جموں و کشمیر
مودی حکومت صرف دو خاندانوں امبانی اور اڈانی کو فائدہ پہنچا رہی ہے :راہل گاندھی
سری نگر کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے بدھ کے روز کہا کہ مودی حکومت صرف دو خاندانوں امبانی اور اڈانی کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘ مجھے کہا گیا پارلیمنٹ میں تقریر میں امبانی اور اڈانی کے نام نہیں لیے جا سکتے ہیں میں نے سپیکر سے گذارش کی کہ پھر میں ان کو کیا کہوں گا اب میں انہیں اے ون اور اے ٹو کہتا ہوں’۔
ان باتوں کا اظہار موصوف نے ڈورو اننت ناگ اور رام بن میں میں چناوی ریلیوں سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہاکہ مودی سرکار نے جموں وکشمیر کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرکے یہاں کے لوگوں کے ساتھ بہت بڑا ظلم کیا۔
انہوں نے کہا: ‘ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ریاستی درجہ چھین لیا گیا اور پہلی بار ایک ریاست کو یونین ٹریٹری میں تبدیل کر دیا گیا’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ایک ریاست کے ریاستی درجے کو ختم کر دیا گیا اور لوگوں کے حقوق کو چھین لئے گئے’۔
راہل گاندھی نے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا: ‘سب سے پہلے جموں وکشمیر کے ریاستی درجے کو بحال کریں گے کیونکہ نہ صرف آپ کے ریاستی درجے کو چھینا گیا ہے بلکہ تمہارے حقوق،تمہارے وسائل ہر چیز کو چھینا جا رہا ہے’۔
انہوں نے خطاب میں کہا: ‘ہم چاہتے تھے کہ پہلے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیا جائے اس کے بعد اسمبلی انتخابات منعقد کئے جائیں لیکن بی جے پی ایسا نہیں چاہتی تھی وہ کہتی ہے پہلے الیکشن کریں گے پھر ریاستی درجے کی بحالی پر بات کریں گے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘بی جے پی مانے گی یا نہیں لیکن ہم ان پر اس قدر دباﺅ ڈالیں گے کہ جموں وکشمیر کو ریاستی درجہ واپس دیا جائے گا’۔
کانگریس لیڈر نے امید ظاہر کی کہ کانگریس اور نیشنل کانفرنس اتحاد اسمبلی انتخابات کے دوران اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔
انہوں نے کہا: ؛’یہ بات یقینی ہے کہ جموں و کشمیر میں کانگریس – نیشنل کانفرنس اتحاد کی سرکار بنے گی’۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکار میں آنے پر ہم تمام خالی اسامیوں کو پورا کریں گے اور نوکری لگنے کی کم سے کم عمر کی حد کو بڑھا کر 40 سال کریں گے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہم عارضی ملازمین کو مستقل کرکے ان کی آمدنی کو بڑھائیں گے۔
انہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا:’یہ دونوں جماعتیں ملک میں نفرت کا ماحول پھیلا رہی ہیں اور ملک کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں لیکن کانگریس ملک کو متحد رکھے گا’۔
راہل گاندھی نے کہاکہ بھارتیہ جنتاپارٹی نے جموں وکشمیر کے لوگوں کو گزشتہ سات برسوں سے جمہوری عمل سے پرے رکھا ۔
بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے راہل نے کہا کہ مودی حکومت صرف دو خاندانوں امبانی اور اڈانی کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں بی جے پی نفرت کی دکان کھولے گی وہاں کانگریس محبت کی دکانیں کھولے گی۔ ہم بھائی چارے اور ہم آہنگی کو فروغ دے کر یہ جنگ جیتیں گے۔
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ووٹ بینک کی سیاست کے لئے بی جے پی نے کشمیری پنڈتوں کا استحصال کیا ہے۔
اتحاد کے بارے میں راہل گاندھی نے کہاکہ کارکنوں کے جذبات و احساسات کو مد نظر رکھتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ساتھ متحدہ طور پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ لیا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں کانگریس ممبران پارلیمان نے پی ایم مودی کا اعتماد ختم کردیا اور یہ سب کے سامنے عیاں ہے۔
انہوں نے کہا: ‘جموں و کشمیر کے ساتھ ہمارا پرانہ تعلق ہے اور کشمیر کے ساتھ ہمارا خون کا رشتہ ہے’۔
وزیر اعظم کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ‘انڈیا بلاک مودی کے اعتماد کو متزلزل کرنے میں کامیاب ہوا۔
یو این آئی، ارشید بٹ،ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
