تازہ ترین
جماعت کے بعد سرکاری ملازمین کا بڑے پیمانے پر ہوسکتا ہے کریک ڈاؤن، 200افراد کی فہرست مرتب
خبراردو:
ریاست جموں وکشمیر میں جماعت اسلامی کے طرز پر وسیع کریک ڈاؤن کی ایک اور تلوار لٹکتی نظر آرہی ہے جس میں اب کی بار سرکاری ملازمین پرشکنجہ کسا جائیگا۔ سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے تیار کردہ فہرست میں جنگجوؤں اور جماعت کے تئیں نرم گوشہ رکھنے والے200افرادکے نام درج ہیں جن میں سرکاری ملازمین کے علاوہ اساتذہ کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے 28فروری 2019کو جماعت اسلامی کو غیر قانونی قرار دئے جانے اور اس پر 5سالہ پابندی عائد کرنے کے بعد جہاں جماعت سے وابستہ افراد کا وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کرکے قریبا300افراد کو اب تک پولیس نے گرفتار کرتے ہوئے وادی اور بیرون وادی کے تھانوں اور جیلوں میں مقید کردیا ہے وہیں اس بات کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ سیکورٹی ایجنسیوں نے سرکاری محکمہ جات میں کام کررہے ملازمین اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد کی فہرست تیار کردی ہے اور اگر ذرائع کو صحیح مانا جائے تو فہرست میں شامل 200افراد کی گرفتاری آنے والے دنوں میں متوقع ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے جماعت اسلامی پر وسیع کریک ڈاؤ ن کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں کے پاس نیا منصوبہ زیر غور ہے جس کے تحت مختلف سرکاری محکمہ جات میں کام کررہے ملازمین پر بھی شکنجہ کسے جانے کی تیاری مکمل ہوچکی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی ایجنسیاں اب نئے کریک ڈاؤن کے تحت قریباً200افراد کو حراست میں لینے کی تیاریاں کررہی ہے جن میں سرکاری افسران کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی ایک بڑی تعدا د شامل ہیں۔باوثوق ذرائع سے ملی رپورٹ کے مطابق حکومت نے جنگجوؤں اور جماعت اسلامی کے تئیں مختلف محکمہ جات میں کام کررہے ملازمین اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد کا کریک ڈاؤن کرنے کا من بنالیا ہے جس کے لیے حکومت نے 200سرکاری ملازمین کی فہرست تیار کرلی ہے۔ذرائع سے ملی تفصیلات کے مطابق حکومت آنے والے دنوں میں سرکاری محکمہ جات میں کام کررہے ملازمین جو فکری طور پر جماعت کے ساتھ وابستہ ہیں کے خلاف کریک ڈاؤن کا باضابطہ آغاز کرنے جارہی ہے اور آنے والے دنوں میں 200افراد کی گرفتاریاں متوقع ہے۔
خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نئے کریک ڈاؤن کے لیے تیار کی گئی فہرست میں نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کے ساتھ ساتھ سینئر افسران بھی شامل ہیں جنہیں آنے والے دنوں میں اپنے سرکاری مناصب سے بے دخل کرکے کے علاوہ گرفتار کیا جائیگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری محکہ جات میں کام کرہے ایسے ملازمین خفیہ طور پر اپنی سرگرمیاں انجام دینے میں مصروف ہے۔ ایسے افراد نہ صرف جنگجوؤں، علیحدگی پسندوں اور دیگر قوم دشمن عناصر کو مالی معاونت فراہم کررہے ہیں بلکہ نوجوان نسل میں علیحدگی پسند سوچ پر منتقل کرنے میں انتہائی کوشاں رہتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے ایسے افراد کی فہرست بہت پہلے مرتب کرلی تھی تاہم موجودہ صورتحال میں جب کہ ریاست میں لوک سبھا الیکشن کی تیاریاں شروع ہوچکی ہے، ایسے میں ان افراد کی گرفتاری ناگزیر بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کو پرامن اور افرا تفری سے پاک ماحول میں منعقد کرانے کے لیے فہرست میں شامل افراد کی گرفتاریاں لازمی امر ہے اور اس کے لیے آنے والے دنوں میں سرکاری محکمہ جات میں جماعت اور جنگجوؤں کے درپردہ حامیوں کی گرفتاری عمل میں لائی جائیں گی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت نے سینکڑوں سرکاری اساتذہ صاحبان کو اس حوالے سے کافی متحرک پایا ہے جو ملازمت کے دوران بھی افرا تفری کا ماحول پیدا کرنے کی تاک میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اساتذہ صاحبان اپنے ڈیوٹیوں کے مقام سے بھی جماعت کے نظریاتی پیغام کو پھیلانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایسے افراد اپنے ساتھیوں اور طلبا و طالبات کے درمیان علیحدگی پسند سوچ کو منتقل کرنے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔معلوم ہوا ہے کہ فہر ست کو مرتب کرنے میں پولیس اور دیگر ایجنسیوں کا تعاون طلب کیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وادی کشمیر میں علیحدگی پسندوں پر دوسرا سب سے بڑا کریک ڈاؤن ثابت ہوگا جس دوران ایسے افراد کو سرکاری مناصب سے بے دخل کرنے کے ساتھ ساتھ گرفتار کیا جائیگا۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
