تازہ ترین
ٹیم انڈیا کے نئے کوچ کی تلاش شروع، بی سی سی نے کیں درخواستیں طلب
خبراردو: ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے ٹیم انڈیا کے نئے کوچ اور سپورٹ اسٹاف کے لئے تلاش شروع کر دی ہے اور اس کے لیے 30 جولائی تک درخواست طلب کی گئی ہیں۔
ہندستانی ٹیم کو انگلینڈ میں منعقد ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں سیمی فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ عالمی کپ میں ہندستانی ٹیم کے کوچ روی شاستری تھے۔ بی سی سی آئی کا نظم کرنے والی منتظمین کی کمیٹی (سی او اے) نے منگل کو ایک بیان جاری کر کے بتایا کہ ٹیم انڈیا کے ہیڈ کوچ، بیٹنگ کوچ، بولنگ کوچ، فیلڈنگ کوچ، فیزیو تھیراپسٹ، کنڈیشنگ کوچ اور انتظامی منیجر کے لئے 30 جولائی تک درخواست طلب کی گئی ہیں۔
بی سی سی آئی نے ساتھ ہی بتایا کہ ٹیم انڈیا کا موجودہ کوچنگ عملہ خود کار طریقے سے اس بھرتی کے عمل میں شامل رہے گا۔ ان خطوط کے لئے بی سی سی آئی کا فیصلہ آخری اور حتمی ہو گا۔ چیف کوچ، دیگر سپورٹنگ عملے اور طبی عملے کی تقرری پانچ ستمبر 2019 سے 24 نومبر 2021 تک کیلئے رہے گی جبکہ انتظامی منیجر کی تقرری ایک سال کی مدت کے لیے ہی ہو گی۔
ٹیم انڈیا کے ہیڈ کوچ روی شاستری کا معاہدہ اگلے ماہ ویسٹ انڈیز کے دورے کے بعد ختم ہو جائے گا۔ بی سی سی آئی نے اگرچہ کہا ہے کہ موجودہ کوچنگ عملہ خود کار طریقے سے اس عمل میں شامل رہے گا۔ لیکن عمل میں شامل ہونے کے لیے موجودہ کوچ کو اپنی رضامندی دینی ہوگی۔ ہندوستانی ٹیم کے سپورٹ عملے میں شاستری کے علاوہ بولنگ کوچ بھرت ارون، بیٹنگ کوچ سنجے بانگڑ اور فیلڈنگ کوچ آر سریدھر شامل ہیں۔ سپورٹ اسٹاف میں عالمی کپ کے بعد 45 دن کی توسیع کر دی گئی ہے اور اس میں ویسٹ انڈیز کا تین اگست سے تین ستمبر تک کا دورہ شامل رہے گا۔
بھرتی کے عمل میں شامل ہونے کے لیے موجودہ عملے کو اپنی رضامندی دینی ہوگی۔ لیکن ٹیم کو نیا ٹرینر اور فزیو ملے گا۔ ٹرینر شنکر باسو اور فزیو پیٹرک فرهارٹ ہندستان کے سیمی فائنل میں باہر ہو جانے کے بعد اپنے عہدوں سے رخصت ہو گئے تھے۔ ہندوستان کو ویسٹ انڈیز کے دورے کے بعد اپنے گھریلو دورے کا آغاز 15 ستمبر سے جنوبی افریقہ کے خلاف سریز سے کرنا ہے۔
شاستری کی تقرری 2017 میں کی گئی تھی جب انل کمبلے کی مدت متنازعہ طریقے سے ختم ہوگئی تھی۔ اس وقت کوچ کے انتخاب کے عمل میں کمبلے نے خود کار طریقے سے درخواست دی تھی لیکن کپتان وراٹ کوہلی کی پسند مانے جانے والے شاستری کو ہی کوچ بنایا گیا تھا۔
57 سال کے شاستری اس سے پہلے اگست 2014 سے جون 2016 تک ہندستانی کرکٹ کے ڈائریکٹر بھی رہے تھے۔ شاستری اور وراٹ کا تال میل شاندار تھا لیکن ان کے دور کے دوران ہندستانی ٹیم آئی سی سی کا کوئی بڑا ٹورنامنٹ نہیں جیت سکی۔ ہندوستان کو 2017 کی چمپئنز ٹرافی کے فائنل میں پاکستان اور 2019 کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
شاستری کی مدت کار میں سب سے بڑی کامیابی ہندوستان کا اس سال کے شروع میں آسٹریلیا میں ٹیسٹ سیریز جیتنا ہے۔ ان کے دور میں ہندوستان نے آسٹریلیا میں ون ڈے سریز اور پھر نیوزی لینڈ میں ون ڈے سریز جیتی۔ لیکن عالمی کپ سے ٹھیک پہلے ہندوستان کو آسٹریلیا کے خلاف گھریلو ون ڈے سیریز میں 2-3 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بی سی سی آئی نے چیف کوچ کے لیے جو شرط رکھی ہے اس میں امیدوار كو 60 سال سے کم کا ہونا چاہیے اور ساتھ ہی کم از کم 30 ٹیسٹ یا 50 ون ڈے کھیلنے کا تجربہ بھی ہونا چاہیے۔ بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ کوچ کے لیے بھی 60 سال سے کم کی عمر رکھی گئی ہے۔
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
