اہم خبریں
اسرائیل فلسطین تنازع: حالیہ کشیدگی کے دوران کون سا ملک کس کے ساتھ کھڑا ہے؟
عمیر سلیمی
غزہ پر اسرائیلی بمباری کے خلاف بہت سے ممالک نے اپنی آواز بلند کی ہے اور فی الفور جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاہم ایسے بھی کئی ممالک ہیں جو اسرائیل فلسطین تنازع میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو کا ساتھ دے رہے ہیں۔
نیتن یاہو نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے 25 ممالک کا شکریہ ادا کیا جن میں امریکہ، البانیہ، آسٹریلیا، آسٹریا، برازیل، کینیڈا، کولمبیا، قبرص، جارجیا، جرمنی، ہنگری، اٹلی، سلووینیا اور یوکرین جیسے نمایاں نام شامل ہیں۔
ان ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات ہیں اور وہ حماس کو عسکریت پسند تنظیم قرار دیتے ہوئے اسرائیلی حملوں کو اپنے دفاع کا حق قرار دیتے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان سمیت مسلم اکثریتی ممالک کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتی ہے اور فلسطینیوں کی جدوجہد کو جائز قرار دیتی ہے۔
اسرائیل کی حمایت میں امریکہ سب سے آگے نظر آتا ہے۔ حالیہ عرصے میں صدر بائیڈن اور ان کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بارہا اسرائیلی کارروائیوں کی حمایت کی ہے اور اسے اپنے دفاع کا حق کہا ہے۔
بلنکن نے اسرائیلی حملوں میں فلسطینیوں کی ہلاکت پر تشویش ظاہر کی مگر کہا کہ ’ایک دہشتگرد گروہ (حماس) عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ (جبکہ) اسرائیل۔۔۔ دہشتگردوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔‘
اتوار کو سلامتی کونسل کے 15 رکنی اجلاس میں تقریباً تمام ممالک نے دونوں فریقوں سے مطالبہ کیا کہ تناؤ ختم کریں تاہم بعض ترقی یافتہ ممالک کے نمائندوں نے اسرائیل کی جانب سے اپنے اور اپنے شہریوں کے دفاع کے حق کی حمایت کی مگر ساتھ یہ بھی تسلیم کیا کہ اسرائیل اس تنازع میں طاقتور پوزیشن پر ہے اور اس کے مطابق اسے خود سے اقدامات کرنے چاہیے۔
امریکی نمائندہ نے اس موقع پر کہا کہ امریکہ صرف اس صورت میں اپنی معاونت فراہم کرے گا اگر دونوں فریقین سیز فائر کی طرف بڑھتے ہیں۔
اس کے جواب میں چین کے وزیر خارجہ نے امریکہ سے منصفانہ موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ امریکہ کو ’بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر سلامتی کونسل کی حمایت سے کشیدگی میں کمی کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔‘
فلسطینی وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’جب بھی اسرائیل کو پتا چلتا ہے کہ کوئی غیر ملکی رہنما اس کی حمایت کر رہا ہے تو وہ مزید خاندانوں کو ان کی نیند میں قتل کر دیتا ہے۔‘ جبکہ اسرائیلی نمائندے نے کہا کہ ‘اسرائیل اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے میزائل استعمال کرتا ہے جبکہ حماس میزائل کی حفاظت کے لیے اپنے بچوں کو استعمال کرتا ہے۔‘
اتوار کے اجلاس کے باوجود سلامتی کونسل کے اراکین کی جانب سے کوئی مشترکہ بیان سامنے نہیں آسکا
اتوار کے اجلاس کے باوجود سلامتی کونسل کے اراکین کی جانب سے کوئی مشترکہ بیان سامنے نہیں آ سکا۔ خیال ہے کہ یہ تاخیر امریکہ کی وجہ سے ہوئی ہے جو اسرائیل کا قریبی اتحادی ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ ایسا کوئی ردعمل سفارتی طریقۂ کار کے لیے غیر موثر ہو گا۔
جرمنی اور فرانس ان یورپی ممالک میں شامل ہیں جنھوں نے حالیہ کشیدگی کے دوران فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوششیں کی ہیں۔
جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے کہا ہے کہ ان کا ملک اظہار رائے کی آزادی کا دفاع کرتا ہے لیکن اپنی جمہوریت کو یہودیوں کی مخالفت کرنے والے مظاہروں سے متاثر ہونے نہیں دے گا۔
جبکہ فرانس نے گذشتہ ہفتے پیرس میں فلسطین کے حق میں مظاہروں پر پابندی عائد کی تھی۔ ان کے مطابق 2014 میں اسی طرز کے مظاہروں کے دوران جھڑپوں سے مشکلات پیش آئی تھیں۔
خیال رہے کہ جمعہ کو فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کے دوران اسرائیلی دفاع کی حمایت کی تھی۔
وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ ‘ہر شخص کو پُرامن طریقے سے اجتماع کا حق ہے۔’
گذشتہ منگل آسٹریلیا میں ایک ایسی خاتون کو گرفتار کیا گیا جس نے مبینہ طور پر اسرائیلی پرچم کو نذر آتش کیا تھا۔ اس کے بعد آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک دو ریاستی حل پر یقین رکھتا ہے لیکن مشرق وسطیٰ کے تنازع کو آسٹریلیا میں درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انھوں نے آسٹریلوی شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی سے دور رہیں تاکہ ملک میں امن قائم رکھا جا سکے۔
اتوار کو کینیڈا میں اسرائیل اور فلسطین کی حمایت کرنے والے دو الگ احتجاجی مظاہروں کے درمیان جھڑپوں کے بعد پولیس نے آنسو گیس استعمال کر کے مظاہرین کو منتشر کیا۔
اس پر کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ ’ہر شخص کو پُرامن طریقے سے اجتماع کا حق ہے۔‘
’لیکن ہم یہودیوں کی مخالفت، اسلامو فوبیا یا کسی بھی قسم کے نفرت انگیز رویے کو برداشت نہیں کرسکتے اور نہ ہی کریں گے۔ اس ہفتے کے آخر میں کچھ مظاہروں کے دوران ہم نے نفرت انگیز بیانات اور تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔’
اسی دوران کینیڈا کے بعض سیاسی حلقوں نے جسٹن ٹروڈو سے مطالبہ کیا ہے کہ کینیڈا کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکی جائے۔
لندن میں اتوار ہی کے روز اسرائیل مخالف مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور برطانوی حکومت سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔
برطانوی وزیر خارجہ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ برطانیہ یروشلم پر راکٹ حملوں کی مذمت کرتا ہے۔ ‘یروشلم اور غزہ میں جاری پُرتشدد واقعات کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ تمام فریق کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں اور شہری آبادی کو ہدف بنانا روک دیں۔‘
روسی وزیر خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں آباد کاری کی سرگرمیاں روکی جائیں۔
روس کے وزیر خارجہ نے بدھ کو اپنے بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ فلسطینی علاقوں میں آباد کاری کی سرگرمیاں روکی جائیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعے کو متنبہ کیا تھا کہ حالیہ تناؤ روسی سکیورٹی کے لیے براہ راست ایک خطرہ ہے۔
’ہم معصوم شہریوں کے قتل کی حمایت نہیں کرتے‘
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ٹویٹ میں بوسنیا و ہرزیگووینا کا پرچم بھی شامل تھا اور اسرائیل نے ’اپنے دفاع کا حق‘ کی حمایت پر اس ملک کا شکریہ ادا کیا تھا۔ تاہم بوسنیا و ہرزیگووینا کے حکومتی عہدیداروں نے دوٹوک الفاظ میں اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معصوم شہریوں کے قتل کی حمایت نہیں کرتے۔
بوسنیا و ہرزیگووینا کی وزیر خارجہ بسریرا ترکوک نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک صرف ’اسرائیل-فلسطین تنازع کے حل کے لیے قیام امن کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ امن و استحکام تشدد کے ذریعے ممکن نہیں۔‘
’ہم معصوم لوگوں کی ہلاکت کا باعث بننے والے حملوں کو فی الفور روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’ہم دونوں ممالک کے ساتھ مل کر کسی حل کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ صرف مذاکرات ہی پائیدار امن قائم کرسکتے ہیں۔ ہم ان اقدامات کی بھی حمایت کرتے ہیں جو تشدد کی لہر کو روکنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔‘
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بوسنیا و ہرزیگووینا میں مسلمان شہریوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جو فلسطینی شہریوں سے ہمدردی رکھتی ہے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم نے جن ممالک کا شکریہ ادا کیا ان میں انڈیا کا پرچم شامل نہیں تھا حالانکہ انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور دائیں بازو کے نظریات کے حامل افراد مسلسل اسرائیل کی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس کے اقدامات کا دفاع کرتے نظر آ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ انڈیا کی جانب سے سرکاری سطح پر اسرائیل کی حمایت میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ انڈیا نے اتوار کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ورچوئل اجلاس میں حالیہ کشیدگی ختم کرنے پر زور دیا ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں انڈیا کے ایلچی ٹی ایس ترومورتی نے کہا ہے کہ یروشلم اور غزہ میں جاری تشدد سے متعلق انڈیا کو تشویش لاحق ہے۔
انڈین سفیر نے کہا کہ ’انڈیا ہر طرح کے تشدد کی مذمت کرتا ہے اور فوری طور پر تناؤ ختم کرنے کی اپیل کرتا ہے۔‘
ترومورتی نے کہا: ’انڈیا فلسطینیوں کے جائز مطالبے کی حمایت کرتا ہے اور دو ریاستی نظریے کے تحت (اس تنازعے کے) حل کے لیے پرعزم ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’انڈیا غزہ کی پٹی سے راکٹ حملوں کی مذمت کرتا ہے، اسی طرح اسرائیلی انتقامی کارروائیوں میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکت انتہائی افسوسناک ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ان حملوں میں ایک انڈین شہری کی موت ہوئی ہے جو اشکلون میں نرس تھیں، ہمیں ان کی موت کا شدید رنج ہے۔‘
(بی بی سی اردو ڈاٹ کام)
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
