ہندوستان
بے بنیاد باتوں سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط نظام کی ضرورت ہے: راجیو کمار
نئی دہلی، الیکشن کمیشن نے پیر کو ملک میں انتخابی عمل کی غیرجانبداری ، شفافیت اور انصاف پسندی کو یقینی بنانے کے لیے کمیشن کی طرف سے کیے گئے انتظامات پر دوبارہ روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے بارے میں بے بنیاد افواہیں پھیلانے کا بازار گرم ہے۔ یہ ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے اور اس کے خلاف احتیاط بڑھانے کی ضرورت ہے۔
کمیشن نے کہا کہ انتخابات کے دوران بے ہنگم باتیں پھیلانے کا ایک نمونہ نظر آنے لگا ہے، جو مہلک ہے اور یہ کمیشن کے لیے سبق ہے۔
الیکشن کمیشن نے لوک سبھا انتخابات 2024 کو دنیا کی جمہوری تاریخ میں ہندوستان کے لیے ایک ریکارڈ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس انتخابات میں 64.2 کروڑ ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا جو کہ ایک ریکارڈ ہے اور خواتین ووٹروں نے جوش و خروش سے انتخابات میں حصہ لیا۔
چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ’’اس بار حملے ایک طرز پر کیے گئے اور ہر حملہ جھوٹ اور فرضی بیانیہ ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس الیکشن سے کچھ اہم سبق ملے ہیں، ایک یہ کہ ہمیں گرمی کے شدید موسم کے پیش نظر یہ الیکشن ایک ماہ پہلے مکمل کر لینا چاہیے تھا۔ دوسرا سبق بے قابو پبلسٹی (کمیشن کے انتظامات کے بارے میں) سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔
مسٹر کمار نے کہا ”انتخابات کے حوالے سے جھوٹی افواہوں سے نمٹنے کے لیے بہت جلد ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
مسٹر راجیو کمار نے کہا کہ ہم نے ملک کی سرحدوں کے باہر سے بے لگام الزامات کے حملے کا اندازہ لگایا تھا اور اس سے نمٹنے کے لیے پختہ انتظامات بھی کیے تھے لیکن ہم نے اندازہ نہیں لگایا تھا کہ ہمارے اپنے ملک کے اندر ایسے بڑے حملے ہوں گے۔ انتخابات کے آغاز میں ووٹر لسٹوں میں ہیرا پھیری کے الزامات سے لے کر پوسٹل بیلٹ کی گنتی کو ترجیح دینے کے الزامات پر انہوں نے کہا کہ ان سب میں ایک نمونہ تھا اور یہ سب چیزیں ثابت ہوئیں۔
اس پریس کانفرنس میں مسٹر کمار کے ساتھ ں الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو بھی موجود تھے۔
اردو میں ایک شعر سناتے ہوئے مسٹر کمار نے کہا ’’آپ الزامات لگاتے ہیں، ہم اس کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے پیچھے ثبوت ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کمیشن کا نام ‘مسنگ جنٹلمین’ تھا لیکن ہم یہاں تھے، کہیں غائب نہیں ہوئے۔
چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ ووٹوں کی گنتی میں کسی قسم کی دھاندلی کا کوئی امکان نہیں ہے، کیونکہ اس کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پہلے سے ہی انتظامات موجود ہیں۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ گنتی کے مراکز میں پریشانی پیدا کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
مسٹر کمار نے کہا کہ ووٹوں کی گنتی ختم ہونے کے بعد بھی انتخابی عمل کی جانچ پڑتال کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات کے انعقاد میں مکمل منصفانہ اور شفافیت کے ساتھ کام کیا گیا ہے اور مختلف وفود سے ملنے والی تجاویز کو کمیشن نے حل کیا ہے۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) پر نوٹا بٹن کی فراہمی کے باوجود سورت میں ایک امیدوار کو بلامقابلہ امیدوار قرار دیئے جانے کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کمیشن صرف یہ دیکھتا ہے کہ انتخابی کاغذات نامزدگی داخل کرنے اور ان کی واپسی میں کوئی زور زبردستی نہ ہو یا کوئی دوسرا رسوخ کا استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ جب کاغذات نامزدگی واپس لینے کے بعد صرف ایک امیدوار رہ جاتا ہے تو ایسے کسی علاقے میں ووٹنگ کے لیے قوانین بنانا قابل عمل نظر نہیں آتا۔
پولنگ کے بعد تشدد کو روکنے کے بارے میں ایک سوال پر مسٹر کمار نے کہا کہ اس بار ماڈل الیکشن کوڈ کی مدت پوری ہونے کے بعد بھی ہم نے آندھرا پردیش، مغربی بنگال، اتر پردیش اور تریپورہ سمیت کئی ریاستوں میں سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول ووٹرز، پول ورکرز اور میڈیا کے لوگوں کا تاریخی انتخابات کے بخوبی انعقاد پر الیکشن کمیشن کی جانب سے عوام کا شکریہ ادا کیا۔
ووٹوں کی گنتی میں پوسٹل بیلٹ کی جانچ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ سارا عمل گھڑی کے کام کی طرح ٹھیک کام کرتا ہے۔ پہلے پوسٹل بیلٹ گنتی کے لیے لیے جاتے ہیں، اس کے بعد ای وی ایم کی گنتی شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد (اسمبلی حلقہ وار) پانچ وی وی پی اے ٹی کی گنتی کی جاتی ہے اور یہ سارا عمل غیر متنازعہ ہوتا ہے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
