جموں و کشمیر
خشک سالی کا شاخسانہ ، شمالی ، جنوبی اور وسطی کشمیر کے جنگلات میں آتشزدگی، چشمے بھی سوکھ گئے
سری نگر،وادی کشمیر میں جاری خشک موسمی صورتحال سے جہاں کئی چشمے سوکھ گئے ہیں، وہیں اس دوران کئی علاقوں کے جنگلوں میں آتشزدگی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
ترال کے پنگلش، کملا، لری بل ، شکار گاہ، سیر جاگیر اور پنر جاگیر کے جنگلات میں گزشتہ دو روز سے آگ لگی ہوئی ہے جس پر قابو پانے کی خاطر کڑی مشقت کی جارہی ہے۔
ترال میں ہی آری پل اور دلناگ چشمے سوکھ گئے جبکہ درجنوں چھوٹے بڑے چشمے سوکھنے کے کگار پر پہنچ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مسلسل خشک سالی کی وجہ سے وادی کے جنگلی علاقوں میں آگ نمودار ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب جنوبی ، شمالی اور وسطی کشمیر کے کئی جنگلی علاقوں میں آگ نمودار ہوئی جس نے وسیع العریض علاقوں کواپنی لپیٹ میں لے لیا ۔
مقامی لوگوں نے خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ گزشتہ کئی دنوں سے ترال کے جنگلی علاقوں میں سرسبز سونے کو آگ کی وجہ سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چونکہ اوپری پہاڑی علاقوں میں آگ نمودار ہوئی ہے لہذا فائر اینڈ ایمرجنسی محکمہ کے عملے کو وہاں تک پہنچنے میں دقتوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔
ایک اور مقامی شہری نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے کی خاطر سنجیدہ نوعیت کے اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔
فائر اینڈ ایمرجنسی کے ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ وادی کے کئی جنگلی علاقوں میں آگ لگنے کی وارداتوں میں روز بروز غیر معمولی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ کپواڑہ ، ترال اور یوسمرگ کے جنگلوں سے آگ نمودار ہونے کے بعد فائر اینڈ ایمرجنسی اور محکمہ جنگلی حیات کے اہلکاروں نے آگ بجھانے کی کارروائی شروع کی۔
دریں اثنا ترال میں خشک سالی کی وجہ سے آر ی پل چشمہ سوکھ گیا ہے اور اس چشمے کی وساطت سے تین درجن سے زائد دیہات کے لوگ پانی استعمال کرتے تھے۔
ترال میں ہی دلناگ چشمہ سوکھنے کے ساتھ ساتھ درجنوں چھوٹے اور بڑے قدرتی چشمے سوکھنے کے کگار پر پہنچ گئے ہیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق خشک موسم کے چلنے اس طرح کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
دریں اثنا ممبر اسمبلی ترال رفیق احمد نائیک نے یو این اردو کو بتایا کہ گزشتہ کئی دنوں سے ترال کے جنگلی علاقوں سے آگ نمودار ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سات مقامات پر لگی آگ پر قابو پایا گیا ہے ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلسل خشک سالی کی وجہ سے آگ کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ محکمہ جنگلات میں افرادی قوت کی قلت کے باعث بھی آگ بجھانے کی کارروائیوں میں روکاٹیں پیش آرہی ہیں۔
ترال کے ممبر اسمبلی نے جموں وکشمیر کی سرکار سے مودبانہ اپیل کی کہ محکمہ جنگلات میں خالی پڑی اسامیوں کو جلدازجلد پر کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ محکمہ جنگلات میں ملازمین کی کمی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت دیا جاسکتا ہے کہ ایک رینجرآٹھ علاقوں کی نگرانی کر رہا ہے۔
انہوں نے جنگلی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں سے اپیل کی کہ وہ احتیاطی تدابیر پر من وعن عمل کریں۔
ترال کے کئی علاقوں میں چشمے سوکھنے کے بارے میں پوچھے گئے ایک اور سوال کے جواب میں ممبر اسمبلی ترال نے کہاکہ خشک سالی کے ساتھ ساتھ عدم توجہی اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
