تازہ ترین
شاہراہ بند کا پہلا دن، این سی ، پی ڈی پی، پی سی کا احتجاج: مکمل رپورٹ
خبراردو:
حکومت کی طرف سے سرینگر جموں شاہراہ پر فورسز کانوائے کو جنگجوؤں کے حملوں سے محفوظ رکھنے اور فورسز اہلکاروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر لیے گئے تازہ فیصلے جس میں شاہراہ کو ہفتے میں 2روز تک عام لوگوں کی نقل و حمل پرقدغن عائد کرنا شامل ہیں، کے پہلے روز بارہمولہ سے اُدھم پور تک 300کلومیٹر لمبی شاہراہ پر اتوار کو مکمل ہوکا عالم چھایا رہا جس دوران یہاں کسی بھی عام شہری کو فورسز اہلکاروں نے پر مارنے کی اجازت نہیں دی۔ معلوم ہوا کہ بارہمولہ، پٹن، لاوے پورہ، ایچ ایم ٹی، پانتھ چوک، پانپور، لیت پورہ، بارسو، اونتی پورہ، چرسو، سنگم، بجبہارہ، اننت ناگ، قاضی گنڈ ، بانہال، رام بن پتنی ٹاپ، اُدھم پور وغیرہ شامل ہیں میں انتظامیہ نے فورسز کی اضافی اور خصوصی دستوں کو تعینات کیا تھا جنہوں نے دوران شب ہی شاہراہ سے ملنے والے لنک روٹوں پر خار دار تاریں نصب کرنے کیساتھ ساتھ یہاں فورسز کے خصوصی دستوں کو الرٹ رکھا تھا۔بارہمولہ سے قاضی گنڈ تک بالخصوص شاہراہ سے لگنے والے علاقوں کو ملانے والی رابطہ سڑکوں پر فورسز نے سخت بندشیں عائد کررکھی تھیں جس کے نتیجے میں مذکورہ علاقوں سے کسی بھی شخص کو شاہراہ کی جانب آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ عینی شاہدین نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ اتوار کی صبح جونہی لوگ اپنی اپنی بستیوں سے معمول کے مطابق اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے گھروں سے باہر نکلے تو وہ اُس وقت حیران ہوئے جب یہاں سرینگر جموں شاہراہ سے ملنے والے لنک روٹوں پر فورسز نے خار دار تاروں کیساتھ ساتھ ٹین کی چادریں نصب کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ لوگوں نے اگر چہ صبح سویرے دودھ اور روٹی کی خریداری کے لیے یہاں موجود فورسز اہلکاروں سے منت سماجت کی تاہم اہلکاروں نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ بعض مقامات سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شاہراہ پر تعینات فورسز اہلکاروں نے لوگوں کی نقل و حمل کو شاہراہ سے دور رکھنے کے لیے ڈھنڈوں اور لاٹھیوں کا بھی استعمال کیا جس کے نتیجے میں اننت ناگ، پلوامہ اور بارہمولہ کے کئی علاقوں میں دن بھر افرا تفری کا ماحول گرم رہا۔ موصولہ اطلاعات کے شاہراہ پر سیولین ٹریفک کی نقل وحرکت پر پابندی کے پہلے روز شمال و جنوب میں بیماروں، مریضوں اور تیمارداروں کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ شمالی کشمیر کے کنسپورہ، پٹن اور چھور نامی علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ضرورت مند افراد بالخصوص بیماروں اور تیمار داروں کو سرینگر کی جانب پیش قدمی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے نتیجے میں کئی بیماروں کو سرراہ درد سے کراہتے ہوئے پایا گیا۔اس دوران جنوبی کشمیر کے کولگام، اننت ناگ اور پلوامہ کے کئی علاقوں سے لوگوں نے بتایا کہ اتوار کے سبب انہیں بذریعہ شاہراہ مختلف علاقوں کا سفر کرنا تھا تاہم حکومت کے تازہ فیصلے کے تنیجے میں انہیں اپنی تمام مشغولیات کو مؤخر کرنا پڑا جس کے نتیجے میں اُن کا قیمتی وقت ضائع ہوا۔
لوگوں نے بتایا کہ وادی کشمیر میں شادیوں کا موسم شروع ہوا تھا جس دوران بیشتر شادیاں سنیچر اور اتوار کو ہی طے پاتی ہے تاہم حکومت کے تازہ فیصلے نے بہت سارے خاندانوں کو مایوس کردیا ہے کیوں کہ اپابندی کے نتیجے میں لوگوں کا اتوار کے روز شاہراہ پر سفر کرنا ناممکن ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر حکومت فورسز اہلکاروں کی سلامتی سے متعلق واقعی فکر مند دکھائی دے رہی ہے تو اسے عام لوگوں کو مزید تکلیف دینے کے بجائے فورسز اہلکاروں کو متبادل کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایاعام لوگوں کو تکلیف دہ صورتحال سے گزارنے کے بجائے حکومت کو چاہیے کہ وہ دوران شب ریل سروس کی خدمات حاصل کرتے ہوئے فورسز اہلکاروں کو اپنے اپنے مقامات پر منتقل کریں۔ ادھر پابندی کے پہلے روز شاہراہ کو فورسز چھاونی میں تبدیل کیا گیا تھا جس دوران شمال و جنوب میں شاہراہ پر فوج، سی آر پی ایف اور دیگر فورسز اہلکاروں کو بندوقوں، لاٹھیوں اور ڈھنڈوں کے ساتھ تیاری کی حالت میں دیکھا گیا۔ اس دوران جہاں سیاسی و غیر سیاسی حلقوں کے علاوہ تجارتی انجمنوں نے سرکاری فیصلے کو پاگل پن ، انسانی المیے اور ظالمانہ ہتھکنڈے سے تعبیر کیا وہیں سماجی رابطہ سائٹوں پر لوگوں نے مذکورہ فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور ریاست کے سابق وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے بارہمولہ سے اُدھم پور تک شاہراہ کو ہفتے میں دو روز تک عام لوگوں کی نقل و حمل کے لیے بند کئے جانے کے فیصلے کو پاگل پن قرار دیا ہے۔
سماجی رابطہ سائٹ ٹویٹر پر حکومتی فیصلے پر اپنے ردعمل کا ا ظہار کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے بتایا کہ ’’میں اُوری کی طرف چل رہا ہوں جس دوران میں نے اپنی آنکھوں سے حکومتی فیصلے کا مشاہدہ کیا ہے جس سے عام لوگوں کوعبور و مرور میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور یہ سب اس لیے کیوں کہ حکومت کی طرف سے ایک ایسا فیصلہ لیا گیا ہے جو پاگل پن پر مبنی ہے‘‘۔پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے شاہراہ پر عام لوگوں کی نقل و حمل پر حکومت کی طرف سے پابندی عائد کرنے کی کارروائی پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں کو شاہراہ پر آکر کرفیو جیسی بندشیں توڑنے کی اپیل کی ۔محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور یہاں کی سڑکیں کشمیریوں کی ہیں۔انہوں نے اس موقعے پر بتایا کہ ’’لوگوں کو شاہراہ پر چلنے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت ہند کو ایسے ظالمانہ اور جابرانہ اقدامات سے گریز کرنا چاہیے، وہ کشمیر میں قابض طاقت نہیں ہے لیکن اس فیصلے کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیاجائیگا۔محبوبہ مفتی نے بتایا کہ میں اپنے لوگوں کا اس طرح تڑپتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی، میں نے شاہراہ پر متعدد مقامات پر ضرورت مند نوجوانوں اور بزرگوں کو پیدل سفر کرتے ہوئے دیکھا۔ محبوبہ مفتی نے بتایا کہ حکومتی فیصلہ کا مقابلہ کرنے کی خاطر پی ڈی پی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی، پی ڈی پی ان ظالمانہ ہتھکنڈوں کو ٹھنڈے پیٹ برداشت نہیں کریگی۔ادھر پی سی چیر مین اور سابق وزیر سجاد غنی لون نے سرینگر جموں شاہراہ کو عام لوگوں کی نقل و حمل کے لیے ہفتے میں دو روز تک مکمل طور پر بند رکھنے کے حکومتی فیصلے کو انسانی المیہ قرار دیا ہے۔سماجی رابطہ سائٹ ٹویٹر پر حکومتی فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ ’’شاہراہ پر پابندی اب انسانی المیے کی شکل اختیار کررہی ہے، ریاست بھر سے سینکڑوں لوگوں نے فون کالز کرتے ہوئے اپنے خدشات کا اظہار کیا ، لوگ سخت مشکلات میں ہیں اور روز مرہ کے معاملات کے نپٹارے کے لیے وہ خود کو بے یار و مددگارمحسوس کررہے ہیں۔ گورنر ستیہ پال ملک کو چاہیے کہ مذکورہ غیر انسانی حکم نامے کو فی الفور منسوخ کریں‘‘۔اس طرح سماجی رابطہ سائٹس پر مختلف لوگوں نے حکومتی فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے عام لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ ایک سینئر صحافی نے سماجی رابطہ سائٹ پر تحریرکیا کہ ’’جو لوگ چناوی جلسوں میں شرکت کرنے کے لیے جارہے ہیں انہیں بھی شاہراہ پر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے‘‘۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ’’الیکشن کے پیش نظر شاہراہ سے موصول ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز واقعی طور پر غور طلب ہیں، شمالی کشمیر سے تعلق رکھنے والے لوگ چناوی جلسوں میں شریک ہونا چاہتے ہیں تاہم انہیں شاہراہ پر موجود فورسز اہلکار آگے جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں‘‘۔ٹویٹر پر ایک اور سینئر صحافی جس نے شاہراہ سے متعلق ایک ویڈیو بھی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر اپلوڈ کیا، نے حکومتی فیصلے کو ’’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن‘‘ یعنی دو مصیبتوں کے درمیان پھنس جانے سے تعبیر کیا ہے۔انہوں نے حکومتی فیصلے کو مضحکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’پابندی اُن لوگوں کے لیے غیر سارکاری دوڑ کی مانند ہے جنہیں آج اس شاہراہ پرسفر کرکے اپنی اپنی منزلوں کو پہنچنا تھا، مجھے اپنے لوگوں کے درپیش مشکلات کا احساس ہے، عام لوگوں کے لیے بھی، جنہیں دو مصبیتوں کے درمیان پسا جارہا ہے۔ادھر شہر کی پریس کالونی میں بھی حکومتی فیصلے کے خلاف متعدد تجارتی اداروں نے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو منسوخ کرنے کی مانگ کی۔ احتجاج کرتے ہوئے تجار پیشہ افراد نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے شاہراہ کو سیولین مومنٹ کے لیے بند کرنے سے 90فیصدی آبادی کو شہر آنے سے روکا گیا جس کے نتیجے میں شہر سرینگر کا کاروباربری طرح سے متاثر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ خریداروں کے بغیر یہاں تجارتی اداروں کا کوئی مطلب نہیں ہے۔تجار نے بتایا کہ اتوار کو چونکہ شہر سرینگر کے گھونی کھن، ریذیڈنسی روڑ، ریگل چوک، بتہ مالو، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، لل دید، لعل چوک، کورٹ روڑ جیسے تجارتی مقامات پر خریداروں کا جم غفیر اُمڈ آتا تھا تاہم آج حکومت کی جانب سے پابندی کے نتیجے میں شہر کا کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اتوار کی صبح سے لعل چوک میں تجارتی سرگرمیاں ماند دکھائی دے رہی ہیں۔دوکانداروں نے اس موقعے پر حکومت پر زور دیا کہ وہ پابندی کے فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کریں۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
