تازہ ترین
ویڈیو: انتخابات میں افسپا موضوع بحث کیوں؟؟
رضوان سلطان:
ریاست میں لوک سبھا و اسمبلی چناؤ کے قریب آتے ہی ان سارے مسائل پر کھل کر سیاسی لیڈران کی جانب سے بیان بازیاں شروع ہو گئی ہیں ، جنہیں ریاست اور خاص کر وادی کی ترقی میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے ۔ بھاجپا ۳۵ اے اور ۳۷۰ کو رکاوٹ مانتی ہے، وہیں دوسری علاقائی جماعتیں پی ایس اے اور دوسرے قوانین کو سرکار میں آنے کے بعد ہٹانے کا وعدہ کر ر ہی ہیں ۔
انہیں قوانین میں سے ایک ہے افسپا یعنی ( آرمڈفورسز اسپیشل پاورس ایکٹ)۔
حال ہی میں کانگریس نے اپنا انتخابی منشور شائع کیا ۔ منشور میں فوج اور سینٹرل آرمڈ پولیس فورس کو وادی میں کم کرنے کا وعدہ دیا گیا ہے ۔اسکے علاوہ کانگریس نے منشور میں کہا کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے افسپا میں بھی کچھ ترامیم کرے گی ۔جس کے بعد شروع ہوا سیاسی ہنگامہ اور بیانات و الزامات سلسلہ ۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ منشور بھارت کیلئے بلکہ پاکستان کے لئے بنایا گیا کگتا ہے .محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کے زریعے کہا کہ پی ڈی پی کے ایجنڈا آف الائینس ،میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جمون کشمر کے ڈسٹربڈ علاقوں میں افسپا کے نفاذ پر نظر ثانی کی جائے گی .لیکن جب کانگریس افسپا پر بات کرتی ہے تو غداری اور بھاجپا حصول اقتدار کیلئے ایسا کرتی ہے تو ٹھیک ۔سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بھاجپا پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ جب بھاجپا افسپا کے بارے میں ۲۰۱۴ میں با ت کرتی تھی تو یہ قوم پرستی کی نشانی تھی ، جب کانگریس تو یہ ملک کے لئے خطرہ ۔وہیں انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے اسے ہٹانے کی بات کی تھی تو تب کانگریس کے کچھ لیڈران نے اس کی مخالفت ہوئی ۔لیکن افسپا معاملے میں نیا موڑ تب آیا جب بھاجپا کے ایم ایل سی رمیش اڑوڑہ نے کہا کہ ریاست میں حالات ٹھیک ہونے کے بعد افسپا کو ہٹا دیا جائے گا ۔
اس بیان کو تقویت تب ملی جب خود مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھاجپا نے ڈسٹربڈ علاقوں میں افسپا کے ذریعے فوج کے ہاتھ مظبوط کئے ، لیکن اب کانگریس ہمارے سیکورٹی فورسز کو کمزور کرنا چاہتی ہے ۔،جو ہم ہونے نہیں دیں گے ۔اس بیان کے بعد محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ امیت شاہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے پی ڈٰپی کا ساتھ اس لئے چھوڑا کیوں کہ پیڈی پی نے افسپا کو ہٹانے کی مانگ کی تھی ، لیکن اب امیت شاہ کیا استعفیٰ مانگے گے؟؟.
سیاسی لیڈران نے ایسے ہی کبھی ریاست کو وزیراعظم کا عہدہ واپس دیلانے کے وعدے دئے اور کبھی افسپا ہٹانے کا وعدہ.گزتشہ سال جب افسپا کو ہٹانے کی مانگیں زوروں پرتھیں تو اس وقت کے پی ڈ پی نائب صدر سرتاج مدنی نے کہا تھا کہ اس وقت موزوں حالات افسپا کو ہٹانے کیلئے نہیں ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ یہ سیاسی پارٹیاں اپوزیشن میں آتی ہیں تو افسپا کو ہٹانے کی مانگ کرتے ہیں اور جب سرکار میں تو تب افسپا کو ہٹانے کا موزوں وقت نہیں رہتا ہے ،
آمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کیا ہے ؟؟
افپسا قانون کی منظوری 1958. ۱۱ ستمبر پارلیمنٹ میں دی گئی ۔افسپا قانوں وہاں پر لاگو کیا جاتا ہے جس علاقے یا ریاست کو افسپا لا کے سیکشن ۳ کے تحت ڈسٹربڈ ایریا ڈیکلیر کیا جائے ۔ اور ڈسٹربڈ ایریا ڈکلیر کرنے کا اختیار صرف مرکزی حکومت اور ریاتسی گورنر کے اختیار میں ہے ۔ملک میں سب سے پہلے شمال مشرقی ریاستوں میں کشیدگی بڑھنے کے بعد لاگو کیا گیا تھا ۔، اور آج یہ ناگالینڈ آسام اور منی پور کی ریاستوں میں نافذ ہے ۔
جبکہ مرکز نے گزشتہ سال اپریل میں اسے میگہالیہ سے ہٹا لیا تھا ۔ دوسری طرف ریاست جموں کشمیر میں یہ قانون ۱۹۹۰سے شروع ہوئے شورش کے بعد نافذ کیا گیا ۔
منی پور کی اروم شرمیلا اس قانون کی سخت مخالف ہیں ، انہوں نے اس کے خلاف ۲۰۰۰ میں بھوک ہڑتال شروع کی اور اگست ۲۰۱۶ مین ختم کی تھی ۔ تاہم یہ قانون ا بھی بھی وہاں برقرار ہے ۔
اس قانون سے سیکورٹی فورسز کو یہ چھوٹ مل جاتی ہے کہ وہ کسی شک کی بنیاد پر امن وقانون کو خراب کرنے والے کو گرفتار یا اس پر گولی چلا سکتے ہیں مزید بغیر کسی اجازت کے کسی بھی عمارت گرا سکتے ہیں ۔
یہ قانون ہمیشہ سے متنازعہ رہا ہے جبکہ انسانی حقوق کی انجمنوں نے ہمیشہ اس کے خلاف آوز اٹھائی ہے ۔ وادی میں کسٹوڈیل کلنگ اور جعلی انکانٹروں کے الزمات بھی لگاائے گئے ہیں ۔
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
