جموں و کشمیر
کالعدم تنظمیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں سری نگر اور سوپور میں چھاپے: پولیس
سری نگر، جموں وکشمیر پولیس نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت درج مقدمات کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر سری نگر اور سوپور میں متعدد مقامات پر وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائیاں انجام دیں۔پولیس کے مطابق یہ مقدمات کالعدم تنظیموں سے متعلق ہیں جن میں جموں و کشمیر مسلم کانفرنس (بٹ گروپ)، جموں و کشمیر مسلم لیگ (مسرت عالم گروپ) اور جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (شبیر شاہ گروپ) شامل ہیں۔
ایک پولیس ترجمان نے اپنے بیان میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ سری نگر پولیس نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت درج مقدمات کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر سری نگر اور سوپور میں متعدد مقامات پر وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائیاں انجام دیں۔انہوں نے کہا: ‘ یہ مقدمات کالعدم تنظیموں سے متعلق ہیں جن میں جموں و کشمیر مسلم کانفرنس (بٹ گروپ)، جموں و کشمیر مسلم لیگ (مسرت عالم گروپ) اور جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (شبیر شاہ گروپ) شامل ہیں’۔
ان کا بیان میں کہنا ہے: ‘ یہ تلاشیاں مذکورہ کالعدم تنظیموں کے مشتبہ ارکان کے سلسلے میں اور پولیس اسٹیشن راج باغ، سری نگر میں ایف آئی آر نمبر 15/2024 میں یو اے پی اے کی دفعہ 10، 13 اور آئی پی سی کی دفعہ 121، 121 ،پولیس اسٹیشن صدر میں درج ایف آئی آر نمبر 04/2024 یو اے پی اے کی دفعہ 10, 13 اور پولیس اسٹیشن شہید گنج میں یو اے پی اے کی دفعہ 10, 13 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 03/2024 اے کے تحت تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے لی گئیں’۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ چھاپے پروفیسر عبدالغنی بٹ ولد حبیب اللہ بٹ کی بٹ محلہ بوٹنگو سوپور اور وزیر باغ راج باغ سری نگر میں واقع رہائش گاہوں پر ایک ساتھ مارے گئے۔
انہوں نے کہا کہ شبیر احمد شاہ کی رہائش گاہ پر بھی ایف آئی آر نمبر 4/2024 کے تحت تلاشی لی گئی۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ ایف آئی آر نمبر 3/2024 کے سلسلے میں سری نگر میں سات مقامات پر تلاشی لی گئی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ رکھنے والے افراد کو ٹارگیٹ کیا۔انہوں نے کہا کہ ان افراد میں مسرت عالم بٹ ولد عبدالمجید ساکن زینہ دار محلہ حبہ کدل،مشتاق احمد بٹعرف گوگا ولد غلام قادر ساکن بٹہ مالو، غلام نبی وگےولد عبدالسلام ساکن خانیار،فیروزاحمد خان ولد عبدالغنی خانیار،محمد نذیر خان ولد عبدالغفار ساکن کولی پورہ خانیار، حکیم عبدالرشید ولد غلام رسول ساکن بوٹہ کدل لال بازار اور جاوید احمد منشی عرف بل پاپا ولد غلام احمد ساکن میتھن چھانہ پورہ کے طورپر کی گئی ہے۔
بیان کے مطابق یہ تلاشیاں سری نگر میں این آئی اے ایکٹ کے تحت نامزد معزز خصوصی جج سے سرچ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد انجام دی گئیں۔پولیس ترجمان نے کہا کہ قانونی طریقہ کار کے مطابق، تمام تلاشیاں ایگزیکٹو مجسٹریٹ اور آزاد گواہوں کی موجودگی میں لی گئیں۔انہوں نے کہا: ‘ تحقیقات کا مقصد جموں و کشمیر میں علاحدگی پسند اور دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کی باقیات کو ختم کرنا ہے اور اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کی شناخت اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنا ہے’۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
