تازہ ترین
جماعت اسلامی ’’غیر قانونی‘‘قرار دئے جانے کے بعد عوامی حلقوں میں غم و غصہ
خبراردو:
ریاست کی معروف سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیم جماعت اسلامی پر جمعرات کی شام مرکزی حکومت نے پابندی عائد کردی۔ جمعرات کی شام دیر گئے سماجی رابطہ گاہ سائٹوں پر محکمہ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری آرڈر نے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑائی جس کے ساتھ ہی اندرون و بیرون ریاست پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اداروں نے آرڈر کو نشر کرتے ہوئے خبر کی تصدیق کی۔معلوم ہوا کہ اس بات کا فیصلہ وزیرا عظم نریندر مودی کی صدارت میں ہوئی مرکزی کابینی میٹنگ میں کیا گیا .
جس کے بعد وزارت داخلہ کی طرف سے ایک نوٹیفکیشن زیر نمبر S.O 10699(E) بتاریخ 28فروری2019جاری کرکے کہا گیاہے کہ جماعت اسلامی جموں وکشمیر ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے ،جو اندرونی سلامتی اور عوامی نظم وضبط کے متضاد ہیں۔جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جماعت اسلامی جموں وکشمیر کو غیر قانونی قرار دے کر 5سال تک اس پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔نو ٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ (الف)جماعت اسلامی کا جنگجو تنظیموں کے ساتھ نزدیکی رابطہ ہیں اور جموں وکشمیرودیگر مقامات پر انتہا پسندی اور عسکریت کی حمایت کرتی ہے۔(ب)جماعت اسلامی بھارت کے علاقے کے ایک حصے کی علیحدگی کے دعوے کی حمایت کرتی ہے اوردہشت گردوں اورعلیحدگی پسند گروپوں کو اس مقصد کیلئے لڑنے کی حمایت کرنے کیلئے ایسی سرگرمیاں جاری رکھتی ہے ،جو بھارت کی علاقائی سالمیت کو خطرے میں ڈالتی ہے۔(ج)جماعت اسلامی ملک میں قوم مخالف اور دیگر دشمنانہ سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے تاکہ منافرت کو ہوا دے سکے۔
مرکزی حکومت اس خیال کی حامی ہے کہ اگر جماعت اسلامی کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا اور قابو نہ کیا گیا تو اس سے یہ منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں جن میں (الف)اپنی منفی سرگرمیوں میں تیزی لائے گی جن میں بھارت کے علاقے میں قانونی طور قائم حکومت کو غیر مستحکم کرکے ایک اسلامی ریاست کے قیام کی کوششیں شامل ہیں۔(ب)وہ جموں وکشمیر ریاست کو بھارت سے علیحدہ کرنے کی وکالت جاری رکھے گی، نیز ریاست کا مرکزکے ساتھ الحاق کی مخالفت کرے گی۔(ج)قوم مخالف اورعلیحدگی جذبات کی تشہیر کرے گی جو کہ ملک کی سالمیت اور سیکورٹی کیلئے خطرناک ثابت ہوگی۔(د)علیحدگی کی تحریک کو تیز کرے گی ،جنگجوؤں کی حمایت اور ملک میں تشدد کو بھڑکائے گی۔
اسکے علاوہ مرکزی حکومت یہ بھی خیال رکھتی ہے کہ جماعت اسلامی کی سرگرمیوں کے تناظر میں اسے ایک غیر قانونی تنظیم قرار دی جائے جس کا اطلاق فوری طور ہو۔اب اس لئے آئین ہند کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق مرکزی حکومت جماعت اسلامی جموں وکشمیر کو ایک ’غیر قانونی جماعت‘ قرار دیتی ہے اور ہدایت دیتی ہے کہ یہ نوٹیفکیشن 5برسوں کیلئے قابل اطلاق ہوگی ۔ادھر حکم نامہ جاری کئے جانے کے ساتھ ہی وادی کے یمین و یسار میں عوامی حلقوں میں سخت ناراضگی پائی گئی جس دوران سماج کے مختلف طبقہ ہائے فکر نے سوشل میڈیا پر مرکزی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا۔ ادھر جمعہ کی صبح سے ہی انتظامیہ نے وادی میں امن و قانون کی صورتحال سے نمٹنے اور کسی بھی امکانی چلینج سے نبردآزما ہونے کے لیے شہر خاص کے ساتھ ساتھ شمال و جنوب کے حساس مقامات پر فورسز کے اضافی دستوں کو تعینات کردیا۔ معلوم ہوا کہ انتظامیہ نے شہر خاص کے کئی علاقوں میں صورتحال کے پیش نظر سخت بندشیں عائد کی تھیں جس دوران یہاں سڑکوں پر کئی مقامات پر خار دار تاریں بچھانے کے علاوہ راہ گیروں کی پوچھ تاچھ کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ ادھر شہر کے بتہ مالو علاقے جہاں جماعت اسلامی کے مرکزی ہیڈکوارٹر واقع ہے کے ارد گرد بھی فورسز کی غیر معمولی نفری کو تعینات کردیا گیا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہاں جماعت اسلامی کی مرکزی مسجد میں نماز جمعہ سے قبل فورسز کی بھاری تعداد کوتعینات کیا گیا تھا تاکہ کسی بھی احتجاجی مظاہرے سے بروقت نپٹا جاسکے تاہم عینی شاہدین کے مطابق یہاں نماز جمعہ پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس دوران جنوبی کشمیر کے اسلام آباد ، اننت ناگ، پلوامہ اور شوپیان میں بھی جماعت کی مرکزی مساجد کے ارد گرد فورسز اہلکاروں کے اضافی دستوں کو تعینات کردیا گیا تھا ۔
معلوم ہوا کہ اننت ناگ قصبہ میں قائم مسجد بیت المکرم جو جماعت علاقائی سطح پر جماعت کی اپنی مسجد ہے کے ارد گرد بھی جمعہ کو فورسز کا سخت پہرہ بٹھایا گیا تھا ۔ ادھر بارہمولہ میں بھی مسجد بیت المکرم کے اطراف و اکناف میں پولیس کے خصوصی دستوں کو تعینات کیا گیا تھا اور یہاں پر بھی لوگوں کی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھی جارہی تھی۔ اس دوران انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے اور بے لگام افواہ بازی کی روک تھام کے لیے وادی بھر میں موبائل انٹرنیٹ کی تیز رفتار سروس کو جمعہ کی صبح سے ہی معطل رکھا۔
اس دوران پولیس نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے کئی علاقوں سے دوران شب جماعت اسلامی کے کئی کارکنوں کو گرفتار کرتے ہوئے مختلف تھانوں میں نظر بند کردیا۔ معلوم ہوا کہ پولیس نے تازہ چھاپہ مار کارروائی کے دوران پلوامہ کے ترال قصبے سے تعلق رکھنے والے جماعت کے 6کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے لری بل، پنگلش، ڈاڈسرہ، پانر، مندورہ اور لرگام علاقوں میں شبانہ چھاپوں کے دوران قریباً6افراد کو گرفتار کرتے ہوئے پولیس تھانہ ترال میں نظر بند رکردیا۔ادھر مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے مرکزی حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے لوگوں کو بعد نماز جمعہ واقعے کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی ۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
تازہ ترین6 days agoیوم آزادی اور مسلمان
