تازہ ترین
سفری تاریخ چھپانے والوں کیلئے آخری انتباہ
0ضلع مجسٹریٹ پلوامہ سفری تاریخ چھانے والے افراد کے نام آخری انتباہ جاری کرتے ہوئے انہیں 8گھنٹے کے اندر اندر متعلقہ محکمے کے ساتھ فوری طور رابطہ قائم کرنے کے لئے کہا گیا ہے بصورت دیگر رات آٹھ بجے کے بعد ہسٹری چھپانے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کا اعلان کیا گیا ہے جس حوالے سے ضلع پولیس کو بھی مطلع کیا گیا۔ ہے۔ اس دوران ضلع انتظامیہ جانب سے ایک نجی سکول میں قائم کئے گئے ’قرنطینہ‘ مرکزمیں کسی بھی قسم کی سہولیات موجود نہیں ہے۔
ادھرضلع میں جن 7 گاؤں کو ریڈ زون اور باقی بفر زونقرار دئے گئے علاقوں میں مکمل لاکڈون رہا ہے جس کے نتیجے میں یہاں ہر طرف ہو کا عالم دیکھنے کو ملا ہے۔ کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع مجسٹریٹ پلوامہ نے سوموار کے روز سفر دستاویزات چھپانے والے افراد کے نام آخری وارنگ نوٹس جاری کرتے ہوئیں انہیں سوموار کی شام تک محکمہ صحت کی جانب سے بنائے گئے مراکز کے ساتھ ازخود رابطہ قائم کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔نوٹس کے مطابق اس حوالے سے ضلع پولیس کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ سفری دستاویزات چھپانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لایا جائے۔
ادھر گزشتہ روز پلوامہ کے کھی گامسے تعلق رکھنے والے ایک شہری کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد مزکورہ بستی کے 100کے قریب افراد کو پلوامہ میں قائم ایک نجی سکول میں قائم قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا ہے۔اس دوران یہاں موجود لوگوں نے بتایا مزکورہ مرکز ایک جیل خانے سے کم نہیں ہے انہوں نے بتایا مرکز میں کوئی سہولیات موجود نہیں ہے۔مرکز میں نوجود لوگوں نے بتایا انہیں گزشتہ شام6بجے کھانا دیا گیا ہے اور سوموار کے دس بجے صبح کی چائے پلائی گئی ہے جبکہ ہر کمرے میں پانچ پانچ افراد کو رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ سخت مشکلات کا سامنا کرہے ہیں۔انہوں نے حکام سے اپیل کی ہے یا ہمیں مکمل سہولیات فراہم کی جائے یا انہیں گھروں کو چھوڈ دیا جائے۔ادھر گزاتوار کے روز ایک کیس مثبت آنے کے بعدانتظامیہ کی جانب سے جن سات دیہات کو ریڈ اور باقی کو بفر زون میں قرار دیا گیا ہے وہاں سوموار کو مکمل بند رہا لوگ گھروں میں رہے کسی بھی علاقے میں کوئی نقل حمل دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔اور پورے علاقے میں ہو کا عالم رہا۔خیال رہے پلوامہ میں ایک شہری کا ٹسٹ مثبت نکلنے کے بعد 7گاؤں جن میں 3گاؤں تحصیل راجپورہ اور 4 تحصیل پلوامہ کے ساتھ آتے ہیں جن میں کھی گام،سنگرونی،ابہامہ جو تحصیل راجپورہ کے تحت آتے ہیں،جبکہ تحصیل پلوامہ کے تحت آنے والے گاؤں میں گڈورہ،چندگام،پنگلنہ،اور پاری گام شامل ہیں۔ضلع انفارمیشن پلوامہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایاگیا تھا کہ ریڈ زون قرار دئے گئے علاقوں کے ملحقہ گاؤں کو لوگوں کی حفاظت کے لئے بفر زون میں شامل کیا گیا ہے۔اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر پلوامہ نے اتوار کی شام مزکورہ علاوہ لوگوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لئے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے۔حکم نامے میں بتایا گیا ہے وائرس کومذید پھیلنے سے روکنے کے لئے اس طرح کے اقدامات ضروری ہیں۔
حکمنامے کے مطابق اس سلسلے میں پلوامہ چکورہ،نیوہ،پاری گام،اورپلوامہ کلررروڑ پر گاڑیوں کی آمدرفت مکمل طور معطل رہے گا جبکہ ریڈ زون والے علاقے میں مکمل لاکڈون ہوگا۔اس دوران ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ضروری خدمات فراہم کرنے والے محکموں کوتمام ضروری سہولیات بہم رکھنے کی ہدایت دی ہے۔انہوں نے مزکورہ علاقوں میں رہنے والے مقامی اور غیر مقامی مزدورں کو ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لانے کا اشارہ دیا ہے۔
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
