تازہ ترین
بھاری برفباری کا چوتھا دن،سلسلہ تھم گیا،معمو لات ِ زندگی کا پہیہ جام
وادی کا بیرونی دنیا سے مسلسل زمینی وفضائی رابطے منقطع
شاہراہوں،سڑکوں او ر گلی کوچوں سے برف ہٹانے کے انتظامی دعوے اور وعدے سراب ثابت،لوگوں کو شدید مشکلات
سرینگر:وادی کشمیر میں بدھ کو بعد دوپہر اگرچہ برفباری کا سلسلہ تھم گیا۔تاہم گزشتہ چار روز کے دوران ہوئی بھاری برفباری کے نتیجے میں پوری وادی میں معمولات زندگی کا پہیہ مکمل طور پر جام ہوگیا ہے۔بدھ کو مسلسل چوتھے روز وادی کشمیر کا بیرونی دنیا سے زمینی اور فضائی رابطے منقطع رہے جبکہ شاہراہوں،سڑکوں اور گلی کوچوں سے برف ہٹانے کے انتظامی دعوے اور وعدے سراب ثابت ہوئے۔
رابطہ سڑک مسلسل بند رہنے سے جہاں عا م لوگوں کو شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے،وہیں مریضوں کو اسپتال پہنچنے میں کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں گذشتہ چار روز سے بھاری برفباری ہوئی ہے جس کی وجہ سے یہاں کے معمولات زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔
موسم کی خرابی کے باعث آج مسلسل چوتھے روز ہوائی سروس معطل رہی جبکہ سرینگر۔جموں شاہراہ بھی بند پڑی ہے۔سرینگر بین الاقوامی ہوائی اڈہ پر لگاتار چوتھے دن بھی پروازیں نہ اتریں اور نہ ہی اُڑانیں بھریں۔
ڈائریکٹر سرینگر ایئرپورٹ کاکہنا ہے کہ’ہم موسم میں بہتری کے منتظر ہیں، ایک بار اس میں بہتری آنے کے بعد پروازیں آپریشنل ہوجائیں گی‘۔ادھرتمام اہم رابطہ سڑکیں ٹریفک کے لئے بند ہیں۔ سرینگر جموں شاہراہ، مغل روڈ، اننت ناگ۔ کشتواڑ روڈ، کپواڑہ۔ کرناہ روڈ، کپواڑہ۔
کیران روڈ، کپواڑہ۔ ماچل روڈ، بانڈی پورہ۔گریزروڈ سمیت سبھی رابطہ سڑکیں ہنوزبند ہیں۔ ایک اہلکار نے بتایا، ’جواہرٹنل کے آر پار بھاری برفباری، برفانی تودے گرنے، مٹی کے تودے گرنے اور سمرویلی، مگرکوٹ، پنتھیال، مروگ، کیفیٹیریا مور، ڈھلوس، ناشری اور دیگر مقامات پر لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے جموں سرینگر شاہراہ بند ہے۔‘
اس دوران وادی کے شہر ودیہات میں بیشتر شاہراہیں اور رابطہ سڑکیں بھاری برف سے ڈھک گئی ہیں جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہے اور زندگی کی رفتار تھم گئی ہے۔ لگاتار ہو رہی برف باری کے نتیجے میں سڑکیں بند ہوگئیں۔
اس طرح شہر و دیہات کی سینکڑوں بستیوں میں لاکھوں لوگ گھروں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔شہر سرینگر میں صبح کے وقت انتظامیہ نے اگرچہ کچھ ایک اہم رابطہ سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام مکمل کیا، تاہم لگاتار برف باری کی وجہ سے یہ سڑکیں پھر برف سے ڈھک گئیں جبکہ شہر کے متعدد علاقوں اور کالونیوں کی اندرونی سڑکوں پر برف جمع ہے اور لوگوں کو عبور ومرور میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
منگلوار اور بدھ کی درمیانی رات کا برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا جبکہ بدھ کی دوپہر تک دارالحکومت سرینگر سمیت شمال وجنوب میں یہ سلسلہ وقفے وقفے دوپہر تک جاری رہا۔شہر سرینگر کے شہریوں نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ کی جانب سے برف ہٹانے کے دوعے اور وعدے سراب ثابت ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہری گھروں میں محصور ہیں،کیوں کہ شہر کے مرکزی رابطہ سڑکوں کیساتھ ساتھ اندورنی رابطہ سڑکوں اور گلی کوچوں سے برف نہیں ہٹائی گئی۔شہر سرینگر میں ایک دہائی کے بعد ریکارڈ برفباری ہوئی۔محکمہ موسمیات کے ایک افسر کے مطابق سرینگر میں قریب قریب 2فٹ برفباری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ صبح ساڑھے8بجے تک سرینگر میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران34.7سینٹی میٹر برفباری ہوئی جبکہ گیٹ وے آف کشمیر قاضی گنڈ میں اس عرصے کے دوران33.7سینٹی میٹر برفباری ہوئی۔ان کا کہناتھا کہ وادی کشمیر کے مشہور معروف سیاحتی مقامات پہلگام اور کوکرناگ میں بالترتیب29.0اور17سینٹی میٹر برفباری ہوئی۔وادی کشمیر کے مشہور عالم سکی ریزاٹ گلمرگ میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران28سینٹی میٹر برفباری ہوئی۔سرحدی ضلع کپوارہ میں اس عرصے کے دوران22سینٹی میٹر برفباری ہوئی
ان کا کہناتھا کہ وسطی کشمیر کے گاندر بل اور بڈگام اضلاع میں سرینگر کے برابر برفباری ہوئی۔وادی کشمیر میں برفباری کے سبب برقی رو کی سپلائی بری طرح سے متاثر ہوئی۔لیفٹیننٹ گور نر کے مشیر بصیر احمد خان نے گزشتہ شب ایک ویڈ یو کانفرنسنگ کے دوران بتایا کہ33اور11کے وی کی ترسیلی لائنیں جو223فیڈرس کو پاؤ سپلائی کرتی ہیں،کی بحالی کرنا باقی ہے۔
کئی علاقوں میں کئی بجلی ٹرانسفار مر خراب ہونے کی اطلاعات ہیں۔ شاہراہ بند رہنے سے کشمیر وادی میں تازہ سبزیوں،دودھ اور دیگر اشیاء ضروریہ کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ ذخیرہ اندوزی بھی عروج پر ہے،اس کے علاوہ منافع خوری کا جن بھی بے قابو ہوگیا ہے۔
اس دوران ملی تفصیلات کے مطابق گارندربل ضلع کی بھر کی اندرونی سڑکیں گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند ہیں اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔ پرائمری ہیلتھ سینٹر کڑھن جو کہ بطور ڈسٹرکٹ ہسپتال کام کررہاہے میں اگرچہ ایمبولنس دستیاب ہیں، مگر رابطہ سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام شروع نہیں کیا گیا۔ضلع گاندربل کی تمام مرکزی، اندرونی اور ذیلی سڑکیں مکمل طور پر بند پڑی ہوئی ہیں۔
بڈگام ضلع میں بھی متعدد سڑکیں سڑک سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ضلع انتظامیہ نے اگرچہ صبح کے وقت کچھ ایک سڑکوں کو گاڑیوں کی آمد ورفت کے قابل بنایا تھا، تاہم بیشتر سڑکیں ابھی بھی برف سے ڈھکی ہیں۔اننت ناگ سے ملی تفصیلات کے مطابق انتظامیہ نے اگر چہ ضلع کی اہم سڑکوں پر برف ہٹانے کا کام دن بھر جاری رکھا تاہم مسلسل برف باری کے سبب سڑکیں ناقابل آمدورفت بن گئی ہیں۔ضلع کے تحصیل صدر مقامات شاہ آباد بالا، ڈورو، کوکرناگ، اچھ بل لارنو شانگس اور پہلگام میں اندرونی سڑکوں پر انتظامیہ برف ہٹانے میں ناکام ہوئی ہے۔
منزموہ قاضی گنڈ کے مکینوں نے بتایا کہ وہ لوگ گذشتہ 4 دن سے گاؤں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔یہاں سے ایک مریض کو چارپائی پر بٹھا کر اسپتال پہنچایا گیا۔ شوپیان ضلع میں برف باری کے بعد اگرچہ اہم رابطہ سڑکوں سے برف ہٹائی گئی تاہم جاری برفباری کی وجہ سے سڑکیں گاڑیوں کے چلنے کے قابل نہ بن سکیں جبکہ ضلع سے منسلک دیہات کو جانے والی سڑکیں بھی گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند ہیں۔
پلوامہ ضلعے میں بھی بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکوں کو گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بحال نہیں کیا جا سکا۔ترال کے متعدد علاقوں میں شام دیر گئے تک بھی سڑکوں سے برف نہیں ہٹائی جا سکی تھی۔اس بیچ ایک اطلاع کے مطابق حاجن بانڈی پورہ میں ایک حاملہ خاتو ن کو 5کلومیٹر مسافت پید ل طے کرنی پڑی۔معلوم ہوا ہے کہ خاتون ہاکبارہ سے صفاپورہ تک پیدل گئیں،کیوں رابطہ سڑکیں بند تھیں۔دو گھنٹے کے بعد وہ ہیلتھ سینٹر سمبل پہنچ گئی۔
ادھر سرینگر میں رات کا درجہ حرارت منفی0.9ڈگری،پہلگام میں منفی1.2ڈگری،گلمرگ میں 3.5ڈگری سیلشیس،قاضی گنڈ میں 0.2ڈگری سیلشیس اور کپوار ہ وکوکرناگ میں بالتریب منفی0.7اورمنفی1.0ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا۔وادی کشمیر ان دنوں 40روزہ چلہ کلان کی گرفت میں ہے۔یہ ایام شدید سردیوں کے ہوتے ہیں اور اس عرصے کے دوران برفباری ہونا فطری عمل ہے۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے24گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر موسم خشک رہے گا تاہم چند ایک مقامات پر ہلکی بوندا باندی اور برفباری ہونے کا بھی امکان ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
