تازہ ترین
کورو نا لاک ڈاءون میں رمضان کا دوسرا جمعہ
وادی کشمیر میں لاک ڈاؤن کے7ہفتے مکمل ہونے کے بیچ ماہ رمضان کے دوسرے جمعہ کو شہر ودیہات کی مساجد،خانقاہیں،درگاہیں اور امام باڈوں کے منبر ومحراب خاموش رہے،جس دوران لوگوں نے نمازجمعہ گھروں میں ہی حسب سابقہ ادا کی۔اس دوران لوگوں کی آزاد نقل وحرکت کو روکنے اور جمعہ اجتماعات کے پیش دارالحکومت سرینگر کے شہر خاص میں دفعہ144کے تحت اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا جبکہ سیول لائنز میں سخت ترین ناکہ بندی کی گئی تھی۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق رحمتوں،برکتوں اور مغفرتوں کا سایہ فگن مہینہ ماہ رمضان جاری رہنے کے بیچ رمضان کے دوسرے جمعہ کوکورونا لاک ڈاؤن کے نتیجے میں وادی کشمیر میں چہار سو سناٹا پسرا ہوا ہے۔عالمی وبا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے نافذ کئے گئے سرکاری لاک ڈاؤن کے7ہفتے کشمیر وادی میں مکمل ہوگئے،جس دوران مسلسل 7ویں جمعے کو بھی تاریخی جامع مسجد سرینگر،آثار شریف حضرت بل سمیت سبھی عباد ت گاہوں میں جمعہ اجتماعات منعقد نہ ہوسکے۔تاہم گذشتہ ہفتوں کے مقابلے میں دوسرے جمعہ کو شہر خاص میں دفعہ 144کے تحت اعلانیہ کرفیو نافذ رہا۔
جمعہ کی علی الصبح شہر خاص کے کم ازکم 5پولیس تھانوں رعناواری،خانیار،نوہٹہ،مہاراج گنج اور صفاکدل کے تحت آنے والے علاقوں میں پولیس کی جپسیوں نے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے شہر میں کرفیو نافذ کر نے کا اعلان کیا۔شہر خاص کے کئی شہریوں نے فون پر بتایا کہ مذکورہ علاقوں میں لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے پولیس اہلکاروں کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا گیا کہ دفعہ144 کے تحت شہر میں کرفیو نافذ کیا گیا،لہٰذا لوگ گھروں میں رہیں اور باہر آنے کی کوشش نہ کریں۔سٹی رپورٹر کے مطابق گذشتہ جمعہ کے مقابلے میں اس جمعہ شہر خاص میں پابندیاں اور بندشیں سخت تھیں۔پولیس وفورسز نے جگہ جگہ تار بندی،ناکہ بندی اور گھیرا بندی کر رکھی تھی،جسکی وجہ سے شہر خاص میں ہر سو ہو کا عالم دیکھنے کو مل رہا تھا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے ملک بھر میں ماہ رمضان میں بھی مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور حکومتی احکامات پر سختی کیساتھ عمل در آمد کیا جارہا ہے۔تاہم بدھ کے روز اپنے آبائی گاؤں بیگ پورہ اونتی پورہ پلوامہ میں حزب کمانڈر ریاض نائیکو اپنے ساتھی کیساتھ ایک معرکہ آرائی میں جاں بحق ہوا جبکہ پُرتشدد جھڑپوں میں متعدد نوجوان زخمی ہوئے جن میں سے جمعرات کو ایک نوجوان کی موت ہوگئی۔ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خدشات اور جمعہ اجتماعات کے پیش نظر یہ پابندیاں گزشتہ جمعہ کے مقابلوں میں سختی کیساتھ نافذ رہیں۔سیول لائنز میں گزشتہ دنوں کے مقابلوں میں پابندیاں اور بندشیں سخت کردی گئیں تھیں۔ وادی کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کو جمعہ اجتماعات کے پیش نظر مزید سخت رہا،جس دوران خانیار سے خادنیار تک پابندیاں اور بندشیں سختی کیساتھ لاگو رہیں۔
وادی کے شہر ودیہات میں لگاتار ساتویں جمعے(7ویں ہفتے) کو بھی کہیں بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی جبکہ عبادت گاہو ں سے آزان بھی نہیں گونجی،تاہم محلہ کی مساجد میں نما ز جمعہ کی آزان دی گئی،تاہم جمعہ اجتماعات منعقد نہ ہوسکے۔ انتظامیہ کی اپیل کے بعد بیشتر جگہوں پر مساجد، خانقاہوں،زیارت گاہوں، امام بارگاہوں اور دیگر عبادت گاہوں کے منتظمین نے رضاکارانہ طور پر یہ مقامات نمازیوں اور عقیدتمندوں کے لئے بند رکھے ہیں۔ رمضان سے قبل انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ماہ رمضان المبارک کی آمد پر ملت اسلامیہ خصوصاً مسلمانان جموں وکشمیر کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔کوڈ۔19 کی بڑھتی ہوئی وبا کے پیش نظر طبی ماہرین اور ڈاکٹروں کی’ایڈ وائزی‘ کو مدنظر رکھ کر انجمن اوقاف جامع مسجد نے سردست جامع مسجد میں نہ صرف نماز جمعہ بلکہ نماز تراویح بھی موقوف کردی ہے۔ تاہم حالات سازگار ہوتے ہی جامع مسجد میں حسب سابق نمازوں کا اہتمام ہوگا۔ لہٰذا مسلمانوں کو تلقین کیا جاتا ہے کہ وہ پنچگانہ نمازوں کے ساتھ ساتھ تراویح کی نماز بھی اپنے اپنے گھروں میں ہی پڑھیں اور اللہ رب العزت سے اس سنگین وبا کے خاتمہ کیلئے دعائیں کریں۔
اس دوران وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز میں مسلسل اور تشویشناک اضافے سے جہاں لوگ دہشت زدہ ہیں، وہیں حکومت نے بھی لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لئے پابندیوں کو مزید سنگین کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا مقصد لوگوں کو اس مہلک وائرس سے محفوظ رکھنا ہے۔جمعہ کوشہر سرینگر میں ہر سو سناٹا اور خوف وخاموشی چھائی ہوئی ہے لوگ گھروں سے باہر نکلنے میں حد درجہ احتیاط کررہے ہیں۔ سڑکوں اور گلی کوچوں پر سیکورٹی اہلکار ہاتھوں میں ڈنڈے لئے کھڑے ہیں اور خار دار تار سے بچھا کر بھی لوگوں کی نقل وحمل کو محدود کردیا گیا۔ سخت ترین بندشوں،پابندیوں،تار بندی کے سبب سرینگر کی تاریخی جامع مسجد،آثار شریف حضرتبل سمیت سبھی چھوٹی بڑی مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی نہ ہوسکی۔ جمعہ کوبھی شہرسری نگرسمیت کشمیرسے سبھی اضلاع میں لوگ گھروں میں ہی محدود رہے۔سری نگرکومختلف اضلاع سے ملانے والی شاہراہوں،بین الاضلاعی سڑکوں اورلنک روڈز پربھی پولیس اورفورسزنے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں جبکہ جگہ جگہ چیک پوائنٹ پوسٹس قائم کی گئی ہیں جہاں سے لازمی خدمات سے منسلک افسروں،ڈاکٹروں اورملازمین کے بغیرکسی بھی شہری کوپیدل یاگاڑیوں میں سوارہوکر آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
شہر سری نگر کی تمام چھوٹی بڑی مساجد بند ہیں اور لوگ گھروں میں ہی نماز پنجگانہ ادا کررہے ہیں۔عالمی وبا سے متاثرین کی تعداد میں ہونے والے اضافے کے ساتھ وادی کشمیر میں جہاں ایک طرف گزشتہ51دنوں سے جاری لاک ڈاون ہر گزرتے روز کے ساتھ سخت ہوتا جارہا ہے وہیں لوگوں میں بھی خوف و تشویش کی لہر دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ کوروناوائرس کی اس وبائی بیماری کی منتقلی کی زنجیر کو توڑنے کے لیے حکام کی طرف سے کرناہ سے قاضی گنڈ تک کرفیو جیسی بندشیں اور پابندیاں عائد ہیں۔شہرو دیہات میں تمام دکانیں، کاروباری ادارے، تجارتی مراکز، سرکاری دفاتر کے علاوہ تمام تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ سڑکوں اور شاہراہوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور غائب ہے۔لوگ گھروں میں ہی سہمے ہوئے ہیں اور ہر طرف خوف وہراس اور ہو کا عالم دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ادھر سرینگر سمیت وادی کے شہر و دیہات کے متعدد علاقے ریڈ زون میں تبدیل کئے گئے ہیں۔ جبکہ کئی بستیاں بفر زون میں رکھی گئی ہیں۔وادی کے دیگر ضلع و تحصیل صدر مقامات سے بھی اسی نوعیت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انتظامیہ کی طرف سے دفعہ 144 کے تحت کرفیو جیسی پابندیاں نافذ ہیں اور لوگوں کو گھروں میں بیٹھے رہنے کو یقینی بنانے کے لئے پولیس گاڑیاں مسلسل چکر کاٹ رہی ہیں اور لوگوں کو گھروں میں ہی بیٹھنے کی اپیل کرتے ہیں۔وادی میں سری نگر سے لے کر دیہات تک کہیں بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق لوگوں نے گھروں میں ہی نماز ادا کرکے اس وبا کے فوری خاتمے کے لئے دعائیں کیں۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے خیرات دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے تاکہ اس وبا سے چھٹکارا پایا جاسکے۔
حکومت کے علاوہ مذہبی تنظیموں نے بھی نماز جمعہ کی ادائیگی کو موجودہ حالات کے پیش نظر معطل رکھنے کا فیصلہ لیا تھا۔ جموں وکشمیر میں انتظامیہ نیدرجنوں ایسے علاقوں کو ’ریڈ زون‘ قرار دیا ہے جہاں سے کورونا وائرس کے مصدقہ یا مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان علاقوں کواب سلاخوں سے مکمل طور پر سیل کیا گیا ہے اور لوگوں کو اپنے گھروں تک ہی محدود کرکے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے علاقوں میں لوگوں کے لئے ضروریات زندگی کا مناسب انتظام کیا گیا ہے اور اس مقصد کیلئے ہوم ڈیلوری بھی کی جارہی ہے۔ادھرصوبہ جموں، جہاں کشمیر کے نسبت کورونا وائرس کے بہت کم مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں، میں جمعہ کو مسلسل لاک ڈاؤن جاری رہا۔ جموں شہر اور صوبہ کے دیگر 9 اضلاع کے ضلعی و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے اور کاروباری و دیگر سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہیں۔ پابندیوں کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے سڑکوں پر سیکورٹی فورسز بالخصوص جموں وکشمیر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ صوبہ جموں میں بھی کہیں بھی نماز جمعہ کا اجتماع منعقد نہیں ہوا۔جموں کو مندروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے،تاہم لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہاں مندروں میں پوجا پاٹ نہیں ہورہی ہے۔
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
