تازہ ترین
یورپ کے بعد جاپان اور بھارت میں بھی کیسز کی تعداد میں اضافہ
دنیا کے 184 خطے میں کورونا وائرس سے مجموعی طور پر 14 لاکھ 84 ہزار سے زائد افراد متاثرہ ہوچکے ہیں، چین, یورپ اور اب جاپان اور بھارت میں وائرس سے متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
خبررساں ادارے اے پی کے مطابق جاپان میں پہلی مرتبہ مجموعی طور پر 500 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد بزرگوں کی جان کو زیادہ خطرہ پیدا بڑھ گیا۔
خیال رہے کہ جاپان میں طویل عمریں ہونے کی وجہ سے بزرگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
اگرچہ جاپان نے لاک ڈاؤن کے بجائے ایمرجنسی نافذ کردی ہے لیکن ٹوکیو کے مرکزی شاہراوں پر آمد و رفت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
بھارت میں متاثرہ علاقے سیل
دوسری جاب ایک ارب 30 کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی کے ملک بھارت میں گزشتہ ہفتے سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے جبکہ حکام نے ان علاقوں کو سیل کردیا جہاں سے کیسز سامنے آئے۔
بھارت کے وزارت صحت کے مطابق تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 5 ہزار سے تجاویز کر گئی جبکہ 166 افراد وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔
علاوہ ازیں اوڈیشہ ریاست کے وزیراعلیٰ نے 30 اپریل تک لاک ڈاؤن میں توسیع کردی۔
اٹلی اور اسپین میں اموات
اٹلی اور اسپین میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد اور ان کی اموات میں بتدریج کمی ریکارڈ کی گئی جہاں اب تک مجموعی طور پر 30 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب امریکا کے شہر نیویارک میں بھی وائرس کے عدم پھیلاؤ سے مثبت اشاریے سامنے آرہے ہیں۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کے اعداد شمار جمع کرنے والی ویب سائٹ کے مطابق امریکا، اسپین اور اٹلی میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد بالترتیب 4 لاکھ 32 ہزار، ایک لاکھ 48 ہزار اور ایک لاکھ 39 ہزار سے زائد ہوگئی۔
علاوہ ازیں امریکا میں ہلاکتوں کی تعداد 7 ہزار سے تجاوز کرگئی ہیں۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں وائرس سے مجموعی طور پر 90 ہزار اموات ہوچکی ہیں۔
امریکا میں اب تک سب سے زیادہ تصدیق شدہ کیسز یعنی 4 لاکھ 30 ہزار سامنے آئے ہیں جبکہ نیویارک میں گزشتہ روز ایک دن میں سب سے زیادہ اموات 779 ریکارڈ کی گئیں۔
نیویارک کے گورنر کوومو نے کہا کہ بری خبریں دراصل خوفناک ہیں، ہسپتال میں داخلے کی شرح کم ہورہی ہے جبکہ بہت سارے مرنے والے ابتدائی مرحلے میں بیمار ہوئے تھے۔
برطانوی وزیراعظم کی ہسپتال میں دوسری رات
کورونا وائرس سے متاثرہ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کی طبیعت بہتر ہورہی ہے۔
حکام نے بتایا وائرس کی علامات کی وجہ سے انہوں نے دوسری رات بھی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں گزاری۔
متعدی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فوکی نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس شواہد کی بنیاد پر بالآخر ملک کو دوبارہ کھولنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے کہ سماجی فاصلہ وائرس کے عدم پھیلاؤ کا باعث بنتا ہے۔
لیکن انہوں نے کہا کہ ابھی وقت نہیں آیا ہے کہ ایسے اقدامات کی اٹھائیں جائیں۔
نائب صدر مائیک پینس نے خبردار کیا کہ فلاڈلفیا میں وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور واشنگٹن، ڈی سی، لوزیانا شکاگو، ڈیٹرایٹ اور کولوراڈو میں بھی وبائی صورتحال میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔
اطالوی وزیر اعظم جیوسپی کی جانب سے اعلان کیے جانے کا امکان ہے کہ ملک میں لاک ڈاؤن کی صورتحال کب تک برقرار رہے گی۔
اسپین جہاں 14 ہزار افراد وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں، کے وزیر بجٹ ماریا جیسیس نے اسپین میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا عندیہ دیا اور کہا کہ 26 اپریل سے معمولات زندگی بحال ہوجائے گی۔
دوسری جانب فرانسیسی حکام نے تفصیلات فراہم کیے بغیر ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے سے متعلق بات کرنا شروع کردی۔
صدر کے دفتر کے مطابق 15 اپریل کو ختم ہونے والے لاک ڈاؤن میں توسیع کردی جائے گی۔
خیال رہے کہ فرانس میں 10 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب رواں ہفتے کے آغاز میں آسٹریا اور جمہوریہ چیک نے پابندیوں میں نرمی لانے کے منصوبوں کا اعلان کیا کردیا۔
معاشی بحران کا شکار مملک نے بھی معمولات زندگی کو بحال کرنے کی خواہش ظاہر کردی۔
خصوصی طور پر فرانس اور جرمنی میں وائرس کی وجہ سے کساد بازاری کا شکار ہوگیا ہے۔
جاپان کی جانب سے مجموعی گھریلو پیداوار کے حوالے سے رواں سہ ماہی 25 فیصد معاہدے پر دستخط کا امکان ہے جو 1955 کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 30 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔
اسرائیل میں 6 افراد ہلاک
اسرائیل میں وائرس سے مزید 6 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد مجموعی تعداد 79 ہوگئی۔
اسرائیل کی وزارت صحت نے جمعرات کی صبح 6 افراد کی ہلاکت کا اعلان کیا۔
واضح رہے کہ اسرائیل میں وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 10 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔
اس ضمن میں بتایا گیا کہ ہلاکتوں میں سے ایک 84 سالہ شخص بھی شامل ہے جو جنوبی شہر بیرسببہ میں مشان میں رہائش پذیر رہتا تھا جبکہ اسی شہر سے کم از کم 11 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 351 نئے کیسز کا اضافہ ہوا ہے جبکہ 165 افراد کی حالت سنگین ہے۔
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
