کھیل
عظیم کرکٹر کپِل دیو نے ٹرینٹی گولف چمپئن لیگ کے دوسرے ایڈیشن کا اعلان کیا
دہلی، گولف ایک ایسا کھیل ہے جس میں اعلیٰ درجہ کی مہارت اور توجہ کی ضرورت پڑتی ہے لیکن کھیل کو اکثر انفرادی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے ٹی جی سی ایل کے دوسرے ایڈیشن میں ہم پیشہ ور، شوقیہ اور مشہور گولفروں کو جمع کر رہے ہیں جوبطور ٹیم مقابلہ کریں گے اس طرح سے جو دوستی اورحکمت عملی پر مبنی تعاون کا مشاہدہ کیا جائے گا، وہ گولف شائقین کے لیے بے مثال ہوگا ہم آٹھٹیموں کو پیش کرنے پر انتہائی مسرور ہےں، جن میں سے ایک ٹیم غیرملکیہے۔ ایک دلکش ٹیم فارمیٹ اور ہندوستان و بیرون ملک کے باصلاحیت گولفروں کی شرکت کے ساتھ ٹی جی سی ایل کا دوسرا ایڈیشن گولف شائقین اور کھیلوں سے رغبت رکھنے والوںکے لیے انتہائی دلچسپ ہوگا۔ان خیالات کا اظہار عظیم کرکٹر کپِل دیو ٹرینٹی گولف چمپئن لیگ (ٹی جی سی ایل)کے دوسرے ایڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے کہا کہ یہ وہ ٹورنامنٹ ہے ،جو ہندوستانی گولف کو ایک ٹیم اسپورٹس کے طور پرمتشکل کر رہا ہے۔ بنگلور میںماہ ستمبر کے دوران منعقد ہونے والا یہ دلچسپ مقابلہ کھلاڑیوں کی صلاحیت اور حکمت عملی پر مبنی ٹیم ورک کا بے مثال اور حسین امتزاج ہوگا۔اس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی ٹیموں میں سے ایک ویو سٹی کی ویو رائیڈرز ہے۔ کمپنی کی فلیگ شپ ٹیم 2024 میں باوقارٹرینٹی گولف چمپئن شپ لیگ میں شرکت کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ گولف کا آغاز کرے گی۔اس مقابلہ میں جیتنے والی ٹیم کو خطیر رقم بطورانعام ملے گی، اس لیے اس ٹورنامنٹ کی کشش مزید بڑھ گئی ہے۔
اس اقدام پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ویو گروپ کے منیجنگ ڈائرکٹر مسٹر راجیو گپتا نے کہاکہ ہمٹی جی سی ایل 2024 کا حصہ بن کر بے حد خوش ہیں۔ ٹی جی سی ایل کے ذریعے ہمارا داخلہ پیشہ ورانہ کھیلوںہورہاہے اور یہ اقدام صحت، تندرستی اور فعال طرز زندگی کو فروغ دینے کے لیے ویوسٹی کے غیر متزلزل عزم کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ اختراعی ٹیم فارمیٹ ایک فروغ پزیر گولفنگ کمیونٹی کو فروغ دینے کے ہمارے وژن کے عین مطابق ہے۔ ویو رائیڈرز ایک ایسا جذبہ ہے جو گولف سے محبت کرنے والوں کے متنوع گروپ کو متحد کرتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ کھلاڑی بڑے پیمانے پر لوگوں کو گولف سے لطف اندوز ہونے کی ترغیب دیں گے۔
ٹی جی سی ایل کا پہلا ٹورنامنٹ ستمبر 2023 میں منعقد ہوا جو بہت کامیاب رہا۔ اس سال مقابلے میں کم از کم چار ٹورنامنٹ راو¿نڈ ہوں گے جو آئی پی ایل اسلوب پر کھیلے جائیں گے۔ اس میں ہندوستان کے سات شہر اور سری لنکا کی ایک ٹیم حصہ لے رہی ہے۔ یہ تمام ٹیمیں بنگلور میں ہونے والے مقابلے میں فاتح بننے کے لیے مقابلہ کریں گی۔
یہ رائڈر کپ فارمیٹ تعاون اور ٹیم کے جذبے کی دلچسپ سطح کا اضافہ کرتا ہے جو ہر میچ کو انتہائی دلچسپ مقابلے میں تبدیل کردے گا۔ اس سے مقابلے میں جوش و خروش مزید بڑھے گا کیونکہ پروفیشنل گولفروں کے ساتھ مشہور گولفراور غیر پختہ گولفربھی کھیل رہے ہوں گے۔
َخیال رہے کہ ٹرنیٹی گولف چمپئن لیگ(ٹی جی سی ایل)لیجنڈری کپِل دیو کی ذہنی اختراع ہے۔یہ اختراعی ٹورنامنٹ آئی پی ایل طرز کی ٹیم فارمیٹ کو نمایاں کرکے اس سانچے کو توڑتا ہے، جہاں پیشہ ور، شوقیہ اور یہاں تک کہ مشہور شخصیات بھی ایک ساتھ مقابلہ کرتے ہیں۔ ، یہ ٹورنامنٹ رائڈر کپ فارمیٹ کی پیروی کرتا ہے، جس میں ٹیمیں ہندوستان کے 7 شہروں اور سری لنکا سے ایک کی نمائندگی کرتی ہیں۔ انفرادی ٹیلنٹ اور اسٹریٹجک تعاون کا یہ انوکھا امتزاج کھلاڑیوں اور تماشائیوں دونوں کے لیے ایکپرکشش منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ویو سٹی کی فلیگ شپ ٹیم ویو رائڈرز ٹرنٹی گالف چیمپئنز لیگ (TGCL) 2024 کے لیے تیار ہوتے ہوئے گولف کی دنیا میں لہر پیدا کر رہی ہے۔ویو رائیڈرز کا یہ اقدام ایک متحرک گولفنگ کمیونٹی کو فروغ دینے کے لیے ان کی لگن کا عکاس ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔م الف
کھیل
میسی کی شکست کے باوجود اسکالونی کو ٹیم پر فخر
نیویارک، ارجنٹینا کے مینیجر لیونل اسکالونی نے اعتراف کیا کہ اسپین ورلڈ کپ جیتنے کا حقدار تھا، لیکن ہار کے باوجود انہیں اپنی ٹیم پر فخر ہے۔
دفاعی چیمپئن نے اپنے پچھلے چاروں ناک آؤٹ میچوں میں سے ہر ایک کو جیتنے کے لیے آخری لمحات میں گول کیے تھے، لیکن نیو جرسی اسٹیڈیم میں ایک اور ڈرامائی کھیل سے بچنے میں ناکام رہے۔
میچ کے بعد اسکالونی نے کہا، “مجھے دکھ ہو رہا ہے۔ کوئی اس بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے، لیکن یہ اس کے لائق نہیں ہے۔ میں بس ان کھلاڑیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ایک بار پھر ہمیں فائنل میں لے گئے۔ وہ (اسپین) بہتر تھے، یہ سچ ہے، لیکن میرے کھلاڑیوں نے جو کچھ حاصل کیا، اس کی زبردست یادیں میرے پاس رہیں گی۔ ہم جیت میں عظیم ہیں اور ہار میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ آج رات، ہم دکھاتے ہیں کہ ہم ہارنا جانتے ہیں۔
ہم ہار گئے اور ہم نے اسے قبول کر لیا۔”
یواین آئی۔الف الف
کھیل
طویل علالت کے بعد شہپور زادران انتقال کر گئے
نئی دہلی، افغانستان کے سابق فاسٹ گیندباز شہپور زادران 39ویں سالگرہ سے ایک روز قبل طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے دہلی کے ایک اسپتال میں نایاب بیماری ہیموفیگوسائٹک لمفوہسٹیوسائٹوسس (ایچ ایل ایچ) کے باعث زیر علاج تھے۔
ان کے انتقال کی تصدیق ان کے چھوٹے بھائی غمئی زادران نے کی، جو جنوری میں علاج کے لیے دہلی منتقل کیے جانے کے بعد سے مسلسل ان کے ساتھ تھے۔ شہپور زادران ایچ ایل ایچ کی شدید نوعیت میں مبتلا تھے، جو ایک نایاب بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
2000 اور 2010 کی دہائی میں افغانستان کرکٹ کے عروج کے دوران شہپور زادران نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ چھ فٹ دو انچ قد کے شہپور زادران اپنے طویل رن اپ اور لہراتے بالوں کے ساتھ گیندبازی کے لیے مشہور تھے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ملک میں کرکٹ کی بنیاد مضبوط کرنے میں ان کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے 2009 سے 2020 کے درمیان 44 ایک روزہ اور 36 ٹی20 بین الاقوامی میچ کھیلے اور مجموعی طور پر 80 بین الاقوامی وکٹیں حاصل کیں۔
2015 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 وکٹیں حاصل کیں اور افغانستان کے سب سے کامیاب گیندباز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2010 سے 2016 کے درمیان چار ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے، جن میں نو میچوں میں نو وکٹیں حاصل کیں۔
شہپور زادران کی علالت کے دوران راشد خان، سابق کپتان اصغر افغان اور دیگر کئی نمایاں کرکٹرز مسلسل ان کے رابطے میں رہے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ شہپور زادران نے اپنے پورے کریئر میں عزت، حوصلے اور فخر کے ساتھ افغانستان کرکٹ کی خدمت کی اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ بورڈ نے کہا کہ وہ نوجوان افغان کرکٹرز اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک تحریک تھے، جبکہ ان کی جرات، عزم اور کھیل سے محبت نے نئی نسل کو بڑے خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا۔
بیان میں شہپور زادران کے اہل خانہ، دوستوں، سابق ساتھیوں اور افغانستان کرکٹ برادری سے بھی گہرے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
شہپور زادران افغانستان کے صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے، تاہم جنگ کے باعث ان کا خاندان پشاور منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے نیاز اسٹیڈیم اور جمخانہ میں کرکٹ سیکھی۔ ابتدا میں وہ پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے اور شعیب اختر ان کے آئیڈیل تھے، لیکن بعد میں سابق کرکٹر اقبال سکندر کی ترغیب پر افغانستان واپس آ گئے۔
انہوں نے اگست 2009 میں نیدرلینڈز کے خلاف ایک روزہ میچ سے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا اور 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے ون ڈے کریئر کی بہترین بولنگ رہی۔ فروری 2010 میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی20 بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا، جبکہ اس فارمیٹ میں ان کی بہترین بولنگ 2018 میں دہرادون میں بنگلہ دیش کے خلاف 40 رنز دے کر 3 وکٹیں تھی۔
یو این آئی۔ م س
کھیل
میسی ورلڈ کپ کی تاریخ کے ٹاپ اسکورر بنے
ڈلاس، کلب اور قومی ٹیم کے لیے 750 سے زائد سینئر گول کر چکے ارجنٹینا کے لیونل میسی فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔
میسی فیفا ورلڈ کپ میں 28 میچوں میں 17 گول کے ساتھ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ انہوں نے جرمنی کے میروسلاو کلوز (24 میچوں میں 16 گول) کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ارجنٹینا کے لئے آسٹریا کے خلاف پہلا ہاف تاریخی ثابت ہوا۔ ابتدا میں گھبراہٹ کے باعث لیونل میسی نے ایک پنالٹی مس کی اور ایک اور موقع گنوا دیا، لیکن ارجنٹینا کے کپتان نے شاندار واپسی کرتے ہوئے میروسلاو کلوزکا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گولوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ میسی کے اس یادگار گول کی بدولت موجودہ چیمپئن ارجنٹینا کو ہاف ٹائم تک 1-0 کی برتری دلائی۔
میسی نے الجیریا کے خلاف ارجنٹینا کی گزشتہ ہفتے 3-0 سے جیت میں ہیٹ ٹرک بھی اسکور کی تھی۔
میسی فٹ بال ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کے لیے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی ہیں۔ ان میں سے سات گول قطر میں ہوئے 2022 فیفا ورلڈ کپ میں کئے تھے، جسے ارجنٹینا نے جیتا تھا۔
انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر میں 201 میچوں میں 121 گول کیے ہیں، جس سے وہ ارجنٹینا کے لئے اب تک کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ بین الاقوامی فٹبال میں سب سے زیادہ گول کرنے والوں کی فہرست میں بھی میسی دوسرے نمبر پر ہیں، ان سے آگے صرف ان کے حریف کرسٹیانو رونالڈو ہیں۔
میسی سے پہلے، گیبریل بٹسٹوٹا (12 میچوں میں 10 گول) فیفا ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی تھے۔ ڈیاگو میراڈونا (21 میچز) اور یوراگوئے 1930 کے گولڈن بوٹ کے فاتح گیلرمو سٹیبیل (چار میچز) نے آٹھ آٹھ گول کئے ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ کوالیفائر میں بھی لیونل میسی کا گول کرنے کا ریکارڈ شاندار رہا ہے، انہوں نے 72 میچوں میں 36 گول کئے ہیں۔
لیونل میسی کا پہلا فیفا ورلڈ کپ گول
لیونل میسی نے 2006 میں جرمنی میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے دوران ہیمبرگ کے ورلڈ کپ اسٹیڈیم میں سربیا اور مونٹی نیگرو کے خلاف ارجنٹینا کے گروپ سی کے دوسرے میچ میں اپنا پہلا ورلڈ کپ گول کیا تھا۔ اپنی ٹیم کو گروپ کے پہلے میچ میں آئیوری کوسٹ کے خلاف 2-1 سے جیتتے ہوئے بنچ سے دیکھنے کے بعد، لیونل میسی نے اگلے میچ میں سربیا اور مونٹی نیگرو کے خلاف 75ویں منٹ میں متبادل کے طور پر میدان پر اتر کر اپنا ورلڈ کپ ڈیبیو کیا۔ اس وقت ارجنٹینا پہلے سے ہی 3-0 سے آگے تھا اور اپنے ڈیبیو کے صرف تین منٹ بعد ہی، لیونل میسی نے ہرنان کریسپو کی مدد سے ارجنٹینا کے لئے میچ کا چوتھا گول کیا۔ 88ویں منٹ میں کارلوس تیویز کے پاس پر میسی نے گول کیا اور مخالف ٹیم کے گول کیپر کو نیئر پوسٹ پر چھکاتے ہوئے 6-0 کی بڑی جیت پکی کی۔
جاری یواین آئی۔الف الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
