جموں و کشمیر
کشمیرمیں موسم سرما کی پہلی بھاری برف باری،زمینی اور فضائی رابطے منقطع ، بجلی نظام متاثر
سری نگر وادی کشمیر کے میدانی علاقوں بشمول گرمائی دارالحکومت سری نگر میں جمعے کو رواں موسم سرما کی پہلی بھاری برف باری ہوئی جس کے نتیجے میں زمینی و فضائی رابطوں کے ساتھ ساتھ وادی کے بیشتر حصوں میں بجلی کا نظام بری طرح سے متاثر ہوکر رہ گیا ہے۔
مرکزی زیر انتظام علاقے میں برف باری کے ساتھ گذشتہ قریب تین ماہ سے جاری خشک موسم کا تسلسل ٹوٹ گیا اور اہلیان وادی بالخصوص زراعت، باغبانی اور سیاحت سے وابستہ لوگوں نے راحت کی سانس لی۔
برف باری کے باعث وادی کو زمینی راستے سے بیرون دنیا سے جوڑنے والی 300 کلو میٹر طویل سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ اور شمالی کشمیر کے درجنوں دیہات کو ضلعی ہیڈکوارٹروں سے جوڑنے والی سڑکیں گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کی گئی ہیں۔
برف باری اور کم روشنی کے سبب سری نگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی سروس بھی معطل ہوکر رہ گئی۔
وادی کے بیشتر میدانی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ برف باری کے سبب سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد ورفت جبکہ بجلی کی ترسیل اور ڈش ٹی وی سروس بھی متاثر ہوکر رہ گئی۔
برف باری کے پیش نظر اہلیان وادی کو درکار مدد فراہم کرنے کے لئے انتظامیہ کی جانب سے ہیلپ لائنیں شروع کی گئی ہیں۔
محکمہ بجلی (پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ) کے ان دعووں کے باوجود کہ ’برف باری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائے گئے ہیں، کے باوجود وادی کے بیشتر حصوں میں بجلی سپلائی منطقع ہوگئی ہے۔ درجنوں علاقوں سے بجلی کی ترسیلی لائنوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اہلیان وادی جب ہفتے کی صبح نیند سے اٹھے تو کھلے میدانی، مکانوں و عمارتوں کی چھتوں اور درختوں نے برف کی سفید چادر اوڑھ لی تھی۔ برف باری کے پیش نظر بیشتر لوگوں نے اپنے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ تاہم سخت سردی کے باوجود نوجوانوں اور بچوں کو موسم سرما کی اس پہلی بھاری برف باری کا مزہ لیتے ہوئے دیکھا گیا۔
نوجوانوں اور بچوں کو ’سنو مین‘ بنانے اور ایک دوسروں پر برف پھینکنے میں مصروف دیکھا گیا۔
واضح رہے کہ وادی میں گذشتہ قریب تین ماہ سے کوئی برف باری یا بارشیں نہیں ہوئی تھیں جس کی وجہ سے اہلیان وادی انتہائی تشویش میں مبتلا تھے۔
اس دوران وادی کے بعض علاقوں میں برف باری اور بارش کے لئے خصوصی دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان نے یو این آئی کو بتایا کہ مرکزی زیر انتظام علاقے میں برف باری کا سلسلہ اگلے چوبیس گھنٹوں تک جاری رہ سکتا ہے۔
وادی کے تمام بالائی علاقوں بشمول مشہور سیاحتی مقامات گلمرگ، پہلگام، سونہ مرگ، یوسمرگ اور دودھ پتھری سے بھاری برف باری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
گلمرگ سے ایک ہوٹل مالک نے یو این آئی کو فون پر بتایا کہ یہاں بھاری برف باری کا سلسلہ جمعے کی سہ پہر سے جاری ہے۔ انہوں نے بتایا ’گلمرگ کے میدانی حصے میں قریب ایک فٹ جبکہ بالائی حصوں میں ڈیڑھ سے دو فٹ تازہ برف گری ہے۔ ہمیں امید ہے کہ تازہ برف باری کے ساتھ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد یہاں وارد ہوگی، مذکورہ ہوٹل مالک نے بتایا کہ تازہ برف باری کے نتیجے میں یہاں موجود سیاحوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے ہیں اور ان میں سے بیشتر سیاح ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار برف کو گرتے ہوئے دیکھا ہے۔
جنوبی کشمیر میں واقع مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں ڈیڑھ فٹ تازہ برف گری ہے۔
محکمہ سیاحت کے ایک عہدیدار نے یواین آئی کو بتایا ’ہمیں امید ہے کہ یہ تازہ برف باری سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کو پہلگام کھینچ لائے گی۔
گرمائی دارالحکومت میں سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) سے وابستہ اہلکار ہفتے کی صبح سڑکوں پر سے برف ہٹانے میں مصروف نظر آئے۔
ایس ایم سی کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’ہمارے اہلکار ہفتئے کی صبح سے ہی برف ہٹانے میں مصروف ہیں۔ ہم نے سب سے پہلے اسپتالوں اور دیگر ہیلتھ سنٹروں کی طرف جانے والی سڑکوں پر سے برف ہٹائی‘۔
دوسری جانب بھاری برف باری کے پیش نظر سری نگر جموں قومی شاہراہ کوگاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ ایک ٹریفک پولس عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’شاہراہ کے مختلف مقامات بشمول جواہر ٹنل، قاضی گنڈ، بانہال، شیطان نالہ اور پٹنی ٹاپ پر درمیانہ سے بھاری درجے کی برف باری ہوئی ہے جس کے پیش نظر ہمیں شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت بند کرنا پڑی ہے‘۔
انہوں نے بتایا کہ آخری اطلاعات ملنے تک برف باری کا سلسلہ جاری تھا اور شاہراہ پر آج گاڑیوں کو چلنے کی اجازت دینے کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔
مذکورہ عہدیدار نے بتایا ’شاہراہ کی دیکھ ریکھ کے لئے ذمہ دار بارڈر روڑس آرگنائزیشن (بی آر او) نے برف ہٹانے کے لئے اپنی جدید مشینری اور افرادی قوت کو کام پر لگا دیا ہے۔ لیکن جاری برف باری کے باعث بی آر او اہلکاروں کا کام متاثر ہورہا ہے‘۔
سری نگر جموں قومی شاہراہ کے علاوہ جنوبی کشمیر میں درجنوں سرحدی دیہات کو ضلعی ہیڈکوارٹروں کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں کو بھی آمدورفت کے لئے بند کیا گیا ہے۔
وادی کو خطہ لداخ اور جموں خطہ کے راجوری اور پونچھ اضلاع کے ساتھ جوڑنے والی سڑکیں بھی بند پڑی ہیں۔
دریں اثنا ائرپورٹ کے ایک افسر نے یو این آئی کو بتایا ’ائرپورٹ پر فضائی سروس ہفتے کی صبح سے معطل ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’رن وے پر سے اگرچہ برف ہٹائی گئی ہے، لیکن روشنی بھی بہت کم ہے۔ اس کے باعث ائرپورٹ پر فضائی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ پڑ گئی ہیں‘۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
