تازہ ترین
سرینگر سمیت وادی کے تمام اضلاع میں اچانک برفباری ، شااہراہ ٹریفک کےلئے معطل
خبراردو:
جواہرٹنل کے آرپارتازہ برف باری اورمتواتربارشیں ہونے کے باعث سری نگرجموں شاہراہ کوپھرایک مرتبہ بندکردیاگیاجسکے نتیجے میں سینکڑوں مسافراورمال بردارگاڑیاں مختلف مقامات پردرماندہ پڑی ہیں۔ اس دوران سادھناٹاپ،فرکیاں اورزیڈگلی پرتازہ برف باری ہونے کے بعدکپوارہ کرناہ شاہراہ کوبھی بندکردیاگیا۔خیال رہے موسم سرماکی پہلی برف باری ہونے کے بعدسرینگرلیہہ شاہراہ ،گریزبانڈی پورہ شاپراہ اورمغل روڑماہ ٹریفک کی نقل و حمل کے لیے بند کردئے گئے ہیں۔تازہ برف باری اور بارشیں ہونے کے بعدسری نگرسمیت وادی کے سبھی ضلعی و تحصیلی صدرمقامات کی سڑکوں ،گلیوں اوربازاروں میں پانی جمع ہوجانے کے باعث لوگوں کوعبورومرورمیں سخت مشکلات کاسامناکرناپڑا۔اس دوران محکمہ موسمیات نے جموں ،کشمیراورلداخ کے میدانی وبالائی علاقوں میں متواتربارش اورہلکی تادرمیانہ درجے کی برف باری ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے یہ امکان ظاہرکیاکہاتوارتک موسمی صورتحال پھرمعمول پرآجائیگی۔ موسمیاتی ماہرین کی پیشگوئی کے عین مطابق جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب سے کشمیروادی کے کئی حصوں ،خطہ چناب ،خطہ پیرپنچال ،جموں اورلداخ خطے میں موسمی صورتحال نے کروٹ لی ،اورمیدانی علاقوں میں بارشوں کاسلسلہ ہونے کیساتھ ہی بالائی علاقوں میں تازہ برف باری ہوئی۔

معلوم ہواکہ سرحدی تحصیل ٹنگڈارکوضلعی کپوارہ سے جوڑنے والی اس واحدشاہراہ کے بالائی مقامات پرتازہ برف باری ہوئی جبکہ نزدیکی علاقوں میں بارشیں بھی ہوئیں ،اس وجہ سے سنیچرکی صبح اس پْرخطر شاہراہ کوبندکردیاگیااورکسی بھی گاڑی کوسفرکی اجازت نہیں دی گئی۔کپوارہ پولیس کے ذرائع نے بتایاکہ سادھناٹاپ جیسے مقامات پرتازہ برف بارہ ہوجانے کے بعدکرناہ ،کپوارہ شاہراہ کوبندکیاگیا۔انہوں نے کہاکہ تازہ برف باری اوربارشیں ہوجانے کے بعدکرناہ ،کیرن،مڑھل اورٹنگدارجیسے بالائی علاقوں کازمینی رابطہ کپوارہ سے کٹ کررہ گیاہے۔ذرائع نے بتایاکہ تازہ برف باری اور بارشیں ہونے کے بعد برفانی ومٹی کے تودے ،پسیاں وچٹانیں گرآنے کااندیشہ بڑھ گیاہے ،اسلئے صورتحال کامکمل جائزہ لینے کے بعدہی کپوارہ ،کرناہ شاہراہ کوگاڑیوں کیلئے کھول دیاجائیگا۔ ٹنگڈار کپوارہ اور سادھنا ٹاپ کو تازہ بارف باری کے نتیجے میں ٹریفک کی نقل و حمل کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سادھنا ٹاپ پر 1فٹ برف باری ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ زیڈ موڈ پر بھی 1فٹ برف جمع ہوئی ہے۔ نمائندے نے بتایا کہ سرحدی اضلاع میں تازہ برف باری کے نتیجے میں یہاں معمولات زندگی بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کپوارہ ، اوڑی، کرناہ، ٹنگڈار وغیرہ علاقوں میں گزشتہ دو دنوں سے بجلی کا کہی نام و نشان نہیں ہے جبکہ کئی دنوں سے یہاں موبائل ٹاؤروں نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کہ بجلی کی نایابی کی وجہ سے ضلع بھر میں طبی سہولیات بری طرح سے متاثر ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے مختلف تشخیصی ٹیست نہ ہونے کے نتیجے میں ہسپتالوں سے مریض مایوس لوٹ رہے ہیں۔

ادھر شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر اضلاع و تحصیل صدر مقاما ت گزشتہ رات سے جاری بارشوں اور برف باری کے نتیجے میں سڑکیں اور گلی کوچے زیر آب آگئی ہیں۔ شہر کے تجاری مرکز لعل چوک، ریگل چوک، ہری سنگھ ہائی سٹریٹ، امیر کدل، پولو ویو، ریذیڈنسی روڑ، نمائشی، مگر مل باغ سمیت متعدد علاقوں میں بارشوں کا پانی جمع ہونے کے نتیجے میں لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے سنیچر صبح سے جاری برف باری نے حکومتی دعوؤں کی پول کھول کر رکھ دی ہے کیوں کہ شہر سرینگر کے تجارتی مرکز میں ہر سو پانی نظر آرہا ہے جس کی نکاسی کے لیے سرکار اور انتظامیہ کی طرف سے کوئی اقدام نہیں اُٹھایا گیا۔

ادھر وادی کے دیگر اضلاع و تحصیل صدر مقامات پر بھی سڑکیں زیر آب آگئی ہیں جس کے نتیجے میں یہاں بھی لوگوں کے چلنے پھرنے میں دشواریاں آرہی ہیں۔ اس دوران عوامی حلقوں میں حکومت کی طرف سے بار بار کئے جارہے دعوؤں کو لے کر سخت ناراضگی پائی جارہی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ اگر چہ فی الوقت ریاست کی کرسی پر گورنر براجمان ہے تاہم ان کے ہوتے ہوئے بھی یہاں کی زمینی صورتحال میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک روز سے بوندا باندی کے نتیجے میں شہر سرینگر میں بجلی کا کہیں نام و نشان نہیں ہے جبکہ چند انچ برف گرنے کے بعد سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لوگوں کی نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے اپنی مشنری کو الرٹ رکھنا چاہیے تھا تاہم ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی صورتحال جوں کی توں ہے۔ادھر موسم میں اچانک تبدیلی کی وجہ سے سرینگر ائرپورٹ پر بھی پروازوں کی آواجاہی میں خلل واقع ہوا۔ ائر ذرائع نے بتایا کہ رن وے پر کم روشنی اور برف باری کی وجہ سے پروازوں کو منسوخ کرنا پڑا ۔ انہوں نے بتایا کہ جونہی موسم میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کو ملے گی تو ائر پورٹ انتظامیہ رن وے پر پروازوں کی آواجاہی کو بحال کرے گی۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
