تازہ ترین
پلوامہ اور شوپیاں میں کوئی گہما گہمی نہیں، لداخ میں لمبی قطاریں
خبراردو: لداخ پارلیمانی حلقے میں دو اضلاع لیہہ اور کرگل شامل ہیں۔ کرگل ضلع کے دو اسمبلی حلقے کرگل اور زانسکار جبکہ لیہہ ضلع کے نوبرا اور لیہہ اسمبلی حلقو ں پر مشتمل ہے۔
سیکورٹی لحاظ سے حساس مانی جانے والی ریاست جموں وکشمیر میں عام انتخابات کے پانچویں مرحلے کے تحت پیر کی صبح سات بجے اننت ناگ اور لداخ پارلیمانی حلقوں میں پولنگ کا آغاز ہوگیا۔ جہاں صوبہ لداخ کے دو اضلاع پر مشتمل لداخ پارلیمانی حلقے میں پولنگ مراکز پر رائے دہندگان کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں، وہیں حساس ترین اننت ناگ پارلیمانی حلقے کے پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں بیشتر پولنگ مراکز پر کوئی گہما گہمی نظر نہیں آرہی ہے۔
تین بجے تک پلوامہ میں 1.91 فیصد اور شوپیان میں2.64 فیصد ووٹنگ در ی گئی .جبکہ لہہ میں 49.07 اور 60.91 فیصد کرگل میں درج کی گئی.
اطلاعات کے مطابق پلوامہ اور شوپیاں کے بیشتر علاقوں میں پولنگ مراکز پر صرف سیکورٹی فورسز اور انتخابی عملہ کے اہلکار نظر آرہے ہیں۔ حساس ترین اننت ناگ پارلیمانی حلقے کے دونوں پولنگ والے اضلاع میں سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کے لئے ان اضلاع میں تشدد سے مبرا انتخابات کرانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ ہر ایک پولنگ مرکز پر معقول تعداد میں فورسز اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا ‘فورسز اہلکاروں کو امن وقانون کی صورتحال سے نمٹنے کے دوران حد درجہ صبر وتحمل سے کام لینے کے لئے کہا گیا ہے’۔ انتخابی کمیشن کے مطابق ریاست میں آج پارلیمانی انتخابات کے آخری مرحلے کے تحت 6.97 لاکھ رائے دہندگان اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔
آخری مرحلے میں لداخ پارلیمانی حلقہ اور اننت ناگ پارلیمانی حلقے کے پلوامہ و شوپیاں اضلاع میں لگ بھگ 697,148 رائے دہندگان اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔ ان میں 357,879 مرد ، 335,799 خواتین، 3,456 سروس ووٹر ( 3401مرد اور 55خواتین) کے علاوہ 4 خواجہ سرا شامل ہیں۔ ان حلقہ انتخاب میں احسن طریقے پر انتخابی عمل یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ان علاقوں میں 1254 پولنگ مراکز قائم کیے ہیں۔
لداخ پارلیمانی حلقے میں دو اضلاع لیہہ اور کرگل شامل ہیں۔ کرگل ضلع کے دو اسمبلی حلقے کرگل اور زانسکار جبکہ لیہہ ضلع کے نوبرا اور لیہہ اسمبلی حلقو ں پر مشتمل ہے۔ لداخ حلقہ انتخاب میں 174,618ووٹر ہیں ان میں سے 86,752 مرد ،85,064 خواتین، 2799 سروس ووٹر ( 2755مرد اور 44 خواتین) کے علاوہ تین خواجہ سرا شامل ہیں۔ ای سی آئی نے پورے حلقے میں 559 پولنگ مراکز قائم کیے ہیں۔
کرگل ضلع کے 87,781 رائے دہندگان میں 44,057 مرد، 42,405 خواتین، 1,318سروس ووٹر (1,315 مرد اور تین خواتین) کے علاوہ ایک خواجہ سرا ووٹر ہے۔ اسی طر ح لیہہ ضلع کے 86,827 رائے دہندگان میں 42,695 مرد، 42,659 خواتین،1481سروس ووٹر ( 1440مرد اور 41خواتین) کے علاوہ دو خواجہ سرا ووٹر ہیں۔ الیکشن حکام نے ضلع بھر میں انتخابات احسن طریقے منعقد کرنے کے لئے 294 پولنگ مراکز قائم کیے ہیں۔
ای سی آئی نے لیہہ (گائیک) اور نوبرا ( واشی) حلقوں میں دو پولنگ مراکز قائم کیے ہیں جہاں صرف 7 رائے دہندگان موجود ہیں جبکہ لیہہ ( شینام) جہاں سب سے زیادہ 1301 رائے دہندگان موجود ہیں میں بھی پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ انلےفو ( چانگ تھانگ) جو لیہہ ضلع کا سب سے زیادہ 15,000 فٹ اونچائی پر واقع پولنگ مرکز قائم کیا گیا ہے۔ یہ مرکز ایل اے سی سے صرف 50 میٹر کی دوری پر قائم کیا گیا ہے۔
جن امید واروں نے ان انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اُن میں انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) کے ریگزن سپالبار، بی جے پی کے جمیانگ ژیرنگ نمگیال اور آزاد امیدوار اصغرعلی کربلائی اور سجاد حسین شامل ہیں۔ اس حلقہ اِنتخاب کے لئے ووٹ ڈالنے کا وقت صبح 7 بجے سے شام 6 بجے تک مقرر کیا گیا ہے۔
اننت ناگ پارلیمانی حلقہ کے لئے تیسرے مرحلے کے انتخابات کے آخر پر وادی کشمیر کے دو اضلاع پلوامہ اور شوپیاں بھی انتخابات میں شامل ہو رہے ہیں۔ پلوامہ اور شوپیاں کے دو اضلاع 6 اسمبلی حلقوں پر محیط ہیں جن میں ترال، پانپور، پلوامہ، راجپورہ، وچی اور شوپیاں علاقے شامل ہیں۔ ان اضلاع میں انتخابات احسن طریقے پر منعقد کرنے کے لئے 695 پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
