فن و ادب
بیگم اختر کی آواز کا جادو آج بھی قائم ہے
(30 اکتوبر برسی کے موقع پر)
ممبئی، اپنی دلکش آواز سے شائقین کو مسحور کرنے والی بیگم اختر نے ایک بار عہد کیا تھا کہ وہ کبھی گلوکارہ نہیں بنیں گی۔
بچپن میں بیگم اختر استاد محمد خان سے موسیقی کی تعلیم لیا کرتی تھیں۔اسی دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ بیگم اختر نے گانا سیکھنے سے انکار کردیا۔ان دنوں بیگم اختر سے صحیح سر نہیں لگتے تھے۔ان کے استاد نے انہیں کئی بار سکھایااورجب وہ نہیں سیکھ پائی تو انہیں ڈانٹ دیا۔بیگم اختر نے روتے ہوئے ان سے کہا’’ہم سے نہیں بنتا نانا جی۔۔میں گانا نہیں سیکھوں گی۔ان کے استاد نے کہا۔۔بس اتنے میں ہار مان لی تم نے ۔۔۔نہیں بٹو ایسے ہمت نہیں ہارتے۔۔۔میری بہادر بٹیا چلو ایک بار پھر سے سر لگانے میں جُٹ جاؤ۔۔۔ان کی بات سن کر بیگم اختر نے پھر سے ریاض شروع کیا اور صحیح سُر لگائے۔اترپردیش کے فیض آباد میں سات اکتوبر1914 میں پیدا ہوئیں بیگم فیض آباد میں سارنگی کے استاد ایمان خاں اور عطا محمد خان سے موسیقی کی ابتدائی تعلیم لی۔انہوں نے محمد خان،عبدل وحید خان سے بھارتیہ شاستریہ موسیقی سیکھی۔
تیس کی دہائی میں بیگم اختر پارسی تھیئٹر سے منسلک گئیں۔ڈراموں میں کام کرنےکی وجہ سے ان کا ریاض چھوٹ گیا جس سے محمد عطا خان کافی ناراض ہوئے اور انہوں نے کہا۔۔جب تک تم ڈرامہ میں کام کرنا نہیں چھوڑتی،میں تمہیں گانا نہیں سکھاؤں گا۔ان کی اس بات پر بیگم اختر نے کہا۔۔آپ صرف ایک بار میرا ڈرامہ دیکھنے آجائیں اس کے بعد آپ جو کہیں گے میں کروں گی۔
اس رات محمد عطا خان بیگم اختر کا ڈرامہ ’ترکی حور ‘دیکھنے گئے۔جب انہوں نے اس ڈرامے کا گانا’ چل ری میری نئیا‘گایا تو ان کی آنکھوں میں آنسوں آگئے اور ڈرامہ ختم ہونے کے بعد ان سے محمد عطا خان نے کہا ۔۔۔’’بٹیا تو سچی اداکارہ ہے۔جب تک چاہو ڈرامہ میں کام کرو۔‘‘
بطور اداکارہ بیگم اختر نے’ ایک دن کا بادشاہ‘سے سنیما میں اپنے کریئر کا آغاز کیا لیکن اس فلم کی ناکامی کی وجہ سے اداکارہ کے طورپر وہ کچھ خاص شناخت نہیں بنا پائیں۔1933 میں ایسٹ انڈیا کے بینر تلے بنی فلم نل دمینتی کی کامیابی کے بعد بیگم اختر بطور اداکارہ اپنی کچھ شناخت بنانے میں کامیاب رہیں۔اس دوران بیگم اختر نے امینا ،ممتاز بیگم،جوانی کا نشہ،نصیب کا چکر جیسی فلموں میں اپنی اداکاری کا جوہر دکھایا۔کچھ وقت کے بعد وہ لکھنؤ چلی گئیں جہاں ان کی ملاقات مشہور پروڈیوسر اور فلم ساز محبوب خان سے ہوئی جو بیگم اختر کے فن سے کافی متاثر ہوئے اور انہیں ممبئی آنے کی دعوت دی۔
سال 1942میں محبوب خان کی فلم ’روٹی‘میں بیگم اختر نے اداکاری کرنے کے ساتھ ہی گانے بھی گائے۔اس فلم کےلئے بیگم اختر نے چھ گانے ریکارڈ کرائے تھے لیکن فلم بنانے کے دوران موسیقار انل وشواس اور محبوب خان کے آپسی جھگڑے کے بعد ریکارڈ کئے گئے تین گانوں کو فلم سے ہٹا دیا گیا۔بعد میں ان کے انہی گانوں کو گرامو فون ڈسک نے جاری کیا۔کچھ دنوں کے بعد بیگم اختر کو ممبئی کی چکاچوندھ کچھ عجیب سی لگنے لگی اور وہ لکھنؤ واپس چلی گئیں۔
1945میں بیگم اختر کا نکاح بیرسٹر اشتیاق احمد عباسی سے ہوگیا۔دونوں کی شادی کا قصہ کافی دلچسپ ہے۔ایک پروگرام کے دوران بیگم اختر اور اشتیاق محمد کی ملاقات ہوئی۔بیگم اختر نے کہا ’’میں شہرت اور پیسے کو اچھی چیز نہیں مانتی۔ عورت کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ کسی کی اچھی بیوی بنے۔یہ سن کر عباسی صاحب نے کہا کہ کیا آپ شادی کے لئے اپنا کرئیر چھوڑ دیں گی۔اس پر انہوں نے جواب دیا’ہاں اگر آپ مجھ سے شادی کرتے ہیں تو میں گانا بجانا تو کیا اپنی جان تک دے دوں۔‘شادی کے بعد انہوں نے گانا بجانا تو دور گنگنانا تک چھوڑ دیا۔
شادی کے بعد شوہر کی اجازت نہ ملنے پر انہوں نے گلوکاری سے منہ موڑ لیا۔گلوکاری سے بے انتہا محبت کرنے والی بیگم اختر کو جب تقریباً پانچ سال تک آواز کی دنیا سے دور رہنا پڑا تو وہ اس کا صدمہ برداشت نہیں کرسکیں اور مستقل بیمار رہنے لگیں ۔حکیم اور ڈاکٹروں کی دوائیاں بھی ان کی صحت کو بہتر نہیں کرسکیں۔
ایک دن جب بیگم اختر گارہی تھیں کہ تبھی ان کے شوہر کے دوست سنیل بوس ،جو لکھنؤ ریڈیو اسٹیشن کے ڈائریکٹر تھے ،نے انہیں گاتے سن کر کہا عباسی صاحب یہ تو بہت ناانصافی ہے،کم از کم اپنی بیگم کو ریڈیو میں تو گانے کا موقع دیجئے ۔اپنے دوست کی بات مان کر انہوں نے بیگم اختر کو گانے کا موقع دیا۔جب لکھنؤریڈیو اسٹیشن میں بیگم اختر پہلی بار گانے گئیں تو ان سے ٹھیک سے نہیں گایا گیا۔اگلے دن اخبار نکلا ۔۔بیگم اختر کا گانا بگڑا بیگم اختر نہیں جمیں۔۔۔یہ سب دیکھ کر انہوں نے ریاض کرنا شروع کردیا اور بعد میں انکااگلا پروگرام اچھا ہوا۔
بیگم اختر نے ایک بار پھر سے موسیقی کی تقاریب میں حصہ لینا شروع کردیا۔اس دوران انہوں نے فلموں میں بھی اداکاری کرنا جاری رکھا اور رفتہ رفتہ پھر سے اپنی کھوئی ہوئی شناخت پانے میں کامیاب ہوگئیں۔1958میں ستیہ جیت رے کے ذریعہ بنائی گئی فلم ’جلسہ گھر ‘۔۔۔بیگم اختر کے کریئر کی آخری فلم ثابت ہوئی۔اس فلم میں انہوں نے ایک گلوکارہ کا کردار اداکیا تھا۔اس دوران وہ اسٹیج سے بھی منسلک رہیں اور اداکاری کرتی رہیں۔70کی دہائی میں مسلسل موسیقی سے جڑے پروگراموں میں حصہ لینے اور کام کے بڑھتے دباؤکی وجہ سے وہ بیمار رہنے لگی اور اس سے ان کی آواز بھی متاثر ہونے لگی۔اس کے بعد انہوں نے موسیقی کے پروگراموں سے کچھ دوری بنا لی۔
سال1972 میں موسیقی کے میدان میں ان کی قابل ذکر شراکت کے پیش نظر سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔اس کے علاوہ وہ پدم شری اور پدم بھوشن ایوارڈ سے بھی نوازے گئے۔یہ عظیم فن کارہ 30اکتوبر 1974کو اس دنیا کو الوداع کہہ گئیں۔اپنی موت سے سات دن پہلے بیگم اختر نے کیفی اعظمی کی غزل گائی تھی۔۔۔سناکرو میری جان ان سے ان کے افسانے ۔۔۔سب اجنبی ہیں یہاں کون کس کو پہچانے۔
یواین آئی۔این یو۔
فن و ادب
جموں فلم فیسٹیول کا پانچواں ایڈیشن 28-29 ستمبر کو ہوگا: منتظمین
جموں، وومیدھ کی جانب سے دی اوانتی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے پیش کیا جانے والا جموں فلم فیسٹیول (جے ایف ایف) کا پانچواں ایڈیشن 28 اور 29 ستمبر کو یہاں منعقد ہوگا۔
پیر کے روز اس کے پانچویں ایڈیشن کا باضابطہ اعلان کیا گیا، جو خطے کے ثقافتی اور سنیما کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
پریس کانفرنس میں آئندہ ایڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے فیسٹیول ڈائریکٹر راکیش روشن بھٹ نے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ سفر یقین، ثابت قدمی اور بے شمار افراد و تنظیموں کی حمایت سے ممکن ہوا ہے۔ ہم ان سب کے شکر گزار ہیں جنہوں نے جے ایف ایف کو ایک بامعنی پلیٹ فارم بنانے میں تعاون دیا۔ یہ سنگ میل پوری تخلیقی برادری کا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس ایڈیشن کی ایک خاص جھلک بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام ہوگا، جس کا مقصد علاقائی ٹیلنٹ کو فروغ دینا اور بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنا ہے۔
فیسٹیول ڈائریکٹر روہت بھٹ نے بتایاکہ“پانچویں ایڈیشن کے ساتھ ہم علاقائی کہانیوں کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم اٹھا رہے ہیں۔ بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے تاکہ جموں و کشمیر کے فلم سازوں کو مضبوط پلیٹ فارم مل سکے۔”
فیسٹیول کے مشیر ڈاکٹر امیت وانچو نے کہا کہ جموں فلم فیسٹیول ایک معتبر پلیٹ فارم بن چکا ہے جو بامعنی سنیما کو فروغ دیتا ہے اور اس کی مسلسل ترقی منتظمین کی محنت اور معیاری کہانیوں میں بڑھتی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔
شریک پیش کنندہ کی جانب سے سنجیو کاک نے کہاکہ“ہمیں خوشی ہے کہ ہم وومیدھ کے ذریعے جموں و کشمیر میں جے ایف ایف اور ٹی آئی ایف ایف ایس جیسے بین الاقوامی فلمی میلوں سے وابستہ ہیں۔ یہ پلیٹ فارم عالمی سنیما کو یہاں کے ناظرین تک پہنچانے اور مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”
وومیدھ کی مشیر بھاونا پنڈیتا نے کہا کہ تنظیم فن و ثقافت کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور جے ایف ایف جیسے اقدامات کے ذریعے فنکاروں اور فلم سازوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
سینئر اداکارہ کسم ٹیکو نے کہا کہ ابتدا سے اس سفر کا حصہ ہونا خوش آئند ہے اور یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ یہ پلیٹ فارم وقت کے ساتھ ایک اہم ثقافتی سنگ میل بن چکا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
فن و ادب
رنویر سنگھ کی فلم دھوندھر: دی ریوینج 1000 کروڑ کلب میں شامل
ممبئی، بالی ووڈ اسٹار رنویر سنگھ کی فلم دھوندھر: دی ریوینج نے ہندوستانی مارکیٹ میں 1013 کروڑ روپے سے زیادہ کی کمائی کی ہے۔ آدتیہ دھر کی ہدایت کاری میں بننے والی بلاک بسٹر دھوندھر کا سیکوئل، دھوندھر: دی ریونج روزانہ لاکھوں روپے کی آمد کے ساتھ کامیابی جاری ہےرنویر سنگھ نے مرکزی کردار میں اداکاری کی، یہ فلم ریلیز کے بعد سے ہی شائقین کے درمیان زبردست ہٹ رہی ہے۔ فلم کی مقبولیت اپنے عروج پر ہے۔ رنویر سنگھ، آر مادھاون، ارجن رامپال، سنجے دت، راکیش بیدی، اور سارہ علی خان نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔
سکنلک کے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق، “دھورندھر: دی ریوینج” نے 18 مارچ تک تقریباً 43 کروڑ کی کمائی کی۔ فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں ہندوستانی مارکیٹ میں 674.17 کروڑ روپے کمائے۔ اس نے دوسرے ہفتے میں 263.65 کروڑ روپے کمائے۔ فلم نے 16ویں دن 21.55 کروڑ روپے، 17ویں دن 25.65 کروڑ اور 18ویں دن 28.75 کروڑ کی کمائی کی۔ فلم نے 18 دنوں میں ہندوستانی مارکیٹ میں 1013.77 کروڑ روپے کمائے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
نوتن فلموں میں کام کرنے والی پہلی مس انڈیا تھیں
21 فروری برسی کے موقع پر
خصوصی تحریر: نسیم الدین
بالی ووڈ میں ایسی شخصیتوں کی ایک طویل فہرست ہے جِن کے کارناموں کو ہم کبھی فراموش نہیں کرسکتے اور جِنھوں نے فلمی دنیا میں اپنے انمٹ نقش چھوڑے ہیں اِس طویل عرصے میں کیسے کیسے نامور فن کاروں نے، جِن میں ایکٹرز، ڈائریکٹرز، گلوکار، رائٹرز، شاعر اور موسیقار اور فلمی اسکرین پر اور اس کے پس پردہ کام کرنے والی سینکڑوں شخصیتیں شامل ہیں، اپنی لگن اور فنی جوہر سے بالی ووڈ کو وہ بلند مقام دیا جہاں اُسے ہم آج دیکھتے ہیں۔اِنہی میں ایک عظیم اداکارہ نوتن بھی شامل ہیں۔
نوتن نے اپنی فطری اداکاری، سادگی اور مکالموں کی ادائیگی سے فلم شائقین کو جِس طرح متاثر کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔
آج کے دور میں جہاں مس انڈیا کا خطاب جیتنے والی حسیناؤں کو فلموں میں کام کرنے کا موقع آسانی سے مل جاتا ہے، وہیں نوتن کو فلموں میں کام حاصل کرنے کے لئے کافی جدوجہد کرنی پڑی تھی۔
چار جون 1936 کو ممبئی میں پیدا ہوئیں نوتن کا اصلی نام نوتن سمرتھ تھا۔ ان کو اداکاری کا فن وراثت میں ملا۔ ان کی ماں شوبھنا سمرتھ اس زمانے کی معروف فلم اداکارہ تھیں۔ گھر میں فلمی ماحول ہونے کی وجہ سے نوتن اکثر اپنی ماں کے ساتھ شوٹنگ دیکھنے جایا کرتی تھیں۔
اس وجہ سے ان کا رجحان بھی فلموں کی جانب مائل ہو گیا اور وہ بھی اداکارہ بننے کے خواب دیکھنے لگیں۔نوتن نے بطور چائلڈا سٹار فلم ’نل دمينتی‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس درمیان نوتن نے آل انڈیا بیوٹی مقابلہ میں حصہ لیا جس میں وہ سرفہرست رہیں لیکن بالی ووڈ کے کسی فلمساز کی توجہ ان کی طرف نہیں گئی۔ انہیں 1950 کی فلم ہماری بیٹی میں اداکاری کرنے کا موقع ملا جس کی ہدایت کار ان کی ماں شوبھنا سمرتھ تھیں۔
جاری۔یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
