تازہ ترین
بابری مسجد انہدامی معاملہ:ایڈ وانی،جوشی،اوما بھارتی سمیت سبھی نامزد 32 ملزمان بری
سی بی آئی کی خصوصی عدالت کا 28برس بعدتاریخ ساز فیصلہ
ہندو مذہب اور قوم کی فتح:بری ملزمان
سرینگر:بابری مسجد انہدامی معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)نے28برس بعد تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے ایڈ وانی،جوشی،او ما بھارتی سمیت سبھی نامزد32ملزمان کو بری کردیا۔ادھر بری ملزمان نے عدالتی فیصلے پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو مذہب اور قوم کی فتح ہے۔
کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق بابری مسجد انہدامی کیس میں ’سی بی آئی‘ کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ایل کے اڈوانی،مرلی منوہر جوشی اوما بھارتی اور کلیان سنگھ سمیت تمام 32 ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ جج ایس کے یادو نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کے انہدام کو سازش کے تحت انجام دی گئی، واردات قرار نہیں دیا اور کہا کہ ملزمان نے بھیڑ کو روکنے کی بھی کوشش کی تھی!۔
گزشتہ 28 سالوں سے چل رہے اس معاملہ کے فیصلہ کی راہ میں تمام قانونی پیچیدگیاں حائل رہیں اور انصاف کرنے میں تاخیر ہوئی، اور آخر کار تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ اس طرح پہلے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر بنانے کی جازت دی گئی اور اس کے بعد آج کھلے عام مسجد کا انہدام کرنے والے کسی شخص کی بھی شناخت نہیں ہو پائی۔بابری مسجد انہدام:6دسمبر 1992۔ ایودھیا میں بابری مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔
اسی دن دو فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔ ایک ایف آئی آر میں 8 افراد کے نام شامل ہیں، لال کرشن اڈوانی، ایم ایم جوشی، اوما بھارتی، ونئے کٹیار، سادھوی رتمبھرا اور وشو ہندو پریشد کے رہنما اشوک سنگھل، گریراج کشور اور وشنو ہری ڈالمیا۔ ان رہنماؤں کے خلاف آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ مزید 47 ایف آئی آر درج کی گئیں، جس کے بعد ایف آئی آر کی کل تعداد49 ہو گئی۔13 اپریل 1993۔ یوپی کے للت پور کے اسپیشل مجسٹریٹ نے جہاں پہلے مقدمات شروع کیے گئے تھے، ایف آئی آر نمبر197 میں ’لاکھوں کار سیوکوں‘ کے خلاف مجرمانہ سازش (دفعہ120 بی) کا الزام بھی شامل کیا۔8ستمبر1993۔ یوپی حکومت نے لکھنؤ کی خصوصی عدالت کو بی جے پی اور وی ایچ پی رہنماؤں کے ناموں کے علاوہ ایف آئی آر نمبر198 بھی سونپ دی۔ ایف آئی آر نمبر198 کا مقدمہ رائے بریلی کی عدالت کو منتقل کر دیا گیا۔
5 اکتوبر 1993۔ سی بی آئی نے لکھنؤ کی عدالت میں 48 ملزمان کے خلاف مشترکہ چارج شیٹ داخل کی۔ اس میں شیوسینا کے سابق چیف بال ٹھاکرے اور یوپی کے سابق سی ایم کلیان سنگھ کا نام بھی شامل تھا۔8 اکتوبر1993۔ یوپی حکومت نے8 ستمبر کے نوٹیفکیشنمیں ترمیم کی، تاکہ لکھنؤ عدالت ہی میں تمام 49 مقدمات کی سماعت ہو سکے۔1996۔ سی بی آئی نے اڈوانی اور دیگر آٹھ بی جے پی اور وی ایچ پی رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر نمبر 198 میں ضمنی چارج شیٹ دائر کی۔9 ستمبر 1997۔ ایف آئی آر نمبر198 میں لکھنؤ کی خصوصی عدالت کے خصوصی جج نے تمام ملزم رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات لگانے کی ہدایت دی۔12 فروری 2001۔
الہ آباد کی عدالت نے یوپی حکومت کے اکتوبر 1993 کے اس نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر نمبر198کو لکھنؤ کی عدالت کو بغیر کسی دائرہ اختیار کے بھیج دیا گیا تھا۔4 مئی2001۔ لکھنؤ کی عدالت نے اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی، بال ٹھاکرے سمیت 21 ملزمان کے خلاف کارروائی روک دی۔ اس کے بعد اس معاملے کو رائے بریلی کی عدالت منتقل کر دیا گیا۔28 ستمبر2002۔ سی بی آئی نے8 اکتوبر1993 کے ایک نوٹیفکیشن میں عدالتی غلطیوں کی اصلاح پر زور دیا، جسے یوپی حکومت نے مسترد کر دیا۔ سی بی آئی نے یوپی حکومت کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا۔2002۔ سی بی آئی نے رائے بریلی عدالت میں اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی اور پانچ دیگر افراد کے خلاف ضمنی چارج شیٹ دائر کی۔
تاہم، اس نے مجرمانہ سازش کی دفعہ کا تذکرہ نہیں کیا۔22 مئی2010۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے لکھنؤ کی عدالت کے21 ملزمان کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں دو طرح کے ملزمان تھے- ڈائس پر موجود رہنما اور دوسرے کار سیوک۔ عدالت نے کہا کہ دونوں گروہوں کے ملزموں کے خلاف مختلف الزامات ہیں اور ان کی شمولیت مختلف طریقوں سے ہونے والے جرائم میں تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایف آئی آر نمبر198میں آٹھ ملزمان پر کبھی بھی مجرمانہ سازش کا الزام نہیں لگایا گیا تھا۔
19 اپریل 2017۔ سپریم کورٹ نے جرائم نمبر92/198کے معاملے کو رائے بریلی سے لکھنؤ منتقل کر دیا اور لکھنؤ کی عدالت نے اڈوانی، ونے کٹیار، اوما بھارتی، سادھوی رتمبھرا، مرلی منوہر جوشی اور وشنو ہری ڈالمیا کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات طے کرنے کو کہا۔ عدالت عظمیٰ نے 5 اکتوبر1993 کو سی بی آئی کی مشترکہ چارج شیٹ میں چمپت رائے، نرتیہ گوپال داس، کلیان سنگھ اور دیگر جن کے بھی نام تھے، ان کے خلاف مجرمانہ سازش رچنے کا الزام طے کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ بابری انہدام کیس میں روزانہ سماعت کرے گی اور اگلے دو سالوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔30 مئی 2017۔ بی جے پی کے سینئر رہنما ایل کے اڈوانی، اوما بھارتی اور مرلی منوہر جوشی دیگر ملزمان کے ساتھ لکھنؤ کی خصوصی سی بی آئی عدالت میں پیش ہوئے۔مئی2019۔ خصوصی جج نے سپریم کورٹ سے کیس کی سماعت نمٹانے کے لئے چھ ماہ کی مہلت طلب کی۔جولائی 2019۔
سپریم کورٹ نے بابری انہدام کیس کی سماعت کرنے والے خصوصی سی بی آئی جج کی مدت کار میں فیصلہ سنانے تک توسیع کرنے اور مقدمے کی سماعت کو مکمل کرنے کے لئے نو ماہ کی مہلت دے دی۔مئی2020۔ سپریم کورٹ نے خصوصی سی بی آئی جج سے کہا کہ وہ مقدمے کی سماعت مکمل کرے اور اگست 2020 تک اس معاملے میں فیصلہ دے۔2 جولائی2020۔ بی جے پی رہنما اوما بھارتی نے سی بی آئی کے خصوصی جج کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرایا۔13 جولائی2020۔یوپی کے سابق وزیر اعلی اور بی جے پی رہنما کلیان سنگھ سی بی آئی عدالت میں پیش ہوئے اور بیان ریکارڈ کرایا۔23 جولائی 2020۔
بی جے پی کے مارگ درشک منڈل میں شامل سینئر رہنما مرلی منوہر جوشی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اس معاملے میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔24 جولائی 2020۔اپر یل کے اڈوانی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سی بی آئی عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔اگست 2020۔ سپریم کورٹ نے خصوصی سی بی آئی عدالت سے کہا کہ وہ مقدمے کی سماعت مکمل کرے اور 30 ستمبر تک فیصلہ سنائے۔16 ستمبر2020سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بابری مسجد انہدام کے معاملے میں حتمی فیصلہ سنانے کے لئے 30 ستمبر2020 کی ڈیڈ لائن طے کی۔
30 ستمبر 2020: سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے اڈوانی، اوما بھارتی، کلیان سنگھ سمیت تمام 32 ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ بابری مسجد کی گنبد پر غیر سماجی لوگ چڑھے ہوئے تھے اور ملزمان نے اس کے لئے کوئی سازش نہیں کی تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملزمان نے تو الٹے بھیڑ کو روکنے کی کوشش کی تھی۔اچھا ہے تمام ملزمان بری کر دئے گئے، اقبال انصاری:ایودھیا کے بابری مسجد رام جنم بھومی مقدمہ کے ایک مدعی ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری نے بابری مسجد انہدام کے معاملہ کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد کہا، ’ہم قانون کی پاسداری کرنے والے مسلمان ہیں۔
اچھا ہے، اگر عدالت نے بری کر دیا تو ٹھیک ہے، یہ معاملہ جو مدت طویل سے معلق تھا، اب ختم ہوگیا۔ اچھا ہوا، ہم تو چاہتے تھے کہ اس سے پہلے ہی فیصلہ ہو جائے۔ ہم عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔“بابری مسجد انہدام کے معاملہ میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے اور اس معاملہ کے تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد انہدام کا واقعہ منصوبہ بند نہیں تھا۔ جج ایس کے یادو نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمان نے بھیڑ کو روکنے کی کئی مرتبہ کوشش کی اور یہ واقعہ اچانک پیش نہیں آیا تھا۔
ہندو مذہب کی فتح:عدالتی کارروائی کے بعد بری ہونے والے ملزمان نے احاطہ عدالت سے باہر نکل کر میڈیا کو اس فیصلے پر اپنا اپنا ردعمل دیا ہے۔بری ہونے والے ملزم ایل کے اڈوانی کے وکیل ومل سریواستو نے فیصلے کے بعد کہا کہ ’تمام ملزموں کو بری کر دیا گیا ہے، اتنے شواہد موجود نہیں تھے کہ الزمات ثابت ہو سکتے۔‘اسی مقدمے میں دوسرے ملزم جے بھگوان گویل نے ٹی وی چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے مندر توڑا تھا، ہمارے اندر سخت غصہ تھا، ہر کارسیوک کے اندر ہنومان جی سما گئے تھے۔ ہم نے مسجد توڑی تھی، اگر عدالت سے سزا ملتی تو ہم خوشی سے اس سزا کو قبول کر لیتے۔ عدالت نے سزا نہیں دی۔ یہ ہندو مذہب کی فتح ہے، ہندو قوم کی فتح ہے۔‘
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
