تازہ ترین
مرمو کا استعفیٰ منظور،61سالہ منوج سنہا نئے لیفٹیننٹ گورنرمقرر
سرینگر ہوئے وارد،ائر پورٹ پر والہانہ استقبال
راج بھون میں ہوگی حلف برداری کی مختصر تقریب،چیف جسٹس سے لیں گے حلف
خبراردو:-
سرینگر:صدر ہند،رام ناتھ کووند نے جموں وکشمیر کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر کے استعفیٰ کو منظور کرتے ہوئے اُنکی جگہ سابق مرکزی وزیر اور اْتر پردیش سے تعلق رکھنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے61سالہ سینئر لیڈر،منوج سنہا کو جموں کشمیر کا نیا لیفٹیننٹ گورنر مقرر کیا۔جموں وکشمیر میں اپنی انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل راج بھون سرینگر میں حلف برداری کی ایک مختصر تقریب ہوگی،جس دوران نئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا،چیف جسٹس آف جموں وکشمیر سے وہ اپنے عہدے کا حلف لیں گے۔
اس دوران نئے لیفٹیننٹ گور نر سرینگر پہنچ گئے اور ائر پورٹ پرچیف سیکریٹری،پولیس سربراہ نے استقبال کیا۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر کی تقسیم وتنظیم نو کے ایک سال مکمل ہونے کے موقعے پربدھ کو حیرت انگیز طور پر جموں وکشمیر کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مر مو نے اچانک استعفیٰ دیا۔انہوں نے اپنا استعفیٰ صدر ہند کو پیش کیا،جسے انہوں نے منظور کیا۔
اس بات کی اطلاع جمعرات کو راشٹر پتی بھون کے ترجمان نے دی۔صدر ہند کے پریس سیکریٹری اجے کمار کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ جموں وکشمیر کے پہلے لیفٹیننٹ گور نر گریش چندر مرمو کا استعفیٰ منظور کیا گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ صدر ہند،رام ناتھ کووندنے منوج سنہا کو جموں کشمیر کے نئے لیفٹیننٹ گورنر کی حیثیت سے تعینات کیا ہے۔ادھر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ راج بھون سرینگر میں نئے لیفٹیننٹ گور نر کی باضابطہ طور پر تقرری کے حوالے سے ایک حلف برداری کی مختصر تقریب منعقد ہوگی۔
ذرائع نے بتایا کہ جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی چیف جسٹس،گیتا متل سے نئے لیفٹیننٹ گورنر اپنے عہدے کا حلف لیں گے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر کی چیف جسٹس کو اعزاز حاصل ہوگا کہ انہوں نے جموں وکشمیر کے پہلے دو لیفٹیننٹ گورنروں کو حلف دلائیں گی۔نئے لیفٹیننٹ منوج سنہا جمعرات کو بعد دوپہر سرینگر پہنچ گئے۔ ائر پورٹ پر چیف سیکریٹری بی وی سبھرا منیم،پولیس سربراہ دلباغ سنگھ اور دیگر اعلیٰ انتظامی آفیسران نے اُن کا استقبال کیا جبکہ پولیس کے خصوصی دستوں نے سلامی بھی پیش کی۔منو ج سنہا کون؟
یکم جولائی1959 کو اتر پردیش کے وارانسی میں پیدا ہوئے منوج سنہا نے بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (آئی آئی ٹی) سے بی ٹیک اور ایم ٹیک کی ڈگری حاصل کی ہے۔ انہوں نے طالب علمی کے زمانے سے ہی سیاست میں قدم رکھ دیا تھا۔ وہ بی ایچ یو کی طلبہ یونین کے صدر بھی رہے۔ منوج سنہا پہلی بار مرتبہ 1996میں گیارہویں لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے۔
اس کے بعد 1999 میں وہ13 ویں لوک سبھا انتخابات جیت کر دوسری مرتبہ رکن پارلیمنٹ بنے۔سال1999 سے 2000 کے درمیان وہ اسکول آف پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچر کی جنرل کونسل کے ممبر رہے۔ اس کے علاوہ سرکاری یقین دہانی کمیٹی اور انرجی کمیٹی کے ممبر بھی رہے۔ وہ2014 میں 16ویں لوک سبھا کے لئے اترپردیش کے غازی پور حلقہ سے تیسری بار منتخب ہوئے۔ تاہم وہ2019 میں 17 ویں لوک سبھا انتخابات ہار گئے۔
سنہا وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت میں ٹیلی مواصلات اور وزیر مملکت برائے ریلوے کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ منوج سنہا کی شبیہ ’وکاس پرش‘ کی مانی جاتی ہے اور ان کا شمار قابل اور محنتی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔پہلے لیفٹیننٹ گور نر کا استعفیٰ:اس سے قبل بدھ کے روز جموں وکشمیر کے پہلے لیفٹیننٹ گور نر گریش چندر مرمو نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔مرمو نے31اکتوبر2019کو جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ2019کے تحت پہلے لیفٹیننٹ گورنر کے بطور جموں وکشمیر میں انتظامی بھاگ ڈور سنبھالی۔
گزشتہ10ماہ کے دوران جموں وکشمیر کے پہلے لیفٹیننٹ گور نر کئی اہم انتظامی فیصلے لئے جن میں ڈومیسائل قانون کی عمل آوری بڑا فیصلہ تصور کیا جارہا ہے۔انہوں نے اپنے 10ماہ کے انتظامی امورات سنبھالنے کے دوران کئی انٹر ویوز بھی دیئے اور ادارہ کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کیساتھ بھی انہوں نے حال ہی میں خصوصی گفتگو کی تھی۔ ذرائع کے مطابق گریشن چندرمرمو کو دہلی میں دیگر ذمہ داری اور عہدہ دیئے جانے کا امکان ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ جی سی مرمو کو بھارت کا نیا کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی)مقرر کیا جائے گا کیونکہ موجودہ کمپٹرولر جنرل راجیو مہریشی اگلے ہفتے سبکدوش ہونے والے ہیں۔جموں و کشمیر میں 5 اگست کی شام سے اچانک لیفٹیننٹ گورنر کی تبدیلی کی خبریں گردش کرنے لگیں،جس پر سابق وزیر اعلی عمر عبدللہ نے بھی حیرانگی کا اظہار کیا۔عمر عبدللہ نے ایک ٹویٹ کیا، جس میں انہوں نے کہاتھا’جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے متعلق سے یہ باتیں کہاں سے آئیں؟ یہ باتیں چند گھنٹے قبل سے گردش کر رہی ہیں اور اب یہ انٹرنیٹ پر چھائی ہوئی ہیں۔‘
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا5 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا5 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا5 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
