اہم خبریں
کانگریس اندرونی اختلافات کا شکار، قیادت کی تبدیلی کا معاملہ زیرِ بحث
خبراردوِ:-
بھارت میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت انڈین نیشنل کانگریس میں قیادت کی تبدیلی کا معاملہ زیرِ بحث ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے آپس میں ایک دوسرے پر الزامات اور اعتماد کے فقدان نے پارٹی کو منقسم کر دیا ہے۔
کانگریس کے 23 رہنماؤں پر مشتمل ایک گروپ نے حال ہی میں پارٹی صدر سونیا گاندھی کو ایک خط لکھا تھا جس میں پارٹی کو متحرک رکھنے کے لیے کل وقتی صدر کے علاوہ تنظیمِ نو کا مطالبہ کیا تھا۔
جن رہنماؤں نے یہ خط لکھا تھا ان میں پارٹی کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد اور ششی تھرور بھی شامل تھے۔
اس سلسلے میں پیر کو کانگریس کی اعلٰی فیصلہ ساز باڈی ‘کانگریس ورکنگ کمیٹی’ کا ایک ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جو سات گھنٹے تک جاری رہا۔
اجلاس کے دوران سونیا گاندھی نے پارٹی صدارت سے مستعفی ہونے اور ایک نئے صدر کے انتخاب کی پیش کش کی جسے تسلیم کر لیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کانگریس عبوری دور سے گزر رہی ہے، لہذٰا اسے ملکی سیاست میں متحرک رہنے کے لیے بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔
اجلاس کے دوران سابق وزیرِ اعظم من موہن سنگھ اور سابق وزیرِ دفاع اے کے انتھونی نے سونیا گاندھی سے صدر برقرار رہنے کی اپیل کی تھی۔اجلاس کے اختتام پر یہ طے پایا کہ پارٹی کے تنظیمی جنرل سیکرٹری کے سی وینو گوپال نئے صدر کے انتخاب کے لیے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا اجلاس طلب کریں گے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی میں ملک بھر سے 8000 سے زائد مندوبین ہیں۔
یہ بھی طے ہوا کہ کرونا کی وبا کے پیشِ نظر فوری طور پر اجلاس بلانا ناممکن ہے لیکن چھ ماہ کے اندر اجلاس طلب کر لیا جائے اور ایک نئے صدر کا انتخاب عمل میں لایا جائے۔ اس وقت تک سونیا گاندھی عبوری صدر برقرار رہیں گی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔
اجلاس کے دوران گاندھی نہرو خاندان کے وفاداروں اور باغی کیمپ کے درمیان ایک دوسرے پر الزام تراشی بھی کی گئی۔
اجلاس کے دوران ہی ذرائع کے حوالے سے میڈیا میں یہ خبر آئی کہ راہول گاندھی نے الزام عائد کیا ہے کہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اشارے پر مذکورہ خط لکھا گیا اور ایسے وقت لکھا گیا جب سونیا گاندھی اسپتال میں تھیں اور پارٹی کو راجستھان میں سیاسی بحران کا سامنا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ خط سات اگست کو لکھا گیا البتہ یہ میڈیا کے ذریعے 23 اگست کو منظرِ عام پر آیا۔بھارتی اخبار ‘انڈین ایکسپریس’ نے اس خط کی تفصیلات بھی شائع کر دی تھی۔ لہٰذا اس پر بھی چہ موگوئیاں ہوئیں کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اس خط کو میڈیا میں لیک کیا۔
راہول گاندھی کے الزام پر غلام نبی آزاد نے کہا کہ اگر یہ الزام ثابت ہو جاتا ہے تو وہ فوری طور پر پارٹی چھوڑ دیں گے۔
لیکن تھوڑی دیر کے بعد کانگریس رہنما کپل سبل نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اُن کی راہول گاندھی سے بات ہوئی ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے ایسا کوئی الزام عائد نہیں کیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں راجستھان میں بھی مدھیہ پردیش کی تاریخ دہرانے کی کوشش کی گئی۔ جہاں کانگریس کی حکومت ختم کر کے بی جے پی نے حکومت قائم کر لی تھی۔
راجستھان میں نوجوان لیڈر سچن پائلٹ نے وزیرِ اعلیٰ اشوک گہلوت کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ بی جے پی وہاں بھی کانگریس سے حکومت چھین لے گی۔ لیکن آخر میں راہول گاندھی کی مداخلت سے معاملہ سلجھ گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کا گلہ ہے کہ سونیا گاندھی سمیت پارٹی قیادت اُنہیں ملاقات کا وقت نہیں دیتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تقریباً ہر ریاست میں اور مرکزی سطح پر بھی پرانے قائدین نئی نسل کو آگے نہیں آنے دیتے۔ سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں اور کہا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے مذکورہ خط لکھا تھا اس میں بھی ان کے ذاتی مفادات کا دخل تھا۔روزنامہ ‘ہندوستان’ کے ایڈیٹر اور سینئر تجزیہ کار پرتاپ سوم ونشی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کانگریس اس وقت ایک عبوری دور سے گزر رہی ہے۔ راہول گاندھی کی قیادت والی نئی لیڈرشپ کئی محاذوں پر ناکام ہو چکی ہے جب کہ سونیا گاندھی کی قیادت والی پرانی لیڈر شپ کو نئے لوگوں کا عمل دخل پسند نہیں ہے۔
ان کے بقول کانگریس میں اس خیال کے کافی لوگ موجود ہیں کہ سونیا ہی پارٹی کو متحد رکھ سکتی ہیں۔ لہٰذا انہیں دوبارہ صدر بنایا گیا۔ لیکن چوں کہ وہ معمر ہو چکی ہیں اور ان کی صحت بھی ٹھیک نہیں رہتی اس لیے یہ تجربہ کامیاب نہیں ہوا۔
کانگریس پارٹی کے اجلاس کے بعد کے سی وینوگوپال اور پارٹی کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے ایک نیوز کانفرنس میں ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی ہے۔ لہذٰا پارٹی کے اجلاس میں نئے صدر کا انتخاب کیا جائے گا۔
دونوں رہنماؤں نے پارٹی میں اصلاحات کے بارے میں زیرِ بحث خط کے بارے میں کہا کہ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہمیں اسے بھول کر آگے بڑھنا ہے۔ تاہم یہ بھی طے ہوا کہ مذکورہ خط میں جن مسائل کو اٹھایا گیا ہے ان پر غور کرنے اور اُنہیں حل کرنے کے لیے ایک کمٹی تشکیل دی جائے گی جو اس بارے میں سونیا گاندھی سے تعاون کرے گی۔
رندیپ سورجے والا نے بتایا کہ ورکنگ کمیٹی میں بہت سے اہم رہنما شامل تھے اور ان کی رضامندی سے ہی پارٹی ورکنگ کمیٹی نے اتفاق رائے سے ایک قرار داد منظور کی ہے۔
سونیا گاندھی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ اس وقت پارٹی کو حکومت کی ناکامیوں اور عوام کو تقسیم کرنے والی اس کی پالیسیوں کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہے۔
قرارداد میں بھی ان مسائل کا ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ کرونا کی وبا نے لاکھوں افراد کو بے روزگار کر دیا ہے۔ اس میں بھارت اور چین تنازع کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔مذکورہ خط میں اس بات پر بھی زور دیا گیا تھا کہ انتخابات میں پارٹی کی شکست پر احتساب نہیں کیا گیا۔ لیکن اجلاس کے دوران خط میں اٹھائے گئے مسائل پر کوئی بات نہیں کی گئی۔
یاد رہے کہ کانگریس کو 2014 اور 2019 کے عام انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 2019 کے انتخابات میں اس کے صرف 52 ارکان ہی کامیاب ہوئے تھے۔
کانگریس پارٹی کی مقبولیت کا گراف مسلسل نیچے آ رہا ہے اور ریاستوں میں اس کی حکومت ختم ہوتی جا رہی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ہر ریاست میں کانگریس میں گروپ بازی ہے۔ پرانے رہنما نئے لوگوں کو آگے نہیں بڑھنے دیتے۔ مدھیہ پردیش میں کانگریس کے سینئر لیڈر جیوترا دتیہ سندھیا نے اس رویے کے خلاف بغاوت کی اور انہوں نے اپنے حامی ایک درجن سے زائد ارکانِ اسمبلی کے ساتھ بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
اس طرح مدھیہ پردیش سے کانگریس کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور بی جے پی نے اپنی حکومت بنا لی ہے۔
جیوترا دتیہ کا خیال ہے کہ نئے لوگوں کو پارٹی میں جوڑنے کے لیے جس کرشمے کی ضرورت ہے وہ پارٹی میں موجود نہیں ہے۔ کانگریس کو زندہ کرنے کے لیے پرینکا گاندھی کو بھی لایا گیا اور انہیں اتر پردیش کا انچارج اور جنرل سکریٹری بنایا گیا لیکن یہ تجربہ بھی ناکام ہو گیا۔
تجزیہ کار سوم ونشی نے کہا ہے کہ کانگریس کے اندر سے یہ آواز اٹھنے لگی ہے کہ اگر راہول گاندھی صدارت سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور سونیا گاندھی قیادت کی اہل نہیں رہیں تو کیوں نہ نہرو گاندھی خاندان سے باہر سے کسی کو لایا جائے۔
لیکن کیا پارٹی کے لوگ باہر کے کسی لیڈر کی قیادت کو تسلیم کر لیں گے؟ اس سوال پر سوم ونشی کہتے ہیں کہ کانگریس کا جو ڈھانچہ ہے اسے دیکھتے ہوئے کچھ کہنا مشکل ہے۔
روزنامہ ‘جدید خبر’ کے ایڈیٹر اور سینئر صحافی معصوم مراد آبادی کا کہنا ہے کہ نہرو گاندھی خاندان کانگریس کی سب سے بڑی طاقت اور سب سے بڑی کمزوری بھی ہے۔ان کے بقول اس خاندان سے باہر کے لوگوں کو لانے کی بھی بات ہوتی ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ باہر کا کوئی لیڈر پارٹی کو متحد نہیں رکھ سکے گا۔ لہٰذا کانگریس کو چاہیے کہ یا تو اپنی اس طاقت کا بھرپور استعمال کرے یا پھر اس تاثر سے نجات حاصل کر لے۔
اُن کے خیال میں کانگریس میں اعتماد کا بھی فقدان ہے۔ کوئی رہنما کسی دوسرے پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں جو کچھ ہوا وہ اس کا ثبوت ہے۔ پارٹی کو اس بداعتمادی کے رجحان کو ختم کرنا ہو گا حس کے بعد وہ متحد ہو سکتی ہے۔
سینئر تجزیہ کار انل چمڑیا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی پرانی اور نئی نسل کے درمیان ایک جنگ میں الجھی ہوئی ہے۔ ابھی تک کانگریس کی قیادت اندرا گاندھی یا راجیو گاندھی کے ہاتھوں میں رہی ہے اور جو پرانے لوگ ہیں وہ سونیا گاندھی کے وفادار ہیں۔ ان کے اپنے اپنے مفادات بھی ہیں۔
اُن کے خیال میں کانگریس میں بس ایک بات کی لڑائی ہے کہ کیا سینئر رہنما راہول گاندھی کو اس بات کی اجازت دیں گے کہ وہ اپنی پسند کی ٹیم بنا سکیں۔ یہی بات کانگریس کے مستقبل کو طے کرے گی۔
انل چمڑیا نے کہا کہ راہول کا یہ کہنا کہ سینئر رہنما اپنا کوئی نیا صدر منتخب کر لیں، دراصل یہ ثابت کرنے کے لیے ہے کہ ان کے علاوہ کوئی اور اس منصب کو سنبھالنے کا اہل نہیں ہے۔
اُن کا مزید کہنا ہے کہ راہول گاندھی خود کے لیے وقت لے رہے ہیں۔ وہ ابھی تو صدر نہیں بنیں گے لیکن اگلے پارلیمانی انتخابات سے دو ایک سال قبل وہ خود کو اس لائق کر لیں گے کہ پارٹی کی کمان سنبھال سکیں۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ کانگریس پارٹی اور نہرو گاندھی خاندان ایک دوسرے کے لازم و ملزوم بن گئے ہیں۔ حالانکہ ماضی میں اس خاندان سے باہر کے بھی لوگ صدر کے منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ لیکن اب کانگریس اتنی کمزور ہو گئی ہے اور اس میں اتنی اندرونی لڑائی ہے کہ باہر کا کوئی شخص شاید ہی اس پارٹی کو سنبھال سکے اور پارٹی کارکن اس پر اعتماد کر سکیں۔
بشکریہ وائس آف امریکہ
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
