تازہ ترین
شاہراہ بند کا پہلا دن، این سی ، پی ڈی پی، پی سی کا احتجاج: مکمل رپورٹ
خبراردو:
حکومت کی طرف سے سرینگر جموں شاہراہ پر فورسز کانوائے کو جنگجوؤں کے حملوں سے محفوظ رکھنے اور فورسز اہلکاروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر لیے گئے تازہ فیصلے جس میں شاہراہ کو ہفتے میں 2روز تک عام لوگوں کی نقل و حمل پرقدغن عائد کرنا شامل ہیں، کے پہلے روز بارہمولہ سے اُدھم پور تک 300کلومیٹر لمبی شاہراہ پر اتوار کو مکمل ہوکا عالم چھایا رہا جس دوران یہاں کسی بھی عام شہری کو فورسز اہلکاروں نے پر مارنے کی اجازت نہیں دی۔ معلوم ہوا کہ بارہمولہ، پٹن، لاوے پورہ، ایچ ایم ٹی، پانتھ چوک، پانپور، لیت پورہ، بارسو، اونتی پورہ، چرسو، سنگم، بجبہارہ، اننت ناگ، قاضی گنڈ ، بانہال، رام بن پتنی ٹاپ، اُدھم پور وغیرہ شامل ہیں میں انتظامیہ نے فورسز کی اضافی اور خصوصی دستوں کو تعینات کیا تھا جنہوں نے دوران شب ہی شاہراہ سے ملنے والے لنک روٹوں پر خار دار تاریں نصب کرنے کیساتھ ساتھ یہاں فورسز کے خصوصی دستوں کو الرٹ رکھا تھا۔بارہمولہ سے قاضی گنڈ تک بالخصوص شاہراہ سے لگنے والے علاقوں کو ملانے والی رابطہ سڑکوں پر فورسز نے سخت بندشیں عائد کررکھی تھیں جس کے نتیجے میں مذکورہ علاقوں سے کسی بھی شخص کو شاہراہ کی جانب آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ عینی شاہدین نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ اتوار کی صبح جونہی لوگ اپنی اپنی بستیوں سے معمول کے مطابق اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے گھروں سے باہر نکلے تو وہ اُس وقت حیران ہوئے جب یہاں سرینگر جموں شاہراہ سے ملنے والے لنک روٹوں پر فورسز نے خار دار تاروں کیساتھ ساتھ ٹین کی چادریں نصب کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ لوگوں نے اگر چہ صبح سویرے دودھ اور روٹی کی خریداری کے لیے یہاں موجود فورسز اہلکاروں سے منت سماجت کی تاہم اہلکاروں نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ بعض مقامات سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شاہراہ پر تعینات فورسز اہلکاروں نے لوگوں کی نقل و حمل کو شاہراہ سے دور رکھنے کے لیے ڈھنڈوں اور لاٹھیوں کا بھی استعمال کیا جس کے نتیجے میں اننت ناگ، پلوامہ اور بارہمولہ کے کئی علاقوں میں دن بھر افرا تفری کا ماحول گرم رہا۔ موصولہ اطلاعات کے شاہراہ پر سیولین ٹریفک کی نقل وحرکت پر پابندی کے پہلے روز شمال و جنوب میں بیماروں، مریضوں اور تیمارداروں کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ شمالی کشمیر کے کنسپورہ، پٹن اور چھور نامی علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ضرورت مند افراد بالخصوص بیماروں اور تیمار داروں کو سرینگر کی جانب پیش قدمی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے نتیجے میں کئی بیماروں کو سرراہ درد سے کراہتے ہوئے پایا گیا۔اس دوران جنوبی کشمیر کے کولگام، اننت ناگ اور پلوامہ کے کئی علاقوں سے لوگوں نے بتایا کہ اتوار کے سبب انہیں بذریعہ شاہراہ مختلف علاقوں کا سفر کرنا تھا تاہم حکومت کے تازہ فیصلے کے تنیجے میں انہیں اپنی تمام مشغولیات کو مؤخر کرنا پڑا جس کے نتیجے میں اُن کا قیمتی وقت ضائع ہوا۔
لوگوں نے بتایا کہ وادی کشمیر میں شادیوں کا موسم شروع ہوا تھا جس دوران بیشتر شادیاں سنیچر اور اتوار کو ہی طے پاتی ہے تاہم حکومت کے تازہ فیصلے نے بہت سارے خاندانوں کو مایوس کردیا ہے کیوں کہ اپابندی کے نتیجے میں لوگوں کا اتوار کے روز شاہراہ پر سفر کرنا ناممکن ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر حکومت فورسز اہلکاروں کی سلامتی سے متعلق واقعی فکر مند دکھائی دے رہی ہے تو اسے عام لوگوں کو مزید تکلیف دینے کے بجائے فورسز اہلکاروں کو متبادل کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایاعام لوگوں کو تکلیف دہ صورتحال سے گزارنے کے بجائے حکومت کو چاہیے کہ وہ دوران شب ریل سروس کی خدمات حاصل کرتے ہوئے فورسز اہلکاروں کو اپنے اپنے مقامات پر منتقل کریں۔ ادھر پابندی کے پہلے روز شاہراہ کو فورسز چھاونی میں تبدیل کیا گیا تھا جس دوران شمال و جنوب میں شاہراہ پر فوج، سی آر پی ایف اور دیگر فورسز اہلکاروں کو بندوقوں، لاٹھیوں اور ڈھنڈوں کے ساتھ تیاری کی حالت میں دیکھا گیا۔ اس دوران جہاں سیاسی و غیر سیاسی حلقوں کے علاوہ تجارتی انجمنوں نے سرکاری فیصلے کو پاگل پن ، انسانی المیے اور ظالمانہ ہتھکنڈے سے تعبیر کیا وہیں سماجی رابطہ سائٹوں پر لوگوں نے مذکورہ فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور ریاست کے سابق وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے بارہمولہ سے اُدھم پور تک شاہراہ کو ہفتے میں دو روز تک عام لوگوں کی نقل و حمل کے لیے بند کئے جانے کے فیصلے کو پاگل پن قرار دیا ہے۔
سماجی رابطہ سائٹ ٹویٹر پر حکومتی فیصلے پر اپنے ردعمل کا ا ظہار کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے بتایا کہ ’’میں اُوری کی طرف چل رہا ہوں جس دوران میں نے اپنی آنکھوں سے حکومتی فیصلے کا مشاہدہ کیا ہے جس سے عام لوگوں کوعبور و مرور میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور یہ سب اس لیے کیوں کہ حکومت کی طرف سے ایک ایسا فیصلہ لیا گیا ہے جو پاگل پن پر مبنی ہے‘‘۔پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے شاہراہ پر عام لوگوں کی نقل و حمل پر حکومت کی طرف سے پابندی عائد کرنے کی کارروائی پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں کو شاہراہ پر آکر کرفیو جیسی بندشیں توڑنے کی اپیل کی ۔محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور یہاں کی سڑکیں کشمیریوں کی ہیں۔انہوں نے اس موقعے پر بتایا کہ ’’لوگوں کو شاہراہ پر چلنے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت ہند کو ایسے ظالمانہ اور جابرانہ اقدامات سے گریز کرنا چاہیے، وہ کشمیر میں قابض طاقت نہیں ہے لیکن اس فیصلے کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیاجائیگا۔محبوبہ مفتی نے بتایا کہ میں اپنے لوگوں کا اس طرح تڑپتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی، میں نے شاہراہ پر متعدد مقامات پر ضرورت مند نوجوانوں اور بزرگوں کو پیدل سفر کرتے ہوئے دیکھا۔ محبوبہ مفتی نے بتایا کہ حکومتی فیصلہ کا مقابلہ کرنے کی خاطر پی ڈی پی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی، پی ڈی پی ان ظالمانہ ہتھکنڈوں کو ٹھنڈے پیٹ برداشت نہیں کریگی۔ادھر پی سی چیر مین اور سابق وزیر سجاد غنی لون نے سرینگر جموں شاہراہ کو عام لوگوں کی نقل و حمل کے لیے ہفتے میں دو روز تک مکمل طور پر بند رکھنے کے حکومتی فیصلے کو انسانی المیہ قرار دیا ہے۔سماجی رابطہ سائٹ ٹویٹر پر حکومتی فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ ’’شاہراہ پر پابندی اب انسانی المیے کی شکل اختیار کررہی ہے، ریاست بھر سے سینکڑوں لوگوں نے فون کالز کرتے ہوئے اپنے خدشات کا اظہار کیا ، لوگ سخت مشکلات میں ہیں اور روز مرہ کے معاملات کے نپٹارے کے لیے وہ خود کو بے یار و مددگارمحسوس کررہے ہیں۔ گورنر ستیہ پال ملک کو چاہیے کہ مذکورہ غیر انسانی حکم نامے کو فی الفور منسوخ کریں‘‘۔اس طرح سماجی رابطہ سائٹس پر مختلف لوگوں نے حکومتی فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے عام لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ ایک سینئر صحافی نے سماجی رابطہ سائٹ پر تحریرکیا کہ ’’جو لوگ چناوی جلسوں میں شرکت کرنے کے لیے جارہے ہیں انہیں بھی شاہراہ پر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے‘‘۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ’’الیکشن کے پیش نظر شاہراہ سے موصول ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز واقعی طور پر غور طلب ہیں، شمالی کشمیر سے تعلق رکھنے والے لوگ چناوی جلسوں میں شریک ہونا چاہتے ہیں تاہم انہیں شاہراہ پر موجود فورسز اہلکار آگے جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں‘‘۔ٹویٹر پر ایک اور سینئر صحافی جس نے شاہراہ سے متعلق ایک ویڈیو بھی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر اپلوڈ کیا، نے حکومتی فیصلے کو ’’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن‘‘ یعنی دو مصیبتوں کے درمیان پھنس جانے سے تعبیر کیا ہے۔انہوں نے حکومتی فیصلے کو مضحکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’پابندی اُن لوگوں کے لیے غیر سارکاری دوڑ کی مانند ہے جنہیں آج اس شاہراہ پرسفر کرکے اپنی اپنی منزلوں کو پہنچنا تھا، مجھے اپنے لوگوں کے درپیش مشکلات کا احساس ہے، عام لوگوں کے لیے بھی، جنہیں دو مصبیتوں کے درمیان پسا جارہا ہے۔ادھر شہر کی پریس کالونی میں بھی حکومتی فیصلے کے خلاف متعدد تجارتی اداروں نے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو منسوخ کرنے کی مانگ کی۔ احتجاج کرتے ہوئے تجار پیشہ افراد نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے شاہراہ کو سیولین مومنٹ کے لیے بند کرنے سے 90فیصدی آبادی کو شہر آنے سے روکا گیا جس کے نتیجے میں شہر سرینگر کا کاروباربری طرح سے متاثر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ خریداروں کے بغیر یہاں تجارتی اداروں کا کوئی مطلب نہیں ہے۔تجار نے بتایا کہ اتوار کو چونکہ شہر سرینگر کے گھونی کھن، ریذیڈنسی روڑ، ریگل چوک، بتہ مالو، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، لل دید، لعل چوک، کورٹ روڑ جیسے تجارتی مقامات پر خریداروں کا جم غفیر اُمڈ آتا تھا تاہم آج حکومت کی جانب سے پابندی کے نتیجے میں شہر کا کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اتوار کی صبح سے لعل چوک میں تجارتی سرگرمیاں ماند دکھائی دے رہی ہیں۔دوکانداروں نے اس موقعے پر حکومت پر زور دیا کہ وہ پابندی کے فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کریں۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
