تازہ ترین
امشی پورہ فرضی تصادم: فوجی کیپٹن کو عمر قید کی سزا سنانے پر لواحقین نے ایل جی منوج سنہا کا شکریہ ادا کیا
جموں،8مارچ(یو این آئی)جموں وکشمیر کے پہاڑی ضلع شوپیاں کے امشی پورہ میں سال 2020میں فرضی تصادم میں مجرم قرار دئے گئے فوجی کیپٹن کو عمر قید کی سزا سنانے پر لواحقین نے ایل جی منوج سنہا کا شکریہ ادا کیا ہے۔
لواحقین نے بتایا کہ فوج کے ساتھ کام کرنے والے دو مقامی نوجوانوں کے خلاف عدالت میں کیس چل رہا ہے اور اُنہیں بھی سخت سزا ملنی چاہئے ۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سرکار نے نوکری دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا۔
اطلاعات کے مطابق دو روز قبل فوجی عدالت نے جولائی 2020میں جنوبی ضلع شوپیاں کے امشی پورہ میں فرضی انکاونٹر کے دوران تین معصوم شہریوں کی ہلاکت کے سلسلے میں کیپٹن بھوپندر سنگھ کو عمر قید کی سزا سنانے کے بعد لواحقین نے اس فیصلے کو کافی سراہا ۔
نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران اہل خانہ نے بتایا کہ تین مزدوروں کے قتل میں ملوث دو دیگر لوگ جن کے خلاف عدالت میں کیس چل رہا ہے اُنہیں بھی سخت سزا ملنی چاہئے اور ہمیں اس کا انتظار رہے گا۔انہوں نے بتایا کہ ہم لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا اس بات پر شکریہ ادا کرتے ہیں کہ مزدوروں کے قتل میں ملو ث فوجی کیپٹن کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ آج ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے کیونکہ تین سال اور سات مہینے تک ہم اس کا انتظار کر رہے تھے ۔
اُن کے مطابق بے گناہ مزدوروں کو کمرے سے نکال کر قتل کر دیا گیا جن لوگوں نے اس کام کو انجام دیا وہ عمر بھی روئیں گے۔انہوں نے کہاکہ ان تین برسو ں کے دوران ہم نے بہت سارے مصیبتوں کو دیکھا ہے۔
اہل خانہ نے کہاکہ ایل جی منوج سنہا نے گھر کے ایک فرد کو سرکاری نوکری دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک اس پر عملدآمد نہیں ہوا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں پورا یقین ہے کہ ایل جی منوج سنہا اس حوالے سے بھی بہت جلد فیصلہ لیں گے۔
بتادیں کہ گزشتہ روز فوجی عدالت نے جولائی 2020میں جنوبی کشمیر کے امشی پورہ شوپیاں میں فرضی تصادم میں تین عام شہریوں کے قتل میں ملوث آرمی کیپٹن کو عمر قید کی سفارش کی ۔
فوجی عدالت نے بتایا کہ کیپٹن بھوپندر سنگھ کو کورٹ مارشل کی سزاد ی گئی تھی اور یہ کہ کورٹ آف انکوائری اور شواہد کے خلاصے سے معلوم ہوا ہے کہ فوجیوں نے آرمڈ سپیشل پاور ایکٹ (افسپا ) کا غلط استعمال کیا تھا۔حکام نے بتایا کہ عمر قید کی سزا اعلیٰ فوجی حکام کی تصدیق سے مشروط ہے۔
یاد رہے کہ جموں خط کے راجوری ضلع سے تعلق رکھنے والے تین افراد امتیاز احمد ، ابرار احمد اور محمد ابرار کو 18جولائی 2020کو شوپیاں ضلع کے ایک دور افتادہ پہاڑی گاوں میں فرضی انکاونٹر کے دوران ہلاک کیا گیا ۔
تصادم کے بعد فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ تین دہشت گردوں کو مار گرایا گیا ہے تاہم سوشل میڈیا پر ان ہلاکتوں پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا گیا جس کے بعد فوج نے فوری طورپر کورٹ آف انکوائری کے احکامات جاری کئے ۔ تین عام شہری کی ہلاکت کے بعد جموں وکشمیر کے ایل جی منوج سنہا نے راجوری میں مہلوکین کے اہل خانہ کے ساتھ ملاقات کی اور اُن تک وزیر اعظم نریندر مودی کا پیغام پہنچایا تھا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور حکومت کی طرف سے ہر طرح کی مدد فراہم کی جائے گی۔
ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے تینوں نوجوانوں کی شناخت کے بعد اکتوبر 2020میں مہلوکین کی قبر کشائی کے بعد لاشیں وارثین کے حوالے کی گئیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ پولیس نے اپنی چارج شیٹ میں دو دیگر لوگوں کو بھی نامزد کیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ثبوت ضائع کر دئے۔
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
