ہندوستان
دونوں برادریوں کے درمیان بات چیت کا آخری دور جلد ہی منعقد ہوگا، منی پور میں امن ہے: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کی علی الصبح راجیہ سبھا کو بتایا کہ منی پور میں 13 نومبر سے تشدد کا ایک بھی واقعہ نہیں ہوا ہے اور اب دونوں برادریوں کے درمیان بات چیت جاری ہے اور جلد ہی دارالحکومت دہلی میں ایک حتمی میٹنگ ہونے والی ہے، اس کے ساتھ ہی ایوان نے منی پور میں صدر راج کے نفاذ سے متعلق آئینی قرارداد کو صوتی ووٹ سے منظوری دے دی۔ لوک سبھا پہلے ہی اس کی منظوری دے چکی ہے۔
علی الصبح تقریباً 3:30 بجے اس قرارداد پر بحث کا جواب دیتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ اس پر بحث میں 10 ارکان نے حصہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تشدد ایک غلط فیصلے کی وجہ سے ہوا۔ سپریم کورٹ نے اگلے ہی دن اس فیصلے پر روک لگا دی تھی، لیکن تشدد پھوٹ پڑا۔ اس تشدد میں کل 260 لوگ مارے گئے اور 70 فیصد اموات صرف ابتدائی 15 دنوں میں ہوئیں۔ حکومت ہند کی رائے لیے بغیر قبائلی ٹریبونل نے ایک کمیونٹی کو پرائمیٹو ٹرائب کے زمرے میں ڈال دیاتھا۔ اس کی وجہ سے یہ تشدد پھوٹ پڑا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں برادریوں کے درمیان 13 ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایوان میں اس قرارداد کو لانے میں تاخیر ہوئی ہے۔ دونوں برادریوں کی آخری میٹنگ جلد ہی دہلی میں ہونے والی ہے۔ بات چیت سے ہی امن قائم ہوگا اور صدر راج ختم ہوگا۔ بی جے پی صدر راج نافذ کرنے کے حق میں نہیں ہے۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ منی پور میں آئین کے آرٹیکل 356 اے کے تحت صدر راج نافذ کیا گیا ہے۔ صدر راج کسی بھی حالت میں اسی کے تحت نافذ کیا جاتا ہے۔ کانگریس کے دور میں اپوزیشن حکومت کو گرانے کے لیے صدر راج نافذ کیاجاتا تھا۔ امن و امان کے نام پر بھی صدر راج نافذ کیا جاتا رہا ہےلیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اس کے حق میں نہیں ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ وزیراعلیٰ نے 11 فروری کو استعفیٰ دے دیا تھا۔ کانگریس کے پاس منی پور میں اتنی تعداد نہیں تھی کہ وہ تحریک عدم اعتماد لا سکے۔ جب کسی نے حکومت بنانے کا دعویٰ نہیں کیا تو صدر راج لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 13 فروری کو صدر راج نافذ کیا گیا تھا، لیکن 13 نومبر 2024 سے ریاست میں کوئی تشدد نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تشدد کے پہلے 15 دنوں میں 70 فیصد لوگ مارے گئے۔ پہلے 15 دن کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے۔ منی پور میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ مودی حکومت نے تو پہلی بار صدر راج نافذ کیا ہے۔ منی پور میں 10 بار کس نے لگایا تھا؟ 1993-98 کے دوران ناگا کوکی تنازعہ ہوا اور 750 لوگ مارے گئے لیکن وزیر اعظم نہیں گئے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ 13 فروری 2025 کے سات سال پہلے کانگریس کی اتنی مضبوط حکومت تھی۔ ایک سال میں 225 دن ناکہ بندی اور کرفیو ہوتا تھا۔ اس وقت بھی وزیراعظم نہیں گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ذات پات کے تشدد اور نکسل تشدد میں فرق ہے لیکن بائیں بازو کے ارکان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ذات پات کے تشدد میں امن قائم کیاجاتا ہے لیکن نکسل تشدد سے نمٹنا ہوتا ہے۔ ملک کے خلاف تشدد اور نسلی تشدد میں فرق ہے۔ اپوزیشن نے جس طرح دو سال سے اتنے زیادہ تشدد کے بارے میں بات کی ہے وہ حیران کن ہے۔ کئی خواتین کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ مغربی بنگال کے سندیشکھلی میں خواتین کے ساتھ کئی سالوں تک زیادتی کی گئی تھی۔ آر جی کر کیس میں بھی کچھ نہیں کیا گیا۔ منی پور میں 260 لوگ مارے گئے۔ مغربی بنگال میں انتخابی تشدد میں 250 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس دو سیٹوں کو لے کرسبق سیکھنے کی بات کر رہی ہے جبکہ ملک کے عوام انہیں پچھلے تین انتخابات سے سبق سکھا رہے ہیں۔ 2004 سے 2014 کے درمیان، شمال مشرق میں 11,327 واقعات ہوئے، لیکن 2014 اور 24 کے درمیان، 70 فیصد کم 3428 ہوئے۔ شمال مشرق میں متشدد برادریوں کے ساتھ معاہدے کیے گئے ہیں۔ 10 ہزار نوجوان ہتھیار ڈال چکے ہیں۔
جاری یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
