پاکستان
اس سزا پر عملدرآمد نہیں ہوگا
حامد میر
یہ زخمی زخمی سا آئین ہے، اِسے بار بار توڑا گیا، یہ بار بار بحال ہوتا رہا کیونکہ یہ پاکستانی عوام کو میسر واحد متفقہ قومی دستاویز ہے جس نے تمام تر اندرونی و بیرونی سازشوں کے باوجود پاکستان کے عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔
اس آئین کو توڑنے والے کو کبھی سزا نہ ملی تھی کیونکہ آئین شکن آمروں نے مفاد پرست سیاستدانوں کی مدد سے بار بار آئینی تحفظ حاصل کر لیا لیکن 17؍دسمبر 2019کو پہلی دفعہ ایک آئین شکن آمر پرویز مشرف کو سزا سنائی گئی۔
مشرف کو ملنے والی سزا پر افواجِ پاکستان کے ترجمان کی طرف سے غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
عام پاکستانیوں کو اس غم و غصے کا بھرپور احساس ہے لیکن یہی عام پاکستانی اپنے آئین کا بھی بہت احترام کرتے ہیں جس کو توڑنے کی سزا سنگین غداری کا مقدمہ ہے۔
https://youtu.be/rXzmLucDLMw
اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ مشرف نے پاکستان کے دفاع کے لئے دو جنگیں لڑیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اُنہیں سزا کس الزام میں ملی اور کیا یہ الزام غلط ہے؟ کیا تین نومبر 2007کو مشرف نے آئین معطل نہیں کیا تھا؟ یہ وہ آئین ہے جس سے وفاداری کا حلف مشرف نے اُٹھایا تھا۔
اس آئین کی دفعہ چھ کہتی ہے ’’کوئی بھی شخص جو طاقت کے استعمال یا طاقت سے یا کسی اور غیرآئینی طریقے سے آئین منسوخ کرے یا اُسے معطل کرے یا اُسے منسوخ کرنے کی سازش کرے تو سنگین غداری کا مجرم ہوگا‘‘۔ 17
؍دسمبر 2019سے پہلے صرف سیاستدانوں، صحافیوں اور شاعروں، ادیبوں کو غدار کہا جاتا تھا۔
ایک فوجی آمر ایوب خان نے تو محترمہ فاطمہ جناح کو بھی غدار قرار دے دیا تھا لیکن پہلی دفعہ ایک عدالت نے کسی آمر کو آئین سے غداری کا مجرم ٹھہرایا ہے اس لئے کچھ لوگ عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔
1973کا آئین پہلی دفعہ جنرل ضیاء الحق نے 1977میں پامال کیا لیکن وہ سنگین غداری کے مقدمے سے بچ گئے کیونکہ 1985کی قومی اسمبلی نے اُن کی آئین شکنی کو آٹھویں ترمیم کے ذریعہ تحفظ دے دیا۔
اس آئین کو جنرل پرویز مشرف نے 1999میں دوسری مرتبہ توڑا۔ اُنہیں 2002کی اسمبلی نے 17ویں ترمیم کے ذریعہ تحفظ دے دیا۔
مشرف نے 2007میں اس آئین کو معطل کیا لیکن 2008کی اسمبلی نے اُنہیں تحفظ نہیں دیا۔
2009میں سپریم کورٹ نے اُنہیں غاصب قرار دے کر اُن پر آئین سے بغاوت کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا۔
اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ریاستی اداروں میں مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا تھے لہٰذا اُنہوں نے مشرف پر مقدمہ چلانے کے بجائے اُنہیں پاکستان سے باہر جانے دیا لیکن اُن کی مفاہمت کی پالیسی ناکام رہی۔
میمو گیٹ اسکینڈل میں زرداری کو غدار قرار دیا گیا اور بعد ازاں گیلانی کو عدلیہ نے نااہل قرار دے دیا۔ 2013کے انتخابات سے قبل مشرف پاکستان واپس آ گئے۔
اُس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کوشش کی کہ مشرف واپس چلے جائیں لیکن مشرف نے کیانی کی نہیں سنی۔
پھر نواز شریف وزیراعظم بن گئے اور اُنہوں نے اپنے وعدے کے مطابق مشرف پر آئین سے غداری کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا۔
نواز شریف نے غلطی یہ کی کہ مشرف کے وزیر قانون زاہد حامد کو اپنا وزیر قانون بنایا لہٰذا مشرف کے وکلا زاہد حامد سمیت شوکت عزیز اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو شریکِ ملزم بنانے کی کوشش کرتے رہے لیکن جب معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تو ان تینوں کو چھوڑ دیا گیا کیونکہ ان تین کو شریکِ ملزم بنانے کی صورت میں مشرف کے کور کمانڈرز کو بھی شریک ملزم بنانا پڑتا۔
اس دوران نواز شریف پر دبائو ڈالا گیا کہ وہ مشرف کو بیرونِ ملک جانے دیں ورنہ ریاستی اداروں سے محاذ آرائی میں اضافہ ہوگا۔
نواز شریف نے بھی ریاستی اداروں سے مفاہمت کے نام پر مشرف کو ایک خاموش این آر او دیا اور وہ بیرونِ ملک چلے گئے۔ یہ خاموش این آر او کام نہ آیا اور سپریم کورٹ نے نواز شریف کو بھی نا اہل قرار دے دیا۔
2018میں عمران خان وزیراعظم بنے۔ اُنہوں نے مشرف کے ایک وکیل فروغ نسیم کو وزیر قانون اور مشرف کے دوسرے وکیل انور منصور خان کو اٹارنی جنرل بنا دیا۔
اپوزیشن کے زمانے میں عمران خان بار بار مشرف کے ٹرائل کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔ وزیراعظم بننے کے بعد اُن کی حکومت نے مشرف کو بچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔
خصوصی عدالت بار بار مشرف کو بیان ریکارڈ کرانے کا موقع دیتی رہی لیکن مشرف نے بیان ریکارڈ نہ کرایا اور آخر کار ساڑھے پانچ سال میں 125سماعتوں کے بعد خصوصی عدالت نے مشرف کو سزائے موت سنا دی۔ سب جانتے ہیں کہ مشرف کو سزائے موت نہیں ہو سکتی لیکن یہ وہ سزا ہے جو پاکستان میں سنگین غداری کے ملزمان کو پہلے بھی مل چکی ہے۔
عمران خان کی حکومت کھل کر مشرف کی حمایت کر رہی ہے۔ مشرف کے خلاف سنائے جانے والے فیصلے پر بڑا اعتراض یہ ہے کہ اُن کا ساتھ دینے والوں کو سزا کیوں نہیں ملی؟
سنگین غداری کا مقدمہ صرف حکومت بنا سکتی ہے لہٰذا حکومت چاہے تو کچھ شریک ملزمان پر مقدمہ بنا سکتی ہے لیکن یہ بہت مشکل ہے۔
عمران خان کی اصل ترجیح مشرف کو بچانا ہوگی۔ مشرف کے وکلا اس فیصلے پر اپیل دائر کرنے کا اعلان کر چکے ہیں اور جب اپیل پر سماعت ہوگی تو مقدمہ دوبارہ کھل جائے گا۔ اگر عدالتی فیصلہ برقرار رہتا ہے تو پھر سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کی کوشش ہو گی۔
سزائے موت کو عمر قید میں بدلنا صدرِ مملکت کا اختیار ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ پرویز مشرف پاکستان واپس آ کر گرفتاری پیش کریں۔ پاکستان واپس آنا بہت مشکل ہو گا۔
مشرف کو بینظیر بھٹو قتل کیس میں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ اُن پر غازی عبدالرشید قتل کیس بھی زیر التوا ہے۔ ججز نظر بندی کیس میں اُن پر فردِ جرم عائد ہو چکی ہے۔
12؍مئی 2002کو کراچی میں ہونے والے قتلِ عام کا مقدمہ بھی انجام کو نہیں پہنچا۔ پاکستان واپسی کی صورت میں اُنہیں ان تمام مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
5دسمبر 2019کو شائع ہونے والے میرے کالم کا عنوان تھا ’’دیر ہے اندھیر نہیں‘‘۔
میں نے اپنے کالم میں عرض کیا تھا کہ ’’یاد رکھئے گا! آج نہیں تو کل، پاکستان کی کوئی نہ کوئی عدالت مشرف اور اس کو بچانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف فیصلہ ضرور سنائے گی کیونکہ اس دنیا میں دیر ہے، اندھیر نہیں‘‘۔
کسی بھی عدالت کے فیصلے پر تنقید کرنا یا اُس کے خلاف اپیل میں جانا ہر شہری کا آئینی حق ہے لیکن جب ہم عدالتی فیصلوں کے پیچھے سازشیں اور بدنیتی تلاش کریں گے تو پھر منتخب وزرائے اعظم کے خلاف عدالتی فیصلوں کو بھی سامنے رکھیں۔
اگر وہ فیصلے ٹھیک تھے تو مشرف کے خلاف فیصلہ ٹھیک ہے، اگر مشرف کے خلاف فیصلہ غلط ہے تو پھر وہ فیصلے بھی غلط تھے۔
اس بحث سے نکلئے اور مل جل کر پاکستان کو آگے بڑھائیے۔ خدانخواستہ ہم اپنی اپنی اَنا کے اسیر بن گئے تو قیامت تک یہ بحث جاری رہے گی کہ اگر مشرف غدار نہیں تو فاطمہ جناحؒ بھی غدار نہیں تھیں اور اگر فاطمہ جناحؒ غدار نہیں تھیں تو اُنہیں غدار قرار دینے والوں کی طرف سے معافی کون مانگے گا؟
سچ یہ ہے کہ مشرف کے خلاف سزا کی واپسی بہت مشکل ہے لیکن اس سزا پر عملدرآمد نہیں ہو گا۔
( (Courtesy: Jung news)
پاکستان
پاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے
اسلام آباد، پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ۔ایران جنگ بندی کے لئے 60 روزہ مذاکرات کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
پاکستان کے حکومتی ذرائع کی اج بروز بدھ انادولو ایجنسی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کی غرض سے 60 روزہ نئے مذاکراتی دور کے آغاز کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کے تحت تجویز کردہ نئے شیڈول کا مقصد، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے معاملے پر تعطل کے شکار، براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ اطلاع کے مطابق پاکستان کی تجویز کا مقصد فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔
پاکستان کی نئی تجویز کے حوالے سے واشنگٹن، تہران یا اسلام آباد کی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد کی یہ نئی کوشش ابتدائی 60 روزہ مدت گزشتہ ہفتے ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ فریقین نے اس مدت میں توسیع کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔ یہ مدت 17 جون کو شروع ہوئی اور 16 اگست کو ختم ہوگئی تھی۔
پاکستانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اس بات پر ایک غیر اعلانیہ مفاہمت موجود ہے کہ دونوں ممالک نیا تنازعہ شروع نہیں کریں گے۔
بتایا گیا ہے کہ تازہ پیش رفت پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران کے بعد سامنے آئی ہے۔ منیر کی ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں طویل عرصے سے تعطل کے شکار امریکہ-ایران براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز پر غور کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، کم از کم 15 نومولود بچے جاں بحق
اسلام آباد، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک سرکاری اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے کم از کم 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ بدھ کی صبح پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ سینٹر کی تیسری منزل پر لگی۔
مقامی نشریاتی ادارے جیو ٹی وی نے اسپتال ذرائع کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد 15 بتائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے کچھ دیر پہلے لگی اور اب اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔ جیو ٹی وی نے بتایا کہ صرف ایک نومولود بچے کو زندہ بچایا جا سکا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری بیان میں جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے ’’گہری تعزیت‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ’’فوری تحقیقات‘‘ کی ہدایت کی۔
انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف ’’سخت ترین کارروائی‘‘ کی جائے گی۔
جیو ٹی وی نے امدادی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ خراب ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں شارٹ سرکٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات عام ہیں، جہاں حفاظتی ضوابط اور تعمیراتی قوانین پر اکثر عمل نہیں کیا جاتا یا ان کا نفاذ مؤثر نہیں ہوتا۔ جنوری میں جنوبی بندرگاہی شہر کراچی کے ایک گنجان تجارتی مرکز میں شدید آتشزدگی سے کم از کم 65 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
بدھ کا واقعہ پاکستان کی تاریخ میں اسپتالوں میں پیش آنے والے ہلاکت خیز آتشزدگی کے واقعات میں سے ایک ہے۔ حکومت سرکاری اسپتالوں کے ذریعے رعایتی طبی سہولیات فراہم کرتی ہے، تاہم سرکاری شعبہ صحت شدید مالی قلت، ناقص انتظام اور گنجائش سے زیادہ مریضوں کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
کیا پاکستان کے عاصم منیر ایرانی فوجی قیادت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں
اسلام آباد، پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کے روز تہران میں طاقت کے اہم مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر، پارلیمنٹ، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی، جو امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار ہیں۔تاہم امن مذاکرات میں تعطل کے درمیان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ثالث کے طور پر منیر کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ آیا وہ ایک بااثر فوجی رہنما کی حیثیت سے اپنے ایرانی ہم منصبوں کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
منیر کے دورہ ایران سے چند روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ڈاکٹروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ ختم کی جائے، جبکہ ایران کو برتری حاصل ہے۔ ان کا یہ پیغام واشنگٹن کے ساتھ ساتھ تہران کے اپنے سکیورٹی اداروں کے لیے بھی تھا۔انہوں نے کہا، ’’بہتر ہے کہ ہم اب جنگ ختم کر دیں کیونکہ اس وقت ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کرتی ہے۔‘‘
چند گھنٹے بعد، 21 اگست کو ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کسی بھی امریکی غلط اندازے کی صورت میں ’’انقلابی، تباہ کن، پشیمان کردینے والے اور ہلاکت خیز‘‘ ردعمل کا وعدہ کیا۔
یہ ایرانی صدر اور اب ملک کی فوجی قیادت سنبھالنے والے افراد کے درمیان موجود خلیج کی واضح مثال تھی، اور تجزیہ کاروں کے مطابق منیر کو اسی صورتحال سے بھی نمٹنا ہوگا۔
اسی لیے پیر کے روز منیر کی سب سے اہم ملاقات جنرل محسن رضائی سے قرار دی جا رہی ہے، جو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری ہیں۔ رضائی بنیادی طور پر فوج اور خامنہ ای کے درمیان رابطے کا پل ہیں۔
منیر کا تہران کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے اور دنیا بھر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکی آمیز ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ پابندیوں کے اعلان کی توقع کی جا رہی تھی، جن کے تحت تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو بھی سزا دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔
بعد میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے نام سے وسیع پابندیوں کی مہم کا اعلان کیا، جس میں ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، سونے، ہوا بازی، ٹیکنالوجی اور جہاز رانی کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔تاہم دیگر ممالک کو ایران سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کی وارننگ دینے کے باوجود بیسنٹ نے ان ممالک کے خلاف فوری طور پر کسی سزا کا اعلان نہیں کیا اور اعتراف کیا کہ ایسا قدم ’’عالمی مالیاتی نظام کو تباہ کر سکتا ہے۔‘‘
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملوں کا امکان برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا، ’’اگر ہمیں فوجی حملوں کی ضرورت پڑی تو ہم کریں گے۔ اگر ایران اتنا بے وقوف ہوا کہ اپنی حد سے تجاوز کیا یا امریکی فوج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو ہم وہ کریں گے جو ضروری ہوگا۔‘‘
یہ واضح نہیں کہ منیر کا دورہ ایران کے خلاف وسیع تر امریکی کارروائی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا یا نہیں۔تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق دورے کا وقت اہم تھا۔ منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے چند روز بعد تہران کا سفر کیا۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسلام آباد سے کہا تھا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔
پاکستان کی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایک روزہ دورے کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ’’جامع مذاکرات‘‘ ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایرانی حکام نے ’’پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں‘‘ کو سراہا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی، جو منیر کے ہمراہ تہران گئے تھے، نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے مذاکرات کو ’’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’اہم پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔
یہ رواں سال منیر کا تہران کا چوتھا دورہ تھا، تاہم اس ماہ کے اوائل میں ایران کی فوجی قیادت میں تبدیلیوں کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔
10 اگست کو سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عبداللہی کو چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کیا جبکہ رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں منتقل کیا گیا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر احمد وحیدی مارچ سے اپنے عہدے پر موجود ہیں، جب ان کے پیشرو جنگ کے ابتدائی حملوں میں مارے گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہی فوجی رہنما ایران کی جنگ سے متعلق حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں، جس سے کسی فوجی ہم منصب کے لیے روایتی سفارت کاروں کے مقابلے میں تہران کو مذاکرات پر آمادہ کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
پاکستانی بحریہ کے سابق وائس ایڈمرل اور دفاعی تجزیہ کار احمد سعید نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا، ’’اس بحران کے دوران جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں آئی آر جی سی اور وسیع تر سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔‘‘
وزیر داخلہ محسن نقوی اپریل سے اب تک آٹھ مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں، لیکن ان دوروں سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔تاہم منیر سیاست دان نہیں بلکہ ایک جنرل ہیں اور بظاہر انہیں ایرانی قیادت اور اہم طور پر امریکی صدر ٹرمپ، دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔ ٹرمپ پاکستانی آرمی چیف کو اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ قرار دے چکے ہیں۔
احمد سعید نے کہا، ’’چند روز قبل منیر کو کی جانے والی فون کال خود ٹرمپ نے شروع کی تھی اور پاکستانی قیادت سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔‘‘
ایرانی حکام نے منیر کو جو کچھ بتایا، ایرانی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق، وہ ان بیانات سے زیادہ مختلف نہیں تھا جو وہ گزشتہ پورے ہفتے سے اپنے ملک کے میڈیا کو دے رہے تھے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنرل محسن رضائی نے منیر سے کہا، ’’ہم امریکہ پر اعتماد نہیں کرتے اور اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے اس سے بھی زیادہ واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے کام کر رہے ہیں اور امریکہ کو مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔‘‘
دوسری جانب پزشکیان نے منیر سے کہا کہ وہ واشنگٹن کو ’’اپنا لہجہ اور طریقہ کار درست کرنے‘‘ کا پیغام دیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ ’’طاقت اور دھونس پر انحصار کرنا عمل کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔‘‘
عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی بھی منگل کو تہران پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ خصوصی طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کے ایک الگ دور میں شرکت کریں گے۔ یہ سفارتی کوشش کئی ماہ سے پاکستان کی ثالثی کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔
عمان کا کردار نیا نہیں ہے۔ البوسعیدی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے قوانین کے حوالے سے ایران کے ساتھ مسلسل مذاکرات کرتے رہے ہیں۔
لاہور میں مقیم دفاعی تجزیہ کار اعجاز حیدر کے مطابق عمان اور پاکستان کے سفارتی راستے ایک دوسرے کے لیے معاون ہیں۔انہوں نے الجزیرہ سے کہا کہ ’’عمان اور اسلام آباد کے راستے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق 5 میں آبنائے کے حوالے سے عمان اور ایران کے درمیان دوطرفہ مفاہمت پر زور دیا گیا ہے۔‘‘
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں سے گزرتی ہے۔
حیدر نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے کے مشترکہ انتظام سے متعلق معاہدہ امریکہ کے مفاد میں نہیں، اسی لیے ٹرمپ نے عمان پر بمباری کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب سابق پاکستانی بحری عہدیدار احمد سعید کے مطابق ثالث کے طور پر اسلام آباد کا فائدہ یہ ہے کہ اسے ’’وحیدی، عبداللہی اور رضائی تک براہ راست رسائی حاصل ہے، جو ایران کے فیصلہ سازی کے اصل معمار ہیں۔‘‘
مذاکرات کے قریب ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ البوسعیدی تہران میں ’’بنیادی طور پر یہ سننے کے لیے ہوں گے کہ ایران نے کیا فیصلہ کیا ہے اور اپنے پاکستانی ثالث کے ساتھ کیا بات چیت کی ہے۔‘‘
کنگز کالج لندن میں دفاعی مطالعات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریاس کریگ کے مطابق ایرانی فوجی اور سویلین قیادت کے درمیان سامنے آنے والے اختلافات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کی موجودہ صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق پزشکیان اور قالیباف ’’بنیادی طور پر یہ خبردار کر رہے ہیں کہ ایران اس صورتحال میں غیر معینہ مدت تک نہیں رہ سکتا‘‘، جبکہ ’’آئی آر جی سی کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کے برعکس وقت واشنگٹن کے خلاف جا رہا ہے۔‘‘
تاہم انہوں نے کہا کہ ’’محسن رضائی، احمد وحیدی اور آئی آر جی سی اس بات کے تعین میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی بھی سیاسی مفاہمت پر عمل درآمد ہو سکتا ہے یا نہیں۔‘‘
ان کے مطابق، ’’ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کسی معاہدے پر مذاکرات کر سکتے ہیں اور قطر ثالثی کر سکتا ہے، لیکن اگر سکیورٹی ادارہ اس کے عملی نتائج کو قبول نہیں کرتا تو ان سب کی کوئی اہمیت نہیں۔‘‘
فی الحال منیر کو ان ثالثوں میں سب سے زیادہ موزوں امیدوار سمجھا جا رہا ہے جو ایرانی جرنیلوں کو جنگی کمرے سے مذاکرات کی میز تک لانے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
