دنیا
آبنائے ہرمز پر ٹیکس سے معاہدہ ناممکن ہو جائے گا، امریکی وزیر خارجہ
تہران، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے مثبت اشارے دیتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے چند دن صورتحال کا رخ واضح کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی تہران کے ساتھ کسی معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم فوجی کارروائی کا آپشن بدستور موجود ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل کے بارے میں حوصلہ افزا اشارے مل رہے ہیں اور جلد صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں، لیکن اگر ضرورت پڑی تو فوجی آپشن بھی زیر غور رہے گا۔
امریکی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی ثالثی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے کسی قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ان کے خیال میں پاکستانی حکام آج تہران جائیں گے اور انہیں امید ہے کہ اس سے مذاکراتی عمل میں پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں ٹیکس عائد کرتا ہے تو اس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔
روبیو کے مطابق دنیا کا کوئی ملک اس بات کی حمایت نہیں کرتا کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹیکس عائد کرے۔
ایرانی معاملے پر نیٹو کے کردار سے متعلق سوال پر امریکی وزیر خارجہ نے شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے میزائل یورپ کے لیے بھی خطرہ ہیں اور نیٹو کو امریکہ کی مہم میں ساتھ دینا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو اکثر ان اقدامات سے گریز کرتا ہے جن کا امریکہ مطالبہ کرتا ہے اور اس معاملے پر صدر ٹرمپ شدید مایوسی محسوس کر رہے ہیں۔
دوسری جانب تہران پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ممکنہ دورے کا منتظر ہے، جو اسلام آباد کی قیادت میں جاری ثالثی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تہران اس وقت 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
یاد رہے کہ مذاکراتی عمل میں تعطل کے بعد واشنگٹن نے 13 اپریل کو ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ شروع کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو اپنے ساتھ رابطہ کاری سے مشروط کر دیا تھا۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
حوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
ریاض، حوثی باغیوں کے حملوں میں اضافے کے درمیان سعودی عرب کے اتحادی ملک اس کی حمایت کے لیے آگے آ رہے ہیں۔
فرانس نے جمعہ کو تصدیق کی کہ وہ بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہ یَنبُع میں واقع بڑے تیل ٹرمینل کی حفاظت کے لیے اپنے فوجی بھیجے گا۔ ادھر سعودی حکام پاکستان اور ترکی کے حکام کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے تحت ممکنہ اقدامات پر تبادلۂ خیال کر رہے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ٹی ایف ون اور فرانس ٹو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیرس یَنبُع بندرگاہ پر ’’فوجی، رڈار اور دفاعی نظام‘‘ بھیجے گا۔انہوں نے کہا، ’’ہم کسی تنازع میں شامل ہونے کے لیے نہیں بلکہ اس مقام کے تحفظ کے لیے یہ اقدام کر رہے ہیں۔‘‘
یَنبُع میں تیل ذخیرہ کرنے اور صاف کرنے کی بڑی تنصیبات موجود ہیں اور یہ مشرقی-مغربی پائپ لائن سے منسلک ہے، جس کے ذریعے روزانہ 70 لاکھ بیرل تک تیل منتقل کیا جا سکتا ہے۔
حوثی، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، سعودی عرب پر مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کرتے رہے ہیں، جس سے دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندہ ملک سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
جمعرات کو حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے یَنبُع میں سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات اور ریاض میں ایک ’’حساس مقام‘‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ سعودی فورسز نے کہا کہ انہوں نے چھ بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا۔ حکام نے کسی نقصان کی تصدیق نہیں کی ہے۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کی ’’ہنگامی ملاقات‘‘ کا انتظام کرنے کے لیے اجلاس کیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
تینوں ممالک نے حوثیوں کے ان حملوں کی بھی مذمت کی جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ ان میں مکہ اور دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم، اس معاہدے کے تحت ترکی اور پاکستان کی جانب سے ممکنہ اقدام کے بارے میں اب بھی ابہام برقرار ہے، کیونکہ اس معاہدے کو ابھی باضابطہ طور پر فعال نہیں کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے دونوں اتحادی مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں بھی سرگرم ہیں۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، سعودی عرب کے مفتی اعظم نے فوجیوں سے حوثیوں کے خلاف لڑنے کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار رہنے کی اپیل کی ہے۔
ایران کے حامی حوثی ایک دہائی سے زائد عرصے سے سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یہ تنازع غزہ میں ایران کے حامی حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جنگوں اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
اوٹاوا، کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اپنے ملک کے خلاف امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے انتہائی کم مگر سنگین خطرے کا جائزہ لینے اور اس کے لیے تیاری کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ بی بی سی نے جمعہ کو ’دی نیویارک ٹائمز‘ کو دیے گئے ان کے انٹرویو کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
کارنی نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس انتہائی سنگین صورتحال کا محتاط جائزہ لیا ہے جس میں امریکہ کینیڈا کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے اس سلسلے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہماری ذمہ داری ہے کہ انتہائی کم امکان والے لیکن انتہائی سنگین خطرات پر بھی توجہ دیں۔ یہ صرف خطرے کا انتظام ہے۔ یہ معمول کی صورتحال نہیں ہے، لیکن اس کے لیے تیاری نہ کرنا غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔‘‘
ٹرمپ انتظامیہ کے دوران دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔ امریکی فوج میں 20 لاکھ سے زیادہ فعال اور ریزرو اہلکار ہیں، جبکہ کینیڈا کے پاس دو لاکھ سے بھی کم فوجی ہیں۔ 2024 تک امریکہ کے پاس 65 فوجی آبدوزیں تھیں، جبکہ کینیڈا کے پاس صرف چار تھیں۔
کارنی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کینیڈا کی طویل ساحلی پٹی اور آرکٹک سے قربت کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ متعدد بار کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست قرار دے چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ بھی جاری ہے اور گزشتہ ماہ متعدد مصنوعات پر ایک دوسرے کے خلاف محصولات میں اضافہ کیا گیا۔
کارنی نے کہا کہ اس کے باوجود وہ ٹرمپ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور دونوں کے درمیان تعلقات اچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات بحال کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
نیویارک، اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ، ایران اور خطے کے دیگر علاقوں میں اسرائیل کی جنگوں کا جارحانہ انداز میں دفاع کیا اور نسل کشی کے الزامات کو مسترد کردیا۔ ان کے خطاب کے لیے روسٹرم پر پہنچتے ہی درجنوں سفارت کاروں نے فلسطینی وفد سے اظہار یکجہتی کے طور پر اجتماعی طور پر اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔
نیتن یاہو نے اس الزام کو مسترد کردیا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ’’نسل کشی کے بالکل برعکس‘‘ ہے۔ ان کے خطاب کے دوران سفارت کار فلسطینی وفد سے اظہار یکجہتی کے لیے منظم انداز میں اجلاس سے باہر نکلتے رہے۔
نیتن یاہو نے خطاب روکنے کے بجائے وہاں موجود افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’اگر کوئی اور اخلاقی بزدل یہاں موجود ہے جو ابھی تک اجلاس سے باہر نہیں گیا تو براہ کرم اب چلا جائے۔‘‘
نیتن یاہو نے اپنے آنجہانی بھائی یوناتان نیتن یاہو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’ہم جیتنے والے ہیں۔ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔‘‘ یوناتان نیتن یاہو 1976 میں اینٹی بی میں یرغمالیوں کو چھڑانے کی کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔
ان کی تقریر میں غزہ کی جنگ، مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد یا خطے کے دیگر تنازعات، جن میں ایران کے خلاف امریکہ کے ساتھ مشترکہ جنگ بھی شامل ہے، کے حوالے سے اسرائیل کی پالیسی میں کوئی خاص نئی بات سامنے نہیں آئی۔
نیتن یاہو نے اس الزام کو بھی سختی سے مسترد کیا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ ’’نسل کشی نہیں ہے بلکہ نسل کشی کے بالکل برعکس ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’لہٰذا ان تمام لوگوں سے جو میرے ملک اور ہمارے بہادر فوجیوں کے بارے میں یہ جھوٹ پھیلا رہے ہیں، خواہ وہ اس اجلاس میں بیٹھے ہوں یا نیویارک کے یہود مخالف میئر کے دفتر میں، میں صرف اتنا کہوں گا: آپ کو شرم آنی چاہیے!‘‘ اس طرح انہوں نے نیویارک شہر کے میئر زوہران ممدانی کو نشانہ بنایا۔
یو این آئی، ایم جے
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا7 days agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
