تازہ ترین
موسلادھار بارشوں سے بھاری لینڈ سلائڈنگ، سرینگر۔جموں شاہراہ مسلسل چوتھے روز بھی بند
سرینگر۔لہیہ شاہراہ پر آمد ورفت بحال،تاریخی مغل روڑ،اننت ناگ۔کشتواڑ روڑ ہنوز بند
خبراردو:-
سرینگر:موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں ہوئی بھاری لینڈ سلائڈنگ کے باعث سرینگر۔جموں شاہراہ جمعہ کو مسلسل چوتھے روز بھی ٹریفک کی آمد ورفت کیلئے بند رہی۔اس دوران سرینگر۔لہیہ شاہراہ پر ملبہ اور رکاوٹیں ہٹانے کیساتھ ہی آمد ورفت کو بحال کردیا گیا۔تاہم تاریخی مغل روڑ اور اننت ناگ۔
کشتواڑ روڑ ہنوز بند ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق سرینگر۔جموں شاہراہ جمعہ کو مسلسل چوتھے روز بھی بند رہی اور اس طرح وادی کشمیر کا باقی ماندہ دنیا سے زمینی رابطہ ہنوز منقطع ہے۔اس شاہراہ کو 4 روز قبل ضلع رام بن کے پنتھیال،دلواس،مہر،موم پاس، ڈگڈول،کیفی ٹیریا موڑ، بیٹری چشمہ،منکی موڑ،ائرن اسٹینڈ، اور ماروگ علاقوں میں زمین دھنسنے،چٹانیں کھسکنے،مٹی کے تودے گرآنے اوررابطہ سڑک کا ایک حصہ ڈھہ جانے کے بعد بند کیا گیا تھا۔
معلوم ہوا ہے کہ ناشری اور بانہال کے درمیان کئی مقامات بری طرح سے تودے گرآنے اور چٹانیں کھسکنے کے سبب متاثر ہوئے ہیں۔ٹریفک حکام کے مطابق کے مطابق موسم کی مسلسل خرابی کے سبب شاہراہ پر جاری تجدید ومرمت اور بحالی کا کام متاثر ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ موسم ٹھیک ہوتے ہی بحالی کے کام میں سرعت لائی جائے گی۔
ادھر معلوم ہوا ہے کہ سینکڑوں گاڑیاں شاہراہ کے مختلف مقامات پر در ماندہ ہیں اور ان میں وادی کی طرف آنے والی اشیائے ضروریہ سے لدی مال بردار گاڑیاں اور وادی سے باہر جانے والی میوہ بردار ٹرکیں بھی شامل ہیں۔حکام نے بتایا کہ تازہ شدید اور موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں شاہراہ پر تازہ مٹی کے تودے،چٹانیں لڑھکنے اور زمین دھنسنے کے واقعات پیش آئے۔
یاد رہے کہ منگلوار اور بدھ کی درمیانی رات سے پیر پنچال کے آر پار موسلادھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا،جسکے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔حکام نے بتایا کہ شاہراہ سے ملبے ہٹانے کا کام جنگی بنیادوں پر جاری ہے،تاہم مسلسل چٹانیں کھسکنے اور موسم کی خرابی کے سبب بحالی کا م متاثر ہورہا ہے۔انہوں نے کہا ’چٹانیں کھسکنے کا سلسلہ جونہی بند ہوجائیگا،تجدید ومرمت اور بحالی کا کام جنگی بنیادوں پر کیا جائیگا‘۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرینگر۔جموں شاہراہ کی تجدید ومرمت اور بحالی کا کام تعمیراتی ایجنسیاں نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) اور بارڈر روڈس آر گنائزیشن (بی آر او) انجام دے رہی ہیں۔شاہراہ پر درماندہ مسافر مال بردار گاڑیاں میں سوار ڈرائیور،کنڈیکٹر اور دیگر مسافروں کا کہنا ہے کہ اُنہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ان کا کہناتھا کہ وہ مسلسل پانچ روز سے شاہراہ کے مختلف مقامات پر درماندہ ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے اُنکے لئے پانی،بیت الخلاء اور کھانے کیلئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا جبکہ ہوٹل اور رستوران کووڈ۔19گائیڈ لائنز کے سبب بند ہیں۔
ادھر وادی کشمیر میں اشیائے ضروریہ کی قلت بھی پیدا ہوگئی ہے۔بازاروں میں انڈے،مرغ اور گوشت کیساتھ ساتھ دیگر چیزوں کی مصنوعی قلت پیدا کردی گئی اور ذخیرہ وگراں فروشوں نے چیزوں کو اونچے داموں فروخت کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ادھر وادی سے باہر منڈیوں تک میوہ پہنچانے والی ٹرکیں بھی شاہراہ مسلسل بند رہنے کے سبب درماندہ ہو کر رہ گئیں۔در ماندہ ٹرکوں میں میوہ سڑنے کا خدشہ لاحق ہو گیا اور پہلے سے مشکلات سے دوچار میوہ بیو پاریوں کو مزید نقصانات کا اندیشہ لاحق ہوگیا۔
میوہ تاجروں کا کہنا ہے کہ پانچ روز سے شاہراہ پر میوہ ٹرکیں درماندہ ہیں اور اگر منڈیوں تک وقت میوہ نہیں پہنچا،تو خراب ہونے کا اندیشہ بھی لاحق ہے۔سرینگر سے جموں کی طرف جانے والے خالی آئیل ٹینکر بھی درماندہ ہیں۔ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کا کہنا ہے کہ یہاں کھانے پینے کا کوئی انتظام نہیں ہے اور اُنہیں گاؤں سے پانی لانا پڑتا ہے تاکہ وہ اپنے لئے کھانا پکا سکیں۔یاد رہے کہ 22اگست کو شاہراہ پر آمد ورفت مسلسل دو روز تک معطل رہنے کے بعد دوبارہ بحال کردی گئی تھی،تاہم 24اگست کی صبح سے یہ شاہراہ دوبارہ ٹریفک آمد ورفت کیلئے بند کردی گئی۔
ادھر سرینگر۔ لیہہ شاہراہ کو جمعہ کے روز آمدورفت کے لئے بحال کیا گیا ہے۔ مذکورہ شاہراہ کوگذشتہ روز ہوئی شدید بارش کی وجہ سے کپٹن موڈ زوجیلا پر پسیاں گرآنے کی وجہ سے ٹریفک کیلئے بند کیا گیا تھا۔حکام کے مطابق بعد ازاں بارڈروڈ س آرگنائزیشن نے ہنگامی بنیادوں پر پسیاں ہٹاکر شاہراہ کو آمدورفت کے بحال کردیا۔ سونہ مرگ میں تعینات موٹر وہیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق آج صبح سے ہی شاہراہ کے دونوں طرف گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دی گئی ہے۔دریں اثناء تاریخی مغل روڑ اور اننت ناگ۔کشتواڑ روڑ ہنوزآمد ورفت کیلئے بند ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر کی انتظامیہ کونسل نے جمعرات کو منعقد اجلاس کے دوران تاریخی مغل روڑ کی بحالی کے منصوبے کو ہری جھنڈی دی۔یہ روڑ وادی کشمیر کو خطہ پیر پنچال کو زمینی رابطے کے حوالے سے جوڑ تا ہے جبکہ اننت ناگ۔کشتواڑ روڑ وادی کشمیر کو خطہ چناب کے ساتھ جوڑ تا ہے۔
جموں و کشمیر
کشمیر کے بالائی علاقوں میں تازہ برف باری، میدانی علاقوں میں بارش
سری نگر، کشمیر کے کئی بالائی علاقوں میں منگل کو تازہ برف باری ہوئی، جبکہ سری نگر سمیت میدانی علاقوں میں بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات نے جموں و کشمیر میں جمعرات تک بڑے پیمانے پر بارش اور دیگر موسمی سرگرمیوں کی پیش گوئی کی ہے۔
حکام کے مطابق، مغربی ہواؤں کے زیر اثر سیاحتی مقامات گلمرگ اور سونا مرگ کے علاوہ زوجیلا محور پر بھی تازہ برف باری ریکارڈ کی گئی۔ ادھر جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر سمیت میدانی علاقوں میں بارش ہوئی، جو آخری اطلاعات موصول ہونے تک جاری تھی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بونداباندی کا امکان ہے۔ محکمہ نے آئندہ چند روز کے لیے بھی اسی طرح کے موسمی حالات کی پیش گوئی کی ہے۔
14 اکتوبر کی پیش گوئی کے مطابق، بعض علاقوں میں گرج چمک اور آسمانی بجلی کے ساتھ 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔ کچھ مقامات پر تیز بارش، گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کے ساتھ اسی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔
موجودہ موسمی حالات کے باعث بالائی علاقوں میں سردی اور نمی برقرار رہنے کا امکان ہے، جب کہ میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش جاری رہ سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ موجودہ موسمی حالات کے پیش نظر 13 سے 15 اکتوبر کے درمیان سیب، دھان اور دیگر فصلوں کی کٹائی کے بعد انہیں محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کے انتظامات کریں۔
خراب موسم کے امکان کے پیش نظر مسافروں، ٹرانسپورٹروں اور عام لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سفر کی منصوبہ بندی احتیاط سے کریں اور کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے ٹریفک سے متعلق جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔
یواین آئی۔ ط ا
ہندوستان
اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی، سینسیکس 1,100 پوائنٹس سے زیادہ بڑھا
مبئی، گھریلو اسٹاک مارکیٹوں میں منگل کو زبردست تیزی دیکھی گئی، بی ایس ای سینسیکس 1,100 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ سینسیکس 71,951.73 پوائنٹس پر کھلا، جو پچھلے کاروباری دن سے 27 پوائنٹس زیادہ ہے۔ یہ 71,703.56 پر ریڈ زون میں گرا لیکن پھر تیزی سے سبز ہو گیا۔ سینسیکس 1,109.10 پوائنٹس (1.54 فی صد) بڑھ کر 73,033.78 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس سے قبل یہ 73,045.67 پوائنٹس کی اونچائی پر پہنچ گیا تھا۔ اس طرح آج اس میں 1,342 پوائنٹس کا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی 50 انڈیکس صبح فلیٹ کھلنے کے بعد بالآخر 358.60 پوائنٹس یا 1.60 فی صد بڑھ کر 22,721.95 پر آگیا۔ گزشتہ کاروباری دن دونوں بڑے انڈیکس سرخ رنگ میں بند ہوئے تھے۔ روپے کے مسلسل دوسرے دن مسلسل اضافے سے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے جذبات کو تقویت ملی ہے۔ مضبوط سہ ماہی نتائج کی وجہ سے آئی ٹی کمپنیوں کو زیادہ فائدہ ہوا۔ وسیع بازار میں بھی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری تھا۔
نفٹی مڈ کیپ 50 انڈیکس میں 0.87 فیصد اضافہ ہوا اور سمال کیپ 100 انڈیکس میں 0.11 فی صد اضافہ ہوا۔
بہتر سہ ماہی نتائج کی وجہ سے آئی ٹی کمپنیوں میں بھی بڑے پیمانے پر خریداری ہوئی۔ نفٹی آئی ٹی انڈیکس 5.22 فی صد بڑھ گیا۔ رئیلٹی سیکٹر 2.46 فی صد بڑھ کر بند ہوا۔ آٹو، بینکنگ، فائنانس، ایف ایم سی جی، میٹل، اور کنزیومر ڈیریبل سیکٹر کے انڈیکس میں بھی ایک فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ سینسیکس کمپنیوں میں، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز کا اسٹاک آٹھ فیصد سے زیادہ بڑھ گیا۔
کمپنی نے پیر کو اطلاع دی کہ اس کا خالص منافع سال بہ سال 21.2 فی صد بڑھ کر Rs5,132 کروڑ ہو گیا اور موجودہ مالی سال 2026-27 کی دوسری سہ ماہی میں آمدنی 11.5 فیصد بڑھ کر Rs35,620 کروڑ ہو گئی۔ دیگر آئی ٹی کمپنیوں میں، ٹی سی ایس کے حصص میں 6.5 فی صد، ٹیک مہندرا کے تقریباً 5 فی صد اور انفوسس کے حصص میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا۔ ہندوستان یونی لیور، ٹرینٹ، بجاج فنسر اور بجاج فائنانس کے حصص میں 2 سے 3 فی صد اضافہ ہوا۔ ٹائٹن، مہندرا اینڈ مہندرا، بی ای ایل، بھارتی ایئرٹیل، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، الٹرا ٹیک سیمنٹ، ایچ ڈی ایف سی بینک، ٹاٹا اسٹیل، آئی ٹی سی، ایل اینڈ ٹی، آئی سی آئی سی آئی بینک، ایشین پینٹس، اور ایکسس بینک کے حصص میں 1 سے 2 فی صد اضافہ ہوا۔ ریلائنس انڈسٹریز، سن فارما، اڈانی پورٹس اور پاور گرڈ کے حصص بھی سبز رنگ میں رہے۔ کوٹک مہندرا بینک، ایٹرنل اور ماروتی سوزوکی کے حصص میں کمی ہوئی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
ہندوستان
راجیو چوک پر این ایس یو آئی کا مظاہرہ، جاکھڑ سمیت متعدد کارکنان حراست میں
نئی دہلی، نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کرتے ہوئے منگل کے روز کنالٹ پلیس میں واقع راجیو چوک میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 7 پر اچانک احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرے کی قیادت این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے کی۔ مظاہرین نے انتخابی بے ضابطگیوں اور مبینہ ‘ووٹ چوری’ کے معاملے پر الیکشن کمیشن سے جواب دہی اور شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے کے مدنظر کنالٹ پلیس میں بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔ دہلی پولیس نے مسٹر جاکھڑ سمیت سینکڑوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
مسٹر جاکھڑ نے کہا کہ طالب علم رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے کر انتخابی شفافیت سے جڑے سوالات کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرے کو روکنے کے بجائے حکومت کو سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ ‘ووٹ چوری’ کے خلاف ان کی تحریک جمہوری اور پرامن طریقے سے جاری رہے گی۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
ہندوستان5 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
-
دنیا5 days agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
