تازہ ترین
ہندوستان کے سامنے بے بس ہوا انگلینڈ، دوسری اننگ میں محض 53 رن پر 3 کھلاڑی آؤٹ
اشون کی سنچری کی بدولت ہندوستان نے دوسری اننگ میں 286 رن بنائے اور انگلینڈ کے سامنے جیت کے لئے 482 رن کا ہدف رکھا۔ انگلینڈ تیسرے دن کا کھیل ختم ہونے تک 3 وکٹ پر 53 رن بنا کر مشکل میں ہے۔
اسٹار آف اسپنر روی چندرن اشون نے پہلی اننگز میں پانچ وکٹ حاصل کرنے کے بعد ہندوستان کی دوسری اننگز میں شاندار سنچری (106) مکمل کی جس کی بدولت ٹیم انڈیا نے اپنی دوسری اننگز میں 286 رن بنائے اور انگلینڈ کے سامنے دوسرے کرکٹ ٹسٹ میں جیت کے لئے 482 رن کا چیلنجنگ ہدف رکھا۔ اس کے جواب میں اتری انگلینڈ کی ٹیم مشکل میں نظر آ رہی ہے کیونکہ چنئی میں تیسرے دن کا کھیل ختم ہونے پر اس کے 3 وکٹ محض 53 رن پر گر گئے ہیں۔ دونوں سلامی بلے باز روڑی برنس (25 رن) اور ڈوم سبلی (3 رن) بنا کر پویلین لوٹ گئے ہیں، اور نائٹ واچ مین کی شکل میں بھیجے گئے جیک لیچ بھی بغیر کوئی رن بنائے واپس چلے گئے ہیں۔ چوتھے دن کا کھیل جب منگل کے روز شروع ہوگا تو ایک طرف ڈان لارینس (19 رن) بلے بازی کرتے ہوئے نظر آئیں گے، اور دوسری طرف کپتان جو روٹ (2 رن) کھیلتے نظر آئیں گے۔ آج انگلینڈ کے جو تین وکٹ گرے ہیں ان میں سے دو وکٹ اکشر پٹیل نے اور ایک وکٹ روی چندرن اشون نے لیے ہیں۔
India have bowled well to leave England stuttering on 53/3 at the end of day three.
They need seven wickets, while England need 429 more to win!#INDvENG ➡️ https://t.co/DSmqrU68EB pic.twitter.com/s7km9iiGUm
— ICC (@ICC) February 15, 2021
آج ہندوستان نے پہلی اننگز میں 329 رن بنائے جبکہ انگلینڈ کی ٹیم 134 رن پر آوٹ ہوگئی تھی۔ ہندوستان کو پہلی اننگز میں 195 رن کی بڑی سبقت ملی تھی۔ ہندوستان نے اپنی دوسری اننگز میں پیر کے روز تیسرے دن ایک وکٹ پر 54 رن سے آگے کھیلنا شروع کیا اور اس کی اننگز 286 رن پر جاکر ختم ہوئی۔اشون نے شاندار بلے بازی کی اور 233 منٹ کریز پر رہ کر 148 گیندوں کا سامنا کیا اور اپنی سنچری میں 14 چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ اشون نے کیریر کی پانچویں سنچری مکمل کی۔ ان کی انگلینڈ کے خلاف یہ پہلی سنچری ہے۔ ان کی باقی چار سنچری ویسٹ انڈیز کے خلاف بنی ہے۔
ہندوستان نے صبح اپنی اننگز ایک وکٹ پر 54 رن سے آگے بڑھائی۔ روہت شرما نے 25 اور چتیشور پجارا نے سات رن سے آگے کھیلنا شروع کیا۔ ہندوستان کو صبح دوسرا جھٹکا جلد ہی لگ گیا جب پجارا اپنے کل کے اسکور پر رن آوٹ ہوگئے۔ پجارا گیند کو کھیلنے کریز سے باہر نکل آئے تھے اور گیند شارٹ لیگ پر پہنچی جہاں فیلڈر نے فوراً گیند وکٹ کیپر کو دی جنہوں نے پجارا کو رن آوٹ کر دیا۔ ہندوستان کا دوسر اوکٹ 55 کے اسکور پر گرا۔
ہندوستان کو اسی اسکور پر سب سے بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے روہت شرما لیفٹ آرم اسپنر جیک لیچ کی گیند پر اسٹمپ آوٹ ہوئے۔ پہلی اننگز میں 161 رن بنانے والے روہت نے 70 گیندوں میں دو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 26 رن بنائے۔ وکٹ کیپر رشھ پنت کو تیزی سے رن بنانے کے لئے اجنکیا رہانے سے پہلے بھیجا گیا لیکن پنت 11 گیندوں میں آٹھ رن بنانے کے بعد لیفٹ آرم اسپنر جیک لیچ کی گیند پر اسٹمپ آوٹ ہوگئے۔ ہندوستان کا چوتھا وکٹ 65 کے اسکور پر گرا۔ ہندوستان نے 10 رن کے وقفے میں تین وکٹ گنوائے۔
پہلی اننگز میں نصف سنچری بنانے والے نائب کپتان رہانے بھی زیادہ وقت تک کریز پر ٹھہر نہیں سکے اور آف اسپنر معین علی کا شکار بن گئے۔ رہانے نے 14 گیندوں میں 10 رن بنائے اور اولی پوپ کو کیچ دے بیٹھے۔ پہلا ٹسٹ میچ کھیل رہے اسپن آل راونڈر اکشر پٹیل کو معین نے ایل بی ڈبلیو آوٹ کیا۔ پٹیل نے 18 گیندوں پر سات رن بنائے۔ ہندوستان کے چھ وکٹ 106 رن پر گرے اور ہندوستان کی دوسری اننگز مشکل میں نظر آرہی تھی۔
اس کے بعد کپتان وراٹ کوہلی کو اشون کی شکل میں بہترین ساتھی ملا اور دونوں نے ساتویں وکٹ کے لئے 96 رن کی اہم شراکت کرتے ہوئے ہندوستان کو 200 کے پار پہنچایا۔ پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں نصف سنچری بنانے والے کپتان وراٹ نے دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں نصف سنچری مکمل کی۔ کپتان نے 149 گیندوں پر سات چوکوں کی مدد سے 62 رنز بنائے۔ وراٹ پہلی اننگز میں بغیر کھاتہ کھولے معین کی گیند پر بولڈ ہوگئے تھے جبکہ دوسری اننگز میں معین نے ہی انہیں ایل بی ڈبلیو کیا۔ وراٹ کے کیریئر کی یہ 25 ویں نصف سنچری تھی۔ ہندوستان کا ساتواں وکٹ 202 رن پر گرا۔ کلدیپ یادو صرف تین رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ کلدیپ کو بھی معین نے ایل بی ڈبلیو کیا۔
ایشانت شرما نے 24 گیندوں پر سات رن بنائے اور وہ نویں بلے باز کے طور پر 237 کے اسکور پر آوٹ ہوئے ۔ اشون نے پھر آخری بلے باز محمد سراج کے ساتھ آخری وکٹ کے لئے 49 رن کی اہم شراکت قائم کی اور اس دوران انہوں نے اپنی پانچویں سنچری بھی مکمل کی۔ اشون کی اننگز کا اختتام تیزگیند باز اولی اسٹون نے کیا۔ سراج 21 گیندوں میں 2 چھکوں کی مدد سے 16 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ انگلینڈ کے لئے لیچ نے 33 اوورز میں 100 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں اور معین نے 32 اوورز میں 98 رن پر چار کھلاڑیوں کو آوٹ کیا ۔ اسٹون کو 21 رنز پر ایک وکٹ ملا۔(قومی آواز)
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا5 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
