پاکستان
‘زی فائیو’ پر پابندی: ‘صرف وہی دیکھیں جس کی ریاست اجازت دے’
اسلام آباد —
آن لائن پلیٹ فارمز کے حوالے سے جب بھی کوئی نئی سرکاری پالیسی سامنے آتی ہے تو عمومی طور پر اس کا چرچہ بہت دیر تک سوشل میڈیا پر ہوتا ہے۔
اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب رواں ماہ نو نومبر کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک نوٹی فکیشن جاری کیا۔ جس میں کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں کسی قسم کے بھارتی مواد کی سبسکرپشن اور اس کے لیے رقم کی منتقلی پر پابندی عائد کر دی گئی۔
اسی نوٹی فکیشن میں خاص طور ایک پلیٹ فارم کا نام لے کر تذکرہ کیا گیا ہے وہ ہے ‘زی فائیو۔’
‘وڈیو آن ڈیمانڈ’ کے پلیٹ فارم ‘زی فائیو’ جو کہ بھارت کے ‘زی میڈیا گروپ’ کا حصہ ہے۔ پہلے سے ہی سوشل میڈیا میں بحث کا موضوع بنا ہوا تھا۔ اس کی وجہ اس پر پیش کیا جانے والا ایک پاکستانی سیریل ‘چڑیلز’ ہے۔ اس پر پاکستانی روایات کے برعکس بولڈ تھیمز پیش کرنے کا الزام کچھ صارفین کی جانب سے بہت سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لگایا جا رہا تھا۔ لیکن اس پر کسی قسم کی کوئی حکومتی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔
ڈرامہ چڑیلز میں لیڈ رول نبھانے والوں میں پاکستانی اداکارہ نمرہ بچہ بھی ہیں جو ڈرامے پر تنقید کے جواب میں سوشل میڈیا پر متحرک دکھای دیتی رہیں۔
‘زی فائیو’ پر سرکاری پابندی کا چڑیلز اور دیگر پیش کیے جانے والے ڈراموں پر کیا اثر پڑے گا؟ اس سوال پر نمرہ بچہ کا کہنا تھا کہ وہ دیگر اداکاروں کی طرح اس فیصلے سے بہت مایوس ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی پلیٹ فارم کو آج کے زمانے میں بند نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول لوگ انہیں دیکھنے کے لیے چور دروازے جیسے کے وی پی این، وغیرہ کا استعمال کر لیتے ہیں۔ ان کے بقول لیکن اس سے انڈسٹری کو نقصان ہوتا ہے۔
بات صرف ڈرامے کے اداکاروں تک محدود نہیں پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری سے جڑے دیگر افراد بھی اس فیصلے سے خائف نظر آرے ہیں۔
کہانی نویس ساجی گل کا کہنا ہے کہ اب کسی بھی آن لائن پلیٹ فارم کو کسی ایک ملک سے منسوب کر دینے کا وقت گزر چکا ہے۔ ان کا اپنا ڈرامہ سیریل ‘من جوگی’ ان ڈراموں میں سے ایک تھا جسے زی فائیو نے پیش کرنا تھا۔ پیش کیے جانے والے باقی ڈراموں میں باغی، میرے قاتل میرے دلدار، رنگ ریزہ، شہر ذات اور دیارِ دل شامل ہیں۔
ان کے مطابق ملک میں لکھنے والوں کے لیے ماحول غیر موافق ہوتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ ریگولیٹری باڈیز کا بڑھتا عمل دخل ہے۔ ساجی کہتے ہیں کہ آئے دن لگنے والی پابندیوں اور وضح کردہ نت نئے قوانین نے سب کو صرف ساس بہو کے جھگڑے پیش کرنے تک محدود کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کروڑوں افراد دنیا بھر مین بلا تفریق قومیت اردو زبان سمجھتے ہیں۔ اس لیے تخلیقی کام کرنے والوں پر یہ پابندیاں لگانا ان کا ٹیلنٹ ضائع کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے زی فائیو پر پیش کیے جانے والے ڈراموں کے غیر روایتی موضوعات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بھی ایسے پلیٹ فارمز ہونے چاہیے جہاں آن ڈیمانڈ معیاری مواد دستیاب ہو۔ لیکن اس کے موضوعات کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔
جہاں ڈرامے پروڈیوس کرنا اور ان میں اداکاری انڈسڑی کا ایک پہلو ہے، وہیں اس کا دوسرا پہلو سامعین یا پاکستانی شہریوں کے ڈیجیٹل رائٹس سے بھی جڑا ہوا ہے۔
نمرہ بچہ نے اس پابندی کے سامعین پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے کہا کہ ایسی پابندی صرف متفرق آرا اور حالات کی حقیقی تصویر کشی سے سامعین کو محروم کرنے کی ایک ترکیب ہے۔
ڈیجیٹل حقوق ایسی پابندیوں سے کیسے متاثر ہوتے ہیں اس بارے میں ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ‘بولو بھی’ کی بانی فریحہ عزیز نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ شہری کیا دیکھ سکتے ہیں کیا نہیں دیکھ سکتے، اس پر پابندی ‘مورال پولیسنگ’ میں آتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کیا مناسب اور نا مناسب مواد کی تعریف کے حوالے سے حکومت نے کوئی ایسے قوائد وضح کیے ہیں جو سب کے لیے قابل قبول ہوں؟
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسی پابندیوں سے سوشل میڈیا اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد میں سیلف سنسر شپ کا عنصر بڑھے گا جو ایک تشویش ناک بات ہے۔
THRILLED to share the first of my poster artworks for the groundbreaking, Pakistani series 🔥CHURAILS🔥 @wearechurails Written&Directed by @IllicitusProduc #Churails premiers 11AUG on @ZEE5Premium with @sarwatgilani @yasrarizvi @meharbano10 Nimra Bucha💥 PREPARE TO BE BLOWN AWAY! pic.twitter.com/xMyOzHx2dV
— samya (@samyarif) July 27, 2020
لیکن کیا کسی متنازع میڈیا گروپ کے ساتھ کام کرنے کے بجائے دیگر مغربی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے بہتر آپشن نہیں؟ اس سوال کے جواب میں ساجی گل کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اپنا پورٹل ہو تو اسے بھی اپنی جگہ بنانے میں کئی سال لگیں گے۔
ان کے بقول دوسری طرف “نیٹ فلکس اور ‘ایمزون’ ہمارے ساتھ کام کرنے کے لیے بہت زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔ ان کے مطابق وہاں صرف پاکستان کے ڈراموں کے نشر مکرر چلائے جاتے ہیں جب کہ بھارت ایک بڑی منڈی ہونے کی وجہ سے ان کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ پلیٹ فارم بھارت میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں لیکن پاکستانی ڈراموں کو ابھی وہاں تک رسائی ہی نہیں۔
نمرہ بچہ کا کہنا ہے کہ پاکسانی ڈراموں کو ‘زی فائیو’ کے ذریعے ایک بین االاقوامی پلیٹ فامر مل رہا تھا جس سے انڈسٹری کو محروم کر دیا گیا، وہیں ساجی گل سمجھتے ہیں کہ ڈراموں کو معیاری پروڈکشن آلات اور کیمرے با آسانی دستیاب تھے۔ جو فی الوقت پاکستان میں ملنا ناممکن ہیں۔
بین الااقوامی ڈراموں تک محدود رسائی کے بارے میں فریحہ عزیز کا کہنا ہے کہ یہ عجیب قسم کی ایک زبردستی ہے جہاں دیکھنے والے کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ صرف وہی کچھ دیکھیں جو ریاست انہیں دیکھنے کی اجازت دیتی ہے۔
انہوں نے ترکی کے ڈرامہ ‘ارطغرل’ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک کو شاید 80 کی دہائی میں لے جانا چاہتی ہے جب صرف پی ٹی وی تھا اور دیکھنے والوں کے پاس انتخاب کی گنجائش ہی نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ انڈسڑی ہو یا عام شہری انہیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ان کے کچھ حقوق ہیں جن کے لیے انہیں آواز اٹھانی چاہیے۔
ڈرامہ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے اس بات سے پریشان نظر آتے ہیں کہ سنسر شپ کا دائرہ کار غیر محسوس طریقے سے بڑھایا جا رہا ہے۔ جو معاشرے میں مثبت بحث مباحثے کے کلچر کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے۔ جب کہ ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اسے عام زندگی کی شہری میں بلا جواز دخل اندازی قرار دے رہی ہیں۔
پاکستان
پاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے
اسلام آباد، پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ۔ایران جنگ بندی کے لئے 60 روزہ مذاکرات کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
پاکستان کے حکومتی ذرائع کی اج بروز بدھ انادولو ایجنسی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کی غرض سے 60 روزہ نئے مذاکراتی دور کے آغاز کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کے تحت تجویز کردہ نئے شیڈول کا مقصد، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے معاملے پر تعطل کے شکار، براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ اطلاع کے مطابق پاکستان کی تجویز کا مقصد فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔
پاکستان کی نئی تجویز کے حوالے سے واشنگٹن، تہران یا اسلام آباد کی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد کی یہ نئی کوشش ابتدائی 60 روزہ مدت گزشتہ ہفتے ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ فریقین نے اس مدت میں توسیع کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔ یہ مدت 17 جون کو شروع ہوئی اور 16 اگست کو ختم ہوگئی تھی۔
پاکستانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اس بات پر ایک غیر اعلانیہ مفاہمت موجود ہے کہ دونوں ممالک نیا تنازعہ شروع نہیں کریں گے۔
بتایا گیا ہے کہ تازہ پیش رفت پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران کے بعد سامنے آئی ہے۔ منیر کی ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں طویل عرصے سے تعطل کے شکار امریکہ-ایران براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز پر غور کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، کم از کم 15 نومولود بچے جاں بحق
اسلام آباد، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک سرکاری اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے کم از کم 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ بدھ کی صبح پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ سینٹر کی تیسری منزل پر لگی۔
مقامی نشریاتی ادارے جیو ٹی وی نے اسپتال ذرائع کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد 15 بتائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے کچھ دیر پہلے لگی اور اب اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔ جیو ٹی وی نے بتایا کہ صرف ایک نومولود بچے کو زندہ بچایا جا سکا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری بیان میں جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے ’’گہری تعزیت‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ’’فوری تحقیقات‘‘ کی ہدایت کی۔
انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف ’’سخت ترین کارروائی‘‘ کی جائے گی۔
جیو ٹی وی نے امدادی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ خراب ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں شارٹ سرکٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات عام ہیں، جہاں حفاظتی ضوابط اور تعمیراتی قوانین پر اکثر عمل نہیں کیا جاتا یا ان کا نفاذ مؤثر نہیں ہوتا۔ جنوری میں جنوبی بندرگاہی شہر کراچی کے ایک گنجان تجارتی مرکز میں شدید آتشزدگی سے کم از کم 65 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
بدھ کا واقعہ پاکستان کی تاریخ میں اسپتالوں میں پیش آنے والے ہلاکت خیز آتشزدگی کے واقعات میں سے ایک ہے۔ حکومت سرکاری اسپتالوں کے ذریعے رعایتی طبی سہولیات فراہم کرتی ہے، تاہم سرکاری شعبہ صحت شدید مالی قلت، ناقص انتظام اور گنجائش سے زیادہ مریضوں کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
کیا پاکستان کے عاصم منیر ایرانی فوجی قیادت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں
اسلام آباد، پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کے روز تہران میں طاقت کے اہم مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر، پارلیمنٹ، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی، جو امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار ہیں۔تاہم امن مذاکرات میں تعطل کے درمیان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ثالث کے طور پر منیر کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ آیا وہ ایک بااثر فوجی رہنما کی حیثیت سے اپنے ایرانی ہم منصبوں کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
منیر کے دورہ ایران سے چند روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ڈاکٹروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ ختم کی جائے، جبکہ ایران کو برتری حاصل ہے۔ ان کا یہ پیغام واشنگٹن کے ساتھ ساتھ تہران کے اپنے سکیورٹی اداروں کے لیے بھی تھا۔انہوں نے کہا، ’’بہتر ہے کہ ہم اب جنگ ختم کر دیں کیونکہ اس وقت ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کرتی ہے۔‘‘
چند گھنٹے بعد، 21 اگست کو ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کسی بھی امریکی غلط اندازے کی صورت میں ’’انقلابی، تباہ کن، پشیمان کردینے والے اور ہلاکت خیز‘‘ ردعمل کا وعدہ کیا۔
یہ ایرانی صدر اور اب ملک کی فوجی قیادت سنبھالنے والے افراد کے درمیان موجود خلیج کی واضح مثال تھی، اور تجزیہ کاروں کے مطابق منیر کو اسی صورتحال سے بھی نمٹنا ہوگا۔
اسی لیے پیر کے روز منیر کی سب سے اہم ملاقات جنرل محسن رضائی سے قرار دی جا رہی ہے، جو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری ہیں۔ رضائی بنیادی طور پر فوج اور خامنہ ای کے درمیان رابطے کا پل ہیں۔
منیر کا تہران کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے اور دنیا بھر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکی آمیز ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ پابندیوں کے اعلان کی توقع کی جا رہی تھی، جن کے تحت تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو بھی سزا دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔
بعد میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے نام سے وسیع پابندیوں کی مہم کا اعلان کیا، جس میں ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، سونے، ہوا بازی، ٹیکنالوجی اور جہاز رانی کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔تاہم دیگر ممالک کو ایران سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کی وارننگ دینے کے باوجود بیسنٹ نے ان ممالک کے خلاف فوری طور پر کسی سزا کا اعلان نہیں کیا اور اعتراف کیا کہ ایسا قدم ’’عالمی مالیاتی نظام کو تباہ کر سکتا ہے۔‘‘
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملوں کا امکان برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا، ’’اگر ہمیں فوجی حملوں کی ضرورت پڑی تو ہم کریں گے۔ اگر ایران اتنا بے وقوف ہوا کہ اپنی حد سے تجاوز کیا یا امریکی فوج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو ہم وہ کریں گے جو ضروری ہوگا۔‘‘
یہ واضح نہیں کہ منیر کا دورہ ایران کے خلاف وسیع تر امریکی کارروائی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا یا نہیں۔تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق دورے کا وقت اہم تھا۔ منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے چند روز بعد تہران کا سفر کیا۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسلام آباد سے کہا تھا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔
پاکستان کی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایک روزہ دورے کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ’’جامع مذاکرات‘‘ ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایرانی حکام نے ’’پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں‘‘ کو سراہا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی، جو منیر کے ہمراہ تہران گئے تھے، نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے مذاکرات کو ’’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’اہم پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔
یہ رواں سال منیر کا تہران کا چوتھا دورہ تھا، تاہم اس ماہ کے اوائل میں ایران کی فوجی قیادت میں تبدیلیوں کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔
10 اگست کو سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عبداللہی کو چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کیا جبکہ رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں منتقل کیا گیا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر احمد وحیدی مارچ سے اپنے عہدے پر موجود ہیں، جب ان کے پیشرو جنگ کے ابتدائی حملوں میں مارے گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہی فوجی رہنما ایران کی جنگ سے متعلق حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں، جس سے کسی فوجی ہم منصب کے لیے روایتی سفارت کاروں کے مقابلے میں تہران کو مذاکرات پر آمادہ کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
پاکستانی بحریہ کے سابق وائس ایڈمرل اور دفاعی تجزیہ کار احمد سعید نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا، ’’اس بحران کے دوران جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں آئی آر جی سی اور وسیع تر سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔‘‘
وزیر داخلہ محسن نقوی اپریل سے اب تک آٹھ مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں، لیکن ان دوروں سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔تاہم منیر سیاست دان نہیں بلکہ ایک جنرل ہیں اور بظاہر انہیں ایرانی قیادت اور اہم طور پر امریکی صدر ٹرمپ، دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔ ٹرمپ پاکستانی آرمی چیف کو اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ قرار دے چکے ہیں۔
احمد سعید نے کہا، ’’چند روز قبل منیر کو کی جانے والی فون کال خود ٹرمپ نے شروع کی تھی اور پاکستانی قیادت سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔‘‘
ایرانی حکام نے منیر کو جو کچھ بتایا، ایرانی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق، وہ ان بیانات سے زیادہ مختلف نہیں تھا جو وہ گزشتہ پورے ہفتے سے اپنے ملک کے میڈیا کو دے رہے تھے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنرل محسن رضائی نے منیر سے کہا، ’’ہم امریکہ پر اعتماد نہیں کرتے اور اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے اس سے بھی زیادہ واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے کام کر رہے ہیں اور امریکہ کو مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔‘‘
دوسری جانب پزشکیان نے منیر سے کہا کہ وہ واشنگٹن کو ’’اپنا لہجہ اور طریقہ کار درست کرنے‘‘ کا پیغام دیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ ’’طاقت اور دھونس پر انحصار کرنا عمل کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔‘‘
عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی بھی منگل کو تہران پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ خصوصی طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کے ایک الگ دور میں شرکت کریں گے۔ یہ سفارتی کوشش کئی ماہ سے پاکستان کی ثالثی کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔
عمان کا کردار نیا نہیں ہے۔ البوسعیدی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے قوانین کے حوالے سے ایران کے ساتھ مسلسل مذاکرات کرتے رہے ہیں۔
لاہور میں مقیم دفاعی تجزیہ کار اعجاز حیدر کے مطابق عمان اور پاکستان کے سفارتی راستے ایک دوسرے کے لیے معاون ہیں۔انہوں نے الجزیرہ سے کہا کہ ’’عمان اور اسلام آباد کے راستے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق 5 میں آبنائے کے حوالے سے عمان اور ایران کے درمیان دوطرفہ مفاہمت پر زور دیا گیا ہے۔‘‘
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں سے گزرتی ہے۔
حیدر نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے کے مشترکہ انتظام سے متعلق معاہدہ امریکہ کے مفاد میں نہیں، اسی لیے ٹرمپ نے عمان پر بمباری کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب سابق پاکستانی بحری عہدیدار احمد سعید کے مطابق ثالث کے طور پر اسلام آباد کا فائدہ یہ ہے کہ اسے ’’وحیدی، عبداللہی اور رضائی تک براہ راست رسائی حاصل ہے، جو ایران کے فیصلہ سازی کے اصل معمار ہیں۔‘‘
مذاکرات کے قریب ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ البوسعیدی تہران میں ’’بنیادی طور پر یہ سننے کے لیے ہوں گے کہ ایران نے کیا فیصلہ کیا ہے اور اپنے پاکستانی ثالث کے ساتھ کیا بات چیت کی ہے۔‘‘
کنگز کالج لندن میں دفاعی مطالعات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریاس کریگ کے مطابق ایرانی فوجی اور سویلین قیادت کے درمیان سامنے آنے والے اختلافات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کی موجودہ صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق پزشکیان اور قالیباف ’’بنیادی طور پر یہ خبردار کر رہے ہیں کہ ایران اس صورتحال میں غیر معینہ مدت تک نہیں رہ سکتا‘‘، جبکہ ’’آئی آر جی سی کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کے برعکس وقت واشنگٹن کے خلاف جا رہا ہے۔‘‘
تاہم انہوں نے کہا کہ ’’محسن رضائی، احمد وحیدی اور آئی آر جی سی اس بات کے تعین میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی بھی سیاسی مفاہمت پر عمل درآمد ہو سکتا ہے یا نہیں۔‘‘
ان کے مطابق، ’’ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کسی معاہدے پر مذاکرات کر سکتے ہیں اور قطر ثالثی کر سکتا ہے، لیکن اگر سکیورٹی ادارہ اس کے عملی نتائج کو قبول نہیں کرتا تو ان سب کی کوئی اہمیت نہیں۔‘‘
فی الحال منیر کو ان ثالثوں میں سب سے زیادہ موزوں امیدوار سمجھا جا رہا ہے جو ایرانی جرنیلوں کو جنگی کمرے سے مذاکرات کی میز تک لانے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
