تازہ ترین
عالمگیر وبا کی لپیٹ میں 180ممالک
کورونا وائرس دنیا کے180 ممالک میں پھیل گیا ہے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار32 تک پہنچ چکی ہے جبکہ متاثرین کی تعداد2 لاکھ 44ہزار602 سے تجاوز کرچکی ہے۔وائرس کے خوف سے دنیا بھر میں کئی شہروں کو لاک ڈاؤن بھی کردیا گیا ہے۔جہاں کورونا وائرس سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں وہیں اب تک 86 ہزار33 افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔چین:چین سے پھیلنے والے کورونا وائرس نے جہاں دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے وہیں چین میں اس پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے اور مسلسل دو روز سے وائرس کے مرکز چین کے شہر ووہان سے ایک بھی مقامی کیس کا نہ آنا اس بات ثبوت ہے۔
تاہم دوسری جانب اب چین کو بیرون ملک سے آنے والے وائرس کے کیسز میں ریکارڈ اضافے کا سامنا ہے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چینی ہیلتھ کمیشن کا کہنا تھا کہ ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 228 نئے کیسز سامنے آئے جن میں سے تمام بیرون ملک سے آنے والے افراد شامل ہیں۔چین میں اب تک کورونا وائرس کے 81 ہزار250 کیسز سامنے آئے جن میں سے 3 ہزار253 افراد ہلاک اور71 ہزار 266 صحت یاب ہوچکے ہیں۔اٹلی:چین کے بعد اٹلی وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں وائرس سے3 ہزار4 سو5 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 41ہزار 35 افراد متاثر ہیں۔اٹلی میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد چین سے زیادہ ہوچکی ہے جبکہ ملک میں اب تک وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 4 ہزار 440 ہے۔
خیال رہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد حکومت نے اقدامات کرتے ہوئے ملک کے بیشتر حصے کو لاک ڈاؤن کردیا تھا۔ایران:اٹلی کے بعد کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں تیسرا نمبر ایران کا ہے جہاں آج نئے پارسی سال کی خوشیاں منائی جارہی ہیں وہیں لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے خوف میں بھی مبتلا ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی نے سال نو روز کے موقع پر ایرانی عوام سے بہتر معیشت کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کورونا وائرس کو متحد ہوکر، محنت سے اور ایک دوسرے کے تعاون سے پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھیں گے‘۔ایران میں عالمی وبا سے18 ہزار 77 افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں ایک ہزار 284 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں جبکہ 5 ہزار 979 صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔جرمنی:جرمن چانسلر اینجیلا مارکل نے جرمنی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے سبب لاک ڈاؤن کا عندیہ دے دیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جرمن چانسلر نے ایک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم رواں ہفتے کے اختتام پر اپنی عوام کا رد عمل دیکھیں گے اور ہفتے کا روز فیصلے کا دن ہوگا‘۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں پھیلی وبا سے متاثر ہونے والے ممالک میں جرمنی کا نمبر پانچواں ہے جہاں اب تک 16 ہزار290 افراد متاثر اور44 ہلاک اور 115 صحت یاب ہوچکے ہیں۔امریکا:امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک 205 افراد ہلاک اور14 ہزار 250 افراد متاثر ہوچکے ہیں۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم کا کہنا ہے کہ کیلی فورنیا کی 56 فیصد آبادی کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ اس ریاست کے شہر لاس اینجلس میں شاپنگ مراکز، انڈور مالز اور غیر ضروری ریٹیل تجارتی سینٹر بند کر دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ارجنٹائن نے لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد وہ جنوبی امریکا کا پہلا ملک ہے جو لاک ڈاؤن میں چلا گیا ہے۔فرانس:فرانس کے جنوب مشرقی شہر نائس کے میئر کا کہنا ہے کہ وہ وہاں کے معروف پرومینیڈ دس اینگلیس کو بند کریں گے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق میئر کرسچن ایستروسی کا کہنا تھا کہ ’میں آج سے ہی کرفیو لگانے کے فیصلے پر غور کر رہا ہوں‘۔خیال رہے کہ اس شہر کے میئر میں خود بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔واضح رہے کہ فرانس میں اب تک 10 ہزار 891 کورونا وائرس کے کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے 371 افراد ہلاک اور12 صحت یاب ہوچکے ہیں۔ہندوستان:بھارت میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 5ہو گئی ہے جبکہ223افراد متاثر ہیں۔جمعہ کو ایک خاتون سیاح کی موت ہوئی،جو کووڈ۔19میں مبتلاء تھیں۔پاکستان:پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 448ہوچکی ہے جبکہ وائرس نے اب تک ملک میں 3افراد کی جان بھی لے چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی رہنماؤں سے اس مشکل گھڑی میں مل کر کام کرنے کی اپیل کی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ سال31 دسمبر کو چینی حکام نے عالمی ادارہ صحت کو نوول کورونا وائرس کی وبا سے آگاہ کیا تھا جسے20 فروری2020 کو سارز کووڈ 2 کا نام دیا گیا جبکہ اس سے ہونے والی بیماری کو کووڈ۔19 کا نام دیا گیا۔یہ وبا چین کے شہر ووہان میں سامنے آئی تھی جس کے بعد اس نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
تازہ ترین6 days agoیوم آزادی اور مسلمان
