پنجاب میں 29 اکتوبر سے یکم نومبر کے درمیان کہیں کہیں بارش ہونے کا امکان ہے۔ 29 سے 31 اکتوبر کے دوران بجلی چمکنے اور 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے، جن کے جھکڑوں کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، کے ساتھ آندھی اور طوفان آنے کا امکان ہے۔ 29 اور 30 اکتوبر کو بعض مقامات پر ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔
ہماچل پردیش میں 29 اکتوبر سے 3 نومبر تک کہیں کہیں سے لے کر وسیع علاقوں میں بارش ہونے کا امکان ہے۔ 29 اور 30 اکتوبر کو آندھی، طوفان اور بجلی چمکنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
جموں و کشمیر اور لداخ کے بعض علاقوں میں 29 اور 30 اکتوبر کو بارش ہونے کا امکان ہے۔ 29 اکتوبر کو بعض مقامات پر بجلی چمکنے، جبکہ 30 اکتوبر کو 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے اور جھکڑوں کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کے ساتھ آندھی و طوفان آنے کا امکان ہے۔
اتراکھنڈ میں 28 اکتوبر سے 3 نومبر تک کہیں کہیں سے لے کر وسیع علاقوں میں بارش ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ 29 اور 30 اکتوبر کو بجلی چمکنے اور 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے، جن کے جھکڑوں کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، کے ساتھ آندھی اور طوفان آنے کا امکان ہے۔
مشرقی اتر پردیش میں بارش کا خطرہ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 29 اور 30 اکتوبر کو ریاست کے اس حصے میں کئی مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔ اس دوران بعض مقامات پر انتہائی شدید بارش بھی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ گرج چمک کے ساتھ 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے اور جھکڑوں کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
آئی ایم ڈی نے لوگوں کو موسم کی تازہ صورت حال پر نظر رکھنے اور بجلی چمکنے، تیز ہواؤں اور خراب موسم سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
سپریم کورٹ مارچ کے دوران مبینہ دھکا دینے کے معاملے میں حاملہ صحافی کی عرضی پر سپریم کورٹ کا نوٹس، راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر کا مطالبہ
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے منگل کے روز ایک حاملہ صحافی کی جانب سے دائر عرضی پر نوٹس جاری کیا، جس میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف مبینہ طور پر دھکا دینے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ صحافی نے الزام لگایا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب مارچ کے دوران راہل گاندھی نے انہیں دھکا دیا تھا۔
تین ماہ کی حاملہ صحافی رچا پراشر نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے عدالت کے احاطے میں سیاسی مظاہروں سے متعلق ایک معاملے میں فریق بنائے جانے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 12 اکتوبر کو ‘انڈیا بلاک’ کے رہنماؤں کے سپریم کورٹ کی جانب مارچ کے دوران راہل گاندھی نے انہیں دھکا دیا تھا۔
صحافی نے الزام لگایا کہ سپریم کورٹ کے دروازے کے قریب راہل گاندھی نے انہیں زور سے دھکا دیا، جس کے نتیجے میں وہ گر پڑیں، ان کا فون خراب ہو گیا اور انہیں پیٹ میں درد ہونے لگا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 40 منٹ تک انہیں کوئی مدد نہیں ملی اور بعد میں انہیں عوامی سطح پر تضحیک اور آن لائن بدسلوکی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
راہل گاندھی اور دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کے ساتھ پولیس میں شکایت درج کرانے کے باوجود اب تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ صحافی نے ایف آئی آر درج کرنے، سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے، معاوضہ دینے، معافی مانگنے اور خود اپنے اہل خانہ کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
سینئر وکیل گورو بھاٹیا نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے سامنے اس درخواست کا ذکر کیا، جس کے بعد بنچ نے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
رام مندر ٹرسٹ کے چندے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کا کانگریس کا مطالبہ
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے منگل کے روز ایودھیا میں رام مندر ٹرسٹ میں مبینہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 2020 میں ایک آڈٹ فرم کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کی گئی تنبیہات کے باوجود اصلاحی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے خاموشی توڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پوچھا کہ مبینہ بے ضابطگیوں کا ذمہ دار کون ہے اور کیا بااثر افراد کو جانچ کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ملک یہ جاننا چاہتا ہے کہ چندہ چرانے والے کون ہیں اور ان کے ساتھی کون ہیں۔” انہوں نے سپریم کورٹ کی نگرانی میں غیر جانب دارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
رمیش نے ایک نجی آڈٹ فرم کی جانب سے نومبر 2020 میں مبینہ طور پر پیش کی گئی داخلی آڈٹ اور رسک مینجمنٹ کی رپورٹ کا حوالہ دیا۔ یہ رپورٹ اسی سال 5 فروری کو ٹرسٹ کے قیام کے چند ماہ بعد پیش کی گئی تھی۔
کانگریس رہنما کے مطابق، اس رپورٹ میں ٹرسٹ کے کام کاج میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان میں ذمہ داریوں کی غیر واضح تقسیم، چندے کا ریکارڈ درج کرنے کے لیے منظم نظام کی عدم موجودگی، لین دین اور ڈیٹا اندراجات کی ناکافی تصدیق، نیز حساب کتاب اور بینک کھاتوں کے ملاپ کے لیے اہل عملے کی کمی شامل تھی۔
رمیش نے کہا کہ آڈٹ فرم نے مبینہ طور پر اس بات کی بھی نشاندہی کی تھی کہ ہزاروں ملازمین ہونے کے باوجود ٹرسٹ میں انسانی وسائل کا کوئی مخصوص شعبہ موجود نہیں تھا۔ فرم نے ٹرسٹ کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کے زیر انتظام ڈیٹا کو محفوظ رکھنے اور اس کی تصدیق کے انتظامات پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔ اس نے خبردار کیا تھا کہ غیر پیشہ ورانہ انتظام اور ڈیٹا کو مناسب طریقے سے نہ سنبھالنے کے نتیجے میں غلط معلومات اور گمراہ کن رپورٹیں سامنے آ سکتی ہیں۔
ان کے مطابق، فرم نے مالی لین دین، ڈیٹا مینجمنٹ اور عملے کی ذمہ داریوں کے لیے معیاری عملی طریقۂ کار وضع کرنے کے ساتھ ساتھ زیورات جیسے قیمتی نذرانوں کے لیے مناسب اسٹاک رجسٹر برقرار رکھنے کی سفارش کی تھی۔ رمیش نے سوال کیا کہ مبینہ طور پر ان سفارشات پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں سامنے آنے والی خامیاں عقیدت مندوں کی جانب سے دیے جانے والے چندے کے تحفظ کے لیے موجود انتظامات کے بارے میں سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔
کانگریس رہنما نے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے منسوب نتائج کا بھی حوالہ دیا۔ ان نتائج میں الزام لگایا گیا ہے کہ گنتی کے کمرے سے 105 مرتبہ نقد رقم نکالی گئی، جبکہ ملازمین سی سی ٹی وی کیمروں کے سامنے کھڑے ہو کر ان کی نظر میں رکاوٹ ڈال رہے تھے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آڈٹ کی سابقہ تنبیہات کے باوجود مبینہ طور پر ایسے واقعات کیسے پیش آ سکتے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تفتیش کار اس بات کا تعین کریں کہ آیا ان واقعات میں انفرادی ملازمین ملوث تھے یا یہ نگرانی اور جواب دہی کے نظام کی وسیع تر ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں۔
جاری یواین آئی۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
دنیا1 week agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا1 week agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں کوئی وقفہ نہیں آیا: روبیو
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر پابندیوں میں نرمی کا دفاع کیا، زیلنسکی پر سخت تنقید
-
پاکستان1 week agoحوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
-
دنیا1 week agoروسی ڈیزل سے متعلق امریکی فیصلے پر کشیدگی کے درمیان زیلنسکی کی ٹرمپ کے ایلچیوں سے بات چیت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ثقافتی شعبے کی بحالی کے لیے محبوبہ مفتی کی امیت شاہ سے مداخلت کی اپیل
-
دنیا1 week ago“نتن یاہو، جیل سے بچنے کے لیے امریکہ کو جنگ میں دھکیل رہا ہے: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
-
دنیا1 week agoفرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ
-
دنیا1 week agoہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو
