تازہ ترین
سرینگر کے کارگو کیمپ میں نوجوان حراست میں جاںبحق ،واقعے کی مجسٹریل انکوائری کیساتھ ساتھ پولیس تحقیقات بھی شروع: مکمل رپورٹ
خبراردو:
منگلوار کی صبح سوشل میڈیا پر اُس وقت سراسیمگی کی کیفیت پھیل گئی جب یہ اطلاع شہر و گام پھیلی کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے چند روز قبل حراست میں لیے گئے جنوبی کشمیر اونتی کے 28سالہ نوجوان رضوان اسعد پنڈت کو زیر حراست جاں بحق کیا گیا۔ واقعے کی خبر منظر عام پر آتے ہی میڈیائی اداروں نے خبر کی تصدیق کے لیے سیکورٹی کے اعلیٰ حکام کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم کچھ وقفے کے بعد صورتحال بالکل صاف ہوگئی۔ معلوم ہوا کہ پیشے سے اُستاد 28سالہ نوجوان رضوان اسعد پنڈٹ ساکن اونتی پورہ کو قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) نے چند روز قبل پوچھ تاچھ کے لیے حراست میں لیا جس کے بعد رضوان کو سرینگر میں قائم ایس او جی کیمپ واقع کارگو میں رکھا گیا تھا تاہم اس دوران سوموار اور منگلوار کی درمیانی شب کو رضوان موت کی آغوش میں چلا گیا۔
اس دوران ابتدائی تحقیقات سے یہ بات معلوم نہ ہوسکی کہ رضوان کن حالات میں جاں بحق ہوگیا۔پولیس نے واقعے سے متعلق 176سی آر پی سی کے تحت مجسٹریل انکوائری کے لیے درخواست پیش کرنے کے علاوہ خود بھی واقعے کی چھان بین شروع کی ہے۔ادھررضوان کے اہل خانہ نے واقعے کو بہیمانہ ہلاکت قرار دیا ہے۔اہلخانہ کے مطابق رضوان پیشے سے مقامی طور پر اسکول میں پرنسپل کی خدمات انجام دے رہے تھے جس کے ساتھ ساتھ اُس کا ایک ذاتی ٹیوشن سنٹر بھی تھا۔ انہوں نے بتایا کہ رضوان نے زندگی کو نئے سرے سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم ایسے میں اسے بہیمانہ طریقے سے زیر حراست جاں بحق کیا گیا۔رضوان کے بھائی ذوالقرنین اسعد کا کہنا ہے کہ’’ میرے بھائی کو بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کی آڑ میں گرفتار کیا تاہم بعد میں اُسے رہا بھی کیا گیا۔وہ کسی بھی جنگجو تنظیم کے ساتھ وابستہ نہیں رہا ہے، اس کی ہلاکت بہیمانہ اور بے رحمی کی انتہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’دو روز قبل دوران شب ہمارے گھر کو مقامی پولیس تھانے کے اہلکاروں جن کی قیادت ڈی ایس پی کررہے تھے نے محاصرے میں لے لیا جس کے بعد پورے گھر کی تلاشی لی گئی۔ پولیس پارٹی نے گھر کے تمام افراد کو باہر جمع کیاجس کے بعد گھر کے تمام افراد بشمول خواتین کو کمرے میں بند رکھا گیا جس کا دروازہ باہر سے مقفل کیا گیا،اس کے بعد ہمارے بھائی رضوان کو پولیس اپنے ساتھ لے گئی‘‘۔ذی الفقار کا کہنا ہے کہ ’’دوسرے دن گھر کے افرادرضوان کا اتہ پتہ معلوم کرنے کی خاطر مقامی پولیس تھانے پہنچے جہاں پولیس افسران نے ہمیں خاموش رہنے کو کہا۔ ہمیں بتایا کہ رضوان کی گرفتاری سے متعلق کسی کے ساتھ بھی رابطہ نہ کیا جائے‘‘۔
اہلخانہ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ رضوان سے متعلق تمام تفصیلات آپ کو وقت پر دی جائیں گی۔ انہوں نے ہمیں رضوان کی کارگو منتقلی سے مکمل طور پر بے خبر رکھا جبکہ اس دوران پولیس نے رضوان کی رہائی سے متعلق کلی طور پر بے بسی کا اظہار کیا۔اہل خانہ نے بتایا کہ منگلوار کی صبح ہمیں اطلاع موصول ہوئی کہ رضوان کو سرینگر کے کارگو کیمپ میں زیر حراست جاں بحق کردیا گیا ہے۔ رضوان کے بھائی ذی القرنین کا کہنا تھا کہ ’’میرا بھائی پولیس کی حراست میں تھا اور اسے ٹھرڈ ڈگری ٹارچر کے ذریعے جاں بحق کیا گیا ہے، میرے بھائی کو بہیمانہ طریقے پر اور بے رحمی کے ساتھ جاں بحق کیا گیا‘‘۔ادھر ذرائع نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ 28سالہ رضوان کو چند روز قبل قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے کسی کیس کے سلسلے میں پوچھ تاچھ کے لیے گرفتار کرلیا تھا جس کے بعد انہیں سرینگر میں قائم ایس او جی کیمپ واقع کارگو میں پابند سلاسل رکھا گیا ۔اہل خانہ نے بتایا کہ ستمبر 2018میں رضوان کو پولیس نے گرفتار کرتے ہوئے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا جس کے بعد اُن کا پی ایس اے 30نومبر 2018کو عدالت منسوخ کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ رضوان کو اس دوران کٹھوعہ جیل منتقل کیا گیا تاہم جونہی عدالت نے موصوف پر عائد پی ایس اے کو منسوخ کردیا تو اس کے باوجود رضوان کئی دنوں تک مقامی پولیس تھانے میں غیر قانونی طور پر مقید رہے۔اہل خانہ کا کہنا تھا کہ اگر چہ اس دوران ہم نے رضوان کی رہائی کے حق میں پلوامہ عدالت سے ضمانت بھی حاصل کی تاہم اس کے باوجود پولیس نے اُسے رہا کرنے سے انکار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے عدالتی احکامات کے باوجود بھی رضوان کو 20دنوں تک تھانے میں بند رکھا ۔اہل خانہ کے مطابق رضوان نے گزشتہ دو ڈھائی مہینے سے اپنی زندگی کو پھر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ، وہ ذاتی طور پر اونتی پورہ میں ایک ٹیوشن سنٹر چلارہے تھے جہاں وہ سینکڑوں طلبا و طالبات کو پڑھارہا تھا۔ رضوان اس کے علاوہ صابر عبداللہ پبلک اسکول جاوبارا واقع اونتی پورہ میں بحیثیت پرنسپل اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔رضوان کے بھائی ذی القرنین کا کہنا تھا کہ میرے بھائی نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی جبکہ اس دوران انہوں نے سائنس اور ایجوکیشن میں ماسٹرس کی ڈگر ی حاصل کی۔ اہلخانہ کے مطابق رضوان اور اُن کے والد اسعد اللہ پنڈت جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ تھے لیکن جماعت کے ساتھ وابستہ ہونا کوئی جرم نہیں ہے۔ادھر پولیس نے رضوان کے حراستی قتل سے متعلق بیان میں کہا کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق رضوان اب تک تین مرتبہ گرفتار کیا جاچکا ہے۔موصوف کے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر 146/2019زیر دفعہ 7/25پولیس تھانہ اونتی پورہ کے نتیجے میں انہیں 08/09/2018کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا جس کے بعد عدالت نے اُن پر عائد پی ایس اے کو 30/11/2018کو منسوخ کردیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس کے بعد موصوف کو دوبارہ دسمبر2018کو گرفتار کرلیا گیا تاہم اسی روز موصوف کو رہا کیا گیا۔انہوں نے بتایاکہ 18مارچ 2019کو رضوان کو دوبارہ گرفتار کیا گیا جس کے بعد انہیں پولیس تھانہ اونتی پورہ منتقل کیا گیا۔پولیس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ رضوان دہشت گردی سے متعلق ایک کیس کے سلسلے میں پوچھ تاچھ کے لیے گرفتار کئے گئے جس کے بعد اُن کی زیر حراست موت واقع ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ رضوان کی زیر حراست موت سے متعلق قواعد و ضوابط کی روشنی میں 176سی آر پی سی کے تحت مجسٹریل انکوائری شروع کی جاچکی ہے جسکے ساتھ ساتھ پولیس نے واقعے سے متعلق تفصیلی چھان بین کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔ادھر نوجوان کے زیر حراست قتل کی خبر پھیلتے ہی وادی بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جس کے ساتھ ہی پلوامہ اور شہر کے مائسمہ علاقوں میں تمام قسم کے معمولات ٹھپ ہوکر رہ گئے۔ جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ میں نوجوان کی ہلاکت سے متعلق خبر منظر عام آتے ہی یہاں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر پولیس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کی۔ نمائندے نے بتایاکہ احتجاج کررہے نوجوانوں نے یہاں مقامی پولیس چوکی پرشدیدخشت باری کی جس کے ساتھ ہی یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی خاطر آنسو گیس کے درجنوں گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی جس کے بعد اونتی اور مضافاتی علاقوں میں دزندگی کی جملہ سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئی۔ معلوم ہوا کہ نوجوان کی ہلاکت کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی یہاں عوامی، کاروباری، تجارتی، تعلیمی و غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گئیں جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی بند ہوگئی۔ اس دوران ضلع کے مختلف علاقوں سے احتجاج کی خبریں موصول ہیں۔ ادھر شہر کے مائسمہ علاقے میں بھی دوپہر 12بجے کے بعد یہاں قائم مختلف تجارتی اداروں نے واقعے کے خلاف احتجاجی ہڑتال کی۔کے این ایس سٹی رپورٹ کے مطابق مائسمہ اور ملحقہ علاقوں میں منگلوار کی دوپہر کو یہاں قائم تجارتی اداروں کے ساتھ ساتھ دوکانات نے بھی اپنی معمول کی سرگرمیاں بطور احتجاج بند کی۔ اس دوران اونتی پورہ میں قائم اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے منگلوار کی صبح ہی ایک پریس کے نام بیان جاری کرتے ہوئے یونیورسٹی میں تدریسی عمل کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
