ہندوستان
مودی نے دھنونتری جینتی پر 12850 کروڑ روپے کے منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے قومی راجدھانی دہلی کے آل انڈیا آیوروید انسٹی ٹیوٹ میں دھنونتری جینتی اور نویں آیوروید ڈے کے موقع پر صحت کے شعبے سے متعلق 12,850 کروڑ روپے سے زیادہ کے کئی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔
مسٹر مودی نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال کا مضبوط ڈھانچہ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ آج کے منصوبے اہل وطن کو صحت کی اعلیٰ اور قابل رسائی خدمات فراہم کریں گے۔
اس موقع پر صحت و خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جگت پرکاش نڈا، مرکزی وزیر محنت و روزگار منسکھ منڈاویہ اور مرکزی آیوش وزیر پرتاپ راؤ جادھو، صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت انوپریہ پٹیل اور محنت اور روزگار کی مرکزی وزیر مملکت شوبھا بھی موجود تھیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں کارندے اور دیگر معززین موجود تھے۔
دھنونتری ڈے کے موقع پر منعقدہ تقریب میں مسٹر مودی نے آیوشمان بھارت پی ایم-جے اے وائی کے تحت 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تمام بزرگ شہریوں کے لیے ہیلتھ کوریج کی توسیع کا آغاز کیا۔ وزیراعظم مودی نے ملک کے پہلے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید کے فیز II کا افتتاح کیا۔ صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے صحت سے متعلق 11 اداروں میں ڈرون خدمات کا آغاز کیا۔ صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل اقدامات کو فروغ دینے کے لیے وزیر اعظم نے یو۔ ڈبلیو آئی این پورٹل کا آغاز کیا، جو حاملہ خواتین اور شیر خوار بچوں کو فائدہ پہنچانے والی ویکسینیشن کے عمل کو ڈیجیٹل بناتا ہے۔ میک ان انڈیا کے مطابق وزیر اعظم نے پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو کے تحت پانچ پروجیکٹوں کا افتتاح کیا – طبی آلات اور بلک ادویات کے لیے پی ایل آئی اسکیم۔ صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں آر اینڈ ڈی اور جانچ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کئی اقدامات شروع کیے گئے۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے ملک گیر مہم “ملک کی نیچرل جانچ مہم” کا بھی آغاز کیا۔ اس کا مقصد شہریوں میں صحت سے متعلق آگاہی کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ماحولیاتی تبدیلی اور انسانی صحت پر ریاستی مخصوص ایکشن پلان بھی شروع کیا۔ اس میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے مطابق صحت کی خدمات کی ترقی کے لیے موافقت کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔
وزیر اعظم نے یو ۔ ڈبلیو آئی این پورٹل کا آغاز کیا۔ یہ ویکسینیشن کے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا کر حاملہ خواتین اور شیر خوار بچوں کو فائدہ پہنچائے گا۔ اس میں حاملہ خواتین اور بچوں (پیدائش سے لے کر 16 سال کی عمر تک کے بچوں ) کو بیماریوں کے خلاف زندگی بچانے والی ویکسین دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم نے الائیڈ اور ہیلتھ پروفیشنلز اور اداروں کے لیے ایک پورٹل کا بھی آغاز کیا۔ یہ موجودہ صحت کے پیشہ ور افراد اور اداروں کے مرکزی ڈیٹا بیس کے طور پر کام کرے گا۔
مسٹر مودی نے ملک کے پہلے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید کے دوسرے مرحلے کا افتتاح کیا۔ اس میں ایک پنچکرما اسپتال، دواؤں کی تیاری کے لیے ایک آیورویدک فارمیسی، ایک اسپورٹس میڈیسن یونٹ، ایک سینٹرل لائبریری، ایک آئی ٹی اور اسٹارٹ اپ انکیوبیشن سینٹر اور 500 نشستوں والا آڈیٹوریم شامل ہے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کے مندسور، نیمچ اور سیونی میں تین میڈیکل کالجوں کا بھی افتتاح کیا۔ اس کے علاوہ ہماچل پردیش کے بلاس پور، مغربی بنگال کے کلیانی، بہار کے پٹنہ، اتر پردیش کے گورکھپور، مدھیہ پردیش کے بھوپال، آسام کے گوہاٹی اور نئی دہلی کے ایمس میں مختلف سہولیات اور خدمات کی توسیع کا افتتاح کیا گیا۔ اس میں جن اوشدھی کیندر بھی شامل ہے۔
وزیر اعظم نے چھتیس گڑھ کے بلاس پور میں گورنمنٹ میڈیکل کالج میں ایک سپر اسپیشلٹی بلاک اور بارگڑھ، اڈیشہ میں ایک کریٹیکل کیئر بلاک کا بھی افتتاح کیا۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کے شیو پوری، رتلام، کھنڈوا، راج گڑھ اور مندسور کے پانچ نرسنگ کالجوں، آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن ( پی ایم ۔ اے بی ایش آئی ایم ) اور ایمس کے تحت ہماچل پردیش، کرناٹک، منی پور، تمل ناڈو اور راجستھان میں 21 اہم نگہداشت کے بلاکس کا بھی اففتاح کیا۔ نئی دہلی اور ہماچل پردیش کے بلاس پور میں کئی سہولیات اور خدمات کی توسیع کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔
مسٹر مودی نے اندور، مدھیہ پردیش میں ایک ای ایس آئی سی اسپتال کا افتتاح کیا اور ہریانہ کے فرید آباد، کرناٹک کے بوماسندرا اور نرسا پور، مدھیہ پردیش میں اندور، اتر پردیش میں میرٹھ اور آندھرا پردیش کے اچوت پورم میں ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن ( ای ایس آئی سی ) اسپتالوں کا سنگ بنیاد رکھا،جس سے تقریباً 55 لاکھ ای ایس آئی استفادہ کنندگان ان پروجیکٹوں سے صحت کی دیکھ بھال کے فوائد حاصل کریں گے۔
صحت کی دیکھ بھال کو مزید قابل رسائی بنانے اور خدمات کی فراہمی کو بڑھانے کے لیے ڈرون ٹکنالوجی کے جدید استعمال میں وزیر اعظم نے صحت کی دیکھ بھال کے 11 اداروں میں ڈرون خدمات کا آغاز کیا۔ یہ ادارے اتراکھنڈ میں ایمس رشی کیش، تلنگانہ میں ایمس بی بی نگر، آسام میں ایمس گوہاٹی، مدھیہ پردیش میں ایمس بھوپال، راجستھان میں ایمس جودھپور، بہار میں ایمس پٹنہ، ہماچل پردیش میں ایمس بلاسپور، ایمس راؤ پور میں ایمس بلاسپور، اتراکھنڈ میں ایمس بلاسپور ہیں۔ چھتیس گڑھ، آندھرا پردیش میں اے آئی آئی ایم ایس منگل گری اور امپھال منی پور میں آر آئی ایم ایس کا افتتاح کیا ۔ انہوں نے ایمس رشی کیش سے ہیلی کاپٹر کی ہنگامی طبی خدمات بھی شروع کیں، جو تیز تر طبی دیکھ بھال فراہم کرنے میں مدد کریں گی۔
وزیر اعظم نے ملک میں صحت کی دیکھ بھال کے ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے تحقیق، ترقی اور جانچ کے بنیادی ڈھانچے پر زور دیا۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
