تازہ ترین
لداخ: بھارت اور چین کی افواج آمنے سامنے،جنگ کے بادل منڈلا نے لگے
پینگونگ سو جھیل کے پاس ایک بار پھر چھڑپ
چین نے معاہدے کی خلاف ورزی کی،سرحد پر موجودہ پوزیشن کو تبدیل کرنے کی جارحانہ کوشش:وزارت دفاع
خطراردو:-
سرینگر:اڑھائی ماہ بعد مشرقی لداخ میں واقع پینگونگ سو جھیل کے پاس ایک بار پھر بھارت اور چین کی افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے،تاہم اس میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں۔
ایشیا کی دو بڑی طاقتوں بھارت اور چین کی افواج کے درمیان لائن آف ایکچیول کنٹرول (ایل اے سی) پر آمنے سامنے پھر آ نے کے باعث برصغیر کے افق پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے۔یاد رہے کہ بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف (سی ڈی ایس) جنرل بپن راوت نے کہا تھا کہ اگر بات ناکام ہوتی ہے،تو فوجی آپشن موجود ہے۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق بھارت اور چین کی سرحد پر دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان لداخ سیکٹر میں پینگونگ سو جھیل کے پاس ایک بار پھر چھڑپ ہوئی ہے۔ اس نئی جھڑپ کی خبر ایک ایسے وقت میں آئی ہے کہ جب دونوں افواج کے اعلیٰ اہلکار سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔مرکزی وزارت دفاع کی طرف سے پیر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے 29 اور30 اگست کی درمیانی رات کے دوران چینی فوج نے فوجی اور سفارتی سطح پر طے پانے والے معاہدے کی ’خلاف ورزی‘کرتے ہوئے ’سرحد پر موجودہ پوزیشن کو تبدیل کرنے کی اشتعال انگیز کوشش کی‘۔
بیان میں کہا گیا کہ انڈین فوج نے پینگونگ سو جھیل کے جنوبی کنارے پر چینی فوج کے اس منصوبے کو’ناکام کر دیا ہے‘۔بیان کے مطابق ’فوج نے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے ہیں اور زمین پر یکطرفہ حقیقت بدلنے کے چینی عزائم کو ناکام کر دیا ہے‘۔ایک رپورٹ کے مطابق پینگونگ جھیل کے جنوبی کنارے پر چینی فوج ہتھیاروں کے ساتھ آگے بڑھی تو ہندستانی فوج نے نہ صرف روکا، بلکہ انہیں پیچھے کھدیڑ دیا۔
چین نے تاحال اس حوال سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔وزارت دفاع کے بیان میں مزید گہا گیا ہے کہ انڈین فوج بات چیت کے ذریعے سرحد پر امن و سکون برقرار رکھنے کی پابند ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی’علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کی بھی پابند ہے‘۔اس بیان میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ تازہ ترین چھڑپ کی نوعیت کیا تھی اور آیا اس جھڑپ میں کوئی ہلاکت ہوئی ہے یا نہیں۔
اس بیان سے یہ واضح ہے کہ یہ تصادم پینگونگ سو جھیل کے جنوبی کنارے پر ہوا ہے کیونکہ رواں سال جون میں جو ٹکراؤ ہوا تھا وہ اس کے شمالی سرے پر ہوا تھا۔دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر یہ ٹکراؤ بڑی نوعیت کا تھا۔گذشتہ جون میں اسی خطے کے علاقے وادی گلوان میں انڈین اور چینی فوجیوں کے درمیان ٹکراؤ میں انڈیا کے20 فوجی ہلاک اور تقریباً 75 زخمی ہوئے تھے۔ اس جھڑپ کے بارے میں اطلاعات دھیرے دھیرے سامنے آئی تھیں۔بھارتی فوج کی جوابی کارروائی میں 40چینی فوجی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی سامنے آرہا ہے۔
رواں کشیدگی میں یہ پہلا موقع ہے جب چینی فوجیوں سے چھڑپ کے بارے میں وزارت دفاع کی طرف سے دلی میں بیان جاری کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ بات ابھی واضح نہیں ہے کہ یہ جھڑپ سنیچر کی رات میں ہوئی لیکن سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس کے بارے میں کوئی بیان دو روز بعد ہی کیوں جاری کیا گیا۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پینگونگ سو جھیل کے جس خطے میں چینی فوجیوں سے یہ چھڑپ ہوئی ہے وہ دفاعی نقطہ نظر سے بہت اہم ہے کیونکہ وہاں سے کچھ ہی دوری پر انتہائی اہم دولت بیگ اولڈی۔شیوک روڈ گزرتی ہے۔
چین کی سرحد کے نزدیک واقع دولت بیگ اولڈی میں انڈیا کا فضائی اڈہ واقع ہے۔انڈیا اور چین کا سرحدی تنازع کیا ہے؟:انڈیا اور چین کا سرحدی تنازع بہت پرانا ہے اور سنہ1962 کی جنگ کے بعد یہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔انڈیا اور چین کے درمیان تین ہزار488 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ یہ سرحد جموں وکشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیش میں انڈیا سے ملتی ہے اور اس سرحد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے (مغربی سیکٹر یعنی جموں و کشمیر، مڈل سیکٹر یعنی ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ اور مشرقی سیکٹر یعنی سکم اور اروناچل پردیش)۔
انڈیا اور چین کے درمیان سرحد کی مکمل حد بندی نہیں ہوئی اور جس ملک کا جس علاقے پر قبضہ ہے اسے ایل اے سی کہا گیا ہے تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے کے علاقے پر اپنا علاقہ ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں جو کشیدگی کا باعث بھی رہا ہے۔انڈیا مغربی سیکٹر میں اکسائی چین پر اپنا دعویٰ کرتا ہے لیکن یہ خطہ اس وقت چین کے کنٹرول میں ہے۔ سنہ 1962کی جنگ کے دوران چین نے اس پورے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔
دوسری جانب چین مشرقی سیکٹر میں اروناچل پردیش پر اپنا دعویٰ کرتا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ یہ جنوبی تبت کا ایک حصہ ہے۔ چین تبت اور اروناچل پردیش کے مابین میک موہن لائن کو بھی قبول نہیں کرتا ہے۔مجموعی طور پر چین اروناچل پردیش میں میک موہن لائن کو قبول نہیں کرتا اور اس نے اکسائی چین سے متعلق انڈیا کے دعوے کو مسترد کیا ہوا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں چیف آف ڈیفنس سٹاف (سی ڈی ایس) جنرل بپن راوت نے کہا تھا’لداخ میں چینی فوج کے تجاوزات سے نمٹنے کے لیے فوجی آپشن بھی موجود ہے لیکن اسے اس وقت ہی اختیار کیا جائے گا جب فوجی اور سفارتی سطح پر مذاکرات ناکام ہو جائیں گے‘۔
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
