ہندوستان
سمندری طوفان ‘ارنَب’ آندھرا پردیش اور یانم کے ساحلوں سے ٹکرانے کے بعد کمزور، شدید بارش اور ژالہ باری کی وارننگ
نئی دہلی، سمندری طوفان ‘ارنَب’ بدھ کی صبح آندھرا پردیش اور مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری کے یانم کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے بعد کمزور ہو کر شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہو گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ساحل سے ٹکرانے کے دوران طوفان کی رفتار 125 سے 135 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی، جو بڑھ کر 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی تھی۔ طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کا عمل مکمل ہونے کے بعد صبح 8 بج کر 30 منٹ پر یہ ‘انتہائی شدید سمندری طوفان’ سے کمزور ہو کر ‘شدید سمندری طوفان’ میں تبدیل ہو گیا۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ یہ طوفان آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران شمال سے شمال مغرب کی سمت بڑھے گا اور بتدریج مزید کمزور ہوتا جائے گا۔ اگلے چھ گھنٹوں میں اس کے معمول کے ‘سمندری طوفان’ اور اس کے بعد مزید چھ گھنٹوں میں ‘گہرے دباؤ’ میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔
انتہائی شدید سمندری طوفان ‘ارنَب’ کے کمزور پڑنے کے بعد محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے مشرقی اور وسطی ہندوستان کے کئی علاقوں میں انتہائی شدید بارش اور تیز ہواؤں کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آئندہ تین دنوں کے دوران پنجاب، ہریانہ، چنڈی گڑھ اور دہلی سمیت شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں ژالہ باری اور تیز آندھی و طوفان کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
آئی ایم ڈی نے اڈیشہ اور چھتیس گڑھ کے بعض علاقوں میں 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے اور جھکڑوں کی رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کے ساتھ گرج چمک اور آندھی آنے کی بھی پیش گوئی کی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وشاکھاپٹنم میں 22 سینٹی میٹر، کلنگاپٹنم میں 15 سینٹی میٹر، جبکہ کاکیناڈا اور تونی میں 12-12 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ وہیں اڈیشہ کے گوپال پور میں 9 سینٹی میٹر اور پوری میں 7 سینٹی میٹر بارش ہوئی۔
محکمہ کے مطابق 29 اکتوبر کو بہار، جھارکھنڈ، اڈیشہ، چھتیس گڑھ، مشرقی مدھیہ پردیش اور مشرقی اتر پردیش میں الگ الگ مقامات پر شدید سے بہت شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔ 30 اکتوبر کو بھی بہار اور مشرقی اتر پردیش میں بارش کا یہ خطرہ برقرار رہے گا۔ محکمہ موسمیات نے آندھرا پردیش، اڈیشہ، چھتیس گڑھ اور تلنگانہ کے کئی اضلاع میں اچانک درمیانے سے شدید درجے کے سیلاب کا خطرہ بھی ظاہر کیا ہے۔ ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ شدید بارش کے باعث پانی جمع ہونے، سیلاب آنے اور سڑکوں و ریلوے خدمات میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہے۔
پنجاب میں 29 اکتوبر سے یکم نومبر کے درمیان کہیں کہیں بارش ہونے کا امکان ہے۔ 29 سے 31 اکتوبر کے دوران بجلی چمکنے اور 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے، جن کے جھکڑوں کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، کے ساتھ آندھی اور طوفان آنے کا امکان ہے۔ 29 اور 30 اکتوبر کو بعض مقامات پر ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔
ہماچل پردیش میں 29 اکتوبر سے 3 نومبر تک کہیں کہیں سے لے کر وسیع علاقوں میں بارش ہونے کا امکان ہے۔ 29 اور 30 اکتوبر کو آندھی، طوفان اور بجلی چمکنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
جموں و کشمیر اور لداخ کے بعض علاقوں میں 29 اور 30 اکتوبر کو بارش ہونے کا امکان ہے۔ 29 اکتوبر کو بعض مقامات پر بجلی چمکنے، جبکہ 30 اکتوبر کو 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے اور جھکڑوں کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کے ساتھ آندھی و طوفان آنے کا امکان ہے۔
اتراکھنڈ میں 28 اکتوبر سے 3 نومبر تک کہیں کہیں سے لے کر وسیع علاقوں میں بارش ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ 29 اور 30 اکتوبر کو بجلی چمکنے اور 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے، جن کے جھکڑوں کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، کے ساتھ آندھی اور طوفان آنے کا امکان ہے۔
مشرقی اتر پردیش میں بارش کا خطرہ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 29 اور 30 اکتوبر کو ریاست کے اس حصے میں کئی مقامات پر بارش ہو سکتی ہے۔ اس دوران بعض مقامات پر انتہائی شدید بارش بھی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ گرج چمک کے ساتھ 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے اور جھکڑوں کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
آئی ایم ڈی نے لوگوں کو موسم کی تازہ صورت حال پر نظر رکھنے اور بجلی چمکنے، تیز ہواؤں اور خراب موسم سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
جے رام رمیش نے ایس آئی آر کے جواز پر سوال اٹھائے، کہا چھ ریاستوں میں صرف 1600 غیر ملکی شہریوں کی شناخت ہوئی
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعرات کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے مقاصد کے سلسلے میں ملک کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دلیل دی کہ شاہ کی جانب سے پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، چھ ریاستوں میں اس عمل کے تحت شامل تقریباً 10 کروڑ لوگوں میں سے صرف 1600 غیر ملکی شہریوں کی شناخت کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں رمیش نے یاد دلایا کہ شاہ نے ایس آئی آر کو ”تھری ڈی مقصد” والا عمل قرار دیا تھا، جس کا مطلب دراندازوں کا ”پتہ لگانا، نام حذف کرنا اور ملک بدر کرنا” ہے۔ اس کا مقصد انتخابی فہرستوں کو ”پاک صاف” کرنا بتایا گیا تھا۔ اس وسیع نظرثانی کے جواز پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کرناٹک، جھارکھنڈ، میگھالیہ، کیرالہ، گوا اور میزورم کے اعداد و شمار پیش کیے اور کہا کہ اس عمل کے دائرے کے مقابلے میں شناخت کیے گئے غیر ملکی شہریوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔
رمیش نے کہا، ”ان ریاستوں میں تقریباً 10 کروڑ لوگوں کے ایس آئی آر کے عمل سے گزرنے کا مقصد 1600 ‘غیر ملکیوں’ کو تلاش کرنا تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ دیگر 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے متعلق اسی طرح کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، کیونکہ ان کے مطابق، الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ان سے ایسا ڈیٹا جمع کرنے کے لیے نہیں کہا تھا۔
کرناٹک کی مثال دیتے ہوئے رمیش نے کہا کہ ریاست کی انتخابی فہرستوں سے 99.7 لاکھ نام حذف کیے گئے، جبکہ صرف 716 غیر ملکی شہریوں کی شناخت ہوئی، جن میں 545 نیپال سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ اعداد و شمار اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ آیا نظرثانی کا اتنا وسیع عمل غیر ملکی شہریوں کی شناخت اور نااہل ووٹروں کو ہٹانے کے اپنے اعلان شدہ مقصد کے تناسب سے ہے یا نہیں۔
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ یہ عمل نااہل ووٹروں کی شناخت تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس سے بڑی تعداد میں ہندوستانی شہریوں کو ان کے آئینی حقِ رائے دہی سے محروم کیے جانے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے ایس آئی آر کو ایک ایسی ”سازش” قرار دیا جسے مبینہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ نے تیار کیا ہے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار الیکشن کمیشن کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ای سی آئی نیٹ سمیت مختلف ذرائع سے نافذ کر رہے ہیں۔ ای سی آئی نیٹ پر انتخابات سے متعلق خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔
رمیش نے گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے، ایس آئی آر کے عمل کو معطل کرنے اور ای سی آئی نیٹ کی ازسرنو تشکیل کے کانگریس کے مطالبے کو دہرایا۔ انہوں نے کہا، ”گیانیش کمار کو جانا ہوگا، ایس آئی آر کو معطل کرنا ہوگا اور ای سی آئی نیٹ کی ازسرنو تشکیل کرنی ہوگی۔”
ایس آئی آر سے متعلق تنازعے نے اپوزیشن اور الیکشن کمیشن کے درمیان محاذ آرائی کو مزید تیز کر دیا ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ نظرثانی کے عمل میں شفافیت کا فقدان ہے اور اس کے نتیجے میں اہل ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کی کوششوں کے تحت یہ عمل شروع کیا ہے، جبکہ اپوزیشن نے اس کے نفاذ، نام حذف کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے معیار اور ان ووٹروں کے لیے دستیاب حفاظتی اقدامات پر سوال اٹھائے ہیں جن کے نام فہرستوں سے ہٹا دیے جاتے ہیں۔
رمیش کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار نے اس سیاسی تنازعے میں ایک نیا پہلو شامل کر دیا ہے۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کی نسبتاً کم تعداد کی شناخت کی بنیاد پر نہ تو اس وسیع عمل کا جواز پیش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی بڑے پیمانے پر نام حذف کرنے کے عمل کو درست ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ پارٹی نے نظرثانی کو معطل کرنے اور انتخابی ادارے اور اس کے ڈیجیٹل نظام کے کام کاج میں زیادہ شفافیت لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
دہشت گردی سے نمٹنے کا تجربہ آسیان ممالک کے ساتھ مشترک کرے گا ہندوستان: راجناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا اپنا زمینی تجربہ آسیان ممالک کے ساتھ مشترک کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے کئی دہائیوں تک سرحد پار دہشت گردی کے چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے یہ تجربہ حاصل کیا ہے۔ آپریشن سندور نے ہندوستان کی فعال اور زمینی تجربے پر مبنی حکمت عملی کو نمایاں کیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے جمعرات کو فلپائن کے شہر سیبو میں آسیان کے وزرائے دفاع کی 13ویں میٹنگ (اے ڈی ڈی ایم پلس) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ہندوستان مشترکہ فوجی مشقوں، تربیت اور خفیہ معلومات کے تبادلے کے ذریعے اپنے معاون ممالک کی دہشت گردی سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔ ہندوستان اور ملائیشیا 2024 سے 2027 تک انسداد دہشت گردی سے متعلق ماہرین کے ورکنگ گروپ کی مشترکہ صدارت کر رہے ہیں۔
انہوں نے ہند-بحرالکاہل خطے میں امن و سلامتی کے لیے بحری تعاون کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سمندری راستوں پر جہازوں کی آمد و رفت اور طیاروں کی پرواز کی آزادی پر ہندوستان کا زور کسی ملک کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد خطے کے تمام ممالک کے مشترکہ مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ہندوستان 2008 سے خلیج عدن جیسے حساس سمندری علاقوں میں سرگرم ہے اور تجارتی جہازوں کی حفاظت میں اپنا تعاون دے رہا ہے۔
وزیر دفاع نے ہندوستان اور آسیان کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک خصوصی ‘یوتھ برج’ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ اس کا مقصد نوجوانوں کے درمیان رابطے بڑھانا، ڈیجیٹل اختراع کی حوصلہ افزائی کرنا اور صلاحیت سازی کو مضبوط بنانا ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
راہل کی ‘چلو دہلی’ مارچ میں طلبہ اور عام لوگوں سے شرکت کی اپیل
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کی جانب سے یکم نومبر کو قومی راجدھانی کے رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والی ‘چلو دہلی’ مارچ کو جمہوریت، آئین اور ووٹ چوری کے خلاف ملک کا احتجاج قرار دیتے ہوئے طلبہ سمیت عام لوگوں سے اس میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
مسٹر گاندھی نے جمعرات کو ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی ایک سیاسی پارٹی کا مارچ نہیں، بلکہ ہندوستان کی روح کا مارچ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے پریشان ہیں اور جمہوریت و آئین کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں، انہیں اس مارچ میں ضرور شامل ہونا چاہیے۔
انہوں نے تمام طلبہ تنظیموں سے سیاسی نظریات سے بالاتر ہو کر اس مارچ میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ ملک، ان کی اظہار رائے کی آزادی، ان کے خیالات اور سوچنے کے طریقے پر حملہ ہو رہا ہے، تو انہیں اس مارچ میں شرکت کرنی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے مظاہرین سے پولیس یا لاٹھی چارج کے حوالے سے خوف زدہ نہ ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں اس طرح کی کارروائی کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سبھی لوگ آئین اور ملک کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھیں گے۔
انہوں نے ملک کے عوام سے یکم نومبر کو رام لیلا میدان پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی روح کے تحفظ کے لیے مارچ ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کا پہلا میڈیکل کالج 2027-28 میں شروع ہوگا
-
دنیا1 week agoفرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ
-
دنیا1 week agoیوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کے خواہاں پوتن
-
ہندوستان1 week agoآر ایس ایس خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتا ہے: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسجاد لون کی اسمارٹ میٹرنگ پر جموں و کشمیر حکومت پر تنقید، کیبل پالیسی کو عوام کے لیے ‘حیران کن تحفہ’ قرار دیا
-
دنیا1 week agoایران: “ہمارے ملک سے افزودہ یورینیم کا ایک گرام تک باہر نہیں بھیجا جائے گا”
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں
-
ہندوستان1 week agoراجناتھ سنگھ کی ایس سی او رکن ممالک سے دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کی اپیل
-
دنیا1 week agoامریکہ اور اسرائیل نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کریں گے: وائٹ ہاؤس
-
جموں و کشمیر1 week agoدہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کو جموں و کشمیر کے ایل جی کی سخت وارننگ، ‘پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے’
