تجزیہ
خلق کثیر کو فیضیاب کرنے والی شخصیت مولانا محمد سلیمان شمسی رحمۃ اللہ علیہ !
مفتی محمد اسلم جامعی*
بعض شخصیات اپنی آفاقیت اور ہمہ گیری کی بناء پر، نا قابلِ فراموش ہوا کرتی ہیں ان کی یادوں کے نقوش، ہمیشہ تازہ اور انمنٹ ہوا کرتے ہیں شب و روز کے رواں دواں قافلوں کی گَرد سے اس کی تابندگی ماند نہیں ہوتی ، اور نہ ہی گردشِ دوراں اس کی چمک پر اثر انداز ہوتی ہے، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی قدر و قیمت میں، اضافہ ہوتا جاتا ہے ، ان کے تذکرے قلوب کو متأثر کرتے ہیں، روح میں تازگی پیدا کرتے ہیں، اور عمل کا جذبہ بیدار کرتے ہیں، ان کا علمی کارنامہ ہمیشہ گرمئ محفل کا سبب بنا کرتا ہے، نہ تو ان کا۔بار بار ذکر تکرارِ ثقل پیدا کرتا ہے اور نہ ہی سماعت پر گراں گزرتا ہے ، بلکہ ایمان کو قوت اور مشامِ جان کو معطر کرتا ہے ایسی ہی مبارک اور بابرکت ہستیوں میں سے ایک ہستی حضرت مولانا محمد سلیمان شمسی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ہے، جنہوں نے اپنے علم کی تابانی سے ایک خلقِ کثیر کو فیضیاب کیا،
*جائے پیدائش و تاريخ پیدائش*
اہل علم کے درمیان، شمالی ہند کا مشہور و معروف ضلع اعظم گڑھ کسی لحاظ سے محتاجِ متعارف نہیں ہے، اس ضلع کی سرزمین نے علم وفن کے ایسے ایسے لعل و گہر پیدا کئے ہیں، جن کی تابندگی و تابناکی سے ایک دنیا کو روشنی ملی، عرصہ قدیم سے یہ ضلع اپنی مردم خیزی اور علم نوازی کے لئے معروف ہے ، ذہانت و ذکاوت یہاں کا ایک فطری جوہر ہے۔ یہاں جس طرح علوم وفنون کی مختلف شاخوں اور متنوع شعبوں میں با کمال افراد پیدا ہوئے ، اور دنیا والوں سے خراج تحسین وصول کیا، ایسے ہی درس تدریس، تعلیم و تعلّم، دعوت وتبلغ تصوف وسلوک کی مسندِ ہدایت پر ایک سے بڑھ کر ایک ہستیاں جلوہ گر ہوئیں، اور خدا سے بھٹکی ہوئی انسانیت کو خداکے حضور تک پہنچانے میں سرگرم و ساعی رہیں ایسے بزرگوں کی ایک طویل فہرست ہے تاریخ اور تذکروں کی کتابوں میں ان شخصیات و افراد کے کچھ ہلکے اور کچھ گہرے نقوش دیکھے جا سکتے ہیں، اب یہ ضلع دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے ۔ ایک حصہ اپنے سابق نام پر قائم ہے، دوسراحصہ ضلع مئو کے نام سے موسوم ہوا ہے
اسی مئو کے ایک قصبہ خیر آباد میں شوال ١٣٣٦ھ جولائی 1918 ء کو مسندِ حدیث پر جلوہ افروز ہوکر علمی ضیاء پاشیوں سے تاریکیوں کو منور کرنے والے حضرت مولانا محمد سلیمان شمسی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش ہوئی،
*نام و خاندان*
حضرت مولانا محمد سلیمان صاحب شمسی رحمۃ اللہ علیہ کا نام محمد سلیمان بن احمد علی بن عنایت اللہ ہے، حضرت کا گھرانہ دینی و دنیوی وجاہتوں سے معمور تھا، آپ کے دادا عنایت اللہ کے سگے برادر حافظ نعمت اللہ صاحب خیرآباد کے شہیر لوگوں میں سے تھے، اور آپ کے والد بھی علمی وصف سے متصف ہونے کے ساتھ فارسی پر مہارت تامہ رکھتے تھے، اسی طرح آپ کے دادا کے سات بھائی تھے، گویا ایک ہرا بھرا خاندان تھا،
*ابتدائی تعلیم و تربیت*
حضرت کی ابتدائی تربیت اور اخلاقی نشوونما آپ کے والدِ بزرگوار کی خاص دلچسپی کی مرہونِ منّت ہے کہ وہ اکثر اپنے ساتھ ہی شب بیداری کا عادی بناتے، اور ابتدائی تعلیم، اور نوشت و خواندگی اپنے علاقہ کے معروف مدرسہ، منبع العلوم میں (جس کو ، نام و نمود، ریا و شہرت سے پرے، خلوص و للاہیت سے لبریز چند خاصانِ خدا نے حضرت مولانا کرامت علی جونپوری رح کی تحریک و ترغیب پر قائم کیا تھا،) حضرت مولانا نزیر احمد صاحب خیرآبادی (والد مفتی حبیب الرحمن خیرآبادی) اور مولانا شاہ محمد صاحب سریّانوی سے حاصل کی، ( جو مولانا فاروق صاحب چڑیا کوٹی، مولانا عبدالعلیم صاحب رسلپوری، مولانا عبدالرحمن صاحب مبارک پوری، اور میاں نزیر حسین صاحب سے شرفِ تلمیذ رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود پختہ قسم کے حنفی تھے،) ابتدائی اردو اور فارسی کی تعلیم کے بعد عربی تعلیم کے حصول کے لیے پورہ معروف میں تشریف لے گئے،( جو صاحبِ نسبت بزرگ شیخ محمد معروف کے نام سے موسوم ہے) اور پورہ معروف کے سب سے قدیم ، مدرسہ معروفیہ (جو ١٣٣٠ھ1912ء میں قائم ہوا) میں میزان الصرف سے لیکر شرح جامی تک تعلیم مولانا عبدالحئ صاحب مئوی (جو مولانا حبیب الرحمن صاحب مئوی اور مولانا عبداللطيف صاحب کے ہم درس اور مدرسہ معروفیہ کے صدر المدرسين تھے) اور مولانا شبلی شیدا صاحب سے حاصل کی،
*اعلیٰ تعلیم و فراغت*
پھر ١٣٥٥ھ میں اپنے والد کی ایماء پر ازہرِ ہند اخلاص کا تاج محل، دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، جہاں بآسانی مطلوبہ درجہ میں داخلہ ہوگیا، مگر آب و ہوا راس نہ آئی، پورے سال امراض و عوارض کا سلسلہ جاری رہا، سال پورا کرکے گھر تشریف لائے اور چند دن گھر پر ٹھہرنے کے بعد جب صحت بحال ہوگئی، تو مدرسہ مفتاح العلوم مئو جانے کا فیصلہ کیا، جو ہندوستان کی ایک اہم بڑی، مرکزی اور دینی درسگاہ ہے،جہاں پر ہر سال ملک کے گوشے گوشے سے طالبانِ علوم نبوت اپنی علمی تشنگی بجھانے کے لئے آتے ہیں، اور یہاں محدث کبیر، محققِ جلیل حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی، (شاگرد رشید علامہ انور شاہ کشمیری رح) حضرت مولانا عبداللطيف صاحب نعمانی،( سابق مہتمم مدرسہ مفتاح العلوم) اور حضرت مولانا ایوب صاحب اعظمی (سابق شیخ الحدیث جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل) جیسے نابغۂ روزگار، اساطینِ علم و فن مسند تدریس پر رونق افروز تھے، چنانچہ حضرت نے محنت لگن، علمی انہماک اور درسی و خارجی کتب کا عمیق مطالعہ کے ساتھ ان حضرات کے سامنے زانؤئے ادب تہہ کیا، اور ١٣٥٨ھ دسمبر 1939 ء میں یہاں سے دورہ حدیث کی تکمیل کی اور سندِ فراغت سے بہرہ ور ہوئے،
*دیگر فنون میں مہارت*
زمانہ طالب علمی سے ہی حضرت کے اندر تقریر و خطابت کا پُر جوش ولولہ پنہاں تھا، پورہ معروف سے گھر تشریف لاتے تو خیرآباد کی جامع مسجد میں جمعہ میں تقریر کرتے، اسی ذوق و شوق اور مناسبت نے فراغت کے بعد امام اہل سنت حضرت مولانا عبدالشكور صاحب لکھنؤی کے قائم کردہ ادارہ دارالمبلغین لکھنؤ تک پہنچایا، جہاں امام اہل سنت کی نگرانی میں طلباء کو تحریر و تقریر اور مناظرہ کی مشق کرائی جاتی تھی، خصوصاً ردِ رافضیت پر خاص تیاری کرائی جاتی تھی آپ وہاں تین سال رہ کر تقریر و خطابت، فنِ مناظرہ اور مختلف علمی میدان میں کامیاب ہوگئے، آپ انتہائ ذہین و طباع تھے، فارسی زبان کا عمدہ ذوق رکھتے تھے مولانا شبلی صاحب شیدا کی صحبت نے دو آتشہ کا کام کیا، خود راقم السطور نے اپنے بعض بزرگوں سے سنا کہ ردِ شیعیت میں کوئی آپ کا مثل نہ تھا، ایک کرم فرما نے بتایا کہ ایک مرتبہ محرم الحرام کے ایام میں ردِ شیعیت پر بعض حضرات نے ایک جلسہ کا اہتمام کیا، شہر کے بعض علماء کے ساتھ حضرت مولانا شمسی صاحب رح بھی رونقِ اسٹیج تھے ایک خطیب صاحب نے بڑا مشہور شعر جو ہر خاص وعام زبان زد ہیں کہ “قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد” حضرت شمسی صاحب رح نے برملا فرمایا تھا کہ یہ کسی ملحد کا شعر ہے اس کا کہنا بھی جائز نہیں، اور پھر شعر کی مکمّل تشریح کی، اسی طرح مدحِ صحابہ میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کی
*شعر و ادب کا لگاؤ*
آپ کو فنِ شاعری میں بھی اچھا عبور حاصل تھا، زمانہ طالب علمی سے ہی بہترین نظمیں اور غزلیں کہتے تھے،
ان کی شاعری کے بارے میں مولانا فضلِ حق صاحب عارف خیر آبادی جو خود بھی ایک ادیب و شاعر ہیں، لکھتے ہیں : شمسی تخلص فرماتے تھے، شیداخیر آبادی سے شرفِ تلمذ نے آپ کو دبستانِ داغ کا بلبل ہزارِ داستان بنا دیا تھا شمسی خیر آبادی نے تمام اصنافِ سخن پر طبع آزمائی فرمائی ، نعتوں اور غزلوں کا معتد بہ حصہ اب بھی موجود ہے ، شمسی صاحب نے نعتیں لکھیں اور خوب لکھی ہیں ، بقول مولانا سید سلیمان ندوی ” نعت کی راہ شاعری کی مشکل ترین راہوں میں سے ہے ، اور تمام اصناف شاعری میں مشکل ہے ۔“ شمسی صاحب اس مشکل ترین وادی پُرخار کی جادہ پیمائی میں اپنے دامن کو غلوئے عقیدت اور شرک کی نحوست سے صاف بچالے گئے ہیں ۔… اسی طرح شمسی صاحب کی غزلوں میں حسن کی جلوہ گری کے ساتھ ساتھ عشق کی خودداری اور حوصلہ مندی بھی موجود ہے، وہ عشق کی عظمت و برتری کو اس انداز میں پیش فرماتے ہیں کہ حسن کی ساری جلوہ طرازیاں عشق کی رہینِ منت معلوم ہوتی ہیں ۔ (ماہنامہ الاسلام ربیع الاول1321ھ )
آپ کا مجموعہ کلام ” جامِ سخن یعنی منظوم کلامِ شمسی کے نام سے جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا سے آپ کے انتقال سے ایک ماہ قبل نومبر1999ء میں شائع ہوا تھا ، اسمیں دوسرے حضرات کی تقریظات تو ہیں لیکن خود مولانا نے اپنے کلام پر کچھ نہیں لکھا ہے،
راقم السطور کو اس بات کا قلق ہے کہ مضمون کے سلسلے میں حضرت مولانا شاہد جمال صاحب سے رابطہ نہ ہوسکا، جب رابطہ ہوا تو موصوف نے بتایا کہ حضرت شمسی صاحب رح کی سوانح حیات، حیاتِ شمسی کے نام سے مطبوعہ ہے مگر وہ کتاب پی ڈی ایف فائل میں نہیں ہے،
اور راقم السطور کا مضمون تحریر کرنے کا مقصد نئے فضلاء کو حضرت شمسی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات سے متعارف کروانا تھا، اکثر نئے طلباء حضرت شمسی صاحب کا نام سنتے ہیں مگر کون ہے، یا کیا خدمات ہیں اس سے ناآشنا ہیں اسی جذبہ صادق کے تئیں یہ کاوش کی گئی خدا تعالیٰ خلوص نیت کے ساتھ ثبات قدمی عطا فرمائے آمین-
مفتی محمد اسلم جامعی استاذ دارالعلوم محمدیہ مالیگاؤں ضلع ناسک مہاراشٹر
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
