تازہ ترین
کشمیرمیں دوسری موت، مزید 5مثبت کیسوں کی تصدیق،تعداد38ہوگئی
وادی کشمیر میں اتوار کی صبح کا آغاز اُس وقت افسوسناک خبر سے ہوا،جب حکومتی ترجمان نے روہت کنسل نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی کشمیر میں کورونا وائرس میں مبتلاء ایک اور مریض کی موت بھی سرکاری اسپتال میں ہوئی اور اس طرح کشمیر میں اموات کی تعداد اب2ہوگئی۔ادھر کورونا وائرس میں مبتلاء مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے،اتوار کو سرکاری ترجمان نے مزید5مثبت کیسز کی تصدیق کی اور اس طرح وادی کشمیر میں یہ تعداد38تک پہنچ گئی۔ادھر نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مذکورہ افراد کے اہلخانہ اور دیگر رشتہ داروں کو قرنطینہ مراکز منتقل کیا گیا۔وادی کشمیر میں 11ویں روز بھی لاک ڈاؤن سختی کیساتھ جاری رہا جبکہ اس لاک ڈاؤن نے اب کرفیو کی شکل اختیار کی ہے۔صورتحال انتہائی گمبھیر ہوتی جارہی ہے جبکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں مقید لوگوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔
عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے جموں وکشمیر میں بھی لاک ڈان کا سلسلہ لگاتار 11ویں دن بھی جاری رہا۔21دنوں کے لاک ڈاون پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔بغیر ایمرجنسی کسی بھی فرد کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے والے عام لوگوں کے خلاف ایف آر درج کی جارہی ہیں۔اب تک 38افراد کروناوائرس سے متاثر ہوچکے ہیں جبکہ دو مریضوں کی موت ہوئی ہیں۔ حکام نے لوگوں کو گھر کے اندر رہنے کی اپیل کرنے کے لئے آئمہ وعلماسے مدد طلب کی ہے۔علما نے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ گھر میں ہی نماز پڑھیں اور مساجد سے پرہیز کریں۔ سری نگر کے چھاتی کی بیماری سے متعلقہ ہسپتال ڈلگیٹ میں صبح قریب 4بجے کورونا وائرس سے متاثرہ 62سالہ شخص کی موت ہوگئی۔ انتظامیہ کے ترجمان روہت کنسل نے کووڑ۔19سے متاثرہ اس شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا’دن کی شروعات بری خبر سے ہورہی ہے،سرینگر میں آج صبح ایک مریض کی کورونا وائرس سے بدقسمت موت واقع ہوئی‘۔ ٹنگمرگ سے تعلق رکھنے والے شخص، جس کا کورونا وائرس ٹیسٹ ایک روز قبل یعنی ہفتہ کو مثبت آیا تھا، کی اتوار کی علی الصبح قریب چار بجے سری نگر کے ڈل گیٹ علاقے میں واقع امراض سینہ کے ہسپتال میں موت واقع ہوئی۔ڈاکٹروں کے مطابق متوفی جگر کے امراض میں بھی مبتلا تھا۔ ایک سینئر سرکاری عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ متوفی کو ہفتہ کے روز سری نگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال سے امراض سینہ کے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا اور ان کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ متوفی کی جاری ایڈوائزری کے تحت آخری رسومات کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔اس دوران جونہی مرحوم کی میت آبائی گاؤں پہنچی تو وہاں صف ماتم بچھ گئی۔بعدازاں پروٹوکول کے مطابق اُسکی آخری رسومات انجام دی گئی۔یاد رہے کہ سی ڈی اسپتال میں 26مارچ کو زیر علاج 65 سالہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریض کی دل کا دورہ پڑنے سے موت واقع ہوئی تھی۔
وہ ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریوں میں بھی مبتلا تھے۔ متوفی شخص جن کا تعلق سرینگر کے مضافاتی علاقہ حیدر پورہ سے تھا، تبلیغی جماعت کے ایک سینئر رہنما تھے۔ انہوں نے فروری میں نئی دہلی کا سفر کیا تھا اور وہاں قریب ایک ماہ تک مقیم رہے جس دوران انہوں نے وہاں تبلیغی جماعت کے ایک بین الاقوامی اجتماع میں شرکت کی تھی۔ اس اجتماع میں انڈونیشیا اور ملائشیا سے تعلق رکھنے والے علماء اور تبلیغی جماعتوں کے کارکنوں نے شرکت کی تھی۔جموں وکشمیر میں ہفتہ کو ایک ہی13 افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے۔اس دوران اتوار کے روز کشمیر میں ناول کوویڈ۔19کے مزید 5 متاثرہ افراد سامنے آئے جس سے جموں و کشمیر بھر میں کیسوں کی کل تعداد38ہوگئی ہے۔انتظامیہ کے ترجمان روہت کنسل نے بتایا کہ کشمیر میں مزید5کورونا مثبت کیسز کی تعداد ہوگئی ہے۔
ان کا کہناتھا کہ ان میں 2کاتعلق سرینگر،2کا تعلق بڈگام اور ایک کا تعلق بارہمولہ سے ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سرینگر کے2نئے کیسز میں سے ایک تعلق ہاک با زار حول اور دوسرے کا تعلق مہجور نگرسرینگر سے ہے۔اس دوران درجنوں افراد کو مختلف قر نطینہ مراکز منتقل کیا گیا،جن میں ان افراد کے رشتہ دار اور افر اد خانہ شامل ہیں،جن کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جبکہ وہ افراد بھی قر نطینہ مراکز منتقل کیا گیا جن کے رابطہ مثبت کورونا مریضوں کیساتھ ہوا ہے۔ادھر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بڈگام نے نوڈل افیسران کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی جس میں ضلع میں پہلے سے قائم قرنطین مرکزمیں مزید1200بیڈ کا اضافہ کیا گیا تاکہ ضلع میں کوڈ۔19کے انفیکشن کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔ نوڈل افسران کی مدد کے لئے12پروبیشنری کے اے ایس افسران کو اختیارات دیئے گئے ہیں جو مختلف صلاحیتوں میں انتظامیہ کی مدد کے لئے مصروف رہیں گے۔اس دوران عالمی وبا کورونا وائرس سے پیش ہونے والی اموات اور متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کے چلتے جاری لاک ڈاؤن غیر اعلانیہ کرفیو کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ تاہم صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر لوگ بھی اپنے گھروں تک ہی محدود رہ کر رضاکارانہ طور پر ’سول کرفیو‘ نافذ کرچکے ہیں۔ اتوار کو مسلسل 11 ویں روز بھی مکمل لاؤن جاری رہا۔ لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے سڑکوں اور گلی کوچوں میں جو قدغنیں لگائی گئی ہیں، ان سے لگتا ہے کہ پوری وادی میں گویا غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے۔ تاہم وادی میں پہلی بار لوگوں کی اکثریت کرفیو جیسی پابندیوں پر راضی نظر آرہی ہے اور مقامی لوگ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو گھروں میں ہی بیٹھنے کا مشورہ دیتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔
وادی میں کورونا وائرس کے مہلوکین اور متاثرین کی تعداد میں تشویشناک اضافے کی وجہ سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ ٹی آر سی سے ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ تک کا حصہ جو ہر اتوار کو ’سنڈے مارکیٹ‘کے سبب گاہکوں سے کھچا کھچ بھرا رہتا تھا، خال خال ہی کوئی راہگیر چلتا ہوا نظر آتا ہے۔ سیکورٹی فورسز بالخصوص جموں وکشمیر پولیس نے شہر میں جگہ جگہ پر ناکے بٹھائے ہیں جہاں ہر آنے والے کو پوچھ گچھ کے بعد ہی آگے جانے دیا جاتا ہے۔ شہر کی اکثر سڑکیں گذشتہ 11 دنوں سے سیل ہی ہیں۔لاک ڈاؤن،کرفیو،سیول کرفیو،کورونا ہلاکتوں اور متاثرین میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں گھروں میں مقید لوگوں کی پریشانیوں میں مسلسلس اضافہ ہورہا ہے۔کشمیری عوام مشکل حالات میں کورونا کے خلاف مقابلہ کرکے ایک بڑی جنگ لڑ رہے ہیں۔
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
