تازہ ترین
لاک ڈاؤن دوم کا12واں اورسخت ترین بندشوں کا دوسرا دن
18ویں ہفتے بھی بڑے جمعہ اجتماعات منعقد نہ ہوسکے
نہ اللہ اکبر ،اللہ اکبر کی صدائیں ، ناہی بم بم بولے ،ہرہر مہادیو کی گونج ،سناٹے کو چیرتی فورسز کی سیٹیاں ہی سیٹیاں
خبراردو:-
سرینگر:کورونا لاک ڈاؤن دوم کے 12ویں اور سخت ترین بندشوں کے دوسرے روز جمعہ کو وادی کے طول وعرض میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے جبکہ مسلسل18ویں ہفتے بھی وادی میں بڑے جمعہ اجتماعات منعقد نہ ہوسکے ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں کورونا مثبت معاملات اور اموات کے نہ تھمنے والے سلسلے کو روکنے کےلئے انتظامیہ کی جانب سے نافذ کئے گئے سخت ترین لاک ڈاؤن کے نتیجے میں پوری وادی میں چہار سو سناٹا چھا یہ ہوا ہے ۔
شہر ودیہات میں سبھی دکانات ،بازار ،کاروباری وتجارتی مرکز اور پیٹرول پمپ بھی بند ہیں جبکہ ہر طرح کا پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں اور شاہراہوں سے غائب ہے ۔ سخت ترین بندشوں اور پابندیوں کے سبب دارالحکومت سرینگر سمیت شمال وجنوب میں ہو کا عالم ہے ۔
دارالحکومت سرینگر کی مرکزی عبادت گاہوں میں مسلسل18ویں ہفتے کو بھی جمعے اجتماعات منعقد نہ ہوسکے ۔ مرکزی جامع مسجد ،آثار شریف حضرتبل ،خانقاہ معلی اور صوفی بزر گان دین کی زیارت گاہوں کے منبر ومحراب خاموش رہے جسکے نتیجے میں یہاں اللہ اکبر ،اللہ اکبرکی گونجتی صدائیں تاحال خاموش ہیں ۔
تاہم محلہ سطح کی چھوٹی مساجد میں مختصر اور طبی مشوروں وہدایات کے تحت لوگوں نے نماز جمعہ ادا کیں ۔ ائمہ مساجد نے جمعہ خطبہ کو مختصر رکھا اور لوگوں کو وبا سے محفوظ رہنے کےلئے احتیاطی تدابیر اپنا نے پر زوردیا ۔ اسی طرح کی صورتحال شمال وجنوب کے دیہات میں بھی دیکھنے کو ملی ،جہاں پر اطلاعات کے مطابق چھوٹی مساجد میں جمعہ کے مختصر اجتماعات منعقد ہوئے ۔
ادھرجمعہ اجتماعات کے پیش نظر عائد پابندیاں اور بندشیں مزید سخت کی گئی تھیں ۔ لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنے کےلئے جہاں پولیس کی جپسیوں پر نصب لاءوڈ اسپیکروں کے ذریعے صبح سویرے اعلانات کئے جارہے تھے ،وہیں سڑکوں کی سخت ترین ناکہ بندی ،تار بندی اور رکاوٹیں کھڑی کرکے لوگوں کی نقل وحرکت محدود کرکے رکھ دیا گیا تھا ۔ شہر خاص کے نوہٹہ علاقے میں واقع تاریخی جامع مسجد اور دریائے جہلم کے کنارے واقع خا نقاہ معلی کی طرف جانے والے راستوں کو خاردار تاروں سے سیل کیا گیا تھا جبکہ ان مذہبی مقامات کے گرد ونواح میں پولیس اور فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی ۔
اسی طرح کے شہر کے مشرق میں ڈل جھیل کے کنارے واقع آثار شریف حضرتبل کی جانب جانے والے راستوں کو بھی سیل کیا گیا تھا ۔ جمعہ کو دوپہر تک ہر سو سنا ٹا چھایہ ہوا تھا اور چہار سو ہو کاعالم تھا ۔ صرف چند ایک لازمی سروس وابستہ گاڑیاں اور نجی گاڑیاں وموٹر سائیکل سڑکوں پر نظر آرہے تھے اور اُنہیں سخت پوچھ تاچھ کے بعد ہی کہیں آنے جانے کی اجازت دی جاتی تھی ۔ مرکزی رابطہ سڑکوں پر پولیس وفورسز نے ناکے لگا رکھے تھے جبکہ بریکیٹس نصب کرکے گاڑیوں کی آوا جاہی کو محدود کیا گیا تھا ۔
شہر میں انتظامیہ نے80علاقوں کو ریڈ زون قرار دیکر موٹی موٹی سلاخوں سے 12روز قبل سیل کیا تھا اور تاحال ان علاقوں کی ناکہ بندی برقرار ہے ۔ اس دوران فورسز کی سیٹیاں خاموشی کو چیر رہی تھیں ،جو نجی گاڑیوں میں مجبوری کے عالم میں گھروں سے باہر آنے والوں کو غیر ضروری طورگھروں سے باہر نہ آنے کا اشارہ کررہے تھے ،یہ سلسلہ دن بھر دیکھنے کو مل رہا تھا ۔ تاہم بعد دوپہر شہر کے سیول لائنز علاقوں میں نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی آوا جاہی میں اچانک اضافہ بھی دیکھنے کو مل رہا تھا ۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انتظامیہ نے وادی کشمیر کے9اضلاع میں سخت ترین بندشوں کا اعلان کر رکھا ہے ،تاہم سرکاری دفاتر کو بند کرنے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے اور ملازمین کو ڈیوٹی پر حاضر ہونے کےلئے پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے سبب نجی ٹرانسپورٹ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے ،البتہ بیشتر ملازمین پبلک ٹرانسپورٹ کی وجہ سے ڈیوٹی پر حاضرنہیں ہو پارہے ہیں ،کیونکہ اُنہیں کافی مشکلات کا سامنا ہے ۔
صوبائی انتظامیہ کشمیر نے کورونا کیسز میں تشویشناک اُچھال اور اموات میں مسلسل اضافے کے پیش بدھ کی شام6بجے سے بانڈی پورہ کو چھوڑ کر سخت ترین بندشیں اور پابندیاں عائد کی ہیں ،تاکہ کورونا کے برق رفتار پھیلاءو کی زنجیر کو توڑا جاسکے ۔ انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے جارہے اقدامات صورتحال سے نمٹنے میں ناکافی ثابت ہورہے ہیں جبکہ لوگ بھی لا پروائی اور غفلت شعاری کے مرتکب ہورہے ہیں ،جسکی وجہ سے عالمی وبا (کووڈ ۔ 19) تیزی سے پھیل رہی ہے ۔
اس بیچ وادی کشمیر کے دیگرلاک ڈاءون زدہ8اضلاع بارہمولہ ،کپوارہ ،بڈگام ،گاندر بل ،شوپیان ،پلوامہ ،کولگام اور اننت ناگ میں بھی جمعہ کو مسلسل سخت ترین بندشوں اور پابندیوں کے دوسرے روز معمولات زندگی ٹھپ رہے ۔ یہاں بھی ہر طرح کے دکانات ،بازار ،کاروباری وتجارتی ادارے بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا ۔ ضلع صدور اور تحاصیل سطح پر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے جسکے نتیجے میں ان اضلاع کے مرکزی قصبہ جات میں جمعہ کو ہو کا عالم رہا ۔
شمالی ضلع بانڈی پورہ میں کورونا ۔ 19گائیڈ لائنز کے تحت معمول سرگرمیاں جاری ہیں ،البتہ یہاں بھی دیگر اضلاع کی ناکہ بندی کا اثر دیکھنے کو ملا ۔ واضح رہے کہ شرائن بورڈ انتظامیہ نے کووڈ ۔ 19کے برق رفتار پھیلا ءو اور تشویشناک صورتحال کے پیش نظر سالانہ امر ناتھ یاترا منسوخ کی ۔ تاہم شرائن بورڈ کا کہنا ہے کہ یاترا سے متعلق مذہبی روایات بھائی ۔ بہن کے پیار ومحبت کی علامت تصور کرنے والے تہوار رکھشا بندھن تک جاری رہیں اور ممکنہ طور پر یاتری گھر بیٹھے آن لائن طور پر برفیلی شیو لنگم کے درشن بھی کرسکتے ہیں ۔ یہ پہلا موقع ہے جب شرائن بورڈنے گزشتہ تین دہائیوں میں پہلی مرتبہ سالانہ امرناتھ یاترا کو کسی وجہ سے منسوخ کیا ہو ۔
یہ فیصلہ لیفٹیننٹ گور نر جو امر ناتھ شرائن بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں ،نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں لیا ۔ یاد رہے کہ ہر سال ’بم بم بولے اور ہر ہر مہادیو ‘ کے نعروں کے بیچ سالانہ امرناتھ یاترا کا آغاز ہوتا تھا ،لیکن رواں برس یہ گونج بھی فی الحال خاموش ہوگئی ہے ۔ وادی کشمیر میں کورونا کیسز میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے جبکہ اس میں ہر دن اچھال دیکھنے کو مل رہا جبکہ اموات کا بھی سلسلہ جاری ہے ،جسکی وجہ سے عوام میں ضطراب کی لہر پائی جارہی ہے ۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
