تازہ ترین
حج بیت اللہ کے مراحل پوری طرح سبق آموز !

مصنف:جاوید اختر بھارتی
خبراردو:
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے یعنی مذہب اسلام کے پانچ رکن ہیں توحید، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور پانچواں رکن حج ہے اور آجکل حج کا سیزن بھی چل رہا ہے مطلب یہی وہ وقت ہے کہ دنیا کے کونے کونے سے فرزندان توحید کا حج بیت اللہ کیلئے روانگی کا سلسلہ جاری ہوجاتا ہے اور جاری رہتا ہے لیکن سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ امسال احتیاطی تدابیر کہا جائے یا بدنصیبی کہا جائے کہ معاملہ امسال کچھ اور ہے-
یعنی سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک کے مسلمانوں کے لئے امسال حرم کے دروازے بند ہیں یوں تو ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کعبۃ اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اس کا طواف کرے اس لئے خوش نصیب ہے وہ مسلمان جس کو یہ سعادت حاصل ہوئی اور یہ مقدر کی بات ہے ورنہ بڑے بڑے سرمایہ کار و سرمایہ دار اس دنیا میں ہیں اور کتنے اس دنیا سے رخصت ہوگئے انہیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسی پاک و مقدس سرزمین پر جانا نصیب نہیں ہوا-
بہت سے ایسے مسلمان بھی ہیں جنہیں دیکھ کر یہ محسوس نہیں کیا جاسکتا کہ یہ وہاں تک پہنچیں گے لیکن اللہ کا کرم ایسا کہ سارے وہم وگمان کو توڑتے ہوئے ان کی قسمت وہاں تک پہنچا تی ہے اور انکے مقدر کا ستارہ روشن ہوتا ہے حج مقدس ترین عبادت ہے حج کی فضیلت یہ ہے کہ احادیث کی کتابوں میں یہ روایت ملتی ہے کہ جس نے حج کیا اور جس کا حج بارگاہ خداوندی میں قبول ہوگیا تو گویا اس کے سارے گناہ معاف ہوگئے اور وہ ایسا ہوگیا جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے یعنی گناہوں سے پاک و صاف ہوگیا اب آگے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے آپ کو معصوم رکھتا ہے یا پھر دنیاوی رنگ میں اپنی زندگی کو رنگتا ہے-
حج کے لیے جائے تو دل میں خلوص کا ہونا ضروری ہے حج سے قبل حقوق العباد کی ادائیگی بھی ضروری ہے لین دین کا سارا معاملہ پاک وصاف کرنا ضروری ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بھی اتنی مہلت دی ہے کہ جب وسعت ہوجائے تب حج کرنے جاؤ گھر سے پوری طرح فراغت پاجاؤ تب حج کرنے جاؤ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حج کرنے کے بعد اب اتنی ہی پاک صاف زنگی گزارنی ہے جتنی پاک صاف زندگی بندہ حج کے ایام میں گزارتا ہے-
دل میں یہ خیال ہی نہیں پیدا ہونا چاہئے کہ میرے پاس دولت تھی تو میں حج کرنے آیا یا میں نے حج کرلیا بلکہ دل میں یہی خیال رہنا چاہیے کہ بس اللہ رب العالمین کا فضل ہے کہ میں اس کے دربار میں پہنچا اور اس کے محبوب کے مقدس آستانے پر حاضری کا شرف حاصل ہوا اور جب یہ شرف حاصل ہوا تو اب ضروری ہے کہ اہل وعیال کی فکر نہ کرے، کاروبار کی فکر نہ کرے بس اللہ پر بھروسہ کرے، اللہ سے لولگائے، اللہ سے مدد طلب کرے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ سلام اللہ علیہا کا واقعہ یاد کرے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اور اپنی بیوی حضرت ہاجرہ کو جنگل و بیابان میں چھوڑ کر چل دیئے-
حضرت ہاجرہ نے بار بار آواز دی لیکن ابراہیم علیہ السلام پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ رہے ہیں جس جگہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو چھوڑا تھا وہاں کھانے پینے کا کوئی سامان نہیں تھا پانی بھی میسر نہیں تھا جب حضرت ہاجرہ کو یقین ہوگیا کہ ابراہیم علیہ السلام پلٹنے والے نہیں ہیں تب یہ پوچھا کہ آخر ہمیں اس بیابان میں جہاں چرند و پرند بھی نہیں ہیں نہ کچھ کھانے کیلئے ہے نہ کچھ پینے کے لیے ہے آخر کس کے حوالے کس کے بھروسے پر چھوڑ کر جارہے ہیں ہماری دیکھ بھال کون کرے گا تب ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ اللہ نگہبان ہے اللہ کے بھروسے پر چھوڑ کر جارہا ہوں اتنا سننا تھا کہ ہاجرہ کو اطمینان ہوگیا اور کہا کہ تب جاؤ بیشک اللہ ہماری حفاظت کریگا یہی وہ مقام ہے جسے صفا مروہ کے نام سے جانا جاتا ہے جو اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جہاں پانی کی تلاش میں
حضرت ہاجرہ سات مرتبہ دوڑیں یہ ادا اللہ تبارک و تعالیٰ کو اتنی پسند آئی کہ حج کے ارکان میں شامل کردیا ہر حاجی کو صفا مروہ کی سعی کرنا ہے اللہ پر توکل کا یہ صلہ ملا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے پیاس کی شدت سے ایڑیاں رگڑیں اور اللہ کے حکم سے حضرت جبریل علیہ السلام نے پر مارا اور پانی کا چشمہ جاری ہوا جسے آج ہم آب زمزم کہتے ہیں جو دنیا کا سب سے پاکیزہ پانی ہے جو شفاؤللناس ہے جس میں ہر مرض کی شفا ہے ایسی مقدس سرزمین پر جاکر کسے دنیا یاد رہے گی جہاں دن رات اللہ کی رحمتیں برستی ہیں مکہ مکرمہ وہ شہر ہے جسے اللہ نے بلدالامین کہا ہے مکہ وہ شہر ہے کہ اللہ نے جس کی قسم کھائی ہے مکہ وہ شہر ہے جسے اللہ نے ام القریٰ کا درجہ عطا فرمایا ہے یعنی ساری بستی کی ماں قرار دیا ہے مکہ وہ شہر ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے سید الکونین شہنشاہ عرب وعجم صل اللہ علیہ وسلم کی ولادت فرمائی ہے جہاں غارحرا ہے جہاں قرآن کی پہلی وحی نازل ہوئی ہے مکہ وہ شہر ہے جہاں خانہ کعبہ ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ایسے پاکیزہ شہر اور مقدس بستی میں پہنچیں اور اس سے بھی زیادہ خوش نصیبی کی بات ہے کہ حج بیت اللہ کیلئے حاضری کی سعادت نصیب ہوجائے ایسی پاک سرزمین پر پہنچ کر صرف عاجزی اور انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لبىك اللھم لبیك لبىك لاشریک لك لبىك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك لبيك کی صدائیں بلند کرتا رہے اور اپنے آپ کو ایک مجرم سمجھے دلوں میں تقویٰ پیدا کرے خوف خدا سے پورا جسم لرزہ براندام رہے دل میں یہ خیال رہے کہ ائے اللہ میں گنہگار و خطاکار ہوں سیاہ کارہوں تیری عدالت اور تیری بارگاہ میں آج حاضر ہوں بیشک توہی خالق ومالک ہے عزت و ذلت، زندگی اور موت سب کچھ تیرے ہی قبضہ قدرت میں ہے تو ہماری حاضری کو قبول فرمالے ہمارے دلوں کو روشن فرمادے ہمارے گناہوں کو معاف کردے ساتھ ہی ساتھ حج بیت اللہ کی جنہیں سعادت حاصل ہوئی ہے وہ اپنی آنکھوں سے اسلامی مساوات بھی دیکھیں اور اللہ کا انصاف بھی دیکھیں کہ بادشاہ اور فقیر، آقا اور غلام، عربی اور عجمی، گورے اور کالے سب کا ایک ہی لباس ہے ایک کپڑا اوڑھنا ہے اور ایک کپڑا لپیٹنا ہے یہیں سے قبر کا بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ چاہے بڑے سے بڑا امیر، حکمراں بھی جب موت کی نیند سوئے گا تو قبر میں دفن ہوگا اوپر سے مٹی ڈال دی جائے گی کسی نے آج تک یہ وصیت نہیں کی کہ میری قبر میں ٹائلس لگا دینا بہترین قسم کی قالین بچھا دینا دنیا میں چاہے کوئی کتنا ہی کسی کے ساتھ حق تلفی کرے لیکن مرنے کے بعد آخرت کی پہلی منزل قبر سے ہی انصاف شروع ہوجاتا ہے یہ اللہ کا قانون ہے اور میدان عرفات میں ایک اور سبق ملتا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور لوگ عرفات کے میدان میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے بھی رہتے ہیں کاش اسی طرح ہمیشہ تھامے رہتے تو آج امت مسلمہ انتشار کا شکار نہیں ہوئی ہوتی اور پوری دنیا میں ذلیل و خوار بھی نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو ایک موقع دیا ہے زندگی میں انقلاب لانے کا جہنم سے نجات پانے کا اور جنت کا حقدار بننے کا لہٰذا ہر حاجی کیلئے ضروری ہے کہ اس مقدس سرزمین سے اپنے آپ کو رب کے قرآن اور نبی کے فرمان کے سانچے میں ڈھال کر آئے اس کے بعد تا عمر ایسا ڈھلا رہے کہ لوگ اس سے متاثر ہوں اور انہیں دیکھ کر اپنے آپ کو تخیُل کی شاہراہ پر سوار ہو کر سوچیں اور غور کریں اور اپنی زندگی میں تبدیلی لائیں اور ہر حاجی اس مقدس سرزمین پر پوری امت مسلمہ کی خیر و بھلائی کی اور ملک میں امن و سلامتی کی دعا کریں اور جب مدینہ منورہ جائیں اور دربار رسالت میں حاضر ہوں تو پوری امت کا سلام پیش کریں انتہائی ادب و احترام کے ساتھ نگاہیں جھکی ہوئی رکھیں اور دل میں یہ بھی خیال رکھیں کہ ہم اس قابل تو نہیں کہ اس دربار میں پہنچیں لیکن یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کی بات ابتک بنی ہوئی ہے اپنے حالات پر نظر ڈالیں اور آنکھوں سے ندامت کے آنسو برسائیں کیونکہ جو کچھ بھی بھلا ہونا ہے وہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسليم کے صدقے میں ہی بھلا ہونا ہے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ حج بیت اللہ کیلئے جانے والے مسلمانوں کا حج رسول اکرم صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے میں قبول فرمائے اللھم آمین یا رب العالمین بجاہ نبیک سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین –
تحریر:جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوھنہ ضلع مئو( اترپردیش)
برائے رابطہ 8299579972، javedbharti508@gmail.com
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
