تازہ ترین
برہان وانی کے قریبی ساتھی سمیت3مقامی عسکریت پسند جاں بحق، اہلکار اور شہری زخمی: مکمل رپورٹ
خبراردو: اننت ناگ لوک سبھانشست کیلئے ہورہے انتخابات کے تیسرے مرحلے سے 2روزقبل پہاڑی ضلع شوپیان کے آڑکھارامام صاحب نامی گاﺅں میں جمعہ کی صبح ہوئی ایک خونین معرکہ آرائی کے دوران حزب المجاہدین سے وابستہ3مقامی جنگجوجاں بحق ہوگئے ،جن میں برہان وانی گروپ کاآخری ممبرلطیف ٹائیگربھی شامل ہے.
امام صاحب شوپیان کے ایک مضافاتی گاﺅں آڑکھارمیں کچھ جنگجوﺅں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملنے کے بعدفوج کی34آرآر،سی آرپی ایف کے انسدادملی ٹنسی اسکارڈاورریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گرﺅپ سے وابستہ اہلکاروں نے جمعہ کواذان فجرسے قبل اس پورے علاقے کومحاصرے میں لیکرجنگجومخالف آپریشن شروع کردیا۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ انہوں نے اذان فجرسے قبل ہی گھروں کے باہرہلچل سنی۔انہوں نے کہاکہ نمازفجرکیلئے جب لوگ نزدیکی مسجدنمازاداکرنے کیلئے نکلے توانہوں نے گھروں کے باہرفوجی اورفورسزاہلکارچوکنادیکھے ۔
پولیس ذرائع نے بتایاکہ جنگجوﺅں کی موجودگی سے متعلق پختہ اطلاع ملتے ہی فوج ،فورسزاورایس اﺅجی اہلکاروں نے آڑکھارامام صاحب شوپیان نامی گاﺅں کوعلی الصبح سیل کردیا،اوریہاں موجودجنگجوﺅں کے فرارہونے کے سبھی راستوں پرسیکورٹی دستے تعینات کئے گئے ۔ذرائع کے مطابق محاصرے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعدیہاں باضابطہ طورپراعلان کیاگیاکہ سیکورٹی دستوں نے اس پورے علاقے کوچاروں اطراف سے محاصرے میں لے لیاہے ،اسلئے لوگ اپنے گھروں میں ہی رہیں ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ یہ اعلان بھی کیاگیاکہ گاﺅں میں موجودجنگجوخودکوسیکورٹی فورسزکے حوالے کرکے سرنڈرکریں ۔
انہوں نے کہاکہ صبح کے وقت جب فوج ،فورسز،ایس اﺅجی اورپولیس کے مشترکہ دستوں نے گھرگھرتلاشی کارروائی شروع کی توایک مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں نے سیکورٹی اہلکاروں پراندھادھندفائرنگ شروع کردی ،جس دوران فوج کاایک سپاہی گولیاں لگنے سے زخمی ہوگیا۔زخمی فوجی اہلکارکوجائے جھڑپ سے نکال کراسپتال روانہ کرنے کے بعدفوج،فورسزاورایس اﺅجی اہلکاروں نے مکان میں موجودجنگجوﺅں کیخلاف جوابی کارروائی عمل میں لائی ،جسکے نتیجے میں طرفین کے درمیان گولیوں کاتبادلہ شروع ہوگیا۔مقامی لوگوں نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ جنگجوﺅں اورفوج وفورسزکے درمیان جھڑپ شروع ہونے کے بعدیہاں شدیدنوعیت کی فائرنگ ہوئی جوکافی وقت تک جاری رہی ،جسکے بعدبقول لوگوں کے یہاں سماعت شکن دھماکے بھی ہوئے ،جن سے پوراعلاقہ دہل اُٹھا۔
اُدھرپولیس ذرائع نے بتایاکہ کچھ گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس جھڑپ کے دوران تین جنگجومارے گئے ،جن کی نعشیں اورہتھیاروغیرہ جائے جھڑپ سے برآمدکیاگیا۔پولیس نے بتایاکہ جھڑپ کے دوران ایک مکان تباہ ہوگیاجبکہ دیگردورہائشی مکانات کوبھی نقصان پہنچا۔پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایاکہ مارے گئے تینوں جنگجوﺅں کی نعشوں کوشناخت اوردیگرلوازمات کیلئے پولیس تھانہ زینہ پورہ شوپیان منتقل کیاگیا،جہاں اُنکی شناخت سال2014سے حزب المجاہدین سے وابستہ لطیف احمدڈارعرف لطیف ٹائیگرساکنہ ڈوگری پورہ پلوامہ ،طارق مولوی ساکنہ مولوچھترگام شوپیان اورشارق احمدنینگرﺅساکنہ چھوٹی گام شوپیان کے بطورہوئی۔
بتایاجاتاہے کہ لطیف ٹائیگربرہان وانی گروپ کاآخری ممبرتھاجوگزشتہ 5برسوں سے ملی ٹنسی کے محاذپرسرگرم عمل تھا۔پولیس بیان کے مطابق شناخت کی کارروائی اوردوسرے لوازمات مکمل ہونے کے بعدامام صاحب شوپیان میں مارے گئے حزب المجاہدین سے وابستہ تینوں مقامی جنگجوﺅں لطیف ٹائیگر، طارق مولوی اورشارق احمدکی نعشیں لواحقین کے سپردکی گئیں ۔
اُدھرآڑکھارامام صاحب شوپیان میں جھڑپ کے دوران لطیف ٹائیگرسمیت تین مقامی جنگجوﺅں کے جاں بحق ہونے کی خبرپھیلتے ہی جائے جھڑپ کے نزدیک مشتعل نوجوانوں اورپولیس وفورسزکے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں ،جس دوران نوجوانوں کی سنگباری کے جواب میں سیکورٹی اہلکاروں نے آنسوگیس کے گولے داغے ،پیلٹ فائرنگ کی ،ہوائی فائرنگ کی اورکچھ راست گولیاں بھی چلائیں ۔پولیس وفورسزکی اس کارروائی کے دوران مقامی لوگوں کے بقول کم سے کم20نوجوان پیلٹ فائراوردیگرآہینی ریزے لگنے سے زخمی ہوگئے جبکہ ایک بیس سالہ نوجوان مدثراحمدمیرولدعبدالرشیدساکنہ ووئین شوپیان کی ٹانگ میں گولی لگی ۔سبھی زخمیوں کوضلع اسپتال پلوامہ منتقل کیاگیا،جہاں سے مدثراحمدسمیت تین زخمی نوجوانوں کومزیدعلاج ومعالجہ کیلئے سری نگرمنتقل کیاگیا۔
اس دوران شوپیان میں انٹرنیٹ سروس اوریل سروس کواحتیاطی طورپرمعطل رکھاگیا۔بتایاجاتاہے کہ جنگجومخالف آپریشن کے پیش نظرممکنہ افواہوں اوراحتجاجی مظاہروں کے پیش نظرصبح سویرے موبائل انٹرنیٹ سروس اورسری نگرسے قاضی گنڈتک چلنے والی ریل سروس معطل کی گئی ۔
دریں اثناءپولیس تھانہ زینہ پورہ شوپیان سے جب امام صاحب میں جاں بحق ہوئے تین مقامی جنگجوﺅںلطیف ٹائیگر، طارق مولوی اورشارق احمدکی نعشوں کوآبائی گاﺅں ڈوگری پورہ پلوامہ،مولوچھترگام شوپیان اورچھوٹی گام شوپیان پہنچایاگیاتوتینوں مقامات پربڑی تعدادمیں لوگ نزدیکی دیہات سے آکرجمع ہوئے ،خراب موسمی صورتحال کے باوجودلوگوں کی بڑی تعدادنے تینوں مقامی جنگجونوجوانوں کی تجہیزوتکفین میں شرکت کی ،اورالگ الگ نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعدلطیف ٹائیگر، طارق مولوی اورشارق احمدکی نعشوں کوآبائی
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
