تازہ ترین
با ت چیت اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چلے گی: راج ناتھ سنگھ
خبراردو:
مر کزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ ریاست کی سیکورٹی اور سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک روزہ دورہ پر سرینگر پہنچ گئے ہیں ۔ وزیر داخلہ سرینگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر منگلوار کی صبح تقریباًساڑھے 10بجے پہنچے جس کے دوران ان کا استقبال چیف سیکریٹری ،گورنر کے مشیر کے وجے کمار ریاستی پولیس کے سر براہ دلبا غ سنگھ،ڈی سی بڈگام ،کے علاوہ دیگر کئی سیول و پولیس انتظامیہ کے افسران نے کیا ۔مر کزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ انڈین آئر لائنز کی ایک پرواز کے زریعے دہلی سے سرینگر پہنچے اور سرینگر ہوائی اڈے سے فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے مر کزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ شیر کشمیر انٹر نیشنل کنووکیشن سنٹر پہنچے جہاں انہوں نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک اور اعلیٰ سول، پولیس و سیکورٹی عہدیداروں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح میٹنگ کرکے ریاست بالخصوص وادی کی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔معلوم ہوا ہے کہ میٹنگ کے دوران وزیر داخلہ نے پاکستان کے ساتھ لگنے والی لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کی سیکورٹی صورتحال پر بھی سینئر فوجی عہدیداروں سے بریفنگ لی۔ راجناتھ سنگھ اپنے دورے کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں بالخصوص نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے نمائندوں سے ملاقات کی اور انہیں آنے والے پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ ختم کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی ۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ مر کزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اپنے دورہ سرینگر کے دوران کچھ سیول سو ساٗئٹی ممبران کے ساتھ بھی ملاقات کی جس کے دوران سیول سو سائٹی ممبران نے مر کزی وزیر داخلہ کو ریاست کی درپیش ابتر صورتحال سے آگاہ کیا ۔وزیر داخلہ نے منگل کی صبح اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’کہ جموں وکشمیر کے ایک روزہ دورے پر سری نگر کے لئے روانہ ہوگیا ہوں۔ سیکورٹی صورتحال کے علاوہ ریاست میں اٹھائے جانے والے اہم اقدامات کا جائزہ لوں گا۔یاد رہے کہ مر کزی وزیر داخلہ ریاست میں گور نر راج کے نفاز کے بعد پہلی بار وادی کے دورے پر آئے ہیں ۔
اس دوران معلوم ہوا ہے کہ نیشنل کانفرنس کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سنٹر میں مرکزی وزیر داخلہ شری راج ناتھ کیساتھ ملاقات کی۔ وفد کی قیادت پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کررہے تھے جبکہ اُن کے ہمراہ معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سٹیٹ سکریٹری سکینہ ایتو، سینئر لیڈران و ایم ایل اے اوڑی محمد شفیع اوڑی، ایم ایل اے عید گاہ مبارک گل، ترجمانِ اعلیٰ آغا سید روح اللہ مہدی ایم ایل اے بڈگام، جنوبی زون صدر و ایم ایل اے سوناواری محمد اکبر لون،سابق وزیر قانون میر سیف اللہ اور تنویر صادق بھی تھے۔ وفد نے وزیر داخلہ کو وادی کی موجودہ سیاسی، سیکورٹی ،امن و قانون اورانسانی حقوق کی پامالیوں کی صورتحال کے بارے میں تفصیلات پیش کیں اور اس بارے میں ایک میمورنڈم بھی پیش کیا۔راج بھون میں ریاستی گونر ستیا پال ملک نے راجناتھ سنگھ کو یقین دہانی کرائی کہ ریاستی انتظامیہ ریاست میں تعمیراتی منصو بوں کو پورا کر نے کے علاوہ فلاحی اسکیموں کی عمل آوری ،کرپشن کا خاتمہ یقینی بنانے اور لو گوں کو در پیش مسائل کے حل کا ازالہ کر نے کے لئے کام کر ے گی ۔ اس دوران مر کزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے گونر ستیا پال ملک کو ریاست میں بلدیاتی انعقاد کی کامیابی اور بناء کسی شورش کے ان انتخابات کے انعقاد پر مبار کباد دیتے ہو ئے کہا کہ مر کزی سرکار کی جانب سے ریاست کو پنچایتی انتخابات کے کامیاب انعقاد کے لئے مکمل تعاون فراہم کر ے گی ۔
راجناتھ سنگھ نے نہرو گیسٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کولگام میں ہوئی عام شہریوں کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے بدقسمتی سے تعبیر کیا۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ ہمیں اطلاع موصول ہوئی ہیں کہ وہاں جھڑپ اختتام پذیر ہونے کے ساتھ ہی لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی جس دوران کچھ بارودی شل پھٹ جانے کے نتیجے میں کئی نوجوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔انہوں نے بتایا کہ انسانی جا ن قیمتی ہے اور روپیوں پیسوں سے انسانی جان کی قیمت لگانا ٹھیک نہیں تاہم ہم جاں بحق نوجوانوں کے اہل خانہ کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق نوجوانوں کے حق میں فی کس 5لاکھ روپے بطور ایکس گریشیا ریلیف واگزار کرتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ ریاست میں امن کی بحالی کے لیے مرکزی و ریاستی حکومت کام کررہی ہے۔ مرکزی سرکار ہر اُس شخص کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں جو ریاست میں امن کو خواہاں ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے زیر اعظم نریندر مودی نے سیاسی پہل کی شروعات کرتے ہوئے پاکستان کا سفر کیا تاہم وہاں کی جانب سے ایسی کوئی ٹھوس کوشش نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت معاشی طور پر بہت آگے بڑھ چکا ہے البتہ بھارت مخالف عناصر ہماری معیشی ترقی کو برداشت نہیں کررہے ہیں ، اسی لیے وہ بھارت کو کمزور کرنے کے لیے دہشت گردی کا سہارا لے رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ ہم ایسے عناصر کے مکروہ عزائم کو کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے پنچایتی انتخابات کے حوالے سے کہا کہ جو لوگ جمہوریت پر یقین رکھتے ہوں انہیں چاہیے کہ وہ اپنی خاموشی توڑکر انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ جو لوگ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے وہ عوام کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے بتایا کہ جو لوگ عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ آنے والے پنچایتی انتخابات میں حصہ لے کر عوام کی خدمت کا فریضہ انجام دیں۔ پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ نے بتایا کہ ریاستی نوجوانوں کی بہتری اور بازآبادکاری کے لیے مرکزی و ریاستی حکومت ٹھوس اقدامات اُٹھانے جارہی ہے جس کے تحت آنے والے وقت میں لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی اسکیم کے تحت ریاستی نوجوانوں کو مختلف مرحلوں کے دوران معقول روزگار سے نوازا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ہماری سرکار نوجوانوں کو ہرطرح کی امداد فراہم کرنے کے لیے بھر پور اقدامات اُٹھائے گی۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ ریاست کے تینوں خطوں جموں، کشمیر اور لداخ میں ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اُٹھائیں جارہے ہیں جس کے تحت سرحدی علاقوں بشمول کرگل، دراس، ٹنگڈار، مژھل سمیت دیگر علاقوں میں زمینی سطح پر سڑکیں بنائی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ وادی کی جھیل ڈل کی خوبصورتی کو دوبارہ بحال کرنے کی خاطر مرکزی اسکیم کے تحت 350کروڑ سے زائد کی رقم صرف کی جائے گی تاکہ جھیل ڈل کی شان رفتہ کو پھر سے بحال کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ جب بھی میں ریاست کے دورے پر وار دہوا تو مجھے ہر بار انتظامیہ میں کرپشن کی شکایات موصول ہوئیں۔ مرکزی وریاستی حکومت ریاست سے کرپشن کے خاتمنے کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات اٹھائی گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے سبھی طبقوں کو اپنا رول ادا کرنا ہوگا۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ یک روزہ دورے کے دوران میں نے یہاں 5وفود کے ساتھ ملاقاتیں کیں جس دوران میں نے انہیں الیکشن میں حصہ لینے پر زور دیا۔ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر داخلہ نے بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر کو بی جے پی کے ساتھ ماضی قریب میں اتحاد سے جو ثمر حاصل ہوا اس کا تجریہ لوگ خود کرسکتے ہیں۔
یاد رہے ضلع کو لگام میں ہو ئی شہری ہلاکتوں کے بیچ مر کزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اپنے یک روزہ دورے پرمنگلوار کو سرینگر پہنچے جس کے دوران انہوں نے ریاست کی مجموعی سیکورٹی اور سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ االگ الگ ملاقا تیں کیں جبکہ سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بھی راجناتھ سنگھ کے ساتھ ملاقات کی ۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ مر کزی وزیر داخلہ نے ریاستی گور نر ستیا پال ملک کے ساتھ راج بھون میں جس کے دوران انہوں نے ریاستی گورنر کے ساتھ ریاست میں مرکزی کی جانب سے تعمیراتی منصوبوں کے علاوہ ریاست میں نو جونوں کی مثبت مصروفیت کے علاوہ اسمبلی انتخابات کے حوالے سے بھی بات چیت کی ۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
