تازہ ترین
بابری مسجد انہدامی معاملہ:ایڈ وانی،جوشی،اوما بھارتی سمیت سبھی نامزد 32 ملزمان بری
سی بی آئی کی خصوصی عدالت کا 28برس بعدتاریخ ساز فیصلہ
ہندو مذہب اور قوم کی فتح:بری ملزمان
سرینگر:بابری مسجد انہدامی معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)نے28برس بعد تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے ایڈ وانی،جوشی،او ما بھارتی سمیت سبھی نامزد32ملزمان کو بری کردیا۔ادھر بری ملزمان نے عدالتی فیصلے پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو مذہب اور قوم کی فتح ہے۔
کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق بابری مسجد انہدامی کیس میں ’سی بی آئی‘ کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ایل کے اڈوانی،مرلی منوہر جوشی اوما بھارتی اور کلیان سنگھ سمیت تمام 32 ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ جج ایس کے یادو نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کے انہدام کو سازش کے تحت انجام دی گئی، واردات قرار نہیں دیا اور کہا کہ ملزمان نے بھیڑ کو روکنے کی بھی کوشش کی تھی!۔
گزشتہ 28 سالوں سے چل رہے اس معاملہ کے فیصلہ کی راہ میں تمام قانونی پیچیدگیاں حائل رہیں اور انصاف کرنے میں تاخیر ہوئی، اور آخر کار تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ اس طرح پہلے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر بنانے کی جازت دی گئی اور اس کے بعد آج کھلے عام مسجد کا انہدام کرنے والے کسی شخص کی بھی شناخت نہیں ہو پائی۔بابری مسجد انہدام:6دسمبر 1992۔ ایودھیا میں بابری مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔
اسی دن دو فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔ ایک ایف آئی آر میں 8 افراد کے نام شامل ہیں، لال کرشن اڈوانی، ایم ایم جوشی، اوما بھارتی، ونئے کٹیار، سادھوی رتمبھرا اور وشو ہندو پریشد کے رہنما اشوک سنگھل، گریراج کشور اور وشنو ہری ڈالمیا۔ ان رہنماؤں کے خلاف آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ مزید 47 ایف آئی آر درج کی گئیں، جس کے بعد ایف آئی آر کی کل تعداد49 ہو گئی۔13 اپریل 1993۔ یوپی کے للت پور کے اسپیشل مجسٹریٹ نے جہاں پہلے مقدمات شروع کیے گئے تھے، ایف آئی آر نمبر197 میں ’لاکھوں کار سیوکوں‘ کے خلاف مجرمانہ سازش (دفعہ120 بی) کا الزام بھی شامل کیا۔8ستمبر1993۔ یوپی حکومت نے لکھنؤ کی خصوصی عدالت کو بی جے پی اور وی ایچ پی رہنماؤں کے ناموں کے علاوہ ایف آئی آر نمبر198 بھی سونپ دی۔ ایف آئی آر نمبر198 کا مقدمہ رائے بریلی کی عدالت کو منتقل کر دیا گیا۔
5 اکتوبر 1993۔ سی بی آئی نے لکھنؤ کی عدالت میں 48 ملزمان کے خلاف مشترکہ چارج شیٹ داخل کی۔ اس میں شیوسینا کے سابق چیف بال ٹھاکرے اور یوپی کے سابق سی ایم کلیان سنگھ کا نام بھی شامل تھا۔8 اکتوبر1993۔ یوپی حکومت نے8 ستمبر کے نوٹیفکیشنمیں ترمیم کی، تاکہ لکھنؤ عدالت ہی میں تمام 49 مقدمات کی سماعت ہو سکے۔1996۔ سی بی آئی نے اڈوانی اور دیگر آٹھ بی جے پی اور وی ایچ پی رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر نمبر 198 میں ضمنی چارج شیٹ دائر کی۔9 ستمبر 1997۔ ایف آئی آر نمبر198 میں لکھنؤ کی خصوصی عدالت کے خصوصی جج نے تمام ملزم رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات لگانے کی ہدایت دی۔12 فروری 2001۔
الہ آباد کی عدالت نے یوپی حکومت کے اکتوبر 1993 کے اس نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر نمبر198کو لکھنؤ کی عدالت کو بغیر کسی دائرہ اختیار کے بھیج دیا گیا تھا۔4 مئی2001۔ لکھنؤ کی عدالت نے اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی، بال ٹھاکرے سمیت 21 ملزمان کے خلاف کارروائی روک دی۔ اس کے بعد اس معاملے کو رائے بریلی کی عدالت منتقل کر دیا گیا۔28 ستمبر2002۔ سی بی آئی نے8 اکتوبر1993 کے ایک نوٹیفکیشن میں عدالتی غلطیوں کی اصلاح پر زور دیا، جسے یوپی حکومت نے مسترد کر دیا۔ سی بی آئی نے یوپی حکومت کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا۔2002۔ سی بی آئی نے رائے بریلی عدالت میں اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی اور پانچ دیگر افراد کے خلاف ضمنی چارج شیٹ دائر کی۔
تاہم، اس نے مجرمانہ سازش کی دفعہ کا تذکرہ نہیں کیا۔22 مئی2010۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے لکھنؤ کی عدالت کے21 ملزمان کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں دو طرح کے ملزمان تھے- ڈائس پر موجود رہنما اور دوسرے کار سیوک۔ عدالت نے کہا کہ دونوں گروہوں کے ملزموں کے خلاف مختلف الزامات ہیں اور ان کی شمولیت مختلف طریقوں سے ہونے والے جرائم میں تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایف آئی آر نمبر198میں آٹھ ملزمان پر کبھی بھی مجرمانہ سازش کا الزام نہیں لگایا گیا تھا۔
19 اپریل 2017۔ سپریم کورٹ نے جرائم نمبر92/198کے معاملے کو رائے بریلی سے لکھنؤ منتقل کر دیا اور لکھنؤ کی عدالت نے اڈوانی، ونے کٹیار، اوما بھارتی، سادھوی رتمبھرا، مرلی منوہر جوشی اور وشنو ہری ڈالمیا کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات طے کرنے کو کہا۔ عدالت عظمیٰ نے 5 اکتوبر1993 کو سی بی آئی کی مشترکہ چارج شیٹ میں چمپت رائے، نرتیہ گوپال داس، کلیان سنگھ اور دیگر جن کے بھی نام تھے، ان کے خلاف مجرمانہ سازش رچنے کا الزام طے کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ بابری انہدام کیس میں روزانہ سماعت کرے گی اور اگلے دو سالوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔30 مئی 2017۔ بی جے پی کے سینئر رہنما ایل کے اڈوانی، اوما بھارتی اور مرلی منوہر جوشی دیگر ملزمان کے ساتھ لکھنؤ کی خصوصی سی بی آئی عدالت میں پیش ہوئے۔مئی2019۔ خصوصی جج نے سپریم کورٹ سے کیس کی سماعت نمٹانے کے لئے چھ ماہ کی مہلت طلب کی۔جولائی 2019۔
سپریم کورٹ نے بابری انہدام کیس کی سماعت کرنے والے خصوصی سی بی آئی جج کی مدت کار میں فیصلہ سنانے تک توسیع کرنے اور مقدمے کی سماعت کو مکمل کرنے کے لئے نو ماہ کی مہلت دے دی۔مئی2020۔ سپریم کورٹ نے خصوصی سی بی آئی جج سے کہا کہ وہ مقدمے کی سماعت مکمل کرے اور اگست 2020 تک اس معاملے میں فیصلہ دے۔2 جولائی2020۔ بی جے پی رہنما اوما بھارتی نے سی بی آئی کے خصوصی جج کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرایا۔13 جولائی2020۔یوپی کے سابق وزیر اعلی اور بی جے پی رہنما کلیان سنگھ سی بی آئی عدالت میں پیش ہوئے اور بیان ریکارڈ کرایا۔23 جولائی 2020۔
بی جے پی کے مارگ درشک منڈل میں شامل سینئر رہنما مرلی منوہر جوشی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اس معاملے میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔24 جولائی 2020۔اپر یل کے اڈوانی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سی بی آئی عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔اگست 2020۔ سپریم کورٹ نے خصوصی سی بی آئی عدالت سے کہا کہ وہ مقدمے کی سماعت مکمل کرے اور 30 ستمبر تک فیصلہ سنائے۔16 ستمبر2020سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بابری مسجد انہدام کے معاملے میں حتمی فیصلہ سنانے کے لئے 30 ستمبر2020 کی ڈیڈ لائن طے کی۔
30 ستمبر 2020: سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے اڈوانی، اوما بھارتی، کلیان سنگھ سمیت تمام 32 ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ بابری مسجد کی گنبد پر غیر سماجی لوگ چڑھے ہوئے تھے اور ملزمان نے اس کے لئے کوئی سازش نہیں کی تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملزمان نے تو الٹے بھیڑ کو روکنے کی کوشش کی تھی۔اچھا ہے تمام ملزمان بری کر دئے گئے، اقبال انصاری:ایودھیا کے بابری مسجد رام جنم بھومی مقدمہ کے ایک مدعی ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری نے بابری مسجد انہدام کے معاملہ کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد کہا، ’ہم قانون کی پاسداری کرنے والے مسلمان ہیں۔
اچھا ہے، اگر عدالت نے بری کر دیا تو ٹھیک ہے، یہ معاملہ جو مدت طویل سے معلق تھا، اب ختم ہوگیا۔ اچھا ہوا، ہم تو چاہتے تھے کہ اس سے پہلے ہی فیصلہ ہو جائے۔ ہم عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔“بابری مسجد انہدام کے معاملہ میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے اور اس معاملہ کے تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد انہدام کا واقعہ منصوبہ بند نہیں تھا۔ جج ایس کے یادو نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمان نے بھیڑ کو روکنے کی کئی مرتبہ کوشش کی اور یہ واقعہ اچانک پیش نہیں آیا تھا۔
ہندو مذہب کی فتح:عدالتی کارروائی کے بعد بری ہونے والے ملزمان نے احاطہ عدالت سے باہر نکل کر میڈیا کو اس فیصلے پر اپنا اپنا ردعمل دیا ہے۔بری ہونے والے ملزم ایل کے اڈوانی کے وکیل ومل سریواستو نے فیصلے کے بعد کہا کہ ’تمام ملزموں کو بری کر دیا گیا ہے، اتنے شواہد موجود نہیں تھے کہ الزمات ثابت ہو سکتے۔‘اسی مقدمے میں دوسرے ملزم جے بھگوان گویل نے ٹی وی چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے مندر توڑا تھا، ہمارے اندر سخت غصہ تھا، ہر کارسیوک کے اندر ہنومان جی سما گئے تھے۔ ہم نے مسجد توڑی تھی، اگر عدالت سے سزا ملتی تو ہم خوشی سے اس سزا کو قبول کر لیتے۔ عدالت نے سزا نہیں دی۔ یہ ہندو مذہب کی فتح ہے، ہندو قوم کی فتح ہے۔‘
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے تصادم کی معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک کو گمراہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کو پوری حقیقت بتانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈو-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مسلسل ہونے والے تصادم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد یہ ایک اور سنگین تصادم ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگست میں تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی خبریں آئی تھیں اور واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم سے چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کرنے اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے، نہ کہ سفارتی ملاقاتیں اور گلے ملنا۔
چین پر اقتصادی انحصار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ چین سے وابستہ سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی اور اہل چینی کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’، ‘امپورٹ فرام چائنا’ بن گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدی معاملات پر مشاورت و تال میل کے لیے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس کے سربراہ اجلاسوں میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے اور کیا مئی 2020 سے پہلے گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟ ہمیں مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔”
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جون-جولائی سے اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اب تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں اور چینی فوج کے درمیان تصادم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئی ٹی بی پی سمیت تمام بہادر فوجیوں کو سلام کرتی ہے، جو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ایسی حکومت ہے جو نہ تو فوجیوں کی قربانی کو سلام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی بہادری کی ستائش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں وادیٔ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ دے دی تھی، جس کے نتیجے میں لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے فوراً بعد ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ فورس اس معاملے پر جلد ہی باضابطہ بیان جاری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت سچائی کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان آج بھی اروناچل پردیش میں شیرا-5 گشت چوکی تک پہنچ پا رہا ہے اور کیا چین نے اسافلا، ماجا اور تکسنگ میں سات کلومیٹر اندر تک خیمے لگا رکھے ہیں؟
انہوں نے مشرقی لداخ میں 2020 سے پہلے کی صورتِ حال بحال ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو کب ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں کے باوجود ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ان سے کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین پر اقتصادی انحصار بڑھایا ہے اور چینی سرمایہ کاری نیز پی ایل اے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے راستے آسان کیے ہیں۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان چین کی شرائط مانتا رہا ہے اور اس کے حملوں کا سامنا بھی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے چینی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائیں، ویزوں کی تعداد بڑھائی اور پریس نوٹ-3 میں ترمیم کرکے چین پر سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی، لیکن اس کے بدلے ہندوستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوجی آج بھی ان گشت چوکیوں تک پہنچ پا رہے ہیں جہاں وہ 20 اپریل 2020 سے پہلے گشت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بین الاقوامی فورموں پر چین کے سامنے سخت موقف اختیار کرنے کے بجائے اپوزیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو چین سے کس بات کا خوف ہے؟ چینی صدر کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش جیسے حساس معاملات کیوں نہیں اٹھائے؟
مسٹر کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں 56 انچ کا ایک چینی کھلونا ہے، جس کی چابی کئی ممالک کے پاس ہے۔”
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی چین کو مسلسل رعایتیں دے رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی ہندوستان کے کچھ گشت کے مقامات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کر رہا ہے اور 60 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی سے جوڑنا، سماج کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف متحد کرنا اور خود انحصاری کے تئیں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
مسٹر مودی آج یہاں چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چنمیہ مشن سے وکست بھارت کے عزم کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی کا بنیادی نظریہ نوجوانوں کی طاقت کو فروغ دے کر ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔ چنمیہ مشن کے نوجوان کارکنوں نے تقریباً 300 دنوں میں 40 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 میں ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہوں گے اور اسی عرصے میں چنمیہ مشن بھی اپنی صد سالہ تقریبات منائے گا۔ ایسے میں وکست بھارت اور چنمیہ مشن کے سفر کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مشن کے سنت، آچاریہ، سادھک اور کارکن وکست بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی نے ہندوستانی علم، ثقافت اور ورثے کو عوام تک پہنچانے کا کام کیا۔
چنمیہ مشن کے 100 سے زیادہ تعلیمی ادارے بچوں اور نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ہندوستانی اقدار بھی سکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی جی روحانی ترقی کو انفرادی نشوونما اور انفرادی نشوونما کو ملک کی ترقی سے جوڑنے کی تعلیم دیتے تھے۔
مسٹر مودی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور نئی ٹیکنالوجی کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور اس کے تئیں فخر کے احساس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام، ایودھیا میں رام مندر اور اجین کے مہاکال مہالوک جیسے مراکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی مراکز کا احیا ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بیرونِ ملک چوری کرکے لے جائی گئی 650 سے زیادہ قدیم مورتیاں واپس لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے مقاصد الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کی ترقی اور وقار سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
