تازہ ترین
بیت المقدس مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں کی مشترکہ میراث: پاپائے روم
خبراردو:
پاپائے روم کے اس دورے کا تعلق ایک بار پھر ایک مذہب کے طور پر اسلام سے ہے۔ متحدہ عرب امارات کے تاریخی دورے کے آٹھ ہفتے بعد کلیسائے روم کے اعلیٰ ترین رہنما کے اس دورے کی منزل شمالی افریقی مسلم بادشاہت مراکش ہے۔ پوپ فرانسس نے مراکش کے دارالحکومت رباط کی تاریخی مسجد حسان کے دورے کے بعد مسجد کے احاطے میں ایک اجتماع سے خطاب کیا۔
’لوگوں کو بہتر زندگی کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا‘
پاپائے روم نے کہا ہے کہ خوف وہراس پھیلانے یا دیواریں بنانے سے لوگوں کو اچھی اور بہتر زندگی گزارنے کے حق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہب پرستی کی مخالفت کرنا ضروری ہے۔ اس موقع پر شاہ مراکش نے بھی مذہبی بنیاد پرستی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد جوکررہے ہیں وہ مذہب نہیں۔
اجتماع کے بعد شاہ محمد پوپ فرانسس کے ساتھ محل جارہے تھے کہ ایک نوجوان اُن کی گاڑی کی جانب بڑھا تاہم شاہی محافظوں نے نوجوان کو فوری قابوکرلیا۔ اس نوجوان کے ہاتھ میں کاغذ تھا۔ واقعے کے وقت شاہ محمد کی گاڑی پوپ فرانسس کی کارکے قریب تھی۔
اس سے پہلے رباط پہنچنے پر شاہ محمد ششم نے پوپ فرانسس کا پُرتپاک استقبال کیا۔
خلیج کے علاقے کی بہت امیر عرب ریاستوں کے برعکس مراکش ایک مختلف سماجی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے اور پاپائے روم بھی اسی کوشش میں ہیں کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کو بڑی قربت سے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا چاہیے۔
ایئرپورٹ پرمختصرملاقات میں پوپ فرانسس اورشاہ مراکش نے اس بات پراتفاق کیا کہ بیت المقدس مسلمانوں، مسیحیوں اوریہودیوں کی مشترکہ میراث اورتینوں مذاہب کے لیے مقدس مقام ہے۔
واضح رہے کہ 34 برسوں میں کسی بھی پوپ کا یہ مراکش کا پہلا دورہ ہے ۔ پوپ فرانسس کو مراکش کے بادشاہ شاہ محمد ششم نے بین المذاہب مکالمے میں شرکت کے لیے مدعو کیا ہے۔
مراکش میں سرکاری مذہب اسلام ہے اور ننانوے فیصد آبادی مسلمان ہے۔ جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں قائم ’سیبیڈو‘ (مسیحی مسلم مکالمت اور دستاویزی ریکارڈ کا مرکز) کے سربراہ ٹیمو گیُوزل منصور کے مطابق مراکش کی آبادی اسلام کے مالکی مسلک کی پیروکار ہے، جو ایک ’قدامت پسند لیکن باہمی برداشت کا مظاہرہ کرنے والا مسلک‘ ہے۔ مراکش میں دیگر سنی اکثریتی مسلم ممالک کے برعکس ’ایک عوامی اسلام‘ کا تصور زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مسلم مذہبی معاملات میں حدود و قیود کا تعین بادشاہ کرتا ہے، جو صرف دنیاوی حکمران ہی نہیں بلکہ اعلیٰ ترین مذہبی قائد بھی ہوتا ہے۔
مراکش کا دورہ کرنے والے دوسرے پوپ
مراکش کے شاہی خاندان کے مطابق اس کا سلسلہ نسلی طور پر براہ راست پیغمبر اسلام سے ملتا ہے اور یہ شاہی گھرانہ مذہبی کھلے پن کا بڑا حامی بھی ہے۔ یہ بات 1985 میں موجودہ بادشاہ کے والد حسن ثانی نے، جو 1961 سے لے کر 1999 تک حکمران رہے تھے، اس وقت ثابت کر دی تھی جب تقریباﹰ چونتیس برس قبل اگست کے مہینے میں انہوں نے پاپائے روم جان پال دوئم کی میزبانی کی تھی۔ 1978 سے لے کر 2005 تک پوپ کے عہدے پر فائز رہنے والے جان پال دوئم کلیسائے روم کے وہ اولین سربراہ تھے، جنہوں نے مراکش کا دورہ کیا تھا۔
پوپ جان پال دوئم نے مراکش کے اپنے دورے کے دوران اس وقت کے بادشاہ حسن ثانی کی دعوت پر کاسابلانکا میں 80 ہزار حاضرین کے ایک اجتماع سے خطاب بھی کیا تھا، جن میں بہت بڑی اکثریت مسلم نوجوانوں کی تھی۔ یہ مذاہب کے درمیان باہمی احترام اور کھلے پن کا اپنی نوعیت کا اولین مظاہرہ تھا، جس کی پہلے کوئی مثال موجود ہی نہیں تھی۔ تب اپنے خطاب میں جان پال دوئم نے قرآن سے بھی حوالے دیے تھے اور کہا تھا کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے مابین مکالمت کی اشد ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
پوپ فرانسس کے مسلم ممالک کے دورے
پاپائے روم فرانسس کے بارے میں یہ بات واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے کہ وہ مسلم اکثریتی آبادی والے ممالک کے دوروں کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ وہ مراکش جانے سے پہلے ترکی، بوسنیا ہیرسے گووینا، اردن، فلسطینی علاقوں، آذربائیجان اور مصر کے دورے بھی کر چکے ہیں۔ ان کا کسی مسلم ریاست کا آخری دورہ قریب دو ماہ قبل متحدہ عرب امارات کا دورہ تھا۔
دنیا بھر کے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا کے طور پر پوپ فرانسس کی ایک مسلمہ سوچ یہ بھی ہے کہ مشرق اور مغرب کے درمیان خلیج کو مزید گہرا نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا موقف ہے، ’’مشرق اور مغرب کے درمیان خلیج کو مزید گہرا ہونے سے بچاتے ہوئے، ہونا یہ چاہیے کہ تمام انسان ایک دوسرے کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں، آپس میں ایک دوسرے کو بہنوں اور بھائیوں کے طور پر دریافت کریں اور اسی سوچ کو عملی طور پر اپنے بہت ذمے دارانہ رویوں سے ثابت بھی کریں۔‘‘
’آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ سمندر میں ڈوبنے کے لیے؟‘
پوپ فرانسس کا مراکش کا یہ دورہ تقریباﹰ ڈیڑھ دن کا ہو گا۔ اس دوران وہ مہاجرت اور تارکین وطن کے موضوع پر بھی بات کریں گے۔ شمالی افریقہ میں آج مراکش اور لیبیا افریقی تارکین وطن کی یورپ کی طرف مہاجرت کی دہلیز بن چکے ہیں۔
آج تک مراکش سے یورپ کی طرف غیر محفوظ کشتیوں میں سمندری سفر کرنے والے لاتعداد تارکین وطن میں سے بہت سے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایسا آخری بڑا سانحہ گزشتہ برس مئی میں اس وقت پیش آیا تھا، جب مراکش کے ساحل سے یورپی یونین تک کا سفر کرنے والے افراد کی ایک کشتی سمندر میں ڈوب جانے سے 45 تارکین وطن ہلاک ہو گئے تھے۔
ٹیمو گیُوزل منصور کے مطابق اس دورے کے دوران بھی پاپائے روم کا ہر اس انسان کے لیے، جو اس دنیا کو اپنی انفرادی کوششوں کے ساتھ تھوڑا سا بہتر اور تھوڑا سا زیادہ پرامن بنانا چاہتا ہے، پیغام یہی ہو گا کہ تارکین وطن سے متعلق ذمے داری میں ہر کسی کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، اس وقت پاپائے روم کے میزبان ملک مراکش کو بھی اور پورے یورپ کو بھی۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
