جموں و کشمیر
میر واعظ بات چیت کے لئے تیار تاہم حکومت ہند کی طرف سے ابھی تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا :حریت کانفرنس
سری نگر کل جماعتی حریت کانفرنس جس کی قیادت میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق کررہے ہیں نے وزیردفاع شری راجناتھ سنگھ کی جانب سے بانہال اور رام بن کے انتخابی جلسوں کے دوران دیئے گئے بیانات پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ستمبر 2016 میں جب حریت کانفرنس کے چیرمین میرواعظ کو جب چشمہ شاہی سرینگر کے سب جیل میں مقید کردیا گیا تھا اس دوران جیل حکام کی طرف سے انہیں محترمہ محبوبہ مفتی صاحب جو کہ اس وقت ریاست کی وزیراعلیٰ تھیں کی ذاتی حیثیت سے ایک خط تھما دیا گیا جس میں میرواعظ صاحب سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ کشمیر کے دورے پر آئے ہوئے بھارت کے حزب اختلاف کے اراکین پارلیمنٹ سے ملاقات کریں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بعد ازاںAIMIM کے سربراہ اسد الدین اویسی جو کہ اس وفد میں شامل تھے میرواعظ سے ملنے کیلئے سب جیل میں آگئے۔ ملاقات کے دوران جناب اویسی نے میرواعظ سے کہا کہ حزب اختلاف کے اراکین پارلیمنٹ کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال کے تناظر میں حریت قیادت سے ملنے کے خواہشمند ہیں۔
بیان کے مطابق ملاقات کے دوران میرواعظ نے اپنی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جناب اویسی سے کہا کہ وہ پہلے حکومت ہندوستان سے حالات ٹھیک کرنے اور مختلف جیلوں میں مقید اور گھروں میں نظر بند حریت قیادت کو رہا کرکے ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت دے تاکہ وہ موجودہ صورتحال کے حوالے سے آپسی مشاورت کے بعد فیصلہ کرسکیں کہ آیا وہ اجتماعی طور مذکورہ وفد سے ملاقات کرسکتے ہیں اور یہ کہ مذکورہ وفد پر واضح کریں کہ کیا پارلیمنٹ کے مذکورہ وفد کے اراکین کسی طویل مدتی اور سنجیدہ عمل میں معاون بن سکتے ہیں یا یہ صرف موجودہ بحران کو ٹالنے کی ایک کوشش ہے جو بعد میں ماضی کی طرح کی گئی کوششوں کی طرح بے نتیجہ ثابت ہوگی۔
میرواعظ نے اویسی پر واضح کردیا کہ حریت کانفرنس کا کوئی بھی رہنما اس حوالے سے انفرادی طور کوئی فیصلہ لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے جس کے بعد اویسی نے میرواعظ کی رائے سننے کے بعد کہا کہ وہ انکی خواہش حکومت ہندوستان تک پہنچائیں گے جبکہ بعد ازاں اس حوالے سے کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہیں ملی۔
حریت کانفرنس نے کہا کہ انہیں پہلی باریہ جان کر حیرانی ہوئی ہے جیسا کہ ذرائع ابلاغ سے پتہ چلا ہے کہ حریت سے ملاقات کی یہ کوشش حکومت ہندوستان کی ایما پر ہوئی تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ حقیقت یہ ہے کہ میرواعظ کی قیادت میں حریت کانفرنس نے ہمیشہ تواترکے ساتھ پر زور انداز میں جموں وکشمیرکے عوام کی سیاسی امنگوں اور جذبات کی پیروی میں بات چیت کے ذریعے تنازع کے حل کی وکالت کی ہے اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی جی، شری ایل کے ایڈوانی سے لیکر وزیراعظم شری منموہن سنگھ تک ہر اس مذاکراتی عمل میں حصہ لیا ہے جو ان حکومتوں کی طرف سے انہیں پیش کی گئیں۔
حتیٰ کہ حریت قیادت نے تمام تر خطرات اپنی اور اپنے اقربا کی قربانی کے باوجود نہ کبھی مذاکراتی عمل سے فرار اختیار کیا ہے اور نہ کبھی کریں گے کیونکہ ہم نے ہمیشہ اقتدار، مراعات اور ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کرتنازع کے حل اور جموں وکشمیر سمیت پورے خطے میں امن ، استحکام اور ترقی کو یقینی بنانے کیلئے بامعنی مذاکرات کو ہی ایک واحد راستہ سمجھا ہے چنانچہ 2019 میں حکومت ہند کی طرف سے جموں وکشمیر کے حوالے سے یکطرفہ اقدامات اور ستمبر2023 تک میرواعظ کی طویل خانہ نظر بندی کے باوجود بھی میرواعظ ہر موقعہ پر تنازعات کے پر امن حل کیلئے بامعنی مذاکرات کی وکالت کرتے رہے ہیں تاہم اب تک حکومت ہند کی طرف سے اس حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
